پانچ سالہ بلوچستان پروگرام کےتحت کیےگئےاقدامات کےنتائج نہایت حوصلہ افزا رہےہیں ۔ مالی معاونت فراہم کرنےوالےادارےآر این ای ، سرکاری محکموں، غیرسرکاری نمائندوں سمیت تمام شراکت داروں کا اس بات پر اتفاق
ہےکہ مختصر مدت میں کیےگئےکامیاب، قابلِ تقلید اور ٹھوس اقدامات تعریف کےقابل ہیں۔
فروری2007ءمیں جب بلوچستان پروگرام اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرکےاختتام پذیر ہوا تو اس بات کا بھی گہرائی سےجائزہ لیا گیا کہ عملدرآمد کےحوالےسےایسےکیا اسباق حاصل ہوئےہیں جن کےذریعےمستقبلِ قریب میں اس نوع کےمنصوبوں پر زیادہ بہتر انداز میںعمل کیا جاسکی۔ اس حوالےسے ڈونر، سرکاری محکموں، شراکت داروں، سول سوسائٹی کےنمائندوں، غیرسرکاری تنظیموں سمیت آزاد شہری گروپوں کےنمائندوں پر مشتمل منعقدہ ورکشاپ کےنتیجےمیں مندرجہ ذیل اسباق کی نشاندہی ہوئی:
- منصوبوں پر عملدرآمد کی مدت کو موسمیاتی تغیر و تبدل سےمنسلک کیا جانا چاہیی۔ بلوچستان کےپس منظر
میں موسمیاتی تبدیلیاں کسی بھی منصوبےکی مدتِ تکمیل پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
- اعلیٰ سطح پر سیاسی ہم آہنگی کی موجودگی منصوبوں کےمقاصد کےحصول میں مددگار ہوسکتی ہی۔
- معلومات اور اطلاعات کی بروقت فراہمی اور مقامی زبانوں میں اس کی تقسیم، تاکہ منصوبوں اور ان کی افادیت
سےمتعلق رائےعامہ بیدار ہو اور وہ اس کی اہمیت سےآگاہ سکیں۔
- منصوبےاور ان کےنتائج واضح ، ٹھوس اورقابلِ محسوس ہونےچاہئیں تاکہ کمیونٹیز شراکت، تعاون اور عملدرآمد
کےذریعےپائیدار ترقی کےاصولوں اور ان کےثمرات کو تسلیم کرسکیں۔
اگر ’ آئی یو سی این بلوچستان پروگرام ‘کےتحت پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی پر عملدرآمد کےپانچ سال ٹھوس نتائج کےساتھ اختتام پذیر ہوچکےہیں، لیکن اس کا مقصد یہ نہیں کہ سفر ختم ہوچکا ہی۔ سفر ابھی جاری ہےاور مستقلِ قریب میں بھی ایسےبامقصد منصوبوں کےآغاز کی امید رکھنی چاہیےکہ جو پائیدار ترقی کےمزید دروازےکھولنےکا سبب بنیں گی۔ بات یاد رکھنےکی یہ ہےکہ عشروں تک روا رہنی والی غلطیوں نےجو اثرات مرتب کیےہیں ان کو درست کرنےاور صحیح رخ پر سفر کرکےاہداف کو حاصل کرنےمیں بھی خاصا وقت درکار ہوتا ہی۔
|
بلوچستان کا تاریخی اور ثقافتی ورثہ |
|
آثارِ قدیمہ کےماہرین کےمطابق بلوچستان کی سرزمین پرتہذیب و تمدن کا سفر مختلف تاریخ کےمختلف ارتقائی ادوار سےہی جاری رہا ہےاور تمدنی ارتقا کےاس سفر کےمتعدد ٹھوس--- مزيد پڑھيے۔ |
| |
|
پایدار ترقی کی حکمت عملی کا پس منظر |
بلوچستان اگرچہ اپنےقدرتی وسائل اور جغرافیائی تنوع کےباعث اہمیت کا حامل ہےتاہم گزشتہ چند دہائیوں کےدوران اس کا قدرتی ماحول تیزی سےانحطاط پذیر رہا ہی۔ ۔
--- مزيد پڑھيے |
رفیع الحق آئی یو سی این پاکستان کےشعبہ ’انتظامِ قدرتی وسائل‘ سےبطور کو آرڈینیٹر وابستہ ہیں۔ |