![]() |
کوہ پیمائی کی بات ہو ، چٹان سر کرنےکا شوق ہو یا صنوبری جنگل میں جمالِ فطرت کا نظارہ ۔۔۔ زیارت کا دامن ماحولیاتی سیاحت سےلبریز ہے۔ |
||||||
| تحریر و تصاویر: سلمان رشید |
||||||
ویسےتو پاکستان بھر میں ماحولیاتی سیاحت eco-tourism کےمعیار پر پورا اترنےوالےبےشمار علاقےموجود ہیں، تاہم وادیِ زیارت وہ ہےکہ جس سےابھی تک پاکستانی اور نا ہی غیر ملکی سیاح اچھی طرح متعارف ہوئےہیں۔ زیارت کی سیاحت کےلیےجو سیاح یہاں کا رخ کرتےہیں ان کی اکثریت بھی بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی آخری رہائش گاہ کودیکھ کر اور کچھ اِدھر اُدھر گھوم پھر کر واپس چلےجاتی ہے۔ ابھی تک سیاحوں کی یلغار نہیں ہوئی ہے، اس لیےزیارت کےجنگل اور بیابان تقریباًاپنی اصلی حالت میں موجودہیں ۔ سیاحتی زبان میں کہیں تو یہ اب تک بےعیب ہیں۔ ان میں خصوصیت کےحامل صنوبر کےجنگلات ہیں جن کا شمار دنیا کےبڑےصنوبری جنگلات میں ہوتا ہے۔
زیارت میں آنےوالےماحولیاتی سیاحت کےشائقین کےلیےصنوبری جنگلوں میں طرح طرح کی جنگلی حیات بھی ہے۔یہاں کسی وقت آپ کو آسمان پر شکاری پرندےشکار کی کھوج میں منڈلاتےنظر آئیں گےتو کہیں درختوں کےڈال پر رنگ برنگی چڑیائیں، بلبلیں اورمختلف اقسام کےپرندےبیٹھےدکھائی دیں گی۔ ہوسکتا ہےجب آپ ان پرندوں کو دیکھنےمیں محو ہوں تو بالکل آپ کےقدموں کےپاس پتھروں اور جھاڑیوں کی اوٹ سے چوہا نما Pika دوڑتا ہوئےنکلے اور کسی بل میں جاکر غائب ہوجائے۔جہاں تک پرندوں کا تعلق ہےتو یہاں کچھ نہیں تو کم ازکم چھ درجن اقسام کےمقامی اورمہمان پرندوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
جہاں زیارت کےصنوبر کےجنگلات مشہور ہیں ، وہیں اس پُرفزا مقام کی بات تب تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ اس کی’ تنگیوں‘ کا ذکر نہ ہو۔’ مقامی لوگ ‘ پہاڑوں میں موجود ندیوں کی ان تنگ آبی گذرگاہوں کو ’تنگی‘ کہتےہیں جو یہاں کثرت سےموجود لائم اسٹون limestone کےپہاڑوں میں واقع ہیں۔ ’تنگی‘ کا وجود ایسا ارضیاتی عمل ہےجو ملک کےدیگر پہاڑی علاقوں میںکہیں اور دیکھنےکونہیں ملتا۔ مختلف زمینی عملیات کی وجہ سےیہاں پہاڑوں میں ایسےراستےکھل گئےہیںجو کہ اب ندیوں کی گزر گاہیں ہیں۔ زیارت کی یہ پُر پیچ اور پر اسرار گھاٹیاں تو یوں لگتی ہیں کہ جیسےکسی فلم کا سیٹ ہولیکن یہ فطرت کی کاریگری کا دلچسپ اور دلفریب نمونہ ہیں۔ عام طور پر سیاح صرف سنڈیمن تنگی سےہی متعارف ہوتےہیں کیونکہ یہ زیارت شہر کےنزدیک ترین ہے۔ لیکن اگر آپ کی مہم جوئی کا جذبہ قائم ہےتو ذرا باہر نکلیں تو اوراژہ گاؤں کےساتھ’ سستا تنگی‘ اور زیارت سےمشرق کو چوتیر گاؤں کےباہر’ کنچا تنگی ‘تک سفر کریں اور مظاہرِ فطرت کا ایک نیا تجربہ حاصل کریں۔ |
||||||
|
|
||||||
| سلمان رشید فری لانس صحافی، دستاویزی فلم ساز اور مصنف ہیں۔ سیاحت ان کا خاص موضوع ہے۔ | ||||||