Jareeda Banner

 
خالق نےانسانوں کےلیے وسائل کو تناسب سےپیدا کیا ہے۔ پائیدار استفادہ، توازن اور اسراف سےگریز کےاصول پر عمل بقائےحیات کےلیےناگزیر ہے۔

تحریر : ایم کمال
 

اﷲ تعالیٰ نےکرئہ ارض پر انسان کےعلاوہ اَن گنت اقسام کےجاندار پیدا کیےہیں جو اپنےمخصوص ماحول کی مناسبت سےزمین کےطول و عرض میں پھیلےہوئےہیں۔ کرئہ ارض پر موجود اس حیاتیاتی تنوع کو biodiversity کی اصطلاح سےیاد کیا جاتا ہے۔’ حیاتیاتی تنوع‘کی اصطلاح نباتات، حیوانات، حشرات، اشجار اور اُن دیگر تمام زندہ اجسام کا احاطہ کرتی ہےجو خداوندِ کریم کی تخلیق کےمظہر ہیں۔ ایک اندازےکےمطابق کرئہ ارض کا حیاتیاتی تنوع تقریباً90لاکھ تا5کروڑ اقسام پر مشتمل ہے، جن میں 22لاکھ سےبھی کم کی شناخت اب تک ممکن ہوسکی ہے۔ الغرض کہ دنیا میں موجود حیاتیاتی تنوع کا صحیح اندازہ ممکن نہیں۔ انسانی علم میں اضافےکےساتھ ساتھ نِت نئےراز کھل رہےہیں اور پرانےاندازوں میں رد و بدل کیا جارہا ہے۔

کثیر حیاتیاتی تنوع، کامیاب بقا کی حکمتِ عملی کےلیےایک جینیاتی لائبریری کی حیثیت رکھتی ہےجو کئی ارب سالوں کےدوران ارتقا پذیر ہوئی ہے۔ حیاتیاتی تنوع ہی اصل میں ماحولیاتی نظام کی پیداوار اور بنیاد ہےجس کےثمرات پر ہمارا اور دوسری انواع کا دارومدار ہےاور یہی مستقبل کےحیاتیاتی ارتقا اور جینیاتی انجینئیرنگ کا منبع بھی ہے۔ ان انواع میں بگاڑ اور معدومی کو روکنےکےلیےاِن کی ماحولیاتی اہمیت کےساتھ ساتھ معاشی، سماجی، جمالیاتی، تفریحی، اخلاقی اور ،مذہبی وجوہات بھی موجود ہیں۔

حیاتیاتی تنوع پر حیات کا انحصار بھی ہے۔ اگر حیاتیاتی تنوع کا استعمال دانشمندی سےکیا جائےاور اس کےاستعمال میں حد سےتجاوز نہ کیا جائےتو اس سےوابستہ تمام فوائد دائمی طور پر حاصل کیےجاسکتےہیں۔ ایسےدانشمندانہ استعمال سےنہ صرف ہماری ضروریات پوری ہوتی رہیں گی بلکہ قدرتی اقسام کی بقا کو بھی کوئی مستقل خطرہ لاحق نہ ہوگا۔ یہی پائیدار استعمالsustainable use کا بنیادی اصول ہے۔ اسلام نےپائیدار استعمال کی تاکید اور اسراف سےاجتناب کا حکم ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے سورہ ’الطلاق‘ کی آیت نمبر1 میں ارشاد فرمایا ہے!

” اور یہ اﷲ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں اور جو کوئی اﷲ کی حدود سےبڑھےتو اس نےاپنا بُرا کیا۔“
اﷲ تعالیٰ نےکائنات کو نہایت توازن اور تناسب کےساتھ پیدا کیا ہے۔ اس بارےمیں سورہ الحجرہ کی آیت نمبر19تا21میں اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتےہیں!

”اور زمین کو ہم نےبچھایا اور ہم نےاس میں پہاڑوں کےلنگر ڈال دیےاور اس میں ہر قسم کی چیزیں تناسب کےساتھ اگائیں اور ہم نےاس میں تمہاری معیشت کےسامان بھی رکھےاور ان معیشت کےبھی جن کو تم روزی نہیں دیتی۔ اور کوئی شےایسی نہیں ہےجس کےخزانےہمارےپاس نہ ہوں لیکن ہم اس کو ایک معین اندازےکےمطابق اتارتےہیں۔“

اﷲ تعالیٰ نےکائنات کو جس تناسب اور توازن سےپیدا کیا ہےاگر اس کےنظام میں خلل یا بگاڑ پیدا کیا جائےتو ایک بات طےہےکہ یہ عدم توازن خود ہمارےلیےخطرات کا باعث بن جائےگا۔ اس لیےاستفادہ، توازن اور اسراف سےگریز کا تکونی اصول ہماری اپنی بقا کےلیےناگزیر ہی۔ حیاتیاتی تنوع میں استفادہ کا ایک اہم ذریعہ نباتات ہیں۔ نباتات سےمراد ہر قسم کےپودےہیں، جن میں درخت، جھاڑیاں، بیلیں، گھاس پھوس اور جڑی بوٹیاں سبھی شامل ہیں۔ زرعی فصلیں، پھل دار درخت اور سبزیاں بھی نباتات کہلاتی ہیں۔ نباتات کےفوائد مندرجہ ذیل ہیں!

- یہ خوراک کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ زرعی اجناس، پھل، سبزیاں اور پالتو و جنگلی جانوروں کےلیےچارہ سب کچھ نباتات سےحاصل ہوتےہیں۔
- عمارتی لکڑی، ایندھن اور صنعتی خام مال کی ضروریات پورا کرتےہیں۔
- نباتات فضا میں موجود مضرِ صحت کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو جذب کرکےحیات افروز آکسیجن گیس خارج کرتی ہیں اور اس طرح کرئہ ارض کی فضا کو صاف رکھنےمیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
- نباتات مقامی درجئہ حرارت، ہواؤں اور بادلوں پر اثر انداز ہو کر موسم کو معتدل اور خوشگوار رکھتی ہیں۔
- نباتات، پانی اور تیز ہواؤں سے زمین کےکٹاؤ اور بہاؤ کو روکتی ہیں۔
- زیرِ زمین پانی کےذخائر میں اضافہ کرکےسیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرتی ہیں اور پانی کی مستقل فراہمی میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
- انسانی لباس اور ادویات کا ایک بڑا حصہ نباتات سےہی حاصل ہوتا ہے۔
- نباتات، انسانوں اور حیوانوں کےلیےمساکن کی فراہمی کا ذریعہ ہیں۔
- نباتات سےزمین کی خوبصورتی اور خوش نمائی میںاضافہ ہوتا ہی۔
- یہ زمین کی زرخیزی برقراررکھتی ہیں بلکہ اس میں اضافہ بھی کرتےہیں۔
- نباتات، توانائی کےحصول کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔
اگرچہ نباتات کی قدر و قیمت بےپایاں اور اس سےاستفادےکا شمار نہیں ہی۔ تاہم حقیقت یہ ہےکہ اﷲ تعالیٰ نےکرئہ ارض پر جس توازن کےساتھ نباتات اور حیوانات کو پیدا کیا، آج اس فطری نظام میں بگاڑ کا مشاہدہ بہ آسانی کیا جاسکتا ہی۔اس حوالےسےنباتات اور حیوانات پر بہت زیادہ اور دور رس منفی اثرات ہیں۔ مثال کےطور پر:
- نباتات کی بطورِ ایندھن استعمال کےلیےبےدریغ کٹائی کی جاتی ہے۔
- نباتات زیبائش و آرائش اور تعمیراتی کاموں میں استعمال ہوتےہیں۔ اس لیےتجارتی بنیادوں پر ان کا بری طرح استحصال کیا جاتا ہے۔

- جنگلات کو کاٹ کر زمین کو زراعت کےلیےاستعمال کیا جاتا ہے۔
- غیر محتاط انسانی رویوں کےباعث یا جنگلات میں آگ لگنےسےیہ قدرتی وسیلہ شدید نقصانات سےدوچار ہوتا ہے۔
- تجارتی گلّہ بانی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ انہیں شدید نقصان پہنچاتےہیں۔
- ہوا کی آلودگی نباتات کی افزائش پر بُرا اثر دالتی ہے۔

Environment

- جنگیں جنگلات و نباتات کو بےپناہ تباہی سےدوچار کرتی ہیں اور ماحول کو بالخصوص کثیر الجہتی نقصان پہنچاتی ہیں۔
لفظ ’نباتات‘ درخت کا بھی احاطہ کرتا ہے۔ ہم دیکھتےہیں قرآنِ پاک میں کئی جگہ پر درخت کا ذکر آیا ہے۔ جس سےبڑی آسانی سےیہ بات سمجھی جاسکتی ہےکہ یہ انسانوں کےلیےایک کارآمد اور مفید نعمت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہےکہ قرآن کی اصطلاح میں لفظ ’جنت‘ کےمعنیٰ ہی انتہائی ہرےبھرےباغ کےہیں۔ اﷲ تعالیٰ قرآنِ پاک کی سورہ البروج کی آیت نمبر11میں ارشاد فرماتےہیں!
”باغ ہوں گی، جن میں نہریں بہتی ہوں گی۔“

قومِ سبا کےحوالےسےقرآنِ پاک میں دو باغوں کا خصوصی ذکر بھی توجہ طلب ہے، جن سےوہ لوگ خوراک حاصل کیا کرتےتھے۔ سورہ سبا کی آیت نمبر15 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے!

” بلاشبہ قومِ سبا کےلیےان میں ایک نشانی تھی۔ دو باغ جو دائیں اوربائیں جانب واقع تھے(ہم نےکہا) اس رزق سےجو تمہارےرب نےدیا ہے، کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ شہر پاکیزہ اور رب گناہ بخشنےوالا ہے۔“

اسی طرح ایک اور مقام پر اﷲ تعالیٰ نےپانی اور چراگاہوں کا ذکر کرکےاسےبطورِ خاص انسانوں اور چوپایوں کےلیےمتاع (سامانِ زیست) قرار دیا ہے۔ سورہ النازعات کی آیت نمبر 30تا33میں ارشاد ہوتا ہے!

”اور (آسمانوں کےبعد) زمین کو ہموار کیا۔ اس کےاندر سےاس کا پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑوں کو زمین کا لنگر بنایا (جو) تمہارےاور تمہارےمویشیوں کےلیےسامانِ زیست ہے۔“

قرآنِ پاک میں نباتات کی اقسام

قرآنِ پاک میں پانی حیات اور ارض کا تفصیلی تذکرہ، احکامات اور نشانیاں موجود ہیں،تاہم اس وقت موضوعِ بحث نباتات ہیں۔ اس لیےدیکھتےہیں کہ نباتات کےحوالےسےقرآنِ پاک میں ہمیں کون کون سےاصطلاحات ملتی ہیں۔
- شجرہ (سورہ الواقعہ، آیت71تا72): شجر ،عام لفظ جس کا اطلاق ہر طرح کی تنا دار نباتات پر ہوتا ہے۔
- نجم ( سورہ الرحمٰن، آیت 6 ): ستارہ، جسےبے’تنا نباتات‘ یعنی جڑی بوٹیوں وغیرہ کےلیےبھی استعمال کیا جاتا ہے۔
- اثل (سورہ سبا، آیت16): ہر وہ درخت جس کی جڑ مضبوط ہو۔ عموماً اس لفظ کا اطلاق جھاڑ کےدرخت پر ہوتا ہے۔
- یقطین (سورہ الصّا فّات، آیت 46): ہر وہ درخت جس کا تنا نہ ہو۔ اس لفظ کا اطلاق بالعموم بیلدار پودوں اور بالخصوص پیٹھا کدّو کی بیل پر ہوتا ہے۔
- ضریع(سورہ الغاشیہ،آیت6): خاردار یاکانٹوں والی جھاڑیاں۔
- زقوم (سورہ الدّخان، آیت43): زمین میں پھیل جانےچوڑےاور خاردار پتوں والےنباتات، بالخصوص تھوہر یا زقوم کا درخت۔

ایم کمال

اﷲ سبحانہ تعالیٰ نےانسان کو ہمیشہ زندگی کےتمام پہلوؤں میں اعتدال اور توازن قائم رکھنےکا حکم دیا ہے۔ توازن کی پرواہ کیےبغیر وسائل کا ایسا بےہنگم استعمال جس سےنظامِ قدرتی ماحول درہم برہم ہوجائےاور حیاتِ انسانی کےاستفادےکےقابل نہ رہےاسلامی تعلیمات کےخلاف ہے۔ حقیقی اسلامی تعلیمات کےمطابق انسان قدرتی وسائل کا مالک نہیں بلکہ محافظ اور امین ہے۔ اس لیےقدرتی وسائل سےاستفادےکا جہاں ہمیں حق حاصل ہےوہیں اس بات کا تقاضہ بھی موجود ہےکہ بےجا اسراف سےگریز کیا جائےاور ان وسائل سےپائیدار استفادےکےساتھ ساتھ ان کا تحفظ بھی کیا جائے۔

نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ماؤنٹین ایریا کنزروینسی کےاشتراک سےشائع شدہ کتاب ’اسلام اور بقائےماحول‘ سےبھی استفادہ حاصل کیا گیا ہے۔