Jareeda Banner
 
 
کوہ پیمائی کی بات ہو ، چٹان سر کرنےکا شوق ہو یا صنوبری جنگل میں جمالِ فطرت کا نظارہ ۔۔۔ زیارت کا دامن ماحولیاتی سیاحت سےلبریز ہے۔
 

تحریر و تصاویر: سلمان رشید

 

ویسےتو پاکستان بھر میں ماحولیاتی سیاحت eco-tourism کےمعیار پر پورا اترنےوالےبےشمار علاقےموجود ہیں، تاہم وادیِ زیارت وہ ہےکہ جس سےابھی تک پاکستانی اور نا ہی غیر ملکی سیاح اچھی طرح متعارف ہوئےہیں۔ زیارت کی سیاحت کےلیےجو سیاح یہاں کا رخ کرتےہیں ان کی اکثریت بھی بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی آخری رہائش گاہ کودیکھ کر اور کچھ اِدھر اُدھر گھوم پھر کر واپس چلےجاتی ہے۔ ابھی تک سیاحوں کی یلغار نہیں ہوئی ہے، اس لیےزیارت کےجنگل اور بیابان تقریباًاپنی اصلی حالت میں موجودہیں ۔ سیاحتی زبان میں کہیں تو یہ اب تک بےعیب ہیں۔ ان میں خصوصیت کےحامل صنوبر کےجنگلات ہیں جن کا شمار دنیا کےبڑےصنوبری جنگلات میں ہوتا ہے۔

زیارت اور سیاحت کا تذکرہ ہو تو صنوبر اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیام گاہ کی بات کیےبنا بات بنتی نہیں۔ پہلےبات قائدِ اعظم کی قیام گاہ کی۔ زیارت شہر میں صنوبر کےشاندار پیڑوں میں گھری اس عمارت میں پاکستان کےبانی قائد اعظم محمد علی جناح نےاپنی زندگی کےآخری ایام گزارے۔ یوں یہ عمارت آج بھی ’قائدِ اعظم ریزیڈینسی ‘ کےنام سےموسوم ہے، تاہم اب امتدادِ زمانہ سےیہ نام مختصر ہو کر ’ریزیڈنسی ‘ تک محدود ہوگیا ہے۔ ابھی چند سال پہلےتک یہ عمارت گورنر بلوچستان کےاستعمال میں تھی، لیکن پھر ایک حکومتی حکم کےتحت اس کو قومی ورثہ میں شامل کر لیا گیا اور تب سےیہ قائد اعظم کےنوادرات کا ایک چھوٹا سا عجائب خانہ ہے۔سیاح بخوبی جانتےہیں کہ اس رہائش گاہ کےعلاوہ زیارت میں دیکھنےکو صنوبر کےجنگلات بھی ہیں۔ لیکن بہت کم سیاحوں کو یہ علم ہےکہ ان جنگلات سےلطف اندوز ہونےکےلیےشہر سےذرا باہر نکلنا پڑتا ہے۔

صنوبر ایک نادر اور نہایت سست رفتار ی سےبڑھنےوالا درخت ہے۔ یہ پچاس سال میں بہ مشکل تین فٹ بڑھتا ہے۔ پھر یہ کہ یہ پیڑ ہر جگہ جڑ بھی نہیں پکڑتا۔ اس کی افزائش کےلیےخاص آب و ہو ا اور ماحول درکار ہے۔ صنوبر خشک اور سرد آب و ہوا والےعلاقےکا درخت ہےکہ جس کی سطحِ سمندر سےبلندی اٹھارہ سو تا تین ہزار میٹر تک ہو اور جہاں سالانہ بارش اور برف باری سوا تین سو ملی میٹر سےتجاوز نہ کرے۔ اگر آپ سست رو صنوبر کا تیس پینتیس میٹر اونچا پیڑ دیکھیں تو جان لیں کہ آپ کرئہ ارض کےقدیم ترین جانداروں میں سےایک کو دیکھ رہےہیں۔ ذرا تصورمیں لائیں کہ اس درخت کا بیج تب زمین سےپھوٹا کہ جب گوتم بدھ ابھی پیدا نہیں ہوئےتھے، جب موئن جو دڑو اور ہڑپہ کے اصل باسیوں کو ابدی نیند سوئے ہوئےبھی دو ہزار سال بیت چکےتھے، اُس وقت ٹیکسلا شہر عروج پذیر تھا اور دنیا کو یونانی سکندر فاتح کی پیدائش کےلیے لگ بھگ تین سو سال مزید انتظار کر نا تھا۔

زیارت میں آنےوالےماحولیاتی سیاحت کےشائقین کےلیےصنوبری جنگلوں میں طرح طرح کی جنگلی حیات بھی ہے۔یہاں کسی وقت آپ کو آسمان پر شکاری پرندےشکار کی کھوج میں منڈلاتےنظر آئیں گےتو کہیں درختوں کےڈال پر رنگ برنگی چڑیائیں، بلبلیں اورمختلف اقسام کےپرندےبیٹھےدکھائی دیں گی۔ ہوسکتا ہےجب آپ ان پرندوں کو دیکھنےمیں محو ہوں تو بالکل آپ کےقدموں کےپاس پتھروں اور جھاڑیوں کی اوٹ سے چوہا نما Pika دوڑتا ہوئےنکلے اور کسی بل میں جاکر غائب ہوجائے۔جہاں تک پرندوں کا تعلق ہےتو یہاں کچھ نہیں تو کم ازکم چھ درجن اقسام کےمقامی اورمہمان پرندوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اگر آپ پہاڑ نوردی trekking کےشوقین ہیں تو زیارت اس کےلیےبھی موزوں ہے۔ شہر سےباہر نکلتےہی اپنےآپ کو ایک مکمل بیابان میں پائیں گےاور اگر چلتےچلتےتھک جائیں اور دور آپ کو چند مکان نظر آئیں تو رکیےاور پشتون مہمان نواری سےفیض یاب ہوئیے۔ یہاں چائےتو معمول کےمطابق پلائی جاتی ہے، لیکن اگر شام ہونےوالی ہےتو میزبان مصر ہو گا کہ آپ رات بھرکو رک جائیں کہ اس کےگھر میں تو کھانےکا بندوبست شروع ہو چکا ہے۔

خلیفت چوٹی اور کوہ پیمائ کا شوق

بلوچستان کےشہر زیارت سےجنوب مغرب میں، صنوبر کےجنگلوں میں گھرا ہوا ’خلیفت‘ کا پہاڑ ایک دلچسپ منظر پیش کرتا ہے۔ دلچسپ یوں کہ اس کےاِردگرد کی وادیاں تو صنوبر کےگھنےجنگلات سےاٹی پڑی ہیں جبکہ پہاڑ آسمان کو چیرتی ہوئی سفیدی
---مزید پڑھیے

جہاں زیارت کےصنوبر کےجنگلات مشہور ہیں ، وہیں اس پُرفزا مقام کی بات تب تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ اس کی’ تنگیوں‘ کا ذکر نہ ہو۔’ مقامی لوگ ‘ پہاڑوں میں موجود ندیوں کی ان تنگ آبی گذرگاہوں کو ’تنگی‘ کہتےہیں جو یہاں کثرت سےموجود لائم اسٹون limestone کےپہاڑوں میں واقع ہیں۔ ’تنگی‘ کا وجود ایسا ارضیاتی عمل ہےجو ملک کےدیگر پہاڑی علاقوں میںکہیں اور دیکھنےکونہیں ملتا۔ مختلف زمینی عملیات کی وجہ سےیہاں پہاڑوں میں ایسےراستےکھل گئےہیںجو کہ اب ندیوں کی گزر گاہیں ہیں۔ زیارت کی یہ پُر پیچ اور پر اسرار گھاٹیاں تو یوں لگتی ہیں کہ جیسےکسی فلم کا سیٹ ہولیکن یہ فطرت کی کاریگری کا دلچسپ اور دلفریب نمونہ ہیں۔ عام طور پر سیاح صرف سنڈیمن تنگی سےہی متعارف ہوتےہیں کیونکہ یہ زیارت شہر کےنزدیک ترین ہے۔ لیکن اگر آپ کی مہم جوئی کا جذبہ قائم ہےتو ذرا باہر نکلیں تو اوراژہ گاؤں کےساتھ’ سستا تنگی‘ اور زیارت سےمشرق کو چوتیر گاؤں کےباہر’ کنچا تنگی ‘تک سفر کریں اور مظاہرِ فطرت کا ایک نیا تجربہ حاصل کریں۔
زیارت ایسامقام ہےکہ جہاں آپ بیک وقت شہر اور جنگل دونوں میں ہیں ۔ یہ وہ علاقہ ہےکہ ریسٹ ہاؤس کےکمرےسےنکل کر بمشکل آدھ گھنٹےکا سفر آپ کو جنگل میں پہنچا دیتا ہے۔


سلمان رشید فری لانس صحافی، دستاویزی فلم ساز اور مصنف ہیں۔ سیاحت ان کا خاص موضوع ہے۔