بلوچستان میں آبی قلت سنگین مسئلہ ہےمگر پائیدار طریقہ استعمال اور جدید تکنیک کی مدد سےاس پر قابو پایا جاسکتا ہی۔
تحریر:سلیمان علی /ایمکمال
_______________________________________________________________________________________
آب اور حیات کا تصور باہم لازم و ملزوم ہی۔ پائیدار استعمالِ آب حیات میں توازن اور سماجی ترقی کا ضامن ہی، لیکن غیر دانشمندانہ استعمال سماج کومختلف سنگین نوعیت کےمسائل سےدوچار کردیتا ہی۔
حقیقت یہ ہےکہ ہر آنےوالےدن میں پانی کی مقدار طلب کےمقابلےمیں کم پڑتی جارہی ہی۔صرف پاکستان ہی نہیں ، دنیا کےمتعدد ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کےلیےپانی کی کمی تشویش کاسبب ہی۔ بالخصوص خشک، بنجر اور نیم بنجر خطوں کےلیےتو یہ نہایت ہی سنگین صورتِ حال ہی۔
بلوچستان کا شمار بھی خشک، ریتیلی، بنجر و نیم بنجرعلاقوں میں ہوتا ہی۔ جہاں پانی کےلیےسب سےزیادہ انحصار قدرتی وسائلِ آب پر ہی کیا جاتاہی۔تکلیف دہ بات یہ ہےکہ گزشتہ کئی دہائیوں سےیہ آبی ماخذ تنزلی کا شکار ہیں۔ اس کا سبب بڑھتی ہوئی آبادی کےباعث طلب میںاضافہ، غیردانشمندانہ استعمال، نا موافق موسمی حالات و خشک سالی، زراعت اور باغبانی کےلیےصدیوں پرانےآب پاشی کےطور طریقی، نیزجدید آب پاشی کےطریقوں کو اختیار کرنےکا فقدان ہیں۔
|
بلوچستان میں پانی کےہر قطرےکا تحفظ اور پائیدار استعمال ناگزیر ہی۔ |
90ءکی دہائی کےاواخر میں جب بلوچستان کی مخدوش ماحولیاتی صورتِ حال کےاِدراک اور قدرتی وسائل پر تیز رفتاری سےپڑنےوالےدباؤ کےپیشِ نظر ان کےتحفظ کا فیصلہ کیا گیا تو جہاں اور بہت سےدیگر شعبےزیرِ بحث آئی، ان میں سب سےزیادہ تشویش پانی اور اس پر انحصار کرنےوالےشعبےاور انسانی مسائل پر ہوئی۔ اگرچہ یہ بات درست ہےکہ رقبےکےلحاظ سےیہ صوبہ ملک کےدیگر صوبوں کےمقابلےمیں سب سےبڑا ہی۔ اس کےباوجود زیرِ کاشت رقبہ ، بارشوں کا تناسب اور سطحِ زمین پر موجود آبی وسائل پاکستان کےدوسرےعلاقوں کی نسبت نہایت ہی کم ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ یہاں انسانی ترقی کا تناسب بھی ملک کےدیگرعلاقوں کی نسبت بہت کم ہی۔ اسی لیے2002ءمیں جب ’بلوچستان:پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی‘ تکمیل کو پہنچی تو اس دستاویز میں اس صورتِ حال کو یوں بیان کیا:
”بلوچستان بنیادی طور پر خشک آب و ہوا کا علاقہ ہی۔یہاں بارش کا سالانہ اوسط 250ملی میٹر سےبھی کم ہی۔ صوبےکا زیرِ کاشت رقبہ20لاکھ90ہزار ہیکٹر ہےجو صوبےکےمجموعی رقبےکا صرف چھ فیصد بنتا ہی۔ اس زیرِ کاشت رقبےمیں سی5لاکھ80ہزار ہیکٹر کو مستقل ذرائع سےپانی فراہم کیا جاتا ہےتاہم اس پانی کا استعمال غیر دانشمندانہ ہی۔صوبےکی بقیہ زرعی اراضی پرکاشت بارش یا سیلاب کےپانی سےہوتی ہی۔ کم بارشوں سےنہ صرف زیرِ زمین پانی کی سطح بلکہ آبپاشی سےکی جانےوالی کاشت بھی متاثر ہوتی ہی۔ان حالات میں اُگنےوالی فصلیں خراب معیار کی اور مقدار میں کم ہوں تو اس پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیی۔ِٹیوب ویلوں کےبےتحاشہ استعمال سےالگ مسائل پیدا ہوئےہیں۔ باغوں کےمالکان بجلی کی لگی بندھی قیمت (فلیٹ ریٹ) ادا کرکےدن رات ٹیوب ویل چلاتےہیں، اپنےباغوں کو سینچتےہیں اور ان کےپھلوں سےہزاروں روپےکماتےہیں۔ زیادہ تر باغبانوں نےیہ سمجھنےکی کوشش ہی نہیں کی کہ زیرِ زمین پانی ایک محدود ذخیرہ ہی۔ ان کی اس بےاحتیاطی کےسبب کئی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح تشویش ناک حد تک نیچےگرچکی ہی، حتیٰ کہ پینےکےلیےپانی کی فراہمی بھی ایک مسئلہ بن چکی ہی۔ ضلع قلعہ سیف اللّلہ کا علاقہ ’نسائی‘ اس کی ایک مثال ہی۔1980ءکی دہائی میں یہ علاقہ عمدہ معیار کےسیبوںکی پیداوار کا مرکز تھا۔ باغات کو ٹیوب ویلوں کےپانی سےسینچا جاتا تھا۔ آج یہ باغات اُجڑ چکےہیں کیونکہ پانی موجود نہیں ہی۔ زیرِ زمین پانی کی سطح اس حد تک نیچےچلی گئی ہےکہ ٹیوب ویل کی مدد سےکھینچنا مشکل ہی۔ یہی سنگین صورتِ حال وادیِ کوئٹہ میں بتدریج نمودار ہورہی ہےاور وہاں پینےکےپانی کی فراہمی ایک خوفناک مسئلہ بن رہی ہی۔“
’بلوچستان:پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی‘ نےجہاں اس سنگین صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ لیا وہیں اس مسئلےسےنمٹنےکےلیےتجاویز دیں اور اس راہ پر چلنےکا راستہ بھی سجھایا۔ حکمتِ عملی کی سفارشات کےمطابق:
”زمینی پانی اور کاشت کاری جیسےمعاملات بنیادی طور پر ایک درست نظام کا تقاضہ کرتےہیں تاہم زیرِ زمین پانی کےذخائر کی مخصوص منصوبہ بندی اور انتظام میں مدد دینےکےلیےقابلِ اعتماد معلومات اور اعداد و شمار مشکل سےہی دستیاب ہیں۔ کمیونٹی کی شراکت کےساتھ خاص طور پر زیرِ زمین پانی کےدرست انتظام کی ضرورت ہی۔ اس ضمن میںسفارشات یہ ہیں:
|
گنز کا میٹھا پانی |
|
’گنز‘ گوادر سےتقریباً دو گھنٹےکی ڈرائیو پر واقع تقریباً ڈھائی ہزار نفوس پر مشتمل ساحلی قصبہ ہی۔ اگرچہ اس کا نیلگوں ساحل دل کو لُبھاتا ہےلیکن حدِ نظر تک پانی پانی ہونےکےباوجود--- مزيد پڑھيے۔ |
| |
|
گاؤں بلوزئ ـــپائدار اِنتظامِ آب کی کہانی |
کاریز کا نام ذہن میں آتےہی بلوچستان کا تصور آتا ہی۔ ضلع پشین کی تحصیل خانو زئی میں واقع ’ بلو زئی‘بھی ایک ایسا ہی گاؤےجس کی آبی اور معاشی ضروریات کو پورا کرنےمیں ۔
--- مزيد پڑھيے |
| |
|
-- آب پاشی کےنظام کو بہتر بنانےکےلیےپائیدار انتظامات کیےجائیں۔
-- زیرِ زمین پانی کےری چارج پر توجہ دےکر اسےبہتر بنایا جائی۔
-- بارش کےپانی کوبچا کرقابلِ استعمال بنانےکےاقدامات۔
-- آبی ترقیاتی منصوبہ بندی میں ماحولیاتی نظام کو ملحوظ رکھنا۔
-- خود مختار صوبائی واٹر بورڈ کا قیام۔
مذکورہ بالا سفارشات پر عمل صوبےکی زراعت اور انسانی استعمال کےلیےدرکار پانی کی دستیابی کو یقینی بنانےکےلیےضروری ہی۔نیز شعبئہ آب میں تحقیق کو بھی رواج دینےکی ضرورت ہی۔ اس طرح زیرِ زمین پانی کےمستقل استعمال اور موثر آب پاشی نظام کی توقع کی جاسکتی ہی۔“
’بلوچستان: پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی‘ کےنفاذ اور ضلعی سطح پر اس کی سفارشات پر عملدرآمد کےلیےبقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این ،پاکستان نی’بلوچستان پروگرام - مارچ2003ءتا فروری2007ئ‘ کا آغاز کیا تو انجمن کے’پاکستان واٹر پروگرام ‘ کےتحت صوبہ بلوچستان میں بھی شعبئہ آب نےبھی اصلاحات ،پائیدار استعمالِ آب و زراعت اور زیرِ زمین پانی کےری چارج کےلیےمتعدد عملی کوششیں کیں، جنہیںاستعداد سازی ،دانشمندانہ استعمال اور شراکت کےبنیادی اصولوںپر استوار کیا گیا تھا۔ اس ضمن میں رائل نیدرلینڈ ایمبیسی کےمالی تعاون سےگئےاقدامات کا خلاصہ ذیل میںبیان کیےجارہےہیں:
-- مربوط انتظام برائےوسائلِ آبIntegrated Water Resources Management کےنمائشی منصوبوںDemonstration Projects پر کامیابی سےعملدرآمد۔
-- پائیدارِ نظامِ آب پاشی کےلیےرہنما خطوط کی تیاری و فراہمی۔
-- صوبےکےساحلی علاقوں میں شمسی شعاؤں سےسمندری پانی کوانسانی استعمال کےقابل بنانےکےکم خرچ پائیدار طریقوں کا فروغ۔
-- بلوچستان کےآبی وسائل سےمتعلق معلومات اور اعداد و شمار کو دستاویزی شکل دینا، تاکہ سرکاری محکموں اور کمیونٹی کی سطح پر شراکت دار اس سےاستفادہ کرسکیں۔ نیز ان کی منصوبہ بندی کی ضرورتیں اس سےپوری ہوسکیں۔
-- پائیدار استعمالِ آب کےفروغ اور شعور کی بیداری کےلیےعمومی سطح پر مہم چلانا، نیز ذرائع ابلاغ کےاشتراک سےآبی مسائل کو اُجاگر کرنا۔
-- پائیدار زراعت اورپائیدار استعمالِ آب کےلیےنمائشی منصوبوں کےذریعےکاشت کاروں کی تربیت اور انہیں جدید طریقئہ آب پاشی کےبارےمیں معلومات کی فراہمی۔
-- صوبےمیں پائیدار انتظامِ آب کےلیےحکومتِ بلوچستان کی درخواست پر’واٹر ریسورس منیجمنٹ اتھارٹی‘ کا منصوبہ تیار کرکےدیا گیا۔
-- محکمئہ آب پاشی بلوچستان کےاشتراک سےمنتخب علاقوں کا جغرافیائی سروےکرنےکےبعد مصنوعی طریقےسےزیرِ زمین پانی کو ری چارج کرنے کا کامیاب نمائشیDemonstration منصوبہ، جس سےخشک کاریزیں جی اٹھیں اور علاقےمیں زراعت مربوط اور پائیدار بنیادوں پر استوار ہوئی۔
-- صوبےکےآب گیر علاقوںWatershed Areas کےبہتر انتظام کےلیےشجرکاری کی گئی۔ جس سے ان علاقوں میں تنزلی کا شکار ماحول کےلیے بقا
کی امید پیدا ہوئی اور زمینی خوبصورتی میں اضافہ ہوا۔
-- پائیدار ترقی کےحصول کےلیےسوچ میں تبدیلی اور طرزِ فکر میں تبدیلی کےلیےسرکاری محکموں اور مقامی کمیونٹی کی استعداد میں اضافےکےلیےتربیتی پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔ نیز اس بات کا احساس اُجاگر کرنےکےلیےاقدامات کیےگئےکہ کمیونٹی میں حقِ ملکیت اور سرگرم شرکت کا رجحان جنم لےاور سرکاری محکموں میں شراکت داری کےساتھ منصوبہ بندی اور عمل کا فروغ ہو۔
-- نمائشی منصوبوں میں اس بات کا بنیادی خیال رکھا گیا کہ ان کےذریعےعلاقےکےباسیوں کی سماجی اور معاشی زندگی پر مثبت اثرات نظر آئیں۔ نیز ان کےوسائلِ معاش میں بہتری اور پائیداری کا رجحان پیدا ہو ۔
اگر بنظرِ غائر دیکھا جائےتو بلوچستان کےتمام اضلاع لگ بھگ ایک جیسےآبی مسائل سےدوچار ہیں جنہیں حل کرنےاور پائیدار ترقی کےرجحان کو فروغ دینے کےلیےکئی سال درکار ہیں ۔ بلوچستان پروگرام کی پانچ سالہ مدت کےنہایت قلیل حصےمیںآئی یو سی این واٹر پروگرام کےتحت جو اقدامات کیےگئےاگرچہ جغرافیائی طور پر وہ محدود علاقےکا اظہار کرتےہیں، مگرنتائج اس بات کی ضمانت دیتےہیں کہ ان کی دوسرےعلاقوں میں تقلید کی جاسکتی ہے۔ پائیدار ترقی کےقابلِ تقلید کامیاب نمائشی منصوبوں اسی مقصد کا اظہار ہیںکہ ان کی روشنی سےدوسروں کےذہن و فِکر کو بھی جِلا ملےاور قابلِ تقلید مثال دوسرےعلاقوں میں بھی دُہرائی جاسکی۔۔۔ اشتراک، رہنما خطوط ، استعداد سازی کی کوشش اور نئی صبح کی جستجو کےساتھ!!!
سلیمان علی آئی یو سی این واٹر پروگرام بلوچستان پروگرام سےبطور ڈپٹی کوآرڈینیٹر وابستہ ہیں۔
ایم کمال فری لانس صحافی ہیں۔
|