بہت زمانےپہلے، اٹھارویں صدی کےکسی ایک سال کا ذکرہے۔ بلوچستان میں تنگ پہاڑی راستوں سےہوتےہوئےصنوبر کےگھنےجنگلات کےدامن میں واقع وادی کےایک گھرمیں ایک صاحبِ علم بزرگ اپنےفرمانبردار شاگرد کےیہاں مہمان ہوئے۔بزرگ کا نام میاں عبدالحکیم تھا، لیکن آپ حلقئہ ارادت میں’ نانا صاحب ‘کےنام سےجانےجاتےتھے۔ جس چھوٹےسےقصبےمیں آپ آکر ٹہرےوہ اُس وقت ’غوسکی‘ کہلاتا تھا۔
رات کا وقت تھا اور حضرت نانا صاحب عبادت میں مصروف تھے۔ اسی دوران آپ کو پیاس لگی تو شاگرد سےپانی طلب کیا۔ شاگرد نےحکم کی تعمیل کی، لیکن تعمیل میں صرف ہونےوالی مختصر سےمدت کےدوران بزرگ ایک بار پھر عبادت میں ایسےمحوہوئےکہ کچھ یاد نہ رہا۔ ہر طلب سےجسم بےنیاز ہوا، مگر شاگرد کو حکم یاد تھا۔ اسی لیےسرد ٹھٹرتی رات اور لہو جمادینےوالی سردی کےباوجود حکمِ استاد کی تعمیل میں کٹورا ہاتھ میں تھامےاستاد کی خدمت میں موجود رہےکہ نہ جانےکب وہ نظر کریں اور پانی طلب کریں۔رات سحر میں تبدیل ہوئی تو بزرگ نےعبادت میں توقف کیا۔ آنکھیںکھولیںتو شاگرد کو کٹورا ہاتھ میں لیےکھڑا پایا۔ لہوجمادینےوالی سردی کےباعث شاگرد کےہاتھوں کی کھال ایک رات میں ہی اترچکی تھی مگر احترامِ استاد اور اُن کی عبادت میں خلل نہ دےکر، موسم کی سختی کا عذاب اپنےجسم پر سہار لینےکی یہ ادا بزرگ کو اتنی بھائی کہ شاگرد کو’خرواری‘ یعنی ’بےحساب ‘ یا ’گنج‘ کا خطاب عطا کیا ۔ پھر یہ بات یوں سچ ثابت ہوئی شاگرد جن کا نام مُلّا طاہر تھا ،بابا خرواری کےنام سےمشہورہوئےاور جہانِ فانی سےپردہ فرمایا تو غوسکی کی سرزمین کو ہی اپنا مسکنِ آخر بنایا۔ بابا خرواری کےجہانِ فانی سےپردہ کرلیےجانےکےبعد ان کا مزار عقیدت مندوں میں ’زیارت‘ کےنام سےمشہور ہوا اور رفتہ رفتہ ’غوسکی‘ کہیں دور ماضی میں کھوگیا۔ ’زیارت‘ پشتو زبان میں مزار کو کہتےہیں لیکن استاد کی دعا سےشاگرد کا مرتبہ اتنا بلند ہوا صرف ’غوسکی‘ ہی نہیں، مزار کےاِرد گردسیکڑوں میل رقبےپر مشتمل علاقہ ہی زیارت کہلایا جانےلگا، جسی1986ءمیں سبّی ڈویژن سےعلیحدہ کرکےباقاعدہ ضلع کا درجہ دےدیا گیا۔یہ وہی’ زیارت ‘ہےجو اب پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں صنوبر کی پہچان بن چکا ہے۔ کوئٹہ سےلگ بھگ ڈھائی گھنٹےکی مسافت پر سیبوں کی خوشبو سےمہکتے ماحول میں وادیِ زیارت واقع ہے۔
ماضی کےپردوں کو ذرا سا کھسکا کر جھروکوںسےتاریخ کو جھانکیں تو زیارت کی بھی وہی تاریخ ملتی ہےجو سبّی ضلع کی ہے، جس کا یہ 1986ءتک حصہ رہا ہے۔ موجودہ زیارت کی مضبوط جڑیں بلوچستان پر برطانوی تسلط سےجا ملتی ہیں۔ انیسویں صدی کےوسط کےبعد میں یہاں پر برطانوی تسلط کےقیام کا عمل شروع ہوااور1887ءمیں یہ علاقہ مکمل طور پر برطانوی عملداری میں آگیا۔ اس سےدو سال پہلی1885ء میں برطانوی عملداروں نےسارنگ زئی قبیلےکی ذیلی شاخ سید زئی سےموجودہ زیارت ٹاؤن میں 14لاکھ روپوں کےعیوض اپنا ’سول اسٹیشن‘ قائم کرنےکےلیےزمین حاصل کی تھی۔1903ءمیں سبّی ضلع کی تشکیل سےپہلےزیارت کا یہ علاقہ تھل اور چٹیالی اضلاع کےگرمائی صدر مقام کےطور پر استعمال ہوتا تھا، تاہم جب سبّی ضلع تشکیل پایا تو یہ اس کا گرمائی صدر مقام بن گیا۔1974ءتک زیارت انتظامی لحاظ سےضلع سبّی کی تحصیل شاہ رغ کا حصہ تھا ، تاہم اسی سال اسےسب تحصیل کا درجہ دےدیا۔ ساتھ ہی سبّی کوبھی ڈویژن بنا دیا گیا اور زیارت اس کا گرمائی صدرمقام قرار پایا۔ علاوہ ازیں،زیارت پہلےبھی بلوچستان کےبرطانوی عملداروںمیں سےبیشتر کا گرمائی صدر مقام رہا ہے۔ 1986ءمیں اسےسبّی سےعلیحدہ کرکے باقاعدہ ضلع بنادیا گیا۔
بلوچستان رقبےکےلحاظ سےملک کا سب سےبڑا صوبہ ہے۔جغرافیائی طور پر اس کا ہر ضلع خاصا بڑاہےلیکن بہ لحاظِ رقبہ زیارت اس بڑےصوبےکا سب سےچھوٹا ضلع ہی۔زیارت جغرافیائی طور پر پہاڑی سلسلوں پرمشتمل ہے۔ اس کی اہم وادیوں میں کچ، کواس، زندرہ، منگی، منہ، گوگی احمدون اور چوتیر شامل ہیں۔ شمال میں زیارت کی سرحد پشین، لورالائی اور قلعہ سیف اﷲ اضلاع سےملتی ہیں۔ جنوب میں سبّی ضلع واقع ہے۔ مشرق میں بھی لورائی واقع ہےجبکہ مغرب میں بھی زیارت کی حدیں پشین اور سبّی ضلع سےملتی ہیں اور اسی سمت کوئٹہ بھی واقع ہی۔سطحِ سمندر سےضلع زیارت کی کم از کم بلندی18سو اور زیادہ سےزیادہ3ہزار،488میٹر ہے۔
ضلع زیارت 95,362مربع ہیکٹر رقبے پر مشتمل ہےجس میںڈھائی ہزار ہیکٹر (کُل رقبےکا2.62فیصد) قابلِ کاشت ہے۔ نیز 51,335 مربع ہیکٹر (کُل رقبےکا 53.83 فیصد) جنگلات پر مشتمل ہے۔ جنہیں ’محفوظ جنگلات‘ اور ’سرکاری جنگلات‘ میں تقسیم کیا گیا ہے، تاہم چراگاہیں موجود نہیں ہیں۔ جنگلات میں غالب اکثریت صنوبر کےدرختوں پر مشتمل ہے، جنہیں سرکاری سطح پر ’محفوظ‘ قرار دیا جاتا ہے۔ دیگر اقسام میںwild ash،جنگلی بادام،زیتون کی اقسام وغیرہ شامل ہیں۔ حکومتِ بلوچستان کےضلعی خاکوں میں بیان کردہ تفصیلات کےمطابق زیارت کےجنگلات کو چار زون میں تقسیم کیا گیا ہے، جو مندرجہ ذیل ہیں:
زون ’ای‘15ہزار ہیکٹر رقبےپر مشتمل ہے، جسی’ نہایت عمدہ جنگل ‘قرار دیا جاتا ہے۔ اکثر مقامات پر اسےمحفوظ رکھنےکےلیےباڑھ لگائی گئی ہیں، جس کا مقصد ان جنگلات کو بطورِ ورثہ آنےوالی نسلوں کےلیےمحفوظ رکھنا ہے۔
زون ’بی‘ زیارت ٹاؤن میں واقع ہے۔ایک ہزار ایکٹر پر مشتمل یہ زون زیارت اور گرد و نواح میں سبزہ برقرار رکھنےکےلیے قائم کیا گیا ہے۔
زون ’سی‘کو دوسر’ا عمدہ جنگل‘ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کا رقبہ بھی ایک ہزار ہیکٹر پر مشتمل ہے۔ اس زون کےجنگلوں سےمقامی دیہاتوں کےباشندوں کو ایندھن کےلیےلکڑی اور مویشیوں کےلیےچارہ حاصل کرنےکی اجازت ہے۔
زون ’ڈی‘ کےجنگل37,500ہیکٹر رقبےپر مشتمل ہیں، جسےمویشیوں کی چرائی کےانتظامات کےلیےمختص کیا گیا ہے۔
زیارت کےجنگلات میں سلیمان مارخور، چکور، سیسی، بھیڑیےاور چوہوں کی اقسام ریکارڈ کی گئی ہے۔ سلیمان مارخور کبھی یہاں بڑی تعداد میں پایا جاتا تھا، لیکن غیر قانونی شکار کےباعث اب یہ نہ ہونےکےبرابر ہے۔
زراعت کےلحاظ سےیہ خطہ ’یک فصلی‘ ہے۔ یہاں صرف خریف کی فصل کاشت کی جاتی ہےجبکہ ربیع سرد موسم کی وجہ سےناقابلِ کاشت ہے۔ حکومتِ بلوچستان کےمرتب کردہ ضلعی خاکوں کی تفصیلات کےمطابق زیارت میں کم از کم دو سو مربع ہیکٹر رقبےپر سبزیاں، گندم اور چارہ کاشت کیا جاتا ہے۔ البتہ پھل یہاں کی سب سےبڑی زرعی پیداوار ہیں۔ ان پھلوں میں سیب، بادام، خوبانی، آڑو، چیری، انگور وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ حکومتِ بلوچستان کےاعداد وشمار کےمطابق ضلع میں صنعتی سرگرمیاں نہ ہونےکےبرابر ہیں اور پھلوں کی پیداوار یہاں معاشی سرگرمیوں اور روزگار کی فراہمی کا سب سےبڑا ذریعہ ہے۔
مئی سےاگست تک کا درمیانی موسم سیاحت کےلیےنہایت موزوں ہے۔ ان مہینوں میں دن خوشگوار اور راتیں خنک ہوتی ہیں۔ ستمبر سےموسمِ سرما شروع ہوجاتا ہےاور نومبر میں اچھی خاصی سردی پڑنےلگتی ہے۔ نومبر سےمارچ تک کا دورانیہ شدید ٹھنڈ اور برفباری کا ہوتا ہے۔سردیوں میںیہاں درجئہ حرارت منفی 16 تا20ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا ہےجبکہ عام حالت میں درجئہ حرارت منفی صفر تک رہتا ہے۔ زیادہ تربارش جنوری ،فروری اورمارچ میں ہوتی ہے۔ ان مہینوں میں یہاں51سی54ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ گرمیوں میں جولائی اور اگست میں بارش ہوتی ہے۔ اوسطاً60ملی میٹر سالانہ تک بارش ہوتی ہے۔
زیارت میں موسم کی بنا پر نقل مکانی ہوتی ہے۔ موسمِ سرما میں شدید سردی اور برف باری کی بنا پر اکتوبر سےنومبر کےدوران نقل مکانی ہوتی ہے۔ ریکارڈکیا گیا ہےکہ اس عرصےمیں زیارت اور اس کی دیگر وادیوں مثلاًزندرہ، کواس، وغیرہ کی ستر فیصد تک آبادی نشیب میں واقع قابلِ برداشت موسمی علاقےسبّی چلی جاتی ہےاور موسمِ بہار کےآغاز پر مارچ ،اپریل کےدوران واپس لوٹ آتےہیں۔ ان میں بڑی تعداد خانہ بدوشوں کی بھی ہےجو گلّہ بانی سےوابستہ ہیں اور موسمِ بہار میں واپس آکر باغات اور کھیتوں میں بطور مزدور بھی کام کرتےہیں۔ حکومتِ بلوچستان کےاعداد و شمار کا کہنا ہےکہ زیارت میں’ مستقل بنیادوںپر نقل مکانی ‘ریکارڈ نہیں کی گئی ہے۔
زیارت کےنسلی گروہوں میں نوےفیصد پٹھان ہیں جبکہ دیگر دس فیصد میں بروہی اور سیّد ہیں، تاہم پشتو زبان کےسبب انہیں پٹھان تسلیم کیاجاتا ہے۔ یہاں کےنسلی گروہ، قبائل اور ذیلی قبائلی شاخوں میں تقسیم ہیں، جس کی تفصیل کچھ یوںہی:
کاکڑ بنیادی قبیلہ ہےجس کی ذیلی شاخوں میں سارنگزئی، پانیزئی، یاسین زئی، دُمڑ شامل ہیں۔ غلزئی قبیلےکی ذیلی شاخ دوھتانی ہے۔ بروہی قبیلےکی شاخ رئیسانی ہےاور سید بھی موجود ہیں۔
پشتون روایات کی پاسداری کےسبب یہاں خواتین باپردہ اور گھریلو سرگرمیوں تک محدود ہیں، تاہم یہ نہایت عمدہ دستکار بھی ہیں۔ ان دستکاریوںمیں کڑھائی، کشیدہ کاری،دستی بیگ، آرائشی سامان وغیرہ قابلِ ذکر ہیں جنہیں تیار کرنےوالی خواتین کی اکثریت مختلف وایوں کےدیہاتوں سےتعلق رکھتی ہے۔ زیارت کےبازار میں دستکاری کےیہ دلکش نمونےسوغات کےطور پر فروخت ہوتےہیں اور سیاحوں میں نہایت پسند کیےجاتےہیں۔
قدرتی لحاظ سےزیارت میں متعدد سیاحتی مقامات واقع ہیں لیکن سیاحوں کی بڑی تعداد سب سےپہلے’ریزیڈنسی‘ کا رخ کرتی ہی، جسےبانیِ پاکستان کی آخری قیام گاہ ہونےکا اعزاز حاصل ہی۔ صنوبر کےجھنڈ میں گھری یہ عمارت برطانوی عہد کےدوران 1892ءمیں تعمیرکی گئی تھی۔ اس کی تعمیرکا اصل مقصد تپ دق کےمریضوں کی علاج گاہ کا قیام تھا تاہم بعد میں اسےپولیٹیکل ایجنٹ کی گرمائی رہائش گاہ میں تبدیل کردیا گیا۔اب یہ’قومی ورثےکا درجہ رکھتی ہےاور اسےبابائےقوم کےحوالےسےاسےعقیدت کا درجہ حاصل ہی۔ عمارت کی خوبصورتی اس کےڈیزائن اور ارد گرد کےفطری ماحول میں پوشیدہ ہے۔
ززری وادی بھی زیارت کا حصہ ہےاور بہترین سیاحتی مقام ہی۔ یہ زیارت کےجنوب میں واقع ہی۔ قدرتی نظاروں کےحوالےسےیہ کافی پسند کیا جاتا ہے۔
’پراسپیکٹ پوائنٹ‘ جسے’نظارہ گاہ‘ کہنا زیادہ بہتر ہوگا، زیارت شہر سےچھ کلومیٹر کےفاصلےپر صنوبری جنگلات والےپہاڑی سلسلےکےدرمیان واقع ہی۔ یہاں سےبابا خرواری کا مزار اورکوشکی وادی کا نظارہ قابلِ دیدہی۔ اس مقام کو مقامی آبادی کی اہم تفریح گاہ کادرجہ حاصل ہے۔
’منہ ‘ سیبوں کی خوشبو سےمہکتی نہایت سرسبزوادی ہے۔ موسمِ گرما کےسیاحتی ایام میں جب سیب کی فصل پکتی ہےتو پوری وادی اس کی دلکش مہک میں لپٹی محسوس ہوتی ہی۔ اسی طرح’ سنڈیمن تنگی‘تنگ گھاٹیوں والاعلاقہ ہی۔ یہ علاقہ اپنےچشموں، صنوبری جنگل ، نباتات اور دشوار راہ گذر کےباعث مہم جو سیاحوں کےلیے دلچسپی کا سامان پنہاں رکھےہوئےہے۔