Jareeda Banner


بلوچستان کےلیےپائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کی ضرورت،عملدرآمد کےپانچ سال، کامیابیوں اور حاصل شدہ اسباق کا احوال۔

تحریر و تصاویر : رفیع الحق


محمد عاطف شیخ کوئٹہ کےباشندےہیں۔ پیشےکےلحاظ سےبراڈ کاسٹر ہیں۔ شعبہ ابلاغ سےوابستگی کی بنا پر صوبےکےماحولیاتی مسائل ، قدرتی وسائل اور ذرائع معاش پر اس کےاثرات کا بخوبی علم رکھتےہیں۔ جب سوال کیا کہ ’گذشتہ عشروں میں بلوچستان کی ماحولیاتی صورتِ حال کیسی رہی ہے،تو ان کا کہنا تھا!

”بلوچستان قدرتی وسائل سےمالا مال خطّہ ہی، لیکن حقیقت یہ ہےکہ قیامِ پاکستان سےلےکر بعد کےکئی عشروں تک اس کےقدرتی وسائل سےپائیدار استفادہ کرنےکی کوششوں کا فقدان رہا ہی۔ اس کا سبب یہ ہےکہ نوےکی دہائی کےآخر تک ایسی کوئی مربوط اور جامع حکمتِ عملی موجود نہیں تھی کہ جو قدرتی وسائل کا تجزیہ، استفادےکےلیےپائیدار طریقہ کار اور سماجی و معاشی زندگی پر اس کےمثبت اثرات کےلیےکی گئی کسی
بھی پیشرفت کی درست رہنمائی کرسکی۔ یہی سبب ہےکہ وہ تمام طریقہ کار جو قدرتی وسائل

سےاستفادےکےلیےکیےجاتےرہی، بالعموم اندازوں اور کم مستند معلومات پر استوار ہوتےتھی۔ گو کہ ترقی کےلیےکیےجانےوالےاقدامات کی نیک نیتی پر شبہ نہیں کیا جاسکتا لیکن جب درست معلومات کا فقدان ہو، جامعہ پالیسی موجود نہ ہو، استفادےکےلیے وسائل کا تجزیہ کرنےکا طریقہ نہ ہو تو پھر اگر کوئی چیز درست ہوگئی تو یہ ہمارا کارنامہ ہےاگر صحیح نہ ہوسکی تو قسمت کا کھیل۔ گہرائی سےجائزہ لیں تو یہی چیزیں بلوچستان کےمعدنی اورسطحِ زمین پر موجود قدرتی وسائل کی تنزلی کی وجہ بنی ہیں۔“
نور خان کا تعلق بلوچستان کےعلاقےسریاب سے ہےاور وہ صاحبِ طرز ادیب ہیں۔ محمد عاطف شیخ کی باتوں سےاتفاق بھی کرتےہیں اور ان کا کہنا ہی!

” بلوچستا ن رقبےکےلحاظ سےملک کا سب سےبڑا صوبہ ہےاور اس کی جتنی آبادی ہےوہ ملک کےکسی بھی صوبےکےمقابلےمیں بہت ہی کم ہی۔ ایسےمیں وسائل بھرپور اور آبادی کم ہو تو پھر خوش حالی یہاں کےباشندوں کا مقدر ہونا چاہیےتھی، مگر اس کےباوجود یہاں ملک کےدیگر علاقوں کی نسبت پسماندگی زیادہ ہی۔ تعلیمی شرحِ تناسب کافی کم ہےاور سب سےبڑھ کر یہ کہ جو زمینی قدرتی وسائل ہیں وہ بھی انحطاط کا شکار رہےہیں۔ سوچنےکی بات یہ ہےکہ اس کا سبب کیا ہی۔ بات صاف ہےکہ جب درست منزل کا تعین نہ ہو، منزل کی طرف سفر کرنےکےلیےراہ کا نقشہ نہ ہو اور رہنما ملےنہیں تو اندازوں پر پائیدار ترقی حاصل نہیںہوتیہی۔ ایسےمیں بلوچستان کےلیےپائیدار ترقی کی حکمتِ عملی نےصوبےکی یہ ضرورتیں پوری کردی ہیں۔ اب ہمیں منزل کا ادراک ہی، رہگذر کا نقشہ ہی، وسائل کا درست اندازہ ہی، سفر کےلیےراستےمتعین ہیں اور اپنی خامیوں کا تجزیہ کرکیانہیں درست کرنےطریقہ بھی دستیاب ہی۔ اب حکومت ہو یا غیر سرکاری تنظیمیں، سول سوسائٹی ہو یا کوئی اور ادارہ۔۔۔اس کےسوا کوئی راستہ موجود نہیں کہ ہمیں دانشمندانہ اور پائیدار ترقی کےلیےشراکت کےاصولوں پر درست اقدامات کرنےہوں گے۔ اچھی بات یہ ہےکہ ایسا ہورہا ہی۔ “

نور خان کی گفتگوکا آخری جملہ امید کی کرن ہےجس سےپھوٹنےوالی روشنی دن بہ دن بڑھتی جارہی ہی۔ عاطف ہوں یا نور۔۔۔ دونوں کی باتیں سچ ہیں اور انہیں آگےبڑھایا سلیم چشتی نی۔ آپ بھی کوئٹہ کےباشندےہیں اور طویل سرکاری ملازمت میں اعلیٰ ترین صوبائی عہدوں پر فائز رہےہیں۔ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات

اور سماجی بہبود کےصوبائی سیکریٹری بھی رہےہیں۔ اس کےعلاوہ آئی یو سی این بلوچستان پروگرام کےسربراہ بھی رہےاور آج کل اقوامِ متحدہ کےترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی، اسلام آباد میں فرائض سرانجام د رہےہیں۔ ان کا کہنا ہی!

’بلوچستان کےلیےپائیدار ترقی کی حکمتِ عملی ایک ایسی دستاویز ہےجس
کیصوبےکےترقیاتی منصوبوں کی تیاری میں نہایت افادیت ہی۔ اس سےقبل بلوچستان کی تاریخ میں ایسی کوئی دستاویز موجود نہیں تھی کہ جو باقاعدہ منصوبہ بندی، تجزیہ، عملدرآمد اور برائہ راست اس کےسماجی و معاشی اثرات کےحوالےسےاتنی جامع اور بھرپور معلومات اور طریقہ کار فراہم کرتی ہو۔ خوش آئند بات یہ ہےکہ یہصرف ایک دستاویز ہی نہیں بلکہ اس پر عمدرآمد بھی ہورہا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب مستند معلومات اور شراکت کی بنیاد پربلوچستان میں کیےگئےترقیاتی اقدامات یہاں کےپسماندہ اور روایتی معاشرےکی ترقی پر گہری چھاپ چھوڑیں گی۔“

یہ تینوں آرا اپنی جگہ درست ہیں اور ان تینوں شخصیات کا ایک بات پر اتفاق ہےکہ درست لائحہ عمل کا فقدان سب سےبڑا عنصر ہی، جس کےباعث ترقیاتی منصوبوں کےوہ اثرات مرتب نہیں ہوسکےجو کہ ہونےچاہیےتھی۔

بلوچستان کےپس منظر کا جائزہ لیں تو ہم دیکھتےہیں کہ رقبےکےلحاظ سےپاکستان کا یہ سب سےبڑا صوبہ اور وسائل سےمالا مال یہ خطہ ماضی میں ترقیاتی ثمرات سےزیادہ استفادہ نہیں کرسکا۔ قدرت نےاپنی کرم نوازی سےاسےخوب نوازا ہی۔ متنوع جغرافیائی ماحول جس میں سرسبز جنگلات، چٹیل پہاڑ، لق و دق صحرا اور طویل ساحلی علاقےشامل ہیں، اس کی سرزمین مختلف اقسام کی جنگلی حیات کا مسکن ہی، انواع و اقسام کےنباتات اوربیش بہا افادیت اور اہمیت کےحامل ادویاتی پودے یہاں پائےجاتےہیں،قدرتی گیس، کوئلہ، تانبا، سنگِ مرمر اور پیٹرولیم سمیت مختلف معدنیات کےبڑےبڑےذخائر اس سرزمین میں پوشیدہ ہیں جس کی بنیاد پر یہ ترقی اور خوش حالی کےوسیع تر امکانات رکھتا ہی۔ اس کےباوجود کم تر شرح خواندگی، بےتحاشہ غربت، ناقص ذرائع مواصلات سمیت متعدد اسباب ترقی کےمواقعوں سےبھرپور استفادہ کی راہ میں حائل رکاوٹیں بنے ہیں۔
روایتی طور طریقوں میں جدید سائنسی اصولوں پر تبدیلی لاکر پائیدار ترقی کا حصول حکمت عملی کا مقصد تھا۔
اگرچہ بلوچستا ن کی حکومت اور باشندوں نےگزشتہ دہائیوں میں صورتِ حال کو بہتر بنانےکےلیےمتعدد اہم کوششیں کی ہیں لیکن واضح ترجیحات اور جامع منصوبہ بندی کی کمی نےان کےثمرات کو متاثر کیا۔ نتیجہ یہ رہا کہ ترقیاتی منصوبہ بندی وسیع پیمانےپر نہ ہوسکی اور اس کا مقصد محض فوری نوعیت کی ضروریات کی تکمیل کی حد تک ہی محدود رہا۔ اس صورتِ حال کا ایک اثر قدرتی وسائل اور ماحول پر بھی ہوا۔ ناقص منصوبہ بندی اور غیر دانشمندانہ استعمال سےقدرتی وسائل کو شدید نقصانات پہنچا اور ماحولیاتی انحطاط کی شرح میں بھی تیزی آئی۔

نوےکی دہائی کےآخری سالوں کےبلوچستان کا تجزیہ کریں تو ہم دیکھتےہیں کہ غیر دانشمندانہ اقدامات اور پائیدار منصوبہ بندی کےفقدان کےباعث یہاں کے مسائل میں پانی کی شدید قلت، کم ہوتےہوئےجنگلات، صحرائی علاقوں کےپھیلاؤ،ناقص منصوبہ بندی کےتحت بسنے والی بستیاںاور تیزی سےبڑھتی ہوئی کچی آبادیاں، آلودہ پانی کی فراہمی، نکاسیِ گنداب اور ٹھوس کچرےسےنمٹنےکےلیےنہ ہونےکےبرابر انتظامات، فضائی اور سمندری آلودگی، بہتر نظم و نسق کا فقدان اور سب سےبڑھ کر پریشان کن مسئلہ بڑےپیمانےپر پھیلی ہوئی غربت شامل تھی۔

اس ماحولیاتی اور سماجی منظر نامےمیں جب بلوچستان کی پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی مرتب ہوئی تو اس میں اگلےدس برسوں میں ترقیاتی مقاصد کا حصول اور غربت سےموثر طور پر نمٹنےکا ہدف رکھا گیا۔ اس میں اس بات کی جانب سنجیدہ طور پر توجہ مبذول کروائی گئی کہ اہداف کےحصول کےلیےقدرتی وسائل کو سمجھداری سےاستعمال کیا جائے۔ نیز ماحولیات و ترقیات کےلیےشراکت کےاصول پر حکومت کا ہاتھ بھی بٹایا جائےگا۔

اسی منظر نامےمیںحکومتِ بلوچستان کی جانب سےحکمتِ عملی کی منظوری کےبعدآئی یو سی این نےپہل کی اور بلوچستان پروگرام کےتحت رائل نیدرلینڈ ایمبیسی (آر این ای) کےمالی تعاون سےمخصوص علاقوں میں ایسےنمائشی منصوبےDemonstration Projects شروع کیےجن کےذریعی بتایا جاسکےکہ حکمتِ عملی کی سفارشات قابلِ عمل ہیں اور منصوبوں کی کامیاب مثالیں کسی اور علاقےمیںبھی دُہرائےجانےکےقابل ہیں۔ حکمتِ عملی پائیدار ترقی، قدرتی وسائل کےتحفظ اور بقائےماحول کےلیی14بنیادی شعبوں پر بحث کرتی ہےجو بلوچستان کےتمام شعبوں کا احاطہ کرتےہیں۔

حکمتِ عملی کےتحت شراکت داروں کی استعداد میں اضافےکےلیےتربیتی پروگراموں کا طویل سلسلہ شروع ہوا۔ نیز انہیں مواقع فراہم کیےگئےکہ وہ ایک میز پراکھٹےبیٹھ کر اپنےمسائل اور ان کےحل پر بحث کرسکیں تاکہ عمل’ متفقہ‘ طور پر ہو۔

صوبےکو درپیش مسائل کا جائزہ لیں تو اس کےمقابلےمیںحکمتِ عملی پر عملدرآمد کا دورانیہ کم محسوس ہوتا ہی، لیکن بلوچستان پروگرام کےتحت اس مختصر مدت میں بھی اہم ترین مقاصد کو حاصل کیا گیا ہی۔ جس کی بنا پر یہ امید کی جاسکتی ہےکہ آنےوالےبرسوں میں اس کےثمرات کو مزید وسعت حاصل ہوگی۔

اگرچہ عمل درآمد کی مدت بہ ظاہر مختصر ہےلیکن جس جانفشانی سےاہداف کےحصول کی جانب پیشرفت کی گئی ہےوہ لائقِ تحسین ہی۔
بلوچستان کےلیےتیار کردہ’ پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی‘ کےثمرات کی اضلاع تک منتقلی کےسلسلےمیں پانچ سالہ پروگرام کی بےشمار کامیابیابیاں ہیں ۔ ذیل میں اُن چیدہ چیدہ کامیابیوں کا مختصر طور پر تذکرہ کیا جارہا ہےجو حکومتِ بلوچستان اور دیگر شراکت داروں کےعلاوہ رائل نیدر لینڈ ایمبیسی کےمالی تعاون سےآئی یو سی این بلوچستان پروگرام نےحاصل کی ہیں:

-- پروگرام کامقصد اثرپذیری، حوصلہ افزائی اور مدد کےزریں اصولوں کےتحت بلوچستان میں سرکاری و نجی شعبےاور سول سوسائٹی کےارکان میں اشتراکِ عمل کےتحت قدرتی وسائل کےپائیدار استعمال و انتظام کےتحت ماحولیاتی نظاموں میں بہتری لانا اور اس کےتحت ذرائع معاش کا تحفظ کرنا تھا۔

-- پروگرام پر عملدرآمد کوشراکت، اتحاد اور نمائشی منصوبوں کےذریعےپائیدار ترقی کےحصول کی قابلِ تقلید مثالوں کےموثر اظہار، پالیسی کےابلاغ، استعداد سازی، بہترین روابط، نیز انتظامِ علم کےواضح خطوط پر استوار کیا گیا تھا۔

-- پروگرام کی سب سےبڑی کامیابی حکمتِ عملی پر عملدرآمد کےلیےسرکاری محکموں، ضلعی حکومتوں،غیر سرکاری تنظیموں، معاصر ترقیاتی اداروں، نجی شعبی، عوامی نمائندوں، ذرائع ابلاغ ، رائےعامہ کی شخصیات ، سول سوسائٹی کےارکان، ماہرینِ تعلیم و تحقیقی اداروںاورشعبئہ ابلاغ کےمابین سرگرم اشتراکِ عمل کی مربوط و نتیجہ خیزکوششوں اور ان کی استعداد سازی کےلیےکیےگئےاقدامات کو کہا جاسکتا ہی۔ جس کےتحت تمام شراکت داروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آسکا۔

-- بلوچستان میں پانی کی کمی سےنمٹنے، پائیدار انتظام اورتحفظِ آب کےتصور کےتحت کمیونٹیز کی استعداد سازی کی گئی ۔ نیز مربوط انتظامِ آب اور معاشی ترقی کےاصولوں پرشروع کیےگئےمنصوبوں کی کامیابی سےتکمیل۔ محکمئہ آب پاشی، زراعت سول سوسائٹی اور کمیونٹیز کی استعداد سازی کےلیےتربیتی پروگراموں کا انعقاد ہوا۔

-- صوبےکےساحلی علاقوں کی ترقی اور انتظام ، نیز ماحولیاتی بحالی اور معاشی صورتِ حال کو بہتر بنانےکےلیےاقدامات۔ اس ضمن حکومتی تعاون کےعلاوہ ساحلی علاقوں کےباشندوں اور دیگر شراکت داروں کےساتھ مل کر تین ہزار ہیکٹر رقبےپر تیمر کی شجر کاری کی گئی۔ علاوہ ازیںمعاشی بہتری کےلیے50ہیکٹر پر آبی حیات کی پرورش کےنمائشی منصوبےکی کامیاب تکمیل ہوئی۔ پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ، مجریہ1997ءکےتحت درکار کام کرنےکی مطلوبہ استعداد میں اضافےکےلیےادارہ برائےتحفظِ ماحول Environmental Protection Agency کےافسران و اہلکاروں کی استعداد سازی کی گئی۔

-- ماحولیات کےحوالےسےموجود قوانین کو جامع اور مربوط اطور پر مرتب کرنےکےلیےاقدامات کیےگئی۔ نیزقانونی ماہرین کی ماحولیاتی قوانین کےحوالےسےاستعداد سازی کی گئی۔

-- بقا کو لاحق خطرات سےدوچار بلوچستان کےممالیہ جانوروں کےحوالےسے’سرخ فہرستRed List کی تیاری سمیت محکمئہ جنگلات و جنگلی حیات کےاہلکاروں کی ’تحفظِ جنگلی حیات‘ کےحوالےسےتربیت و استعداد سازی کی گئی۔

-- ماحولیات و پائیدار ترقی کےلیےروایتی اور غیر روایتی ذرائع ابلاغ کےذریعےآگہی کےفروغ اور شعور کی بیداری کےلیےپیہم کوششیں کی گئیں۔ اس سلسلےمیں روایتی ذرائع ابلاغ کےتحت سماجی رہنماؤں بالخصوص مختلف مکاتبِ فِکر کےعلما کی شراکت یقینی بنائی گئی۔ نیز رسمی ذرائع ابلاغ (اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی) کےعلاوہ ’انتظامِ علم'Knowlwdge Management' کےحوالےسےبلوچستان کےامور پراہم دستاویزی اہمیت کےمواد پر مشتمل ویب سائٹس کا اجرا ہوا۔

-- خواتین کا سماجی کردار بلوچستان کےپس منظر میں بالعموم روایتی اور نسبتاً محدود ہی، تاہم تعلیم، ماحول، قدرتی وسائل و انتظام اور پائیدار ترقی میں ان کےکردار کی افادیت کےحوالےسےمتعدد تربیتی پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔

-- ماحولیاتی تعلیم اور آگہی کو نصاب کا حصہ بنانےکےلیےشراکت داروں کےہمراہ اساتذہ کےتربیتی نصاب تیارکیا گیا۔

-- حکمتِ عملی کےثمرات کی اضلاع تک منتقل کےضمن میں دو اضلاع قلعہ سیف اللّہ اور گوادر کو چنا گیا ۔ ان اضلاع کےلیےمربوط ترقیاتی خاکےتیار کرنےمیں ضلعی حکومتوں کی مدد کی گئی، تاکہ پالیسی دستاویز کی موجودگی میں صوبائی حکومت اور ضلعی حکومتوں کےمابین پائیدار ترقی کےحصول اور قدرتی وسائل کےتحفظ کےاقدامات کیےجا سکیںاور اس کی رہنمائی میں منزل کی سمت سفر جاری رہی۔ نیز قلعہ سیف اللّلہ میں ہی چراگاہوں کی تعمیر و ترقی کا منصوبہ تکمیل پذیر ہوا، جسےبعد ازاں ضلعی حکومت کےحوالےکردیا گیا۔
 
 
ترقیاتی منصوبوں کو ماحول سےمربوط کر کےپائیدار نتائج حاصل کیےجاسکتےہیں۔
 
 

پانچ سالہ بلوچستان پروگرام کےتحت کیےگئےاقدامات کےنتائج نہایت حوصلہ افزا رہےہیں ۔ مالی معاونت فراہم کرنےوالےادارےآر این ای ، سرکاری محکموں، غیرسرکاری نمائندوں سمیت تمام شراکت داروں کا اس بات پر اتفاق
ہےکہ مختصر مدت میں کیےگئےکامیاب، قابلِ تقلید اور ٹھوس اقدامات تعریف کےقابل ہیں۔

فروری2007ءمیں جب بلوچستان پروگرام اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرکےاختتام پذیر ہوا تو اس بات کا بھی گہرائی سےجائزہ لیا گیا کہ عملدرآمد کےحوالےسےایسےکیا اسباق حاصل ہوئےہیں جن کےذریعےمستقبلِ قریب میں اس نوع کےمنصوبوں پر زیادہ بہتر انداز میںعمل کیا جاسکی۔ اس حوالےسے ڈونر، سرکاری محکموں، شراکت داروں، سول سوسائٹی کےنمائندوں، غیرسرکاری تنظیموں سمیت آزاد شہری گروپوں کےنمائندوں پر مشتمل منعقدہ ورکشاپ کےنتیجےمیں مندرجہ ذیل اسباق کی نشاندہی ہوئی:

- منصوبوں پر عملدرآمد کی مدت کو موسمیاتی تغیر و تبدل سےمنسلک کیا جانا چاہیی۔ بلوچستان کےپس منظر

میں موسمیاتی تبدیلیاں کسی بھی منصوبےکی مدتِ تکمیل پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔

- اعلیٰ سطح پر سیاسی ہم آہنگی کی موجودگی منصوبوں کےمقاصد کےحصول میں مددگار ہوسکتی ہی۔
- معلومات اور اطلاعات کی بروقت فراہمی اور مقامی زبانوں میں اس کی تقسیم، تاکہ منصوبوں اور ان کی افادیت

سےمتعلق رائےعامہ بیدار ہو اور وہ اس کی اہمیت سےآگاہ سکیں۔

- منصوبےاور ان کےنتائج واضح ، ٹھوس اورقابلِ محسوس ہونےچاہئیں تاکہ کمیونٹیز شراکت، تعاون اور عملدرآمد

کےذریعےپائیدار ترقی کےاصولوں اور ان کےثمرات کو تسلیم کرسکیں۔

اگر ’ آئی یو سی این بلوچستان پروگرام ‘کےتحت پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی پر عملدرآمد کےپانچ سال ٹھوس نتائج کےساتھ اختتام پذیر ہوچکےہیں، لیکن اس کا مقصد یہ نہیں کہ سفر ختم ہوچکا ہی۔ سفر ابھی جاری ہےاور مستقلِ قریب میں بھی ایسےبامقصد منصوبوں کےآغاز کی امید رکھنی چاہیےکہ جو پائیدار ترقی کےمزید دروازےکھولنےکا سبب بنیں گی۔ بات یاد رکھنےکی یہ ہےکہ عشروں تک روا رہنی والی غلطیوں نےجو اثرات مرتب کیےہیں ان کو درست کرنےاور صحیح رخ پر سفر کرکےاہداف کو حاصل کرنےمیں بھی خاصا وقت درکار ہوتا ہی۔


بلوچستان کا تاریخی اور ثقافتی ورثہ

آثارِ قدیمہ کےماہرین کےمطابق بلوچستان کی سرزمین پرتہذیب و تمدن کا سفر مختلف تاریخ کےمختلف ارتقائی ادوار سےہی جاری رہا ہےاور تمدنی ارتقا کےاس سفر کےمتعدد ٹھوس--- مزيد پڑھيے۔

 

پایدار ترقی کی حکمت عملی کا پس منظر

بلوچستان اگرچہ اپنےقدرتی وسائل اور جغرافیائی تنوع کےباعث اہمیت کا حامل ہےتاہم گزشتہ چند دہائیوں کےدوران اس کا قدرتی ماحول تیزی سےانحطاط پذیر رہا ہی۔ ۔ --- مزيد پڑھيے


رفیع الحق آئی یو سی این پاکستان کےشعبہ ’انتظامِ قدرتی وسائل‘ سےبطور کو آرڈینیٹر وابستہ ہیں۔