|
|
سنکھیا سےآلودہ پانی اورمہلک امراض کا پھیلاؤ، برفانی ریچھوں کا مستقبل اور نایاب جاپانی بلی تک۔۔۔تازہ ترین منتخب عالمی حقائق !
|
|
انتخاب:
ناصر پنہور ترجمہ: ذیشان حیدر
|
|
|
| سنکھیا بم کی تباہی |
|
دنیا بھر میں تقریباً 140 ملین افراد پانی میں سنکھیا arsenic شامل ہونےکےباعث زہر نوشی کا شکار ہوچکےہیں۔ خطرہ ہےکہ اس وجہ سےآئندہ برسوں میں مہلک امراض کے شکار مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ سنکھیاملےپانی کےاستعمال سےزہر نوشی کےشکار لوگوں کی اکثریت کا تعلق ترقی پذیر ممالک سےہے۔
یہ بات حال ہی میں لندن میں منعقدہ رائل جیوگرافک سوسائٹی کےسالانہ اجلاس کےدوران ماہرین نےبتائی ہے۔ ماہرین اور سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ’سنکھیا نوشی کےباعث آئندہ برسوں میں دنیا بھر میں کینسر کےشکار مریضوں کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہونےکا اندیشہ ہے۔‘
واضح رہےکہ ماہرینِ کیمیا کا کہنا ہےکہ جسم میں سنکھیا کی موجودگی کےسبب پھیپڑوں اور جِلد کے سرطان سمیت متعدد مہلک امراض لاحق ہوسکتےہیں۔ سنکھیا کےاخراج کا ذمہ دار کوئلی، تیل کی بھٹیوں اور شیشےکی تیاری کےدوران خارج ہونےوالےمادوں کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔ جسم میں اس کی شمولیت صحت اور زندگی، دونوں کےلیےجان لیوا ہوسکتی ہے۔
اجلاس کےدوران ماہرین نےیہ بھی انکشاف کیا کہ’ ایک طرف تو سنکھیا سےآلودہ پانی زہر نوشی کا سبب بنا ہےتو دوسری جانب متاثرہ علاقوں میں پیدا ہونےچاول اور بطور خوراک اس کےاستعمال سےبھی جسم میں سنکھیا شامل ہورہا ہے۔ چاول کی فصل کو پانی کی بہت زیادہ مقدار درکار ہوتی ہےاور سنکھیا ملےپانی سےچاول کی کاشت کےسبب یہ بھی اس سےآلودہ ہوجاتا ہے۔‘ ماہرین کا کہنا ہےکہ ’زمین اور پانی کےذریعی، دیگر اجناس کےمقابلےمیں ، سنکھیا چاول میںدس گنا زیادہ جلد شامل ہوجاتا ہے ۔
سائنسدانوں نےخدشہ ظاہر کیا ہے’اب تک ظاہر ہونےوالےمتاثرین کی نصف تعداد کا تعلق جنوب اور مشرقی ایشیا کےترقی پذیر اور پسماندہ ممالک سےہے۔ ان میں چین، کمبوڈیا اور ویت نام بھی شامل ہیں۔‘
یاد رہےکہ جنوب اور مشرقی ایشیا وہ خطّہ ہےجہاں چاور کی کاشت اور بطور خوراک اس کا استعمال بڑےپیمانےپر کیا جاتا ہے۔ ان کےعلاوہ جنوبی امریکا اور افریقہ کوبھی متاثرہ ملکوں میں شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ’یورپ میں سنکھیا سےآلودہ پانی کےاستعمال کےشواہد نہ ہونےکےبرابر ہیں، کیوں کہ یہاں کہ اکثریت کوپینےکےصحتمند پانی تک رسائی حاصل ہے۔ ‘
رپورٹ میں یورپ اور جنوب ایشیا کےحوالےسےتقابلی مثال دیتےہوئےکہا گیا ہےکہ’ روزانہ ایک برطانوی شہری دس سےپندرہ گرام چاول بطورِ خوراک استعمال کرتا ہے، تاہم بنگلا دیش میں اس کےمقابلےمیںتین سو گرام چاول روزانہ ایک شخص کی خوراک میں استعمال ہوتا ہے۔‘
یہاں یہ بتانا دلچسپی سےخالی نہ ہوگا کہ دنیا بھر میں سنکھیا ملےزہریلےپانی سےصحت کو لاحق درپیش خطرات کےحوالےسےپہلا اشارہ1980ءمیں بنگلادیش اور بھارتی ریاست مغربی بنگال میں پانی کےتجزیوں کےنتیجےمیں سامنےآیا، جب یہاں سنکھیا سےآلودہ پانی کےثبوت ملےاور صحت پر اس کےپڑنےوالےمہلک اثرات کا پتا چلایا گیا ۔ تب سےسنکھیا اور اس سےآلودہ پانی کوصحت کےلیےایک بڑےخطرےکی صورت میں ہمیشہ سائنسدانوں کی توجہ حاصل رہی ہے۔
رائل جیوگرافک سوسائٹی کےسالانہ اجلاس میں شامل کیمبرج یونیورسٹی، برطانیہ کےسائنسدان پیٹر راوین اسکروفٹ کا کہنا ہے:
’سنکھیاملےپانی کا استعمال اور اس سےفصلوں کی کاشت اور صحت کو درپیش سنگین خطرات دراصل ایک عالمی مسئلہ بن رہا ہے۔ اب تک تحقیق کےنتیجےمیں دنیا کے70ممالک میں یہ خطرہ سامنےآچکا ہے۔ ہوسکتا ہےکہ متاثرہ ممالک اور لوگوں کی تعداد اس سےکہیں زیادہ ہو، جتنا کہ تخمینہ لگایا گیا ہے۔‘
برکلے(امریکا) میں واقع یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سےوابستہ سائنسدان ایلن اسمتھ کا کہنا ہے:
’صورتِ حال نازک ہےاورطویل المعیاد تناظر میں یہ خطرہ موجود ہےکہ اگلےچند برسوں میں دنیا بھر میں مرنےوالےہر دس میں سےایک فرد کی موت کا بنیادی سبب سنکھیا ملا پانی ہوگا۔‘
|
|
| |
|
| برفانی ریچھوں پر اکیسویں صدی بھاری |
|
’دنیا میں پائےجانےوالےبرفانی ریچھوں کی دو تہائی تعداد رواں صدی کےنصف تک کرئہ ارض سےختم ہوسکتی ہے۔ اگربرف پگھلنےکی بڑھتی ہوئی موجودہ شرح برقرار رہتی ہےاور اس حوالےسےماہرینِ ماحولیات کی پیشگویاں درست ثابت ہوتی ہیں توپھر برفانی ریچھوں کا مستقبل خطرےمیں ہے۔‘ یہ بات امریکی ارضیاتی ادارے’یو ایس جیولوجیکل سروی‘ نےاپنی حالیہ رپورٹ میں بتائی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ’ قطب شمالی کےبرفانی ریچھوں کا مستقبل تاریک نظر آتا ہےکیوں کہ سائنسی تجزیوں کےمطابق برف کےذخائر تیزی سےپگھل رہےہیں۔ خیال یہی ہےکہ یہ کرئہ ارض کےگرم ہوتےہوئےدرجئہ حرارت کا شاخسانہ ہے، جس کی قیمت کا ایک حصہ برفانی ریچھوں کو اپنی آبادی میں واضح کمی کی صورت میں بھی ادا کرنا پڑسکتا ہے۔‘
’یو ایس نیشنل سِنو اینڈ آئس ڈیٹا سینٹر‘ نےسروےرپورٹ میں اعداد و شمار کےحوالےسےبتایا ہےکہ قطب شمالی میں، الاسکا کےشمالی ساحل اور روس سےمنسلک علاقوں میں سمندری برف تیزی سےپگھل رہی ہے۔ جس کےباعث خدشہ ہےکہ اکیسویں صدی کےنصف تک یہاں موجود برفانی ریچھوں کی نصف تعداد ،جو کہ سولہ ہزار کےلگ بھگ بنتی ہے، مسکنوں کی تباہی کےسبب ختم ہوسکتی ہے۔‘
ادارےسےوابستہ ماہرِ ماحولیات امسٹرپ کا کہنا ہےکہ ’اس کےبعد بھی برفانی ریچھ بقا کی جنگ جاری رکھ سکتےہیں، لیکن خدشہ ہےکہ اس صدی کےاختتام تک ان کا باقی رہنا محال ہوسکتا ہے۔ اس کےباوجود امکان ہےکینیڈین قطب شمالی کےجزائر اور گرین لینڈ کےمغربی ساحل پر شاید یہ پائےجاسکیں۔‘ |
|
| |
|
| نیشنل پارک بھی غیر محفوظ |
|
بقا کو لاحق خطرات سے دوچار نسل کےچار پہاڑی گوریلےجمہوریہ کانگو کےایک نیشنل پارک میں مردہ پائےگئےہیں۔ مرنےوالوں میں تین مادہ اور سفید پشت والا ایک نر پہاڑی گوریلاشامل ہے۔ اس بات کا انکشاف اس سال جولائی کےآخر میں نیشنل پارک کا دورہ کرنےوالےجنگلی حیات کے ماہرین کےایک گروہ نےکیا۔
’انٹرنیشنل گوریلا کنزرویشن پروگرام‘ کےترجمان کا کہنا ہےکہ ’مارےگئےگوریلاؤں کی لاشیں ویرونگا نیشنل پارک کےاندر پائی گئی ہیں۔ مرنےوالےگوریلاؤں کےجسم پر گولیوں کےنشان تھے، تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ انہیں کس مقصد کےتحت ہلاک کیا گیا ہے۔ ‘واضح رہےکہ بقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یوسی این نےستمبر2007ءمیں جاری کردہ ’ریڈ لسٹ‘ میں بقا کو لاحق سنگین خطرات سےدوچار جنگلی حیات میں گوریلاؤں کوبھی شامل کیا ہے۔
ترجمان مزید کہنا تھا کہ ’ اس وقت یہاں سات سو سےزائد پہاڑی گوریلےموجود ہیں، تاہم رواں سال کےسات مہینوں میں مجموعی طور پر سات گوریلاؤں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔‘
یادرہےکہ جمہوریہ کانگو کا ویرونگا نیشنل پارک ایک ایسےعلاقےمیں واقع ہےجس کی سرحدیں ان علاقوں سےملتی ہیں جو جنگجو باغیوں کےزیرِ اثر سمجھا جاتا ہے۔
|
|
| |
|
| نایاب بلی کا مخدوش مستقبل |
|
جاپان میںبقائےجنگلی حیات سےوابستہ ماہرین نےخبردار کیا ہےکہ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، شور، تعمیرات، ہوٹل اور دیگر انسانی سرگرمیوں کےسبب جنگلی حیات کےقدرتی مسکنوں میں ہونےوالی تباہی سےجاپان میں پائی جانےوالی دنیا کی نایاب جنگلی بلی معدومی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
یہ بات حال ہی میں جاپان کی وزارتِ ماحولیات کی جاری کردہ ایک دستاویز میں کہی گئی ہی۔ یہ دستاویز ملکی سطح پرمعدومی کےخطرےسےدوچار جنگلی حیات کا احاطہ کرتی ہے، جسے’سرکاری سرخ فہرست‘ کا نام دیا گیاہے۔ سرخ فہرست میں Iriomate cat کے اسٹیٹس کی از سرِ نو درجہ بندی کرتےہوئےاسے’بقا کو لاحق سنگین خطرات سےدوچار‘ انواع کےدرجےمیں شامل کیا گیا ہے۔
اوسطاً ایک پالتو بلی کےجسامت سےبڑی اور بڑےبڑےبالوں والی نایاب نسل کی یہ بلی جاپان سےتائیوان تک پھیلےہوئےمرطوب پہاڑی جزائر میں صرف ’آئےریو موتےجیما‘ کےعلاقےمیںپائی جاتی ہی۔اس بنا پر اسی’ آئےریو موتےبلی‘ کہا جاتا ہی۔ تاہم مذکورہ بالا بیان کردہ وجوہات کےسبب اب اس کی تعداد میں تیز رفتار کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
بلی کی یہ منفرد نوع1967ءمیں دریافت کی گئی تھی، تاہم اس وقت سےہی اس کی نسل کو بقا کو لاحق خطرات سےدوچار خیال کیا جاتا رہا ہی۔1985ءاور1994ءمیں کیےگئےدو علیحدہ علیحدہ سروےکےنتائج میں بھی یہ بات سامنےآئی تھی کہ بلی کےخاندان سےتعلق رکھنےوالی اور دنیا بھر میں اپنی قسم کی یہ منفرد جنگلی نوع تعداد میں بہت ہی کم ہے۔ 1994ءمیں کیےگئےسروےکےمطابق ان کی تعداد صرف ایک سو کےقریب تھی۔ اب ماہرین نےخبردار کیا ہےکہ ترقی کےنام پر انسانی سرگرمیوں اور آبادی کےپھیلاؤ کےسبب اس نایاب بلی کےقدرتی مسکنوں میں بڑےپیمانےپر خلل پیدا ہورہا ہے، جس کی وجہ سے جنگلی حیات کی اس نایاب نسل کو معدومی کےخطرےکا سامنا ہے۔
ماہرین نےدستاویز میں خیال ظاہر کیا ہےکہ یہ بلی اُس وقت اپنےموجودہ مسکن پر پہنچی جب تقریباً دو لاکھ سال پہلے’آئےریو موتےجیما‘ جزیرہ، ارضیاتی تبدیلیوں کےسبب برِ اعظم ایشیا سےجُڑا تھا۔ بعد ازاں مسکن کی محدودیت کےسبب وہ کسی اور حصےتک نہیں پہنچ پائی۔ جب کہ موجودہ مسکن پر کبھی بھی اس کی آبادی چند سو سےزائد نہیں رہی تھے۔
|
|
|
|
|
ناصر علی پنہور آئی یو سی این، سندھ پروگرام آفس سےبطورِکو آرڈینیٹر وابستہ ہیں۔
محمد ذیشان حیدرفری لانس صحافی ہیں۔
|
|
|
|
| |
| |
|
|
|
|
 |
 |