Jareeda Banner

ان سطور میں ہم آپ کے لیے آئ یو سی اين کے قومی اور عالمی سطح پر زیرِعمل مختلف منصوبوں اور ماحول سے متعلق معلومات اور خبریں فراہم کرتے ہیں



 
ناصر علی پنہور
 

بقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این، ایشیا ریجن کی جانب سےچوتھا ’ریجنل کنزرویشن فورم برائےایشیا‘ ستمبر10تا13ستمبر نیپال کےدارالحکومت کھٹمنڈو میں منعقد ہوا۔ فورم کا انعقاد آئی یو سی این اور نیپال حکومت کےباہمی اشتراک سےکیا گیا تھا۔
فورم کا مرکزی موضوع’تعاون و اشتراک برائےپائیدار ایشیا‘ تھا۔ چار روزہ اجلاس کےایجنڈےمیںتحفظِ حیاتیاتی تنوع برائےزندگی، عالمی موسمیاتی تبدیلیاں، توانائی، غربت، بقائےماحول اور سبز معیشت جیسےاہم موضوعات شامل تھے۔اجتماع میں مختلف ممالک سےچار سو سےزائد مندوبین نےشرکت کی، جن میں آئی یو سی این کی رکن تنظیموں، اداروں اور محکموں سےوابستہ ماہرین اور سائنسدان بھی شامل تھے۔ پاکستان سمیت32ممالک سےتعلق رکھنےوالےمندوبین میں امدادی اداروں اور نجی شعبےسےوابستہ ماہرین کی واضح اکثریت شامل تھی۔
فورم کا افتتاح نیپال کےوزیرِ اعظم گرجیا پرساد کوئرالہ نےکیا۔ اس موقع پر خطاب کرتےہوئےانہوں نےکہا!
’ حکومتِ نیپال بقائےماحول، پائیدار ترقی اور قدرتی وسائل کےبہتر انتظام کےحوالےسےتمام عالمی معاہدوں کا احترام کرتی ہی۔ حکومتِ نیپال اس ضمن میں کیےگئےتمام وعدوں پر عمل درآمد کو ممکن بنائےگی، تاکہ ایشیا میں جمہوری اصولوں، ذمےداری اور باہمی تعاون کےبنیادی اصولوں پر عمل کرکے پائیدار ترقی حاصل کی جائےبلکہ اس کےثمرات سےبھی مستفید ہوا جا سکی۔‘
اجلاس سےخطاب کرتےہوئےآئی یو سی این کی ڈائریکٹر جنرل جولیا مارٹن نےکہا کہ ’ ایشیا ریجن میں یہ احساس بڑھ رہا ہےکہ کہ معاشی ترقی کےفوائدکی مساویانہ تقسیم نہیں ہورہی ہی۔ اب وقت آگیا ہےکہ ہم انسانی ترقی و بقا اور فطرت کی بقا کےدرمیان موجود تعلق کا جائزہ لیں، کیونکہ یہ دونوںباہم مربوط ہیں۔‘

وزیر اعظم نیپال ریجنل کنزرویشن فورم کےافتتاحی اجلاس میں خطاب کررہےہیں۔

فورم سےاقوامِ متحدہ کی ریجنل ڈائریکٹر سریند راشریش ٹا نےکلیدی مقالہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا ’خطّےکو درپیش ماحولیاتی مسائل حل کرنےکےلیےسیاسی عزم درکار ہے۔ جس کےلیےحکومتوں اور مملکتوں کو اپنےپیمان پورےکرتےہوئےعمل کرنا ہوگا، تاکہ ایک طرف نہ صرف مسائل حل ہوسکیں بلکہ اس کےمثبت معاشی اور ماحولیاتی اثرات بھی برآمد ہوں، جو ترقی کےلیےناگزیر ہیں۔‘
آئی یو سی این ایشیا کی ریجنل ڈائریکٹر ابان مارکر کابرا جی نےفورم سےخطاب کرتےہوئےکہا ’تحفظِ ماحول اور بقائےماحول کےحوالےسےکیےجانےوالےاقدامات کےحوالےسےنیپال ایشیا میں ایک مثالی ملک ہی، لیکن جہاں ایک جانب یہاں امن اور جمہوریت اپنی جڑیں مضبوط کررہی ہیں تو دوسری جانب ملکی پائیدار ترقی کےلیےکئی مواقع اور آزمائشیں بھی درپیش ہیں، جنہیں دانشمندانہ طریقوں پر عمل کرتےہوئے حل کرنا ہوگا۔‘

فورم کا ایک سیشن ترقی کے متبادل مثالی نمونوں کےحوالےسےبھی منعقد ہوا۔ جس میں اس بات کی جانب نشاندہی کی گئی کہ ایشیا کےبعض ممالک میں معاشی ترقی کےسبب سماجی زندگی، قدرتی وسائل کےاستعمال، جنگلی حیات کےمسکنوں اور انسانی رہائشی علاقوں میں زبردست تغیر وتبدل رونما ہوا ہے۔ ماحولیاتی انحطاط، اقتصادی ترقی اور اس حوالےسےعالمی اداروں کی شرائط کےسبب لوگوں کےذرائع معاش پر شدید دباؤ پڑا ہے۔ اس ضمن میںشرکا نےتکنیکی امور کےحوالےسےاظہارِ خیال کیا اور درپیش مشکلات سےنمٹنےکےامکانات کو زیرِ بحث لائے۔
اس موقع پر پاکستان سےتعلق رکھنےوالےآئی یو سی این کے نائب عالمی صدر جاوید جبار نے خطاب کرتےہوئےکہا!

’اس حقیقت کےباوجود کہ پرنٹ اور الیکٹرانک ذرائع ابلاغ ماحولیاتی مسائل کو عوام تک پہنچانےاور عوامی شعور و آگاہی کےفروغ میں اہم کردار ادارہےہیں۔ لیکن اس کےباوجود آج کےجدید ترین دور میں بھی سب سےزیادہ موثر ابلاغ انسانوں کےمابین مکالمہ ہے۔ اس لحاظ سےاس فورم نےہمیں برائہ راست مکالمےکا موقع فراہم کیا ہے۔ تاکہ ہم اپنےمسائل، وسائل اور پائیدار ترقی کےلیے مکالمہ کرسکیں بلکہ ایک دوسرےکےتجربات سےبھی آگاہی حاصل کرسکیں۔‘

ریجنل کنزرویشن فورم میں پاکستان سےآئی یو سی این کی18رکن تنظیموں، اور سرکاری محکموں سمیت چار شراکت دار اداروںنےشرکت کی۔ شرکت کرنےوالےپاکستانی مندوبین میں حکومتِ پاکستان کےنمائندےکےعلاوہ شمالی علاقہ جات کےچیف سیکریٹری، سیکریٹری ماحولیات سندھ، چیف کنزرویٹر (جنگلات) سندھ، ڈائریکٹر ماحولیات آزاد کشمیر، اسپیشل سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات سرحد، کنزرویٹر محکمہ جنگلی حیات سندھ، ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشنو گرافی، ڈائریکٹر ایچ اےجےانسٹیٹیوٹ کراچی یونیورسٹی، غیر سرکاری تنظیموں ایس پی او، لیڈ، بانھ بیلی، شہری، پائلر، سیپ، ایس ڈی پی آئی، سنگی، پاکستان انوائرنمنٹ پروٹیکشن فاؤنڈیشن، باسڈو، حاشر اور خوند و خور شامل تھے۔

فورم کےاختتام پر اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ فیصلہ سازی کےعمل میں تحفظِ ماحول کو شامل کیا جائےگا، نیز ان موضوعات کو2008ءمیں بار سلونا ( اسپین) میں ہونےوالی آئی یو سی این ورلڈ کنزرویشن کانگریس میں بھی زیرِ بحث لایا جائےگا۔