70ءکی دہائی سے اب تک بقائےماحول کے لیےکی جانےوالی کوششوں کا جائزہ لیا جائےتو ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان نے ہر اہم عالمی معاہدے کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر دستخط ثبت کیے ہیں، لیکن ان معاہدوں کو تسلیم کیےجانےاور ان کےتحت ملک میں کیے جانے والے اقدامات کے وہ نتائج برآمد نہ ہوسکےکہ جن کےاہداف متعین کیےگئےتھے۔ شاید یہی سبب ہےکہ اس وقت بطورِ قوم ہم ایسےسنگین مسائل کا شکار ہیں کہ جو قدرتی ماحول اور ہماری قومی معیشت پر بھی نقصان دہ اثرات مرتب کرنےکےذمہ دار ہیں۔

پاکستان جیسےملک میں کہ جہاں کم آمدنی اورخطِ افلاس سےنیچےزندگی بسر کرنےوالی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ قدرتی وسائل پر انحصار کرتا ہے، وہاں یہ بات خاصی عجیب لگتی ہےکہ انحصاری کےباوجود اکثریت فطرت کےفراہم کردہ ماحول کی برقراری پر نہ توجہ دیتی ہےاور نہ ہی انفرادی سطح پر ماحول کی انحطاط پذیری پر۔ ملک میں پائیدار ترقی کےرواج نہ پانےکی وجوہات جاننےکی کوشش کریں تو ایک بات صاف عیاں ہوجاتی ہے اور وہ یہ کہ ہم نےتعلیم کی بنیاد جن خطوط پر استوار کی، اس نےہمیں پڑھےلکھےلوگ تو دیے، مگر وہ اجتماعی رویہ نہ پنپ سکا، جس کےتحت ہم اپنےقدرتی ماحول کی حفاظت کےلیےسرگرم ہوتے۔یہ بات درست ہےکہ ماحولیاتی تعلیم ایک نیا موضوع ہےاور اس حوالےسےجو حکومتی کوششیں ہورہی ہیں، ان کےنتائج کےلیےابھی انتظار کرنےکی ضرورت ہے، لیکن قدرتی ماحول سے بےاعتنائی کا مجموعی رویہ اس بات کا غماز ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ نے بھی اس جانب زیادہ توجہ نہیں دی ہے۔ ایسےملک میں کہ جہاں کےمطبوعہ اخبارات کا ستانوےفیصد طباعتی مواد صرف سیاسی نوعیت کی خبروں اور تجزیوں پر مشتمل ہو، وہاں فطرت اور اس سےمتعلق موضوعات پر رائےعامہ ہموار کرنےاور عوامی بحث و مباحثے کا دروازہ کس طرح کھولا جاسکتا ہے۔ جہاں اکثریت ناخواندہ ہو اور دیہات میں رہتی ہو، ان کےلیےکمیونٹی ریڈیو شروع کرنےکےلیےقوانین میں آسانیاں موجود نہ ہوں تو پھر فکرونظر کی ترقی کےلیےکس طرح بار آور کوششیں ہوسکتی ہیں۔ جہاں نشری ذرائع ابلاغ ماحول میں ماحول سےمتعلق بحث و مباحثی، دستاویزی فلموں وغیرہ کی کمی ہو توایک تصویری منظر کس طرح ہزاروں لفظ ایک لمحےمیں بول کر ماحول کےلیےسوچ کےدر وا کرسکتا ہے۔ یاد رکھیں کہ اطلاع فکر کو دعوت دیتی ہے، فکر سےسوچ پیدا ہوتی ہی، سوچ سےغلطیوں کو تسلیم کر کےاصلاح کی دعوت ملتی ہے، جہاں سےعمل کےدریچےکھلتےہیں اورعمل شروع ہوتو پھر منزل دور نہیں رہتی ہے۔

پاکستان بھی ترقی پذیر دنیا کےان ممالک میں شامل ہے، جہاں ماحولیاتی بگاڑ کی اصلاح کےلیےسنجیدہ اور سرگرم کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ پائیدار ترقی اور مضبوط معیشت کےفیض سےہر شہری فیضیاب ہوسکے، لیکن منزل کےحصول کےلیےجدو جہد کی ذمےداری صرف حکومت ہی کی نہیں ، میں اور آپ بھی ذمہ دار ہیں۔

پائیدار ترقی کےلیے ماحولیاتی تعلیم اور منزل کےحصول میں ابلاغِ عامہ کا کردار اس بار ’جریدہ‘ کی سرورق کہانی کا موضوع ہی۔ اگر یہ تحریر بقائےماحول کی جدو جہد اور مجموعی ملکی ترقی کےحصول میں آپ کو اپنا کردار ادا کرنےکا احساس دلادےتو پھر تہیہ کر لیں کہ آپ عملی زندگی میں بہتر ماحول کےلیے اپنا کردار ضرور ادا کریں گے۔

مختار آزاد