1948 ءمیں آئی یو سی این کےقیام کا بنیادی مقصد بقائےماحول تھا۔ جس کےپیشِ نظر1963ءمیں’آئی یو سی این سرخ فہرست‘ کا تصور سامنےآیا۔ اس تصور کو عالمی پذیرائی حاصل ہوئی۔ یوں بعد کےبرسوں میں بقائےحیاتیاتی تنوع کے لیےآئی یو سی این کےSpecies Survival Commission کا قیام عمل میں آیا،جو گزشتہ تیس برسوں سےعالمی سطح پر حیاتیاتی انواع کی صورتِ حال اور ان کی بقا کو لاحق خطرات کےحوالے سےسائنسی اصولوں پرمعلومات جمع کرنےاور انواع کی مختلف اقسام کو درپیش خطرات کی بنیادپر درجہ بندی کرنےکےلیےکوشاں ہی، تاکہ انہیں درپیش خطرات کا تدارک کرکےکرئہ ارض کےحیاتیاتی ماحول کو برقرار رکھا جاسکی۔ ’سرخ فہرست‘ ان کوششوں کا جامع ثبوت ہی۔
’آئی یو سی این سرخ فہرست2007ئ‘ میں حیاتیاتی تنوع کےحوالےسےجو صورتِ پیش کی گئی ہے، ذیل میں چنداقسام کامختصراً تذکرہ کیا جارہا ہے، تاکہ قارئین کو آگاہی ہوسکےکہ انسانی سرگرمیاں، موسمی تغیر و تبدل اور دیگر وجوہات کس طرح زمین کا حُسن اور حیاتیاتی تنوع کی گونا گونی کو گہنا رہےہیں۔
’سرخ فہرست‘ میںبن مانس کاذکرخاصا دلچسپ ہے۔ اس قسم کو مغربی گوریلا Western Gorilla کہتےہیں۔ گزشتہ فہرست میں اسے’خطرات سےدوچار‘ قرار دیا گیا تھا، تاہم اس برس یہ’سنگین خطرات سےدوچار‘ درجےمیں شامل کیا گیا ہے۔ جسے تجارتی بنیادوں پرگوشت کی فروخت کےلیےشکار کیا جاتا ہےجبکہ ’ایبولا وائرس‘ بھی اس کی ہلاکتوں کا ذمہ دارہے۔ ماہرینِ جنگلی حیات کےمطابق گزشتہ بیس، پچیس برسوں کےدوران اس کی تعداد میںساٹھ فیصد تک کمی آئی ہے۔
اسی طرح بن مانس کی قسمSumatran Orangutan بھی بدستور ’سنگین خطرات سےدوچار‘ درجےمیں شامل ہے۔ اس کےساتھ ہی بن مانس کی ایک اور قسم Bornean Orangutan کو بھی ’خطرات سےدوچار‘ درجےمیں شامل کیا گیا ہے۔ مذکورہ دونوں اقسام کو قانونی و غیرقانونی شکار اور جنگلات کی کٹائی کےسبب مسکن کےخاتمےکا مسئلہ درپیش ہے۔ یاد رہےکہ بورنیو میں پام آئل کےلیےکاشت کی خاطر جنگلوں کا صفایا کرکےزرعی زمین نکالی جارہی ہے، جس کےسبب ان کےمسکن تباہ ہورہےہیں۔1984ءمیں یہاں دو ہزار مربع کلومیٹر پر پام کےزیرِ کاشت تھاجو2003ءمیں بڑھ کر27ہزار مربع کلومیٹر ہوچکا ہے۔
پہلی بار’ مونگے‘ coralکی دس اقسام کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں دو اقسام ’سنگین خطرات سےدوچار‘ درجےمیں ہیں، خدشہ ہےکہ وہ معدوم ہوچکی ہیں۔ اس کا سبب ال نینو اور موسمیاتی تبدیلیوں کو قرار دیا گیا ہے۔ سمندری گھاس seaweeds کی 74 اقسام بھی فہرست میں شامل ہیں۔ جن میں سےدس کو ’سنگین خطرات سےدوچار‘ کا درجہ دیا گیا ہے۔خدشہ ہےکہ ان میں سےچھ اقسام معدوم ہوچکی ہیں، جس کا ذمہ دار سمندری درجئہ حرارت میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلیوں اور ال نینوکو ٹہرایاگیا ہے۔
بات سمندری حیات کی چلی ہےتو اس حوالےسےآرائشی مچھلی گھروں کی صنعت کو سمندری حیات پر پڑنےوالےناقابلِ برداشت دباؤ کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا۔ اس حوالےسےپہلی بار ’کار ڈینل مچھلی‘کو ’خطرات سےدوچار‘ درجےمیں شامل کیا گیا ہے۔ یہ مچھلی انڈونیشیا میں وافرپائی جاتی ہے۔ جس کی مچھلی گھروں aquarium میں بڑی مانگ ہےاور یہ منافع بخش سمجھی جاتی ہے۔ تخمینےکےمطابق یہاں سالانہ9لاکھ مچھلیاں پکڑی جاتی ہے۔
اسی طرح چین کےدریائےیانگ ژی میں پائی جانےوالی ڈولفن کی منفرد نوع جسےچینی ’بائی جی‘ کہتےہیں، ’سنگین خطرات سےدوچار‘ انواع میں شامل ہوئی ہے۔ خدشہ ہےکہ یہ ناپید ہوچکی ہے۔دریائی آلودگی، دریائی ٹریفک اور بےتحاشہ ماہی گیری سےاس کےآبی مسکنوں میں انتشارکو معدومی کا سبب بتایاگیا ہے۔
بھارت اور نیپال کےگھڑیال Gavialis gangeticus کو بھی مسکنوں کی تباہی کےخطرےکا سامنا ہے۔ جس کی تعداد میں58فیصد تک کمی آچکی ہے۔ گذشتہ فہرست میں ’خطرات سےدوچار‘ درجےمیںتھا، لیکن2007ءمیں اسے’سنگین خطرات سےدوچار‘ قرار دیا گیا ہے۔ 1997ءمیں ان کی تعداد436تھی جو2006ءمیں کم ہو کرصرف182رہ گئےہیں۔ ڈیموں کی تعمیر، آب پاشی منصوبی، مسکنوں میں انسانی تجاوزات کوتعداد وغیرہ کو کمی کا ذمہ دار بتایا گیا ہے۔
’سرخ فہرست‘ میں پودوں کی12,043 اقسام شامل کی گئی ہیں، جن میں سی8,447 کو’سنگین خطرات سےدوچار‘ قرار دیا گیا ہے۔نیز ملائشیا میں پائی جانےوالی نباتات کی قسمWoolly-stalked Begonia وہ واحد بوٹی ہے، جسےاس سال معدوم قرار دیا گیا۔وسط ایشیا میں پائی جانےوالی جنگلی خوبانی Ameniaca vulgaris کو پہلی بار فہرست میں شامل کرتےہوئے’سنگین خطرات سےدوچار ‘ کادرجہ دیا گیاہے۔
شمالی امریکا سےمتعلق 723رینگنےوالےجانوروں کی اقسام reptile کو بھی فہرست میں شامل ہوئی ہیں۔ جن میں سی90 اقسام کو ’معدومی کےخطرےسےدوچار ‘ بتایا گیا ہے۔
آئی یو سی این ریڈ لِسٹ2007ئ‘ کےبارےمیں مزید جاننےکےلیےوزٹ کریںwww.iucn.org ۔
|
|