ایوبیہ نیشنل پارک میں پرندوں کی 203، ممالیہ کی 31، رینگنے والے جانداروں کی16، جل تھلیوںamphibian کی 3، تتلیوں کی 23 اور حشرات الارض کی 650 اقسام ریکارڈ کی گئی ہیں۔ پارک میں اشجار و نباتات کی757 سے بھی زیادہ انواع پائی جاتی ہیں۔ذیل میں چند اہم فطری عناصر کا مختصراً تعارف دیا جارہا ہے۔

 

 

 

 

گُلدار چیتا:یہاں کا اہم مکیں گُلدار چیتا Common Leopard ہے۔ اس کا تعلق بلی کے خاندان سے جوڑا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ ہزارہ، سوات، کوہستان کےسوئی دار جنگلات میں بھی پایا جاتا ہے۔ اسےتنہا رہنا پسند ہے۔ دن میں یہ کسی غار میں آرام کرتا ہے اور رات کو خوراک کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ اس کی خوراک میں سانپ، بندر چھپکلی، چوہے اور پالتو مویشی شامل ہیں۔ مادہ گُلدار موسمِ بہار کےآخر یا موسمِ گرما کےآغاز میں اوسطاً دو بچوں کو 90 تا 120 دن رحم میں رکھنے کے بعد جنم دیتی ہے۔

بندر: سوات ، کوہستان، ہزارہ، دِیر اور چترال سمیت ہمالیہ کےمعتدل جنگلات کا باسی بندر Macca Mulatta ایوبیہ نیشنل پارک میں بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ انسانوں سے مانوس یہ جانور پودوں کی جڑیں، پتی، بیر اور کیڑے مکوڑےکھاتا ہے۔ درخت پر آرام کرتا ہے اور غصے میں ہو تو دم اٹھا کر چلاتا ہے۔

گُلدار بلی: چیتے کی شباہت لیے گُلدار بلی Leopard Cat مری، وادیِ نیلم، کاغان، سوات، کوہستان، شمالی دِیر اور چترال میں پائی جاتی ہے۔ اس کی خوراک میں گھریلو مرغیاں، چھوٹے پرندے، اُڑن گلہری اور چوہے شامل ہیں۔

پہاڑی لومڑی: ہزارہ، کاغان، مری، انڈس کوہستان، دِیر اور چترال کے معتدل جنگلات میں پہاڑی لومڑی Hill Fox پائی جاتی ہے۔ لومڑی بڑی پھرتی سے خرگوش، رینگنے والے جانوروں، چوہوں اور پرندوں کو شکار کرلیتی ہے۔ مادہ لومڑی ایک وقت میں چار سے پانچ بچوں کو جنم دیتی ہے۔

 

 

 

بھیکر: زیادہ تر مری سےلےکر آزاد کشمیر، ہزارہ، سوات اور چترال کےبلند سوئی دار درختوں کےجنگل میں بھیکرKoklass Pheasant پایا جاتا ہے۔ ایک وقت میں مادہ چھ انڈے دیتی ہے اور لگ بھگ 25 دن کی مدت میں ان میں سے بچےنکل آتے ہیں۔ اس کی خوراک میں گھاس کے نرم پتے، گُچھ کے بیر اور کیڑے مکوڑے شامل ہیں۔

بن ککڑ: عام طور پر بن ککڑ Kalij Pheasant بُلند علاقوں میں زیتون اور پھلائی کے جنگلات میں پایا جاتا ہے۔ اس کی خوراک میں کیڑے مکوڑے، سنبل، بیر، پتےاور شاہ بلوط کےبیج شامل ہیں۔ مادہ ایک وقت میں آٹھ انڈے دیتی ہے اور لگ بھگ 25 دن میں ان میں سے بچے نکل آتے ہیں۔

ہمالیہ بسنتا: ہمالیہ کےپہاڑی سلسلےمیں ہمالیہ بسنتاGreat Himalayan Barbet بکثرت پایا جاتا ہے۔ موسمِ سرما میں یہ پرندہ نسبتاً کم سرد نشیبی علاقوں کی طرف نقل مکانی کرتا ہے۔ خوراک میں بیر، پھل اور کیڑے مکوڑے شامل ہیں۔ مادہ ایک وقت میں تین انڈے دیتی ہے اور دوہفتوں میں اس سے بچے نکل آتے ہیں۔

کٹ پھوڑ: یہ ہمالیہ کےصنوبری جنگلات کا مقامی پرندہ ہی۔ کٹ پھوڑ Bellied Greenwood Pecke ایوبیہ نیشنل پارک سمیت گلگت، سوات اور بلوچستان میں بھی پایا جاتا ہے۔ خوراک میں چیونٹی، کیڑے مکوڑے شامل ہیں۔ مادہ ایک وقت میں چار تا چھ تک انڈے دیتی ہے، جس سےسترہ دن کےاندر بچے نکل آتے ہیں۔ یہ فصلوں کونقصان پہنچانے والے حشرات الارض کھا جاتا ہے۔ اسی بنا پر ماہرینِ جنگلی حیات اسے ماحول دوست پرندوں میں شمار کرتے ہیں۔

 

 

 

 

دیار: دیار یا دیودار ایک بڑا سدا بہار درخت ہے۔ اس کےسوئی دار پتےگھنےگچھےکی صورت میں ہوتےہیں۔ اس میں پھلconesجون اور ستمبر کےدوران لگتےہیں۔ یہ درخت پاکستان، افغانستان اور بھارت کےہمالیہ پہاڑی سلسلےمیں پایا جاتا ہے۔ اسی’ پاکستان کا قومی درخت ‘قرار دیا گیا ہے۔ اسی’ شاہی درخت‘royal tree بھی کہتے ہیں۔ تعمیراتی کام کے لیے اس کی لکڑی نہایت موزوں خیال کی جاتی ہے۔ ایوبیہ نیشنل پارک میں اس کی بڑی تعداد موجود ہی۔

بیاڑ: سدا بہار بیاڑKail کے درخت کی شکل مخروطی ہوتی ہے اور پتےسوئی دار ہوتے ہیں ۔ یہ درخت بھوٹان، نیپال، بھارت اور افغانستان کا مقامی درخت ہے۔ پاکستان میں بیاڑ مری، گلیات، آزاد کشمیر، سوات اور کاغا ن میں پایا جاتا ہے۔ اس کی لکڑی عموماً ایندھن اور عمارتی کاموں میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کے بڑھنے کی رفتار نہایت سست ہے اور تقریباً سو سال میں جاکر پودا گھنے درخت کی شکل لیتا ہے۔

پلودر: یہ بھی سدا بہار درخت ہے۔ پلودر Firکی شکل ایک بڑےسگار کی مانند ہوتی ہے اور اس کا پھل cones اپریل اور مئی کےدرمیان لگتا ہے۔ پلودر پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مقامی درخت ہے۔ پاکستان میں یہ بالائی علاقوں آزاد کشمیر، مری، ہزارہ، سوات، دِیر اور چترال میں پایا جاتا ہے۔ یہ درخت سایہ دار جگہ پر پہاڑ کےشمالی پہلو کی جانب زرخیز مٹی میں اُگتا ہے۔ یہ ہمارےآب گیر علاقوں watershed کے ماحولیاتی نظام کاایک اہم حصہ ہے۔

بن کھوڑ: یہ درخت پاکستان، بھارت اور افغانستان میں پایا جاتا ہے۔ ہمارےیہاں بن کھوڑ Horse chesunut ہزارہ، سوات، مری اور آزاد کشمیر میں پایا جاتا ہے۔ اس درخت کی لکڑی بالعموم ایندھن، فرنیچر اور لکڑی سے تیار ہونے والی گھریلو آرائشی اشیا میں استعمال ہوتی ہے۔

نبات و ادویاتی پودوں میں بٹ پئی Bergenia Stracheyi ، نائر Skimmia Laureola ، بن ککڑی Podohyllum emoid، رتن جوت Geranium Wallichianumقابلِ ذکر ہیں۔

محمد خورشید عباسی

 

 

             گلدار کے ديس ميں