|
|
کوہستانِ
نمک پنجاب اڑیال کا مسکن ہے لیکن غیر قانونی شکار اور دیگر انسانی سرگرمیاں
محفوظ قرار دیے گئے اس جانور کی بقا کے لیے خطرہ ہیں۔
|
|
تحريروتصاوير:
ملک فاروق احمد
|
|
|
|
مشرق سے مغرب کی
سمت پھیلا ہوا سلسلہ کوئہ نمک جہلم میں منگلا ڈیم کی پہاڑیوں سے شروع ہو
کر میانوالی میں کالا باغ کے مقام پر ختم ہوتا ہے۔ پنجاب کا یہ پہاڑی سلسلہ
چار اضلاع کا احاطہ کرتا ہے، جن میں جہلم اور میانوالی کےعلاوہ چکوال اور
خوشاب شامل ہیں۔ یہاں کاہو اور پھلاہی کےدرختوں پر مشتمل جنگلات موجود ہیں،
جس کی دشوار گذار چٹانیں اور ندی نالوں کےکنارے بقا کےخطرے سے دوچار نسل
’پنجاب اڑیال‘ کا مسکن ہیں۔
اڑیال دراصل ایک جنگلی بھیڑ ہے، جس کی پاکستان میں تین ذیلی اقسام پائی جاتی
ہیں۔ لداخ اڑیال شمالی علاقہ جات میں، بلوچستان اڑیال سندھ و بلوچستان میں
جبکہ پنجاب اڑیال کوہستانِ نمک اور کالا چٹہ کےپہاڑوں میں پایا جاتا ہے۔پنجاب
اڑیال کو مقامی بولی میں ’ہڑیال‘ کہتےہیں۔ اس کےجسم کی رنگت زرد سرخ مائل
ہے، جبکہ چہرے اور سینے پر گھنے سفید و سرمئی بال ہوتے ہیں۔ نر کے سینگ دائرہ
نما اور بڑے ہوتے ہیں ،مادہ کے سینگ چھوٹے اور سیدھے ہوتے ہیں۔ نر اڑیال
کی اوسط اونچائی ڈھائی فٹ تک اور مادہ کی اونچائی سوا دو فٹ کےقریب ہوتی
ہے۔ وسط اکتوبر تا نومبر کےاختتام تک کا عرصہ افزائشِ نسل کا دورانیہ ہوتا
ہے اور اپریل یا مئی کےاوائل میں مادہ اڑیال بچوں کو جنم دیتی ہے۔ پنجاب
اڑیال کی قوتِ شامہ اور سماعت بہت تیز ہے۔خطرےکا احساس ہوتے ہی یہ دوڑ پڑتا
ہے۔ گھروں میں پالے گئے پنجاب اڑیال کی اوسط عمر دس تا بارہ برس ریکارڈ کی
گئی ہے۔ کبھی پنجاب اڑیال کوہستانِ نمک اور شمالی پنجاب میں بڑی تعداد میں
موجود تھا، لیکن ایک اندازے کے مطابق اب کوہستان نمک میں اس کی تعداد ساڑھےآٹھ
سو اور کالا چٹہ میں 170 کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔ پنجاب اڑیال کے تحفظ کے لیے
محکمہ جنگلی
حیات، پنجاب نے تیرہ محفوظ علاقے قائم کیے ہیں۔ ان میں متعدد وائلڈ لائف
سنکچریز کے علاوہ چِنجی نیشنل پارک بھی شامل ہے۔پنجاب اڑیال آئی یو سی این
کی خطرات سے دوچار انواع کی ’سرخ فہرست‘ میں شامل ہے اور CITIES کے عالمی
معاہدے کے تحت اس کی کھال اور ٹرافی کی تجارت پر پابندی عائد ہے۔
اگرچہ قومی سطح پر اس جانور کی بقا کے لیے محفوظ علاقوں کا قیام عمل میں
لایا گیا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ان علاقوں میں کان کنی، نگراں عملے کی
قلت، انتظامی منصوبوں میں سقم،مقامی لوگوں کی عدم شرکت کے سبب اب تک ’محفوظ
علاقے‘ کوئی موثر کردار ادا نہیں کرسکےہیں۔
پنجاب اڑیال کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا جائے تو سب سے بڑا خطرہ غیر قانونی
شکار کا ہے۔ شکار کے یہ واقعات بالعموم لہڑی، جلال پور، کوتل کنڈ، سردی،
نیلہ اور سوڈھی کےعلاقوں میں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اڑیال کے کمسن بچوں کو
زندہ پکڑ کر فروخت کرنےکا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ یہ واقعات زیادہ تر کھبیکی
اور جلال پور کے جنگلات میں واقع ہوتے ہیں۔ پکڑے گئے بچوں کو چھ تا بارہ
ہزار روپے میں فروخت کردیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں موٹر وے کی تعمیر کے سبب
بھی اس کی آبادی دو واضح حصوں میںتقسیم ہوچکی ہے۔ انسانی آبادی میں اضافہ
بھی اس کے قدرتی مسکنوں میں خلل کا بڑا سبب ہے۔ پنجاب اڑیال کےقدرتی مسکنوں
میں صوبے کے جہلم، میانوالی، خوشاب اور چکوال کے لگ بھگ پانچ لاکھ نفوس بستے
ہیں۔ جلانے کے لیے لکڑی کی طلب میں اضافے سے کاہو اور پھلاہی کے جنگلات پر
منفی اثر پڑا اور یہ چھدرے جنگلات تیزی سے ختم ہوتے جارہے ہیں۔ پالتو مویشیوں
کی چرائی بھی اس کے مسکنوں میں مداخلتِ بیجا ثابت ہورہی ہے۔ محفوظ علاقوں
میں ہونے والی کان کنی اور روز بہ روز بڑھتی ہوئی انسانی سرگرمیاں بھی مسکنوں
کو محدود کرتی چلی جارہی ہیں۔ یاد رہے کہ کوہستانِ نمک معدنیات کےحوالے سے
خاصا مالا مال
ہے۔ اس وقت یہاں سات سو سے زائد کانیں موجود ہیں۔ صرف چکوال میں ان کی تعداد
338 ہے، جبکہ یہاں اڑیال کے مسکن کا 45فیصد حصہ واقع ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اڑیال کےتحفظ اور بقا کی کوششوں میں عوام کو بھی شامل
کیا جائے اور اشتراکِ عمل کی بنیاد پر اس نایاب جانور کے تحفظ و بقا کی حکمتِ
عملی بنائی جائے۔ اگر جلد ہی اس سلسلے میں موثر عملی اقدامات نہ کیے گئے
تو خدشہ ہے کہ مستقبلِ قریب میں کہیں اس کی داستان قصوں اور کتابوں تک ہی
محدود ہو کر نہ رہ جائے۔
|
|
|
ملک
فاروق احمد ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) پاکستان سے وابستہ
ہیں۔
|
|
|
|
| |
| |
|
|
|
|
|
 |
 |