Jareeda Banner
 

 

 
پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کےثمرات کی اضلاع تک منتقلی کےضمن میں گوادر اور قلعہ سیف اﷲ کےمربوط ترقیاتی خاکےتیار کیےگئےہیں۔
 

تحریر :رحیم بلوچ / نصیب اﷲ

 

عبدالغفور کلمتی گوادر کےباشندےہیں اورمولوی انوارالدین حقانی قلعہ سیف اﷲ کےرہنےوالےہیں۔ گوادر بلوچستان کےانتہائی جنوب میں بحیرئہ عرب کےکنارےواقع ہےتو قلعہ سیف اﷲانتہائی شمالی کنارےپر ۔ ان دونوں شخصیات میںبظاہر کوئی مماثلت نہیں مگر چند چیزیںدونوںمیں قدرِ مشترک ہیں۔ یہ دونوں اپنےاپنےضلع کی مقامی حکومتوں کےسربراہ ہیں۔ ان دونوں اضلاع میںبلوچستان کی پائیدار ترقی کےلیےتیار کردہ حکمت عملی کےثمرات کی اضلاع کی سطح پر منتقلی کےسلسلےمیں بقائےماحول کی انجمن کےدفاتر قائم کیےگئے۔ دونوں اضلاع کی اسمبلیوں کی منظور کردہ قرارداد پر آئی یو سی این نےضلع کی سطح پر ان کی پائیدار ترقی کےحصول کےلیے’مربوط ضلعی ترقیاتی خاکہ‘Integrated District Development Vision مرتب کیا۔ جس کی گوادر اور قلعہ سیف اﷲکی مقامی حکومتیں حال ہی میں منظوری دےکر اسےقابلِ عمل قرار دےچکی ہیں۔ اب اس ترقیاتی خاکےکو عملی شکل دینےکےلیےضروری تیاریاں کی جارہی ہیں اور یہ دونوں ہی اضلاع آئی یو سی این کی مزید فنی معاونت کےخواہاں ہیں۔


طویل مشاورتی عمل کےتحت مرتب ہونےوالےترقیاتی خاکےہمیں پائیدار ترقی کےلیےبنیاد فراہم کرتےہیں۔

ضلعی حکومت قلعہ سیف اﷲکےناظم مولوی انوارالدین حقانی کا کہنا ہی!
”ضلع کی پائیدار ترقی کےلیےآئی یو سی این کی کاوشوں سےتیار کردہ خاکہ سیاسی قائدین، منتخب ارکان، سول سوسائٹی کےارکان، قبائلی عمائدین ، تعلیمی ماہرین اور ذرائع ابلاغ کےنمائندوں سےطویل مشاورت کےنتیجےمیں تکمیل پذیر ہوا ہی۔ یوں اب ہمارےپاس اس دستاویز کی شکل میںایک ایسا لائحہ عمل موجود ہےجو ان مالیاتی امداد فراہم کرنےوالےاداروںاور غیر سرکاری تنظیموں کےلیےنہایت مددگار ثابت ہوگا جو پائیدار ضلعی ترقی کےلیےاس کی سفارشات کےمطابق کام کرنا چاہتےہیں۔“

گوادر کی ضلعی حکومت کےناظم عبدالغفور کلمتی کی رائےبھی ان سےکچھ مختلف نہیں۔ وہ کہتے ہیں! ”طویل مشاورتی عمل کےتحت مرتب ہونےوالےاس ترقیاتی خاکےنےہمیں پائیدار ترقی کے دور رس مثبت نتائج کےلیےبنیاد فراہم کی ہی۔ جس پر چل کر نہ صرف مستقبل میں ماحولیاتی انحطاط کا سبب بننےوالےخطرات کی روک تھام کی جاسکتی ہےبلکہ گہری بندرگاہ کےحامل اس ابھرتےہوئےجدید اور بڑےشہر کو مستقبل میں کیا ماحولیاتی اور شہری ترقیات کےمسائل درپیش آسکتےہیں ، اس کےلیےبھی پیش بندی کی جاسکتی ہی۔“ عبدالغفور کلمتی نےدستاویز کی منظوری کےموقع پر عملدرآمد کےلیےایک علیحدہ شعبےکےقیام کی تجویز دی اور آئی یو سی این سےدرخواست کی کہ عمل کےمرحلےمیںبھی ان کی فنی مشاورت جاری رکھی جائی۔

پاکستان میں مربوط پائیدار ترقی کےلیےحکمتِ عملی کی تیاری کی داغ بیل 1992ءمیں قومی سطح پر آئی یو سی این کےفنی اشتراک سےمرتب ہونےوالی National Conservation Strategy سےپڑی۔ اس کےبعد سرحد، بلوچستان، شمالی علاقہ جات اور سندھ کےلیےصوبائی سطح پر حکمتِ عملیوں کو تیار کیا گیا۔ 2000ءمیںجب پاکستان میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کےلیےمقامی حکومتوں کی تشکیل کا فیصلہ ہوا تو اس منصوبےکا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ ہر ضلعی حکومت اپنےضلع کی ترقی کےلیےترقیاتی خاکہ تشکیل دےگی۔

بلوچستان میں قلعہ سیف اﷲاور گوادر وہ پہلےاضلاع ہیں جن کی مقامی حکومتوں نےآئی یو سی این کےفنی اشتراک سےترقیاتی خاکہ تشکیل دیا ہی۔ ان ترقیاتی خاکوں کی تیاری کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہےکہ2004ءمیں ان اضلاع کی اسمبلیوں نےاس مقصد کےلیےقرارداد پاس کر کےآئی یو سی این سےتکنیکی مدد کی درخواست کی تھی۔ ان ضلعی اسمبلیوں کی مدتِ تکمیل پر ہونےوالےانتخابات کےبعد نو منتخب اسمبلی نےبھی اس فیصلےکی توثیق کی۔ اس طرح طویل مشاورتی اور تحقیقی عمل کےبعد 2006ء کےآخرمیں یہ ترقیاتی خاےتکمیل پذیر ہوئی۔ان ترقیاتی خاکوں میں وسائل، ضروریات، اطلاق اور امکانات کا تجزیہ کرنےکےساتھ ساتھ ترقی کی نئی راہیں تلاش کرتےہوئےشعبہ جاتی سطح پر انہیں تقسیم کرکےعمل درآمد کی سفارشات کی گئی ہیں۔

یہ مربوط ترقیاتی خاکےایک طرف حکومتِ پاکستان کےضلعی حکومتوں کی نظام کےقوانین کی ترجیح کےعین مطابق ہیںتو دوسری جانب بلوچستان کی پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کی اضلاع تک منتقلی کے آئی یو سی این کےمنصوبےمیں بھی یہ بات شامل تھی۔ اس طرح نہ صرف بلوچستان کی ترقی کےلیےتیار کردہ حکمتِ عملی کی ایک اہم سفارش تکمیل کو پہنچی بلکہ اس نےایک ایسا خاکہ اور طریقئہ کار بھی فراہم کردیا ہےجس کےتحت صوبےکےدیگر اضلاع کی پائیدار ترقی کےلیےحکمت عملی مرتب کی جاسکتی ہی۔ امید ہےکہ پائیدار ترقی، بقائےماحول اور منتقلیِ علم کا یہ مربوط سفر اب ایک ضلع سےدوسرےضلع میں منزل کےحصول تک جاری رہےگا۔


رحیم بلوچ آئی یو سی این بلوچستان، کےگوادر پروگرام میں بطور کو آرڈینیٹر خدمات سرانجام دےرہےہیں۔

نصیب اﷲآئی یو سی این بلوچستان، قلعہ سیف اﷲ پروگرام میں اسسٹنٹ کو آرڈینیٹر ہیں۔