Jareeda Banner

 
’کوہِ ہربوئی‘ بلوچستان کی وادیِ قلات میں واقع ہےجہاں پاکستان میں صنوبر کا دوسرا بڑا جنگل واقع ہے۔

تحریر و تصاویر:سلطان احمدشاہوانی

کوئہ ہربوئی کی وادی کا کیا کہنا۔ صنوبر کےدامن میں کہیں ریجئی، توغئی اور کوئہ بادار کےچشمےگُنگناتےہوئےرواں دواں تھےتو کہیں یَخو، موڑ تین اور بند گلی میں بہنےوالا پانی راگ الاپ رہا تھا۔ ہربوئی کی وادی میں’ گیربست‘ وہ مقام ہےجو شائقینِ فطرت میں حُسنِ فطرت کی دیوی کہلاتی ہے۔ اس مقام پر ایک خوبصورت آبشار پہاڑوں کےدامن سےنکل کر سنگلاخ چٹان پر گرتا ہے۔ کہنےوالے کہتےہیں کہ یہ آبشار صدیوں سےاسی طرح گررہا ہے۔ یہ بات دل کو یوں بھی لگتی ہےکہ جس چٹان سےپھسلتا ہوا آبشار کا پانی زمینی سطح تک پہنچتا ہے، اُس راہ گذر کا وہ چٹانی حصہ مانند ریشمی مخمل ہوچکا تھا۔ بلا تعطل بہنےوالےاس آبشار سےزمین پر ایک بڑا تالاب بن چکا ہے۔ جہاں رات کو آوارہ جگنو ڈیرہ ڈالتےہیں اور جب صنوبر کے درختوں سےہوا سرسراتی ہوئی گذرتی ہےتو بہتا آبشار جلترنگ بجاتا ہےاور پھر جگنو چراغاں کرتےہیں۔

جب میں یہاں پہلی بار یہاں آیا تھا تو وادی میں متعدد اقسام کی جنگلی حیات کا بھی مشاہدہ ہوا۔ وادیِ ہربوئی تلور، پہاڑی کبوتر، چکور، سیسی، شکاری باز، کرگزکےعلاوہ مختلف اقسام کےرنگ برنگےپرندوں کا بھی مسکن تھی۔ بات پرندوں تک ہی محدود نہیں ۔ پہاڑی بکروں، ہرن، گیڈر، لومڑی، بھیڑیی، اژدہے سمیت مختلف النوع جنگلی حیات کی موجودگی کےبارےمیں مقامی لوگ بڑےاعتماد سےگواہی دیتےہیں۔خود راقم نے بڑے بڑےگوہ کو تیزی سےرینگتےہوئےدیکھا ہے۔
NOrthern Pakistan
یہ احوال سترہ برس پہلےکا ہے۔ سترہ برس کےبعد ایک بار پھر دل میں ہربوئی کی سیاحت کا خیال جاگا توچند روز بعدہی سفر پر نکل کھڑا ہوا۔ اس بار پچھلا مشاہدہ میرا ہم سفر و رہنما تھا۔سفر شروع ہوا تو یادوں کی الماری میں محفوظ ہربوئی کی ایک ایک تصویر تخیل کےپردےپر نظر آنےلگی۔ ہر درخت، ہر پودا اور ہر پرندہ جس سےسفرِ گزشتہ میںشرفِ تعارف حاصل ہوا تھا، نگاہوں میں گھوم رہےتھے۔ وادیِ ہربوئی کی راہ میں منزل سےکافی پہلےایک مقام ’اِسکلکو‘ آتا ہے۔ اس مقام سےگذر کر ہماری گاڑی جب کوئہ ہربوئی پر چڑھنا شروع ہوئی تو وادیِ ہربوئی کی دوبارہ دید کی خوشی آہستہ آہستہ مایوسی میں تبدیل ہونےلگی۔ ہم سفروں سےمیرا اصرار تھا کہ نہیں یہ وہ راستہ نہیں ، ہم راہ بھٹک گئےہیں۔مگر بل کھاتےراستےپر پہاڑ پر چڑھتی گاڑی میں سوار مقامی دوستوں کا دعویٰ تھا کہ میرا خیال غلط ہے۔ راہ وہی ہے۔ اُن کا دعویٰ اپنی جگہ لیکن میرا اصرار پھر بھی قائم تھا۔

اُس وقت اصرار اور جوابی دعووں کےدرمیان کوئہ ہربوئی مجھےایک ایسا قوی الجثہ دیو لگا جو قدو قامت کےلحاظ سےگویا آسمان کو چھورہا ہو۔ کوئہ ہربوئی جو ہزارہا برس سےتیز ترین طوفانوں کےآگےثابت قدمی سےسینہ سپر رہا،جو اپنی چوٹیوں پر گرنےوالی لاکھوں ٹن برف کو اپنےحُسن کی آرائش کےلیےاستعمال کرتا چلا آیا، جس کی ڈھلوانیںصنوبرکےسبب سبز پوش رہی ہیں۔۔۔مگر اب ایسا لگ رہا تھا کہ جیسےصنوبری سبزےکی چادر تیز طوفانوں میں اُڑ کر کہیں دور جاگری ہو، حُسن فطرت ماضی میں کہیں کھوچکاتھا۔ بس یوں مانو کہ جیسےکوئہ ہربوئی کا نکھار گہنا چکا ہو۔
’اگر یہ کوئہ ہربوئی ہےتواس کا گھناصنوبری جنگل جو میں نےسترہ سال پہلےدیکھا تھا، وہ کیا ہوا؟ ‘ میں نےاپنےساتھیوں سےسوال کیا توایک نےجواب دیا!

’ جو تم نےدیکھا تھا، وہ تو نہ جانےاب کیا ہوا، مگر حقیقت ہےکہ منزل بھی وہی اور راستےبھی وہی، مگر پچھلےسترہ برسوں میں بہت کچھ بدلا ہے۔ اب تو یہ جنگل بھی کم از کم تین چوتھائی کٹ چکا ہےجو باقی ہےوہ بیمار ہےیا کٹنےکا منتظر۔‘
جو میں نےسنا اس کا لبِ لباب یہ ہےکہ کہیں یہ درخت کاٹ کر چولہےمیں جھونکےگئےتو کہیں گھر کی چھت کےلیےان کا تنا شہتیر کےکام آیااور کہیں اسےکاٹ کر بازار میں موجود ٹالوں پر بیچا گیا ۔ اس کی لکڑی چولہےجلانےاور گھر گرم کرنےکےکام میں آئی تو اس کےساتھ ہی کئیوں کی جیبیں بھی گرم کرگئی۔

میں ابھی راستےمیں تھا مگر یقین ہوگیا کہ جو سنا سچ تھا اور جو دیکھا حقیقت تھی۔ مجھےاب وہ نظارےملنےوالےنہیں جو میں نےدیکھےتھے۔ آگہی کا دکھ اس لیےبھی شدید تھا کہ زوال کےشکار صنوبر کا شباب دیکھ چکا تھا۔ ساتھیوں نےیہ بھی بتایا کہ صنوبر کو امبر بیل کی جو بیماری زیارت میں لگی وہ یہاں بھی پہنچی اور خوب پھلی پھولی۔

یہ سب جان لینےکےبعدمنزل تک پہنچنےکی وہ جلدی جو آغازِ سفر میں تھی، اب تقریباً دم توڑ چکی تھی، مگر منزل تک پہنچنا تھا سو پہنچے۔ لوگوں سےملنا تھا، سو ملے، مگر حقیقت یہ ہےکہ آبشار کی مخملیں جِلد کہیں کھوچکی، خوش گلوپرندوں کےترانےکہیں دور چلےگئی، جنگل کٹےتو جنگلی حیات نےبھی مسکن بدل لیے۔ پہلےجہاںصنوبر کے درختوں تلےجنگلی حیات کےمسکن تھے، اب وہاں بستیاں، کھیت کھلیان اور چھوٹی چھوٹی دکانیں ملیں۔ میرا جنگل کہیں کھوچکا تھا اپنی رعنائیوں اور دلکشی کےساتھ۔
’جنگل تو کھوگیا، اگر حالات یہی رہےتو جو باقی ہےشاید وہ بھی نہ بچے، مگر کیا تمہیں احساس ہےکہ جو گنوادیا اس سےکیا نقصان پہنچا۔‘ یہ سوال ایک مقامی بزرگ سےکیا تو جواب ملا!

’ میں نےاپنےبچپن میں ہربوئی کےصنوبری جنگلات کو جیسا بھرا پُرا دیکھا تھا، وہ بات تو اب رہی نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ جو کچھ بچےہیں ان کےبارےمیں لوگوں کےخیالات بدل رہےہیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہےکہ اب یہاں پر کنواں کھودو یا ٹیوب ویل لگاؤ، پانی آسانی سےنہیں ملتا۔ بہت گہری کھدائی کرنا پڑتی ہی۔ جو سمجھ دار اور پڑھےلکھےلوگ یہاں آتےہیں، ان کا کہنا ہےکہ زیرِ زمین پانی کی سطح بہت نیچےجاچکی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ درخت کٹےتو زمین کاجو پانی اوپر ہوتا تھا یا بارش کےباعث زیرِزمین پانی کی جو سطح بلند رہتی تھی، وہ نیچےچلی گئی ہے۔ اس کی ایک ہی وجہ ہےکہ ہم نےدرخت بہت بےدردی سےکاٹے۔ اوروہ بھی ان درختوں کو جو صدیوں میں جوان ہوتےہیں۔صدیوں کےفطری خزانےکو اس بےدردی سےلوٹا ہےتو قدرت نےاس کی سزا بھی ہمیں ضرور دینی ہے۔ بس یہ بات جان لینی چاہیےکہ قدرتی ورثےکی حفاظت کروگےتو ہماری بقا ہوگی، ورنہ پھر جو سزا ملنی ہے، اس کےلیےتیار رہیں۔ افسوس تو یہ ہےکہ صنوبری جنگلات ہمیں میراث میں ملےلیکن ہم نےاپنی غفلت، لالچ اور غیر دانشمندی کےسبب اپنی ہی آنےوالی نسلوں کی امانت کو لوٹ لیا ہے۔‘
NOrthern Pakistan
کوہ ہربوئی کےجنگلات کی کٹائی سےماحولیاتی مسائل نےبھی جنم لیا ہے۔

ہربوئی کےصنوبری جنگلات کےزیاں کا احساس اب مقامی لوگوں میں بیدار ہوتا جارہا ہےاور وہ بچےکچھےجنگل کی حفاظت کےلیےپریشان ہیں اور اپنےماضی کےرویےپر نادم بھی نظر آتےہیں۔ اس کی ٹھوس وجہ یہ ہےکہ کوئہ ہربوئی کےدامن میں جہاں جہاں سےصنوبر کےجنگلات غائب ہوچکےہیں ، وہاں اب زیرِ زمین پانی کی سطح پانچ سو فٹ سےبھی نیچےجاچکی ہی، مگر اسکلکو کا علاقہ جہاں صنوبری درخت اب بھی بڑی تعداد میں ہیں، وہاں پچاس فٹ کی گہرائی پر پانی مل جاتا ہی۔ کوئہ ہربوئی کےدیگر علاقوں میںگرتی ہوئی آبی سطح اور اسکلکو میں زیرِ زمین پانی کی بہ آسانی دستیابی سےمقامی لوگوں کو یہ بات سمجھ میں آچکی ہےکہ پانی حیات کا سرچشمہ ہےتو جنگلات اس کی بہ آسانی دستیابی کی ضمانت۔ اب ضرورت اس بات کی ہےکہ کوئہ ہربوئی کےباقیماندہ صنوبری جنگلات کو بچانےکےلیےٹھوس اور ثمر آور اقدامات کیےجائیں۔ ہربوئی کےصنوبری جنگلات انسانی میراث کا حصہ ہیں۔ انہیں مکمل تباہی سےبچانےکےلیےفوری اقدامات وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہ اقدامات اُس وقت سےپہلےکیےجائیں جہاں یہ جنگلات صرف ماضی کا تذکرہ بن کر تاریخ کےصفحات تک ہی محدود نہ ہوجائیں۔