Jareeda Banner

صنوبر بےپناہ معاشی فوائد کا حامل درخت ہے۔ اس کی بقا اور دانشمندانہ استفادہ وادیِ زیارت کی معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔

تحریر : ایم اےشیخ


تہذیبی تاریخ میں انسان کا تعلق جنگل سےاتنا ہی گہرا رہا ہےجتنا کہ آج اُس کا شہروں سےہے۔یہ جنگل ہی تھےجو اُسےپیٹ بھرنےکےلیےخوراک، سر چھپانےکےلئےسائبان ، جسم ڈھانپنےکےلیےپہناوا (پتّی)،بیمار پڑنےپر صحت یابی کےلیےادویاتی پودے،محظوظ ہونےکےلیےقدرتی نظاری، صحت مند رہنےکےلیےتازہ آب وہوا اور سماجی میل ملاپ کےلیےجگہ فراہم کرتےتھی۔وقت گزرنےکےساتھ ساتھ انسانی بودباش کےارتقائی سفر نےاسےجنگلوں سےنکال کردریائوں کےکنارےمیدانوں میں آباد کرنا شروع کردیا۔ یوں اُس کا جنگل سےصدیوں سےجُڑا تمّدنی ناطہ کمزور پڑنا شروع ہوا اور وہ قدرت کی اس عظیم فیاضی کی اہمیت سے آہستہ آستہ لا تعلق سا ہوتا چلا گیا۔

ہوا یہ کہ جب صدیوں پہلےکرئہ ارض پر تمّدنی ترقی نےزور پکڑا اور جب رفتہ رفتہ اپنےشباب کی طرف پہنچنےلگی توپھرترقی کی وہ دوڑ شروع ہوئی جس کےسبب جنگلات صرف لکڑی کےحصول کا ذریعہ رہ گئے۔ وہ لکڑی جسےانسان جلا سکیں،جس سےفرنیچر بنا سکیں، کاغذ تیار کرسکیں یااسےفروخت کرکےروپےکما سکیں۔
بےشک جنگلات سےیہ استفادہ جائز ہےمگر پائیدار بنیادوں پر۔ جنگلوں کااستحصال کرکے غیردانشمندانہ بنیادوں پر استفادہ ویسا ہی ہےکہ جیسےروزانہ سونےکا انڈہ دینےوالی مرغی کوذبحہ کرکےتمام انڈےایک بار حاصل کر لینےکی خواہش کی جائےاور نتیجےمیں نہ انڈےملیں اور نہ ہی مرغی زندہ بچے۔
’مرغی اور سونےکا انڈہ‘ والی مثال بلوچستان میں صنوبر کےجنگلات پر بھی صادق آتی ہے۔ جہاں ایندھن، تعمیراتی ضروریات اور چند روپےکمالینےکی خواہش میں صدیوں پرانےصنوبر کےدرختوں کو تہِ تیغ کیا جاتا رہا ہے۔

صوبہ بلوچستان، اقتصادی اور سماجی لحاظ سے ویسےہی ملک کےدیگر صوبوں کےمقابلےمیں پسماندہ ہےاور پھر اس کےوہ اضلاع (زیارت، قلات وغیرہ) جہاںصنوبر کےجنگلات واقع ہیں، پسماندگی کی منہ بولتی تصویر ہیں ۔ جس کی وجہ سےصنوبر کےجنگلات کےدیگر فوائد سےقطع نظر ،’ فوری فائدی‘ کی سوچ نےاس عظیم قدرتی سرمائےکو شدید مشکلات سےدوچار کیا ہے۔

مذہب اسلام کی رو سےدیکھیں تو درخت بھی انسان کےلیےفوائد لیےہوئےہیں اور ان سےاستفادہ برحق ہی، لیکن ممانعت ہےتو استحصال کی۔ استحصال کی روک تھا م اور پائیدار استعمال کےفروغ میں آگاہی سب سےاہم ذریعہ ہے۔ اگر ہم صنوبری جنگلات کو انسانی سرگرمیوں کےباعث پہنچنےوالےنقصانات کی وجوہات کا جائزہ لیں تو اس کےپیچھے عدم آگاہی اور ماحول سےلا تعلقی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ دوسری طرف ان جنگلات کےفوائد کا جائزہ لیں تو اس میں انسان کےلیےعلم اور فوائد کا بےپناہ خزینہ نظر آتا ہے۔
صنوبر کا شمار سست رو نموکےباعث دنیا کےقدیم ترین طویل العمردرختوں میں کیاجاتاہے۔ آج بھی زیارت میں ایسےدرخت موجود ہیں جن کی عمریں، ماہرین کے اندازوں کےمطابق، ایک سےدو ہزار برس کےدرمیان ہیں۔علم الار ض کےحوالےسےدیکھیں تو ماہرین کا کہنا ہےکہ صنوبر کےیہ عمر سیدہ درخت ماضی میں زمین کی آب وہوا اور قدرتی ماحول کےبارےمیں ’چشم دید گواہ‘ کی مانند ہیں اور تحقیق کےذریعےان کےوجود سےماضی کےبارےمیں گواہیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔یعنی جتنا پرانا درخت ، ماضی کی اتنی ہی قدیم شہادتیں۔ اس لیےآب و ہوا، ماحول اور زمین پر تحقیق کرنےوالےماہرین کا کہنا ہےکہ سیکڑوں سال کےگذرےواقعات کےامین صنوبر کےیہ درخت میدانِ تحقیق میں محققین کےلیےگراںقدرسرمایہ ہیں۔

بلوچستان بنجر، نیم بنجر اور صحرائی خطّہ ہے، جہاں آب کی کمیابی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ماہرینِ آب کا کہنا ہےبلوچستان کےجغرافیائی منظرنامےمیں یہاں صنوبر کے وسیع و عریض جنگلات کی موجودگی پانی کی دستیابی کی ضمانت ہے۔ صنوبر کےفوائد کےپیشِ نظر زیارت کو ذہن میں رکھ کر ماہرین کہتےہیں کہ یہ علاقہ سرد اور برفباری والا ہے۔ اس لیےیہاں صنوبری جنگلات کی پانی کےحوالےسےایک بڑی افادیت یہ ہےکہ صنوبر کےدرخت کا سایہ برف کےپگھلنےکی رفتار کو سست کردیتا ہے۔ جس کےباعث زیر زمین پانی کےبہائو اور مقدار کو باضابطہ بنانےمیں انتہائی مدد ملتی ہے۔ نیز، اس کےسبب علاقےمیں موجود باغات پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوتےہیں۔

بتاتےچلیں کہ صنوبر کےدرختوں کا سایہ زمین کو دھوپ کی براہ راست تمازت سےمحفوظ رکھتا ہی۔ جس کی وجہ سے موسمِ سرما میں گرنےوالی برف کئی مہینوں تک جمی رہتی ہےاور جب موسمِ گرما میں برف پگھلنا شروع ہوتی ہےتب بھی صنوبر کا سایہ پانی کےبخارات میں تبدیل ہونےکی رفتار کوبڑھنےنہیں دیتا۔یوں زیرِ زمین پانی کی بازیافت (ری چارج) کےساتھ ساتھ پینی، زراعت اور دیگر استعمال کےلیے پانی تقریباً ہر وقت موجود رہتا ہےاور اس کی بڑی مقدار ضائع ہونےسےبھی محفوظ رہتی ہے۔

NOrthern Pakistan
خالق نےجہاں میں ہر چیز کو کسی مقصد اور مصرف کےتحت تخلیق کیا ہے۔ ان کی حفاظت دانشمندی ہے۔

صحرا زدگی اور زمین بُردگی آج کی دنیا کا ایک بڑا اور سنگین ماحولیاتی مسئلہ ہےلیکن ماہرین کی رائےہےکہ صنوبر کےجنگلات زمین کو ہوا کےکٹائو سےمحفوظ رکھتےہیں۔ یہ موسم گرما اور سرما میں ہوائوں کی شدت کو کم کرتےہیں،نیزہوا میں نمی کےعنصر کو بھی برقرار رکھتےہیں۔اس کےعلاوہ صنوبر کےدرختوں کی جڑیں سیکڑوں ننھےننھےہاتھوں کی صورت میں زمین کی مٹی کو تھامےرکھتی ہیں، جس کی وجہ سےیہ مٹی بہہ کر ندی نالوں میں نہیں جاتی ۔ اس طرح جنگلات میں زمین کٹائوسےمحفوظ ہوجاتی ہے۔ سطح زمین پر موجود زرخیز مٹی اپنی جگہ قائم رہتی ہے،جس سےجنگلات کےنباتاتی غلاف کو پنپنےمیں مدد ملتی ہےاورصحرازدگی کی روک تھام کا قدرتی عمل بھی جاری رہتاہے۔ نیز ، صنوبر کے درخت سیلابی پانی کےبہائو کو کم کرتےہیں جس سےقدرتی نظام کےتحت زیرِ زمین پانی کی ترسیل کو با ضابطہ بنانےمیں بھی مدد ملتی ہے۔

زیارت میں صنوبر کےجنگلات تاریخی اور روایتی طور پر سلیمان ماخور کا مسکن رہےہیں لیکن بےدریغ شکار نےان کی تعداد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ آج کےدور میں پاکستان کےمختلف پہاڑی علاقوں میں مارخور ٹرافی ہنٹنگ (شکار) کو علاقےکی پسماندگی دور کرنےاور جنگلی حیات کی اس نوع کی بقا کےلیےکامیاب طریقےکی صورت میں استعمال کیا جارہا ہے۔ اگرچہ جنگلی حیات کےماہرین کا خیال ہےکہ اس وقت زیارت میں سلیمان مارخور نہ ہونےکےبرابر ہے، تاہم صنوبری جنگلات کی بقا کےحوالےسےدیکھیں تو سلیمان مارخور کو یہاں لاکر اس کی افزائش کرکی، اگلےچند برسوں میں ٹرافی ہنٹنگ کےطریقےکو یہاں پر بھی دہرایا جاسکتا ہے۔ کمیونٹی کےاشتراکِ عمل سےیہ طریقہ ایک طرف مقامی پسماندگی کو دور کرسکتا ہےتو دوسری جانب اس سے جنگلات پر پڑنےوالا دباؤ بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ نیز اس سےصنوبر کےپیداواری فوائد کےپائیدار استعمال کا ایک اور طریقہ سامنےلایا سکتاہے۔

صنوبر کےزیرِ سایہ ادویاتی اہمیت کےحامل نباتات، ان کی تجارت ، پائیدار ترقی اور معاشی استفادہ بھی صنوبری جنگلات کےفوائد کا ایک اہم پہلو ہے۔ یہ بھی جان لیں کہ صنوبر کا درخت بذات خودادویاتی افادیت کا حامل ہے۔ صنوبر کےپیداوری نظام میں ایک بڑا حصہ ادویاتی اہمیت کےحامل پودوں کا بھی ہے، لیکن ان کےپائیدار استعمال کی جانب زیادہ توجہ مرکوز نہیں رہی ہی۔ اس بارےمیں کوئٹہ سےتعلق رکھنےوالےسابق رکن قومی طبی کونسل ،وزارتِ صحت ، پاکستان اور ہومیو پیتھک ڈاکٹر حکیم محمد شاہد کلانوری بتاتےہیں :

’صنوبر کےمتعدد طبّی فوائد ہیں جن کا حکمت میں استعمال کیا جاتا ہےاور طبِ مشرق میں اس کےبیش بہا فوائد موجود ہیں۔ مثلاً طب ِ مشرق کی رو سےصنوبر کی لکڑی کا تیل پرانےزخموں کو ٹھیک کرتا ہےاورچنبل جیسےجلدی مرض کےلیےاکسیر ہے۔ نکسیر روکنےکےلیےصنوبر کےپتوں او ر چھال کا سفوف استعمال کیا جاتا ہےجبکہ جسم کےکسی بھی حصےسےبہنےوالےخون کو روکنےکےلیےاس کا استعمال مختلف طریقوں سےہوتا ہے۔اسکےپتوں اور چھال کےجوشاندےسےکلی کرنےسےدانتوں کا درد ختم ہوتا ہےاور مسوڑھےمضبوط ہوتےہیںاور ان سےخون آنا بند ہوجاتا ہے۔ ‘

محمد شاہد کلانوری طبِ مشرق کی اہم تاریخی شخصیت حیکم بو علی سینا کےحوالےسےکہتےہیں:
’صنوبر کا گوند پرانی کھانسی کےبہت مفیدہے، جبکہ اس کا مستندحکیم کےمشورےسےاستعمال گلےکی سوزش اور درد میں بھی فائدہ دیتا ہے۔ غرض یہ کہ طبِ مشرق میں صنوبر کےبےپناہ فوائد ہیں تاہم بالعموم ہمارا معاشرہ ان سےناواقف ہے۔ اگرہم یہ فوائد جان لیں تو نہ صرف صنوبر کی اہمیت بڑھ جائےگی بلکہ اس سےادویات کی تیاری کےلیےمنظم اور جدید خطوط پر بھی فائدہ اٹھا جاسکتا ہے۔ جو یقیناًمقامی طور پر اس درخت کی بقا اور علاقےکی ترقی کو نیا رُخ عطا کرسکتی ہے۔‘

اگرچہ اب صنوبر کی حفاظت اور اس کےپیداوری نظام کےفروغ اور پائیدار استفادےکی سوچ پر اقوامِ متحدہ کےترقیاتی ادارےیو این ڈی پی اور گلوبل انوائرنمنٹل فیسلٹی GEF کے اشتراک سےبقائےماحول ترقی کی عالمی انجمن آئی یو سی این، پاکستان کا کمیونٹی کےاشتراک سےچار سالہ منصوبہ شروع ہوچکا ہے ، جو یقیناًمقامی طور پر اس اہم قدرتی وسیلےسےمعاشی استفادےکی ایسی نئی راہیں کھولنےکا پیش خیمہ ثابت ہوگا، جس میں نہ صرف صنوبر کی افادیت کےتمام پہلوؤں کو توجہ حاصل ہوگی بلکہ اس سےعلاقےکی پسماندگی اور غربت کو بھی کم کرنےمیں مدد ملےگی۔ 

 


کوئٹہ سےتعلق رکھےوالے ایم اےشیخ صحافی ہیں اور تحقیقی صحافت ان کا خاص موضوع ہے۔