Jareeda Banner

 

صنوبر کی حیاتیاتی تنوع کےاعتبار سےمسلمہ اہمیت ہی۔ چنانچہ جب چند برس قبل بلوچستان میں صنوبری جنگلات کےماحولیاتی نظام کو خطرات سےدوچار قرار دیا گیا تواس کےبعد، 1998ء سےہی بقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این، پاکستان نےکوششیں شروع کیں کہ حکومتِ بلوچستان، مقامی کمیونٹیز،سول سوسائٹی کی انجمنوں،غیر سرکاری تنظیموںاور ذرائع ابلاغ سمیت تمام شراکت داروں کی توجہ اس کی بقا کی جانب مبذول کروائی جاسکےجسےنہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی پذیرائی ملی۔ مزیدِ برآں، آئی یو سی این نے شراکت دارو ں سےوسیع تر مشاورت کےبعد منصوبہ بعنوانMainstreaming Biodiversity Conservation into Production System in Juniper Forest Ecosystem تیار کیا،جسی2006ءمیںگلوبل انوائرنمنٹ فیسلٹی اوریو این ڈی پی نےمالی معاونت کی فراہمی کےلیےمنظور کرلیا۔آئی یو سی این منصوبےپر عملدرآمد کی ذمہ دار ہی، اورحکومتِ بلوچستان کا محکمئہ جنگلات اور محکمئہ جنگلی حیات معاونت کررہےہیں۔

اپریل2007ءسےاس چار سالہ منصوبےپر کام شروع ہوچکا ہی۔ منصوبےکےآغاز پر رواں سال مئی میں کوئٹہ میںinceptional workshop منعقد ہوئی۔ جس میں تمام شراکت داروں نےحصہ لیا اور اس کےنتیجےمیں حاصل شدہ تجاویز کےبعدزیارت کی چار منتخب وادیوں (زیارت تحصیل، کوشکی، چوتیر اور نشپا و بٹاتیر) میں یہ منصوبہ سرگرمِ عمل ہے۔

- طائرانہ جائزہ لیںتو منصوبےکا مقصد مسائل سےدوچارصنوبر ی جنگلات کےماحولیاتی نظام میں بہتری لاکر ،حیاتیاتی تنوع کی بقا اور پائیدار ترقی میں اس ماحولیاتی نظام کی شمولیت کو مزید بہتربنانا ہی۔ تا کہ بلوچستان کےاقتصادی ، ماحولیاتی اور سماجی نظام میں صنوبر کےثمرات کو دانشمندانہ طریقوں سےاستعمال کرتےہوئےپائیدار ترقی کی بنیادپر ایسی تبدیلی لائی جاسکےجس کےفوائد وسیع ترہوں، نیز اس منفرد نوع کےجنگلات کی بھی پائیدار بقا یقینی بنائی جاسکی۔ منصوبےکےدیگر اہم عناصرمندرجہ ذیل ہیں:

- ’صنوبر ماحولیاتی نظام‘ کےتمام شریک عناصر کو صحتمند بنانا، جس سےخاص طور پرآبی وسائل کا تحفظ ہو، زمین کی حالت میں بہتری اور نباتات کےتنوع میں اضافہ ہوسکے۔

- صنوبر کےدرختوں کی صحت کو بہتر بنایا جاسکےاور اس عمل میں پائیداری ہو۔
- عالمی اہمیت کےحامل عناصرِ حیاتیاتی تنوع ( نباتات، پودوں، جانوروں اور پرندوں) کی افزائش و نشونما کےلیےسازگار قدرتی ماحول کی فراہمی ، تاکہ ان کی تعداد میں مناسب حد تک اضافہ ہوسکے۔منصوبےکےمقاصد مندرجہ ذیل ہیں:
- صنوبر ی جنگلات کےماحولیاتی نظام میں حیاتیاتی تنوع کا تحفظ۔
- کمیونٹی، غیر سرکاری تنظیموں، سول سوسائٹی کی انجمنوں اور حکومتِ بلوچستان کےمتعلقہ محکموں میں صنوبر کےحیاتیاتی نظام کی بقا و بحالی کےلیےآگاہی کا فروغ۔
- صنوبر کےپیداواری نظام میں بہتری کےذریعےمقامی کمیونٹی کی معاشی حالت کو بہتر بنانےکےلیےاقدامات ۔
- حیاتیاتی تنوع کی بقا کےلیےکمیونٹی، غیر سرکاری تنظیموں، سول سوسائٹی کی انجمنوں اور حکومتِ بلوچستان کےمتعلقہ محکموں کی استعداد کو مزید مضبوط کرنا۔
- قدرتی وسائل کےپائیدار استعمال کےبارےمیں مقامی کمیونٹیز کی صلاحیتوں اور استعداد کو نکھارنا۔
- قدرتی وسائل کےمربوط انتظام کا فروغ۔
مذکورہ بالا اہداف و مقاصد کےساتھ ساتھ ایک ہدف یہ بھی ہےکہ صنوبری جنگلات کےحیاتیاتی نظام میں جاری پیداواری سرگرمیوں کو ماحول دوست بنایا جائی۔ اس جانب بھی توجہ مرکوز کی گئی ہےکہ مویشیوں کی بےدریغ چرائی، ایندھن اور دیگر ضروریات کےلیےلکڑی کےحصول سےاس سست رو افزائش والےقدرتی ورثےپر جو منفی اثرات مرتب ہوچکےہیں ،ان کا تدارک کیا جاسکے۔ مزیدِ برآں پائیدار ماحولیاتی سیاحت کےفروغ، منضبط شکار، آب گیر علاقوں کےتحفظ کےذریعے حیاتیاتی تنوع کی سماجی خدمات میں اضافہ کرنا اور ان کےذریعےمقامی باشندوں کی معاشی حالت میں بہتری کے نئےمواقعوں کی تلاش بھی منصوبےکا اہم حصہ ہے۔

مختار آزاد