|
بی اےکا طالب علم ہوں۔ گزشتہ دنوں ایک کام کےسلسلےمیں ملتان جانا ہوں۔ واپسی پر بس کی روانگی میں تاخیر کےسبب چائےخانہ میں جا بیٹھا۔ وہاں ایک مسافر ’جریدہ‘ پڑھ رہا تھا۔ اس سےلےکر ورق گردانی کی تو علم ہوا کہ یہ رسالہ پاکستان میں بقائے ماحول کی تحریک کا کتنا بڑا علبردار ہے۔
محمد فاروق،کوٹ قیصرانی، ڈیرہ غازی خان
٭٭٭
ہمارےکتب خانےمیں قارئین ’جریدہ‘ کو ذوق و شوق سےپڑھتےہیں۔ اس میں شائع شدہ مضامین نہایت اعلیٰ پائےکےہوتےہیں اور اردو زبان میں اشاعت کے باعث قارئین کےوسیع حلقےکو ماحولیاتی دنیا کےامور سےباخبر رکھنےکا ایک اہم ذریعہ ہیں۔
عبدالعزیز مینڈھڑو،سجاول (سندھ)
٭٭٭
گزشتہ چند برسوں سے’جریدہ‘ کا باقاعدہ قاری ہوں۔ اس کےمضامین سہل اور آسان زبان میں ہونےکی وجہ سےماحولیات کےبارےمیں نہایت تکنیکی معلومات بھی بہ آسانی ہمیں سمجھا دیتےہیں۔ آپ سےگزارش ہےکوئی شمارہ پاکستانی ثقافت کےلیےمختص کریں۔
علی نواز راہموں،عمر کوٹ (سندھ)
٭٭٭
پاکستان کی جغرافیائی، ثقافتی اور ماحولیاتی اہمیت و مسائل کےحوالےسے’جریدہ‘ غالباً ملک کا واحد رسالہ ہےجس کا مقصد ملک میں شعور و اِدراک کو عام کرنا ہے۔ ماحول ہماری زندگی کےہر شعبےکا احاطہ کرتا ہےلیکن بدقسمتی سےپاکستان میں اس موضوع کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی، جتنی کہ دی جانی چاہیے۔ ہمیں یہ اپنی روش بدلنا ہوگی۔
شاکر کنڈان ،سرگودھا
٭٭٭
’جریدہ‘ موصول ہوا۔ باقاعدگی سےترسیل پر شکر گذار ہوں۔ ندرتِ فکر اور موضوعاتی تنوع اس رجحان ساز مجلےکا امتیازی وصف ہے۔ مضمون نگار نہایت محنت سےاپنی تحریریں مرتب کرتےہیں۔ یہ کاوش لائقِ تحسین ہے۔
ڈاکٹر غلام شبیر رانا،جھنگ
٭٭٭
’جریدہ‘ اپریل تا جون2007ءایک دوست کے توسط سےپڑھنےکو ملا۔ پہلی بار اس سےشرفِ ملاقات ہوا لیکن دل چاہتا ہےکہ میرا اور اس رسالےکا تادیر ساتھ رہے۔ یہ آئی یو سی این کی لائقِ تعریف کاوش ہےکہ اردو زبان میں اتنا جامع، معلوماتی اور علم سےلبریز رسالہ اور وہ بھی بنا قیمت شائع کررہا ہے۔ یقیناً پاکستان میں ماحولیاتی آگاہی کےضمن میں اس کا کردار نہایت اہم ہے۔
وقار احمد واہلہ،فیصل آباد
٭٭٭
ہمارا تعلق سندھ کےدیہی علاقےسےہے۔ ہماری تنظیم بھی قائم ہےجو بقائےماحول اور غربت میں کمی جیسےامور پر توجہ مرکوز کیےہوئےہے۔ ایسےمیں ’جریدہ‘ ہمارےلیےپاکستان سمیت دنیا بھر کےماحولیاتی امور کےبارےمیں آگہی کا بڑا ذریعہ ہے۔ یہ رسالہ وقت کی ضرورت ہے۔ اسےجاری رہنا چاہیف۔
محمد اعظم چاچڑ،گھوٹکی
٭٭٭
پاکستان بھی دنیا کےان ترقی پذیر ممالک میں شامل ہے، جہاں ترقی تو مطمئع نظر ہےلیکن کس قیمت پر؟ اس کےبارےمیں سوچنےکےلیےہمارےپاس شاید وقت نہیں، لیکن یاد رکھیں کہ جب سوچنےکا وقت ملےگا تب تک سب کچھ کھوچکا ہوگا۔ لہٰذا میری گذارش ہےکہ ترقی ضروری ہےلیکن اسےماحول کی قیمت پر نہیں بلکہ ماحول دوست ہونا چاہیےتاکہ آئندہ نسلیں اچھےماحول میں پروان چڑھ سکیں۔
راشد حبیب ،لاڑکانہ
٭٭٭
شمالی پاکستان کےبارےمیں’ جریدہ‘ کا تازہ شمارہ بھرپور معلومات لیےہوئےتھا۔ یہ اس رسالےکا ہی اعجاز ہےکہ ہمیں وہ معلومات بھی حاصل ہوجاتی ہیں جن تک ہماری رسائی بالعموم ممکن نہیں ہوتی۔ ہر شمارہ اپنےقاری پر ماحول کےتحفظ کی ضرورت کو پہلےسےزیادہ اُجاگر کردیتا ہے۔
رفیع احمد، لاہور
٭٭٭
’جریدہ‘ کےگزشتہ شماروں میں ہمیں باقاعدگی سےان اقدامات کی تفصیل پڑھنےکو مل رہی ہےجو آئی یو سی این نےپاکستان میں پائیدار ترقی، بقائےماحول اور اس سےمشروط غربت میں کمی جیسےاہم مسائل کےحوالےسےکیےہیں۔ دلچسپ بات یہ ہےکہ مطالعہ کرتےہوئےاندازہ بھی نہیں ہوتا کہ ہم کہانی پڑھ رہےہیں یا حقیقت۔ دلچسپ پیرائےمیں دلکش بات کہنا یہ ’جریدہ‘ کا ہی منفرد اندازہے۔
محمد سرفراز، کراچی
٭٭٭
پاکستان کو بنےہوئےساٹھ برس ہوچکے۔ ان ساٹھ برسوں میں یقیناً ہم سےایسی کوتاہیاں ضرورہوئی ہیں جن کےباعث ہمارا قدرتی ماحول انحطاط پذیر ہوا۔ صوبہ سرحد بھی شمالی پاکستان کا ایسا ہی خطہ ہےجہاں دلکش قدرتی ماحول پر تغیر آیا۔ ’جریدہ‘ کےذریعےیہ جان کربہت خوشی ہوئی کہ بقائےماحول کی عالمی انجمن نےاس کو بہتر بنانےکےلیےکامیاب مثالی تجربات و اقدامات کیےہیں۔ ضرورت اس امر کی ہےکہ ان کا تسلسل جاری رہے۔
عبدالودود،پشاور
٭٭٭
پاکستان میں روز بروز بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی، ماحولیاتی مسائل اور ان کی سنگینی کےباوجودان کی جانب سنجیدہ توجہ نہ دینےکےسبب قدرتی آفات کےخطرات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہمیں چاہیےکہ اپنےقدرتی ماحول کو برقرار رکھنےکےلیےانفرادی سطح پر بھی جدوجہد کریں تاکہ مسائل و آلام اور قدرتی آفات کا شکار بننےسےجس قدر ممکن ہوپائے، اس سےبچ سکیں۔
رؤف احمد، اسلام آباد
٭٭٭
’جریدہ‘ کی دلکشی اس کا اردو زبان میں شائع ہونا ہے۔ کمزور انگریزی جاننےوالےمجھ جیسےلاکھوں لوگوں کےلیے یہ رسالہ آگہی کا بنیادی وسیلہ ہے۔ اس کی اشاعت ماحولیاتی آگہی کےفروغ کےلیےنہایت مددگار ہے۔
ثمر علی،ملتان
٭٭٭
پاکستان کی تاریخ و ثقافت ہمارا قومی ورثہ ہیں۔ دیکھا گیا ہےکہ ملک کےمختلف آثارِ قدیمہ عدم تحفظ کےمسائل سےنبرد آزما ہیں۔ جن کےباعث خطرات موجود ہیں کہ ان کی جانب سنجیدہ توجہ نہ دی گئی تو ہزاروں برس سےزندہ رہنےوالےیہ مقامات آج تو ہیں شاید کچھ عرصےبعد باقی نہ رہیں۔ ہوسکے تو اس حوالےسےتفصیلی شمارہ شائع کریں۔
احمد رضا،راولپنڈی
٭٭٭
دنیا بھر میں منفی انسانی سرگرمیوں کےسبب قدرتی ماحول کو جو نقصان پہنچنا تھا وہ تو پہنچا۔ لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہےکہ جنگوں نےبھی تاریخی، ثقافتی اور ماحولیاتی ورثےکو شدید نقصانات پہنچائےاور جنگلی حیات کی بقا پر اثر انداز ہوئی ہیں۔ہوسکےتو جنگوں کےماحول پر اثرات کےبارےمیں تفصیلی مضمون شائع کریں۔
علی حبیب،مظفرآباد
|