Jareeda Banner
 

ماضی کی نشانیوں سےدنیا بھری پڑی ہےلیکن ایسی چیزیں غالباً بہت ہی کم ہیں جو انسان کی ہزاروں برس کی تاریخ کا زندہ و جاوید حصہ ہیں اور آج بھی ’تب و تاب جاودانہ‘ کی مصداق ہمارےساتھ، ہمارےپاس ہیں۔ اسی بنا پر انہیں ’زندہ رکاز‘ یعنی living fossils کہا جاتا ہے۔ ’زندہ رکازات‘ کےمعیار پر پورا اترنےوالا قدرتی حیاتیاتی نظام کاایک عنصر صنوبر juniper کا درخت بھی ہے۔

صنوبر کو دنیا بھر میں نباتات کی طویل العمر اور سست رو قسم مانا جاتا ہے۔ تاجکستان کےبعد، دنیا بھر میں صنوبر کا دوسرا بڑا اور گھنا جنگل پاکستان میں واقع ہے۔ یوں تو صنوبر ،بلوچستان کےاضلاع سبی، کوئٹہ، لورالائی، پشین اور قلات میں بھی پایا جاتا ہے، تاہم اس کا سب سےبڑا اور گھنا جنگل ضلع زیارت میں واقع ہےجو پاکستان میں دنیا کا ’دوسرا سب سےبڑا صنوبری جنگل‘ ہونےکی وجہ بھی ہے۔

بہتات، ضرورت ، بیماری ،دادرسی۔۔۔ زیارت میں واقع صنوبری جنگلات پر یہ چاروں الفاظ پورا اترتےہیں۔
- بہتات کےسبب صنوبر کےدرختوں کو ماضی میں ان کی طوالتِ عمری کےباوجود کبھی اہمیت نہیں دی گئی۔
- ایندھن، سیب کےبڑھتےدرختوں کو سہارا دینے، سر چھپانےکےلیےچھت اور پیسےکی ضرورت پوری کرنےکےلیےان درختوں کوکاٹ کر فروخت کیا جاتا رہا۔ یوں یہ گھنا جنگل انسانی بےرحمی کےہاتھوں بےبسی کی موت مرتا رہا۔
- ’مرےپر سو دُرّے‘ کی مصداق کم ہوتےاس جنگل پر موت کا سایہ بن کر امر بیل miseltoeآن دھمکی جو اس کا لہو چوس چوس کر اسےگھونٹ گھونٹ موت کی وادی میں اتاررہی ہے۔

اس صورتِ حال کا سامنا ہو توپھر داد فریاد ہی باقی بچتی ہےجس کا لا محالہ نتیجہ ’دادرسی‘ کی صورت میں ہی اترتا ہے۔ اگر ہم ذرا شاعرانہ انداز میں کہیں تو داد رسی کی یہ صورت اقوامِ متحدہ کےترقیاتی ادارےیو این ڈی پی اور گلوبل انوائرنمنٹل فیسلٹیGEF کی اعانت سےبقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این، پاکستان کےاِس چار سالہ پروگرام میں سامنےآئی ہے، جسے’صنوبر کےپیداواری نظام میں حیاتیاتی تنوع کی قدروںکا نفوذ‘کا نام دیا گیا ۔ یہ چار سالہ منصوبہ رواںبرس سےزیارت میں شروع کیا جاچکا ہے، جس کا مقصد ضلع کی منتخب وادیوں میں اپنےمنصوبےکی روح (جیسا کہ نام سےظاہر ہی) کےمطابق ایسےاقدامات کرنا ہیں، جس سےنہ صرف ان ’بزرگ جنگلات‘ کا تحفظ ہوسکےبلکہ اس سےوابستہ معاشی سرگرمیوں کا اس طرح احیا کیا جائےکہ بقا اور معاش کا یہ باہم سفر دانشمندانہ رہ گذرپر استوار ہوسکے۔

بات یہیں تک محدود نہیں!آئی یو سی این، پاکستان کی یہ کوششیں بھی جاری ہیں ہےکہ زیارت کےان زندہ رکازوں کو اقوامِ متحدہ کےادارہ برائےتعلیم، سائنس و ثقافت ’یونیسکو‘ کےتحت ’عالمی ورثہ‘ قرار دلوایا جاسکے۔ اگرچہ اس وقت یہ کوششیں اور اقدامات ابتدائی مرحلےمیں ہیں، تاہم اس کےباوجود حاصل شدہ نتائج مثبت ہیں۔ امید کی جاتی ہےکہ اگلےچند برسوں میں زیارت کےیہ صنوبری جنگل دنیا بھر میں اپنی نوع کاپہلا عالمی ورثہ ہونے کا اعزاز حاصل کرلیں گے۔ یاد رہےکہ ابھی تک پاکستان درخت و نباتات یا قدرتی ماحول کےحوالےسےکسی بھی نوع کو یہ درجہ حاصل نہیں ہوسکاہے۔

اس مرتبہ ’جریدہ‘ کا یہ خاص شمارہ زیارت میں صنوبری جنگلات اور اس کےمختلف پہلووؤں کےحوالےسےمرتب کیا گیا ہے۔ امید ہےکہ یہ خصوصی شمارہ آپ کو صنوبری جنگلات کی مختلف جہتوں کےبارےآگاہی فراہم کرنےکا سبب بنےگا۔