Jareeda Banner
 
 

 

 

سلمان رشید

 

بلوچستان کےشہر زیارت سےجنوب مغرب میں، صنوبر کےجنگلوں میں گھرا ہوا ’خلیفت‘ کا پہاڑ ایک دلچسپ منظر پیش کرتا ہے۔ دلچسپ یوں کہ اس کےاِردگرد کی وادیاں تو صنوبر کےگھنےجنگلات سےاٹی پڑی ہیں جبکہ پہاڑ آسمان کو چیرتی ہوئی سفیدی مائل ایک سپاٹ، اور سبزےسےبےنیاز چٹان کی مانند ہے۔ یہ یوں بھی دلچسپ ہےکہ 3,485 میٹر کی بلندی کی وجہ سےخلیفت ضلع زیارت کا بلند ترین پہاڑ ہونےکےباوجود ایک دن میں با آسانی سر کیا جا سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہےکہ آپ ایک اچھےرہنما کےساتھ ہوں ۔ اگریہ رہنما محکمہ جنگلات کا کوئی ریٹائرڈ گارڈ ہےتو بات ’سونےپہ سہاگہ‘ کی مثِل کی مانند ہے۔

زیارت سےبذریعہ گاڑی لوئےززری گاؤں تک پہنچنےمیں تقریباً پون گھنٹا لگتا ہی، جہاں صنوبرکےسمیت مختلف جڑی بوٹیوں کی خوشبو سےفضا ہر وقت معطر رہتی ہے۔ یہیں آپ کےسامنے خلیفت پہاڑ ایک عظیم الجثّہ دیوکی مانند کھڑا آسمان سےباتیں کرتا ہوا دکھائی ہے۔ یہاں سےآپ کو آدھا گھنٹےکےلگ بھگ جنوب کی سمت صنوبر کےدرختوں کےدرمیان سےپیدل چلنا پڑےگا، پھر یک لخت جنگل ختم اور آپ سنگلاخ چٹانوں میں گھرےہوں گے۔یہاں پہنچ کر بائیں ہاتھ کی سمت نیچےکی طرف نظر ڈالیں تو دیکھیں گےکہ دور ایک وسیع میدان افق کےدھندلکوں میں گم ہورہا ہے۔ نصف صدی قبل جب کہ انسان نےکرئہ ہوائی کو ابھی اتنا آلودہ نہیں کیا تھا، تو اس سمت سےدور آپ کو سبی شہر کےمکانات تک نظر آجاتےتھے۔ بہر حال آج بھی اگر بارش ہوکر موسم صاف ہو جائےاور آپ بھی رات خلیفت پہاڑ پر گذار رہےہوں تو یقین ہےکہ دورسبی اور ہرنائی کی روشنیاں آپ کو ضرور نظر آجائیں گی۔

یہاں سےذرا سا اور آگےبڑھیں تو دیکھیں گےکہ جیسےپہاڑ کےپہلو میں ایک گلی موجود ہو گویا فطرت کی طرف سےمہم جوؤں کےلیےایک قدرتی گزر گاہ ۔ یقینا اگر یہ گلی نہ ہوتی تو ززری گاؤں کی طرف سےخلیفت کا راستہ نہایت دشوار گذار ہوتا۔گلی سےگزریں گےتو اس کےپار ایک متوازی چٹان آپ کا رستہ روکےکھڑی ہوگی۔ایک لمحےکو تو گمان گزرتا ہےکہ آپ کا رہنما ابھی کوہ پیمائی کا رسہ نکال آپ کو باندھےگا اور چٹان میں میخیں گاڑ دےگا، لیکن نہیں۔ آپ اس کےپیچھے پیچھےاس دیوار پر چڑھ جاتےہیں، بشرطیکہ آپ پیچھےعمودی گہرائی کی طرف نہ دیکھیں۔ اگر آپ نےیہ مرحلہ بخوبی طےکر لیا تو انعام میں آپ آرام کےلیے ایک متوازی میدان پر جا پہنچیں گی۔ بےترتیب سانسوں پر قابو پا کر آگےبڑھیں تو ٹوٹی پھوٹی چٹانوںکےدرمیان سےگزر کر آگےمزید ایک متوازی سطح ہےجہاں صنوبر کےپستہ قامت پودےخاصی تعداد میں ہیں۔ اس سےآگےچلیں تو یوں لگتا ہےکہ بس اب راستہ بند، کیونکہ یہاں سےتوخلیفت کی چوٹی بھی نگاہوں سےاوجھل ہوجاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوگا کہ آگےتو کنگوروں والی چٹانیں آپ کا راستہ روک رہی ہیں۔اگر آپ کا رہ نما پہاڑ کو جانتا ہےتو وہ آپ کو پانی کی ایک چوڑی گذر گاہ جس میں صرف بارش یابرف پگھلنےکےدوران ہی پانی آتا ہے،کےراستےان کنگوروں والی پہاڑی کےپار لی جائےگا۔ لیکن پار پہنچنےپر ایک بار پھر اسی طرح کی مگرقدرےچھوٹی ایک اور گزر گاہ موجود ہے۔ جس کےاوپر ٹوٹی ہوئی سنگلاخ چٹانوں کا ایک جنگل سا ہے۔ یہ وہ مقام ہےجہاں سےہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانےکی ضرورت ہوتی ہے۔ہر قدم پر آپ کوچٹان کا سہارا لینا پڑتا ہےلیکن بنا سوچےسمجھےچٹان پر زور نہ ڈالیں کہیں وہ بھربھری چٹان آپ کا بوجھ نہ برداشت کر پائےاور لڑھکنا آپ کا مقدر ٹہرے۔بس یہاں سےاگلاآدھا گھنٹہ آپ ایک چوپائےکی طرح ہونگےیعنی ہاتھوں اور پاؤں چاروں آگےسرکنےمیں مصروف ِ کار ہوں گے۔
کٹی پھٹی چٹانوں کےاس سلسلےسےآگےچوٹی تک کا رستہ صاف ہے اور تسلی کےطور پر دور نیلےآسمان کےنیچےآپ رنگ برنگی جھنڈیاں دیکھ سکتےہیں۔ بس یہی ہےخلیفت کی چوٹی۔ ہمارےیہاں عام طور پرہر چوٹی کسی نہ کسی پیر کا مسکن ہوتی ہے۔ خلیفت خلاف معمول اس اصول سےمبرا ہے۔ یہاں کسی پیر بزرگ کی چلہ کشی کی کوئی داستان نہیں۔ یہاں صرف مہم جوؤں کےگاڑےہوئےرنگ برنگ کی جھنڈیاں اور چاروں اطراف شاندارجمالِ فطرت!

چونکہ خلیفت آس پاس کی تمام چوٹیوں میں بلند ترین ہےتو یہاں نگاہ کو روکنےکیلئےکوئی اور چوٹی حائل نہیں چنانچہ موسم اگرشفاف ہو تو نظارےخوب ہیں۔ اس پہاڑ کی سب سےمنفردبات یہ ہےکہ زیارت شہر سے محض پون گھنٹےکی مسافت پر یہ مہم جوؤں کو اصل کوہ پیمائی کا مزہ فراہم کرتا ہے۔ یہاں rock climbing کی ایسی وضع ملتی ہےکہ جو شمالی علاقہ جات کےپہاڑوں میں ہےکیونکہ اس کو سر کرنا کسی حد تک سنسنی خیز بھی ہے۔ اگر آپ علامہ اقبال کا بیان کردہ لہو گرم رکھنےکا بہانہ ڈھونڈرہےہیں تو جائیےوہ خلیفت پر ہی ملےگا۔