Jareeda Banner

 

آئی یو سی این کی ’سرخ فہرست2007ئ‘ کےمطابق دنیا بھر میں حیاتیاتی تنوع کی سولہ ہزار سےزائد اقسام کی بقا کو معدومی کا خطرہ لاحق ہے۔

 

تحریر : ایم کمال

 

   

اس وقت جب کہ دنیا بھر میں عالمی موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتےہوئےدرجئہ حرارت کےباعث انسان اور کرئہ ارض کےمستقبل کےبارےمیں خدشات، امکانات، امیدیں، اعترافات اور بچاؤ کی تدابیرپر گرما گرم مباحثوں میں تیزی آچکی ہے۔ وہیں بقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این نےایک بار پھر نہایت مصدقہ اعداد و شمار اور سائنسی بنیادوں پر مرتب کیےگئےتجزیوں کی بنیاد پر پوری دنیا کی توجہ کرئہ ارض کےحیاتیاتی تنوع کی جانب مبذول کروائی ہے۔جنہیں معدومی کا خطرہ لاحق ہےاور اس کےپسِ پردہ منفی انسانی سرگرمیاں، ترقی کےنام پرمسکنوں کی تباہی، تجارتی منفعت اوران مسائل سےچشم پوشی جیسی وجوہات موجودہیں۔

اس سال ستمبر میں سوئٹزر لینڈ کےشہر گلینڈ میں واقع آئی یو سی این ہیڈ کوارٹر سےدنیا بھر میں خطرات کےشکار نباتات، آبی حیات اور جنگلی تنوع کےبارےمیں جاری کی گئی ’سرخ فہرست2007ئ‘ کا کہنا ہےکہ گزشتہ برس کےتقابلی جائزےسےیہ بات سامنےآئی ہےکہ معدومی کےقریب ترہونےوالی حیاتیاتی انواع کی تعدادتیزی سےبڑھ رہی ہے۔ رپورٹ کےآغاز میں یہ جملہ تحریر ہے
’ زمین پر زندگی کا خاتمہ تیز رفتاری سےہورہا ہے۔ یہ صورتِ حال جاری رہےگی اگر ہم نےاسےروکنےکےلیےفوری اور موثر اقدامات نہیں کیے۔‘

اگرچہ یہ کہنا محال ہےکہ کرئہ ارض پر حیاتیاتی انواع کی کتنی قسام موجود ہیں، تاہم زیادہ تر ماہرینِ اور سائنسدانوں کا اتفاق ہےکہ ان کی تعداد ایک کروڑ سےلےکر دس کروڑ کےدرمیان ہے۔ جن میں لگ بھگ پندرہ لاکھ اقسام پر ماہرین کا اتفاق موجود ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہےکہ سترہ سےاٹھارہ لاکھ کےدرمیان کی اقسام ماہرینِ حیات کےعلم میں آچکی ہے۔
ماہرین کےاتفاق اور تعداد کےعلم کےباوجود حقیقت ہےکہ آئی یو سی این کی ’سرخ فہرست‘ میں جواقسام شامل ہوتی ہیں، وہ سائنسی تحقیق، اطلاعات اور تخمینوں کی بنیاد پر تجزیےکےکڑےمرحلےسےگذاری جاتی ہیں جن کےبعد ان کی بقا اور لاحق خطرات کی درجہ بندی میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا۔ لہٰذا اسی طریقئہ کارکےتحت ’سرخ فہرست2007ئ‘ میں 41,415حیاتیاتی انواع کی تفصیل شامل ہے۔ جس میں سے16,306 معدومی کےآخری مرحلےمیں ہیں۔ گزشتہ برس یہ تعداد16,118 اقسام پر مشتمل تھی۔ یوںایک سال کےدوران188اقسام کا اضافہ ہوا ہے۔ نیز 785 اقسام معدوم ہوچکی ہیں۔ ان میں سےصرف65اقسام ایسی ہیں جن کی تحویلی افزائش ہو رہی ہے۔


آبی حیات کےحوالےسےبھی اعداد و شمار فہرست کا حصہ ہیں۔فہرست کی کُل41,415 اقسام میں سے1,530 اقسام کا تعلق سمندری حیات سےہے۔ جس کا30فیصد یا416 اقسام بقا کو لاحق خطرات میں گھری ہوئی ہیں، 80 اقسام کو معدومی کا خطرہ ہے، جبکہ31 اقسام معدومی کےنہایت سنگین خطرات میں ہیں۔ مزیدِبرآں ’ سرخ فہرست‘ میں240نئی سمندری انواع شامل کی گئی یا ان کی از سرِ نو درجہ بندی کی گئی ہی۔ ساتھ ہی یہ بات بھی فہرست میں کہی گئی ہےکہ مجموعی طور پر 71فیصد سمندری آبی حیات کی اقسام بقا کو لاحق خطرات سےدوچارہیں۔
’سرخ فہرست‘ میں کرئہ ارض سےحیاتیاتی تنوع کی ناپیدگی کےاس دردناک مرحلےکو نہایت عام فہم انداز میں بیان کرتےہوئےکہا گیا ہے!

سرخ فھرست اور بقاۓ حیاتیاتی تنوع۔۔۔ایک جاۂزہ

1948 ءمیں آئی یو سی این کےقیام کا بنیادی مقصد بقائےماحول تھا۔ جس کےپیشِ نظر1963ءمیں’آئی یو سی این سرخ فہرست‘ کا تصور سامنےآیا۔ اس تصور کو عالمی پذیرائی حاصل ہوئی۔

مزید پڑھیے

’ہر چارممالیہ جانوروں میں سےایک،ہر آٹھ پرندوں میں سےایک، جل تھلیوں amphibiansکی ایک تہائی تعداد اور سرخ فہرست2007ءمیں شامل کیےگئےپودوں کی مجموعی طور پر 70 فیصد اقسام کی معدومی کا خطرہ ہے۔‘
آئی یو سی این کی ڈائریکٹر جنرل جولیا لی فیورےنے12ستمبر، 2007ءکوایشیا ریجنل کنزرویشن فورم میں’سرخ فہرست‘ جاری کرتےہوئےکہا! ’حیاتیاتی تنوع کی شرح میں تیز رفتارکمی آرہی ہے۔ اب واضح اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ عالمی سطح پر ہونےوالی معدومی کی اس شرح کو کم از کم کیا جا سکے۔ یہ تب ہی ممکن ہے، جب اس حوالےسےسماج میں ہر سطح پرٹھوس اقدامات کیےجائیں۔‘

ہولی ڈبلِن Species Survival Commission کےسربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے’حیاتیاتی اقسام کی معدومی کا بحران عوام، نجی شعبی، حکومتوں اور پالیسی سازوں کی توجہ چاہتا ہے، تاکہ کرئہ ارض کا یہ حیاتیاتی تنوع آئندہ آنےوالی نسلوں کےلی

 

 

ایم کمال فری لانس صحافی ہیں۔