نور زمان زیارت کےباشندےہیں اور صنوبر کو اپنےضلع کی پہچان قرار دیتےہیں ،لیکن اس کےمستقبل کےبارےمیں انہیں تشویش ہے،کہتےہیں!
’زیارت کی دو پہچان ہیں۔ ایک بانیِ پاکستان کی آخری رہائش گاہ اور دوسرا صنوبرکےجنگلات۔مگر ایک بات ہے،وہ یہ کہ صنوبر ی جنگلات کا مستقبل تابناک نظر نہیں آتا۔ ہاں اگر اس کےتحفظ کےلیےکی گئی کوششیں بار آور ثابت ہوں تو پھر دوسری بات ہے۔ ورنہ تو اس کی بقا خطرےمیں ہے۔‘
زیارت رقبےکےلحاظ سےپاکستان کےسب سےبڑےصوبےبلوچستان کا سب سےچھوٹا ضلع ہےمگریہاں صنوبر کا دوسرا سب سےبڑا جنگل واقع ہے۔ نور زمان نےاس جنگل کی بقا کےحوالےسےجس تشویش کا اظہار کیا وہ کیوں کر پیدا ہوئی۔ یہ سوال جب زیارت کی ضلعی حکومت کےناظم دلاور خان کاکڑ سےکیا تو پھر بات نکلی اوربہت دور تک جا پہنچی۔
دلاور خان کاکڑ کہتےہیں !
’صنوبر اور زیارت کےباشندےایک دوسرےکےلیےلازم و ملزوم ہیں۔ اس کا ایک سبب یہ ہےکہ ہمارےیہاں صنوبر کےعلاوہ دوسرےدرخت بہت ہی کم ہیں، لہٰذا نفسیاتی اور جذباتی طور پر بھی ہمارا اس سےرشتہ ہی۔ میں نےہوش سنبھالا تو غالباً زندگی کا پہلا درخت صنوبر ہے کا دیکھا تھا۔ یہ درخت سست رو بھی ہے۔ اس کی مثال یہ ہےکہ آج میری عمر پینتالیس برس ہےلیکن جو درخت میں نےاپنےگاؤں میں عہدِ طفلی کےدوران جس قد میں دیکھا تھا، آج بھی وہ کم و بیش اتنا ہی بڑا ہے۔ میرا گاؤں زیارت شہر میں قائدِ اعظم ریزیڈینسی سےتھوڑا آگے،صنوبر کی نظارہ گاہ سےمغرب کی سمت’ اسپین مغزی ‘ میں ہے۔ میں صنوبر کی وادی میں اس کےساتھ ہی پلا بڑھاہوں ۔ میں نےاس کا حسن بھی دیکھا ہےاور قتلِ عام بھی۔‘
دلاور خان کاکڑ اس ’قتلِ عام ‘کا پس منظر کچھ اس طرح بیان کرتےہیں!
’میرےبزرگ بتاتےہیں کہ ہزاروں سال قدیم اس جنگل کا تحفظ ہمیشہ قدرت نےہی کیا ہی، لیکن جب انیسویں صدی کےاواخر میں یہ علاقہ برطانوی حکومت کی عملداری میں آیا تو انہوں نےصنوبر کےجنگلات کی اہمیت اور قدامت کےپیشِ نظر حفاظت کا باقاعدہ انتظام کیا اور دو تین فاریسٹ گارڈ نگرانی پر معمور کیے۔مقصد یہ تھا کہ جنگل کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ آج کےحالات دیکھو اور پھر اس تناظر میں سوچوں تو پتا چلتا ہےکہ یہ مستقبل کےلیےحفاظتی منصوبہ بندی تھی، حالانکہ اس دور میں نہ تو موجودہ ضلع زیارت کی حدود میں آبادی بہت زیادہ تھی اور نہ ہی اس جنگل کو انسانی دست درازی کا سامنا تھا۔ انگریز دورِ حکومت میں زیارت کی مستقل آبادی تو بہت ہی تھوڑی تھی۔ زیادہ تر خانہ بدوش تھی، جو موسمی ہجرت کےسبب یہاں سےوہاں سفر کرتےرہتے۔ ان کا بھی ایک اصول تھا۔ وہ ہمیشہ اسی درخت کو اپنی ایندھن یا کسی اور ضرورت کےتحت استعمال میں لیتےجو قدرتی طور پر مردہ ہوچکا ہوتا تھا۔ اس طرح صنوبر کےجنگلات دباؤ سےآزاد تھے، مگر قیامِ پاکستان کےبعد حالات میں تبدیلی آئی۔‘
یہ تبدیلی کیا تھی ا ور اس کی وجوہات کیا تھیں؟ وہ تفصیل سےبیان کرتےہیں!
’1955ءسی1980ءکےدرمیان زیارت میں صنوبری جنگلات کو شدید نقصان پہنچا شروع ہوااوریہ سلسلہ آج بھی جاری ہی۔ ہوا یوں کہ60ءکی دہائی سےزندگی کا چلن تبدیل ہونا شروع ہوا۔ پہلےزیارت اور اس کی دیگر وادیوں میں مستقل انسانی بستیاں نہ ہونےکےبرابر تھیں، لیکن ان عشروں میں یہ تبدیلی آئی کہ مستقل انسانی بستیاں قائم ہونےلگیں۔ خانہ بدوشی کےبجائےمستقل گاؤں بسائےجانےلگی۔ لوگوں نےبستیاں تو بسانا شروع کردیں لیکن ان غریبوں کےمالی وسائل نہ ہونےکےبرابر تھی۔ اس لیےصنوبر کےدرخت کو کاٹ کر اس کی چھال اتار کر جھونپڑیوں کی چھت بنائی جانےلگی۔ اس کی شاخوں سے زیرِ کاشت ارضی، مویشیوں کےباڑوں کےگردباڑ ھ باندھی جانےلگی۔ آبادی کا زیادہ تر معاشی انحصار گلّہ بانی پر تھا۔ اگرچہ زیارت اور اس کی دیگر وادیوں میںچراگاہیں نہ ہونےکےبرابر تھیں، مویشی دن بھراِدھر اُدھرگھوم پھر کر چارہ حاصل کرلیتےتھی۔ اس لیےجب آبادی مستقل ہونا شروع ہوئیں تو پھر مویشیوں کی چرائی کا علاقہ بھی محدود ہوا۔ مستقل آبادی کےقیام کا رجحان مستحکم ہونےلگا تو اس کا ایک بڑا منفی اثر یہ ہوا کہ رہائش اور زراعت، دونوں مقاصد کےلیےزمین کی طلب بڑھنےلگی۔ ایک تو وادیِ زیارت کا زیادہ تر رقبہ یا تو جنگلات کےتلےتھا یا پھر پہاڑوں پر مشتمل تھا۔ اس لیےزمین کےحصول کےلیے جنگل کا مزیدرقبہ کاٹا گیا۔یوں، جنگلات کی کٹائی، زمین کا حصول، گھروں کا قیام، ان تمام انسانی سرگرمیوں نےمل کر زمین پر نباتات کےغلاف کو تیزی سےختم کرنا شروع کردیا۔سب سےبُری یہ صورتِ حال پیدا ہوئی کہ لوگوں نےتجارتی بنیادوں پر اس بیش قیمت جنگل کو کاٹنا شروع کردیا اور لکڑی کو بطورِ ایندھن دوسرےعلاقوں تک بھیجنےلگی۔ مثال کےطور پر زرندرہ وادی میں صنوبر کا گھنا جنگل تھا جسےتجارتی بنیادوں پر کاٹا گیا۔ اگرچہ آج بھی بہ ظاہر یہاں جنگل موجود ہےلیکن وہ پہلی جیسی آب و تاب باقی نہیں۔ بات یہیں پر نہیں رکی۔ ستّرکی دہائی سےقبل یہاں پھلوںکےباغات نہیں تھےلیکن اس عشرےمیں باغات لگانےکا رواج شروع ہوا۔ سیب، چیری، انگور وغیرہ منافع بخش پھل ہیں، لہٰذا ان پھلوں کےباغات لگانےکا رجحان جنون بن گیا۔اب زمین تو تھی نہیں، لہٰذا جنگل کاٹ کاٹ کر زمین نکالی گئی اور باغات لگائےگئے۔ بات یہیں پرختم نہیں ہوئی۔ سیب کےدرخت کی پائیداری اس کی مضبوط شاخوں پر ہے۔ جس کےلیےدرخت کی اوائل عمر میں یعنی پانچ چھ برس تک اس کی شاخوں کو خوب چھانٹا جاتا ہےتاکہ وہ پھل کا وزن سہانےکےقابل ہوسکیں، لیکن زیارت کی وادی میں اس کےبرعکس ہوا۔ لوگوں کو پھلوں کےباغات لگانے، اس کی پرورش اور دیکھ بھال کو سابقہ تجربہ تونہیں تھا اور سیب کےباغات کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔ لہٰذا اس کی شاخوں کو تناور بنانےکےلیےبجائےاس کےکہ چھٹائی کی جاتی، سیب سےلدی جھکی ہوئی شاخوں کو، صنوبر کےدرخت کی شاخوں کو کاٹ کاٹ کر انہیں زمین میں گاڑ کر، ان پھلدار شاخوں کو سہارا دیا جانےلگا۔ صنوبر کی بیس بیس شاخیں کاٹ کر صرف سیب کےایک درخت کوسہارا دیا جاتا۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ سیب کےباغات لگانےکا رجحان زورں پر ہے۔ ایسےمیں صنوبر کو تحفظ صرف اسی وقت مل سکتا ہےجب اس کی اہمیت کو معاش کےساتھ منسلک کرکےلوگوں میں اس کےتحفظ کا احساس بیدار کردیا جائے۔‘
|
 |
|
| زیارت کی دلفریب وادی صنوبر ماحولیاتی سیاحت کےجملہ عناصر سےمالا مال ہے۔ |
|
|
نور زمان کی تشویش اور دلاور خان کاکڑ کا بیان کردہ تفصیلی پس منظر صورتِ حال کی بڑی حد تک عکاسی کرتا ہےلیکن آئیں، ذرا اور قریب سےدیکھتےہیں کہ زیارت اور صنوبر کےماحولیاتی نظام کی صورتِ حال کیا ہے۔
صنوبر juniperکو کرئہ ارض کی حیاتیاتی تاریخ کےارتقائی سفر کا ایک قدیم اور زندہ مسافر سمجھا جاتا ہے۔ اسی بنا پر انہیں ’زندہ رکاز‘ یعنی living fossils بھی کہتےہیں۔ صنوبر کو دنیا بھر میں نباتات کی طویل العمر اور سست رو قسم مانا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہناہےکہ پودوں اور نباتات کی تاریخ میں صنوبر کو ایک قدیم ترین ’ماحولیاتی نظام‘ کا درجہ حاصل ہے۔ بالعموم، سرد اور خشک آب و ہوا والےخطّےکےاس پودے سےمتعلق ماہرینِ جنگلات کا اتفاق ہےکہ دنیا بھر میں اس کی 54 سے62کےدرمیان اقسام موجود ہیں۔
صنوبر، شمالی امریکا، شمالی افریقا، مغربی ایشیا، وسط ایشیا اور پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کےمختلف ممالک میں پایا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں اس کا سب سےبڑا جنگل تاجکستان میں واقع ہے، جبکہ دوسرا بڑا جنگل پاکستان کےصوبےبلوچستان میں موجود ہے۔ اگرچہ صنوبر کی اقسام میں بڑا تنوع پایا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں اس کی چھ اقسام موجود ہیں۔بلوچستان کےصنوبری جنگلات کی غالب قسم juniperus exelsa polycarpus ہے۔
یوں تو صنوبر ،بلوچستان کےاضلاع سبی، کوئٹہ، لورالائی، پشین اور قلات میں بھی پایا جاتا ہےلیکن اس کا سب سےوسیع اور گھنا سلسلہ ضلع زیارت میں واقع ہے۔ ماہرین کےمطابق، افسوسناک حقیقت یہ ہےکہ منفی انسانی سرگرمیوں اور غیر دانشمندانہ استعمال کےباعث اس منفرد نوع کے جنگل کو پہنچنےوالےنقصانات شدید تررہےہیں، جس کےسبب اس جنگل کا حیاتیاتی نظام خطرات سےدوچار ہے۔
ماہرینِ جنگلات و ماحولیات صنوبر کےوجود اور اس کےماحولیاتی نظام کو لاحق خطرات کو کثیرالجہتی بتاتےہیں۔ان خطرات میں ایندھن اور حرارت کےلیےکٹائی، خشک سالی و قحط، عدم آگاہی اور صنوبری درختوں کو لاحق وہ بیماریاں بھی شامل ہیں جن کےباعث ان درختوں کا وجود ہی رفتہ رفتہ راہیِ ملکِ عدم ہوجاتا ہے۔ ذیل میں ان وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا جارہا ہے۔
l صنوبری جنگلات کےحیاتیاتی نظام کو خطرات سےدوچار کرنےمیں ایک کردار ایندھن کےلیےاس کی کٹائی ہے۔ زیارت میں ستمبر سےسردی شروع ہوجاتی ہےاور مارچ تک اس کی شدت برقرار رہتی ہے۔ برفباری کےباعث اس کی شدت میں مزیداضافہ ہوجاتا ہےاور درجئہ حرارت منفی سولہ سینٹی گریڈ تک جا پہنچتا ہے۔ اس طرح ان موسمی حالات میں ایک طرف تو گھریلو استعمال کےلیےایندھن کی ضرورت، دوسرےگھر کو گرم کی حاجت اور اس کےلیےمتبادل ذرائع نہ ہونےکےباعث ان جنگلات پر شدید دباؤ پڑا۔ اگرچہ موسمِ سرما میں یہاں سے نشیبی اضلاع (کوئٹہ، سبّی) کی طرف خاصی آبادی ہجرت کرجاتی ہےتاہم پھر بھی زیارت شہر، وادیِ چوتیر اور گرد و نواح کےدیہاتوں میں آباد لوگوں کی ایک بڑی تعداد یہیں مقیم رہتی ہے، لہٰذا ایندھن کےلیےصنوبر سےلکڑی حاصل کرنےوالوں کی حاجت کسی حد تک برقرار رہتی ہے، تاہم ایک حقیقت یہ بھی ہےکہ چیری، سیب وغیرہ سےبھی جلانےکےلیےموسمِ سرما میں کسی حد تک لکڑی مل جاتی ہےلیکن بنیادی انحصار صنوبر پر ہی ہوتا ہے۔
ایسےمیں بقائےماحول کےحوالےسےخوش آئند بات یہ ہوئی ہےکہ مقامی کمیونٹیز، غیر سرکاری تنظیموں، بقائےماحول کےلیےسرگرم انجمنوں اور خود حکومتِ بلوچستان کی کوششوں سےسوئی سدرن گیس کمپنی نی2003ءمیں زیارت کو گیس فراہم کردی ہے۔ اس وقت کوئٹہ سےزیارت شہر جاتےہوئےدرمیانی راستےسےگزرنےوالی اس گیس پائپ لائن سےزیارت شہر سمیت اس کےدیگر علاقوں کچ، وارچم، کا ن بنگلو، کواس اور زندرہ کی آبادیاں مستفید ہورہی ہیں۔ ماہرینِ ماحولیات اس فیصلےکو سراہتےہیں اور ان کی رائےہےکہ گیس کی فراہمی سےصنوبر کےجنگلات پر دباؤ میں واضح کمی آئی ہےاور یہ اس وقت ہی مکمل طور پر کامیاب قرار پائےگا جب زیار ت کی تمام وادیوں تک گیس کی رسائی ہوجائےگی۔مثلاًابھی تک زیارت کی دیگر بڑی آبادیاںمثلاً سسنہ منہ اور چوتیر وغیرہ گیس سےمحروم ہیں۔ اس طرح صنوبرکو اس حوالےسےدرپیش صورتِ حال کی سنگینی میں کمی تو ضرور آئی ہےلیکن درپیش خطرات میں سےایک بڑا خطرہ اب بھی کسی حد تک برقرار ہے۔ اس بارےمیں متعلقہ اداروں کی جانب سےیہ خوش آئند اطلاعات ہیں کہ وہ وادیاں جو ابھی تک گیس سےمحروم ہیں ان تک بھی یہ سہولت جلد پہنچ جائےگی۔ اگر ایسا ہوا تو یقیناً صنوبر کےلیےایک بڑا خطرہ مکمل طور پر ختم ہوجائےگا، لیکن کب تک۔ اس بارےمیں فی الوقت وثوق سےکچھ کہنا مشکل ہے۔
- صنوبر کی بقا کو درپیش سنگین خطرات میں خشک سالی اور قحط کو بھی’ایک بڑا خطرہ‘ قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرینِ جنگلات کےمطابق گزشتہ سالوں میں صنوبر اور اس کےحیاتیاتی نظام کو خشک سالی اور قحط نےبھی شدید نقصانات پہنچائےہیں۔
|
 |
زیارت کی دلفریب وادی صنوبر ماحولیاتی سیاحت کےجملہ عناصر سےمالا مال ہے۔
|
اگرچہ حالیہ تاریخ میں بلوچستان متعدد بار سنگین خشک سالی اور قحط سےگذرا ہے، تاہم 1998ئ سے2004ءتک کےسات سال اپنی نوعیت کےاعتبار سے حالیہ تاریخ میں قحط و خشک سالی کےسنگین سال رہےہیں۔ جس نے گلّہ بانی اور زرعی شعبےکو شدید نقصانات پہنچے۔ یہ دونوں شعبےزیارت کی اقتصادی شہ رگ ہیں۔ اس سےنہ صرف صنوبر کی وادیوں کےمقامی باشندے بلکہ خود صنوبر پر بھی نہایت منفی اثرات مرتب ہوئے۔ زیارت کےجنگلات کو آب گیر علاقیwatershed کہا جاتا ہےتاہم اس خشک سالی کےباعث زیارت کی جنوبی سمت واقع صنوبری جنگلات کےدرختوں کی بڑی تعداد تو سوکھنےلگ گئی تھی۔ زمین کی کوکھ سےاُبلتےچشمےخشک بھی ہوئےاور بعض جگہوں پر توزمین پرسےنباتات و سبزہ بالکل ہی غائب ہوگیا تھا۔
- ماحولیاتی بقا اور قدرتی وسائل کےتحفظ میں اہم کردار آگاہی کا بھی ہےجو شعور میں اس حد تک اضافےکا سبب بنتی ہےجس کےذریعےلوگ اپنےقدرتی اثاثوں کےتحفظ اور استفادےکےمابین موجود ’دانشمندانہ اور پائیدار استعمال‘ سےنہ صرف آگاہ ہوتےہیں بلکہ ان کی افادیت کےپیشِ نظر ان پر عمل بھی کرتےہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہےکہ مقامی آبادی میں آگاہی کا پھیلاؤ مستحکم نہیں رہا۔ عدم آگاہی کےسبب مقامی باشندوں کےہاتھوں خود ان کےوسائل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ عدم آگاہی کی بنا پر ماضی میں ایندھن کےلیےلکڑی، عمارتی ضروریات اور پیسےکمانےکےلیےصنوبری جنگلات کو بری طرح کاٹا گیا۔ مگر خوش آئند بات یہ ہےکہ اب حالات میں مثبت تبدیلیاں آرہی ہیں۔
صنوبر جنگلات کاماحولیاتی نظام۔۔۔آئ یو سی این منصوبے کا تعارف |
|
صنوبر کی حیاتیاتی تنوع کےاعتبار سےمسلمہ اہمیت ہی۔ چنانچہ جب چند برس قبل بلوچستان میں صنوبری جنگلات کےماحولیاتی نظام کو خطرات سےدوچار قرار دیا گیا تواس کےبعد، 1998ء
---مزید پڑھیے |
زیادت: تاریخ کے جھروکوں اور حال کے دریچوں سے |
بہت زمانےپہلے، اٹھارویں صدی کےکسی ایک سال کا ذکرہے۔ بلوچستان میں تنگ پہاڑی راستوں سےہوتےہوئےصنوبر کےگھنےجنگلات کےدامن میں واقع وادی کےایک گھرمیں ایک صاحبِ علم بزرگ اپنےفرمانبردار شاگرد کےیہاں مہمان --- مزيد پڑھيے |
| |
|
گزشتہ برسوں کےدوران یہاں آنےوالی خشک سالی وقحط اور باہر سےیہاں آنےوالوں ماحول دوست سیاحوں، غیر سرکاری تنظیموں اور ترقیاتی شعبوں کی بدولت اب زیارت کےمقامی باشندےبڑی حد تک صنوبری جنگلات اور معاش کےدرمیان موجود باہمی ربط سےکسی حد تک واقف ہوچکےہیں۔ وہ اس کی بقا کی افادیت جان گئےہیں ،تاہم اب بھی بڑی حد تک (جیسا کہ پسماندہ اور دور دراز واقع وادیِ چوتیر وغیر ہ میں) آگاہی کا فقدان ہے۔
- انسان کی منفی سرگرمیاں تو ایک طرف رہیں،قدرتی طور پر بھی ان درختوں کی صحت کو خطرات لاحق ہیں، جس نےان کی بڑی تعداد کو بیمار کردیا ہے۔ جان لیوا ان بیماریوں کو Die-back اور Miseltoe کےنام سےجانا جاتاہے۔ یہ بیماریاں ان پرت دار اور ملائم چھال والےدرختوں کو آہستہ آہستہ خشک کرکےمارڈالتی ہیں۔ اس بنا پر ماہرینِ جنگلات کا کہنا ہےکہ صنوبری جنگلات پاکستان میں سب سےزیادہ خطرات سےدوچارحیاتیاتی نظام ہے۔
اس سال کےاوائل میں جب زیارت میں صنوبر کےحوالےسےیو این ڈی پی اور GEF کی مالی معاونت اور حکومتِ بلوچستان کےاشتراک سےآئی یو سی این کا منصوبہ بعنوان Mainstreaming Biodiversity Conservation into Production System in Juniper Forest Ecosystem شروع ہوا توبطور پراجیکٹ منیجر تجربہ کار ماہرِ جنگلات غلام محمدکا انتخاب کیا گیا۔ صنوبر کو لاحق مذکورہ بالاخطرات سےوہ اتفاق کرتےہیں، لیکن اس کےساتھ ہی وہ کہتےہیں!
’اس وقت صنوبر کو لاحق سب سےبڑا خطرہ سیب کےبڑھتےہوئےباغات ہیں۔ یہاں زمین کم ہےاور نئی زمین کا حصول صنوبر کی قیمت پر ہےیعنی جنگل کاٹو، زمین نکالو اور باغ لگاؤ۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہےکیونکہ اس طرح جہاںصنوبر کا خاتمہ ہوگا وہیںپانی کا مسئلہ بھی سنگین نوعیت اختیار کرےگا، کیونکہ سیب کےدرختوں کو افزائش کےلیےبہت پانی درکار ہوتا ہےاور یہ خطّہ بڑی حد تک خشک ہے۔ اچھی بات یہ ہےکہ یہاں صنوبر کےجنگلات اب بھی وسیع ہیں اور اگر ان کا تحفظ کرلیا جائےتو یہ پانی کےضامن ہیں ۔یہ جنگلات زیارت کےلیےآب گیر علاقےwatershed ہیں ۔ اس لیےجہاں منصوبےمیں دیگر اہم اقدامات کیےجارہےہیں وہیں آگاہی پر بھی بہت زیادہ توجہ دی جارہی ہےتاکہ لوگ یہ جان سکیں کہ باغات کےلیےان جنگلات کو کاٹ ڈالنا خود ان کےلیےمشکلات کا سبب بنےگا۔ ان کی اپنی آنےوالی نسلیں اس وجہ سےپریشانی اور مسائل کا شکار ہوں گی۔ ہاں اگر ترقی اور بقائےماحول ساتھ ساتھ ہو ،ان میںپائیدار ربط رکھا جائےتو صنوبر کےتحفظ کےساتھ ہم اس سےمعاشی افادیت بھی حاصل کرسکتےہیں۔ یہی ہمارےمنصوبےکا بنیادی نکتہ ہی۔‘
زیارت آنےوالےسیاحوں کی بڑی تعداد صرف صنوبر اور اس سےوابستہ قدرتی نظاروں کےشوقِ دید میں یہاں آتی ہے۔ گزشتہ سالوں کےدوران سیاحوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا جس کےباعث گیسٹ ہاؤس ہوٹل اور اس سےوابستہ خدمات کی فراہمی کےسبب مقامی باشندوں کےلیےآمدنی کےنئےدروازےکھلےہیں۔ مقامی باشندےمحمد ہاشم کےمطابق ’لوگوں پر واضح ہوچکا ہےکہ اگر خدانخواستہ یہ جنگل نہ رہےتو پھر زیارت کی’زیارت‘ کےلیےکون اور کیوں یہاں آئےگا۔‘
فروغِ ماحولیاتی سیاحت اور صنوبر سےوابستہ اس شعبےکےمقامی معیشت پر اثرات کےحوالےسےاقدامات تو منصوبےکا حصہ ہیں تاہم سب سےاہم کام ابھی کیا جارہاہے۔ یہ کام کیا ہےاس بارےمیں آئی یو سی این، پاکستان کےپروگرام کوآرڈینیٹر حامد سرفراز بتاتےہیں!
’زیارت کےقدیم صنوبری جنگلات پاکستان میں منفرد نظامِ جنگلات کےحامل ہیں۔ ان کی حفاظت اور ماحولیاتی سیاحت کےفروغ اور عالمی سطح پر انہیں متعارف کروانےکےلیےآئی یو سی این نےصنوبری جنگلات کو اقوامِ متحدہ کےادارےیونیسکو کےتحت’عالمی ورثہ‘ قرار دلوانےکےلیےایک منصوبہ بنایا ہے۔ اس سلسلےمیں قواعد و ضوابط کےحوالےسےکوششیں شروع ہوچکی ہیں۔ امید کی جاتی ہےکہ اگلےبرسوں میںاسےیہ درجہ حاصل ہوجائےگا۔ ایسا ہوا تو یہ پاکستان میں منفرد نوعیت کا عالمی ورثہ ہوگا کیونکہ پاکستان میں اب تک قدرتی ماحول کی نسبت کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہےجسےیہ مقام حاصل ہوا ہو۔ اس کا ایک اہم پہلو یہ ہےکہ نہ صرف زیارت عالمی اہمیت حاصل کرلےگا بلکہ ان صنوبری جنگلات کو دیکھنےکےلیےملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد بھی یہاں کارخ کرےگی۔ اس طرح ماحولیاتی سیاحت کو جہاں فروغ حاصل ہوگا وہیں مقامی معیشت پر بھی اس کےخوش گوار اثرات مرتب ہوں اور یہ صورتِ حال منفی انسانی سرگرمیوں سےبھی صنوبر کو بڑی حد تک محفوظ رکھنےمیں بھی معاون ثابت ہوگی۔‘ |