Jareeda Banner

زیارت میں متعدد اقسام کےادویاتی پودی پائےجاتےہیں۔ آئی یو سی این منصوبےکےتحت سائنسی بنیادوں پر ان کا ریکارڈ مرتب کیا جارہا ہے۔

تحریر: رفیع الحق

 
   

ایک عام آدمی کےلیےنباتات جہاں شوقِ نظارگی کو تسکین بخشتےہیں وہیں جمالیاتی احساس کی بیداری کےساتھ ساتھ اس میں تنوع کا بھی باعث ہیں۔ اس کےساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت یہ ہےکہ سبزہ جو زمین پر غلاف کی صورت میں خالقِ کائنات کی حسنِ تخلیق کا مظہر ہے، وہیں وہ اپنےاندر حضرتِ انسان کےلیےبیش بہا فوائد کا خزانہ بھی پنہاں رکھتا ہے۔
اگرچہ ایک عام تاثر پایا جاتا ہےکہ سرزمینِ بلوچستان چٹیل پہاڑوں، ریگزاروں اور تنگ گھاٹیوں پر مشتمل صوبہ ہی، لیکن بنظرِ غائر دیکھیں تو صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔ خالقِ کائنات نےہر خطےکی موسمی حالت کےتناظر میں انہیں منفرد خصوصیات سےنوازا ہے۔ یہ بات بلوچستان پر بھی صادق آتی ہے، جس کی وادیاں اپنےدامن میں ہماری لیےنباتات کی صورت میں بیش بہافوائد لیےہوئےہیں لیکن ضرورت ہےتو ان کا احساس ،تحقیق، نیز مربوط انداز میں استفادہ کرنے۔
بلوچستان کی وادیِ زیارت کو بہ ظاہر صنوبر کےدرختوں کی بنا پر منفرد اہمیت حاصل ہےلیکن یہاں موجود زمین پر سبزےکا غلاف بھی کچھ کم اہمیت کا حامل نہیں۔ زیارت کےصنوبری جنگلات کےماحولیاتی نظام میں نباتات کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔جمالیاتی اعتبار سےان کی ایک انفرادیت یہ ہےکہ وہ موسمی اتار چڑھاؤ کےساتھ اپنےرنگوں کےپیرہن بدلتےہیں۔ لیکن اس کےساتھ ہےوہ بیش بہا ادویاتی فوائد بھی لیےہوئےہیں جن کی دنیا بھر میں ادویاتی اہمیت مسلمہ ہے، لیکن ان کی بقا کو خطرات سےدوچار قرار دیا جاتا ہےاور اس کی وجہ بےدریغ استعمال یا عدم واقفیت کی بنا پر ان کا استحصال ہے۔

وادیِ زیارت کو یہ اہمیت حاصل ہےکہ یہاں صنوبر کےحیاتیاتی نظام میں خطرات سےدوچار ادویاتی نباتات بھی موجود ہیں۔ جس کی زندہ مثال خشک و سرد پہاڑوں میں پائی جانےوالی بوٹی’رتن جوت‘کی ہے۔ رتن جوت کوسائنسی طور پر Onosma echiodes کےنام سےجانا جاتا ہے۔ مزیدِ برآں، ’افسانتین‘ بھی ادویاتی اہمیت کی حامل بوٹی ہے، جسےسائنسی طور پرArtemisia spp کے نام سےپہچانا جاتا ہے ’دردلد‘Berberis spp سےکون واقف نہیں ۔ اگرچہ اس بوٹی کو مقامی باشندےصدیوں سےروایتی طور پرجسم کی اندرونی چوٹ سےشفایابی کےلیےاستعمال کرتےچلےآئےہیں۔ اسی طرح ایک اور ادویاتی پودا ’ایفیڈرا‘Ephedra جس سےطبِ مغرب میں ایک جُز ’ایفیڈرین‘ حاصل کیا جاتا ہےجو کہ سانس کےجملہ امراض سےشفایابی کےلیےتیار کردہ ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک اور پودا ہےجسےمقامی لوگ ’تور مورئی‘ اور اسی جیسا ایک اور پودا ہےجسے’چھن مورئی‘ کہا جاتا ہے۔ مقامی باشندی انہیں خشک کرکےکھانسی اور بخار کی کیفیت میں بطور جوشاندہ استعمال کرتےہیں۔ جنگلی پودینہ بھی وادی کا ایک مثالی پودا ہے۔ اسےسائنسی طور پرMentha longifolia کہتےہیں۔ یہ نظامِ ہاضمہ کےجملہ امراض میں اکسیر سمجھا جاتا ہے، نیز اس کی خوشبو زبان کو تازگی اور منہ کو ناخوشگوار مہک سےپاک کردیتی ہی۔ادویاتی اہمیت کےحامل پودوں کےحوالےسےتو یہ صرف چند مثالیں ہیں، حقیقت میں ان کی تعداد اس سےبھی کہیں زیادہ ہوسکتی ہے، جس کےلیےماہرانہ بنیادوں پر تحقیق کی ضرورت ہے۔

صنوبر کےحیاتیاتی نظام میں خطرات سےدوچار ادویاتی نباتات بھی موجود ہیں۔

اس سال کےاوائل میں جب وادیِ زیارت میں صنوبر کےماحولیاتی نظام اور اس کی معاشی اہمیت کےحوالےسےمنصوبہ شروع ہوا تو یہی خیال اس تحقیق کےآغاز کا سبب بنا جس کےتحت منصوبےمیں شامل چار وادیوں (زیارت تحصیل، خوشکی، چوتیر اور نشپا و بٹاتیر)میں پائےجانےوالےادویاتی پودوں کو ریکاڑڈ پر لانا تھا تاکہ ان کی معاشی قدروں کا تعین کیا جاسکےاور ان سےمقامی باشندوں کےمعاشی استفادےکےساتھ ساتھ ان کی پائیدار بقا کو بھی یقینی بنایا جاسکے۔ اس تحقیق کےحوالےسےدو باتیں نہایت اہمیت کی حامل ہیں:

- ان ادویاتی پودوں کی ایک ایسی مصدقہ فہرست تیار کی جائےجویہاں پائےجاتےہیں۔
- فہرست میں ادویاتی پودوں کےمسکنوں کی واضح نشاندہی ہو۔نیز ان پر وادی کےموسمی تغیرات کےاثرات کو بھی ریکارڈ پر لایا جائے۔
اگرچہ مذکوہ بالا منصوبہ اس سال اپریل سےشروع ہوا ہےلیکن ادویاتی پودوں پر تحقیق کےحوالےسےابتدائی تحقیق شروع ہوچکی ہے۔ توقع ہےکہ اس تحقیق کےنتیجےمیں آئندہ سالوں میں ایک ایسا تحریری مواد دستیاب ہوگا جو زیارت کی بیان کردہ وادیوں میں نباتات کی اقسام کا سائنسی اور علمی بنیادوں پر احاطہ کرکےان سےمنضبط استفادےکی راہ ہموار کردےگا۔

 
رفیع الحق آئی یو سی این پاکستان کےشعبہ انتظامِ قدرتی وسائل سےبطور کوآرڈینیٹر وابستہ ہیں۔