بلوچستان میں کوئلے کی کان کنی قدیم صنعت ہے، لیکن فرسودہ طور طریقوں کے سبب اب یہ صحت اور ماحول کے لیے ایک بڑا خطرہ بھی ہے۔

 

تحريروتصاوير: مختار آزاد

 


پاکستان کےکُل رقبے کے چوالیس فیصد پر مشتمل بلوچستان میں اگرچہ جدید صنعتی ترقی خال خال ہی نظر آتی ہے، تاہم اس دھرتی کی کوکھ قیمتی معدنی وسائل سے مالامال ہے۔ ان معدنی عناصر میں تانبہ، ماربل، کوئلہ، کرومائٹ وغیرہ شامل ہیں۔ ماہرینِ ارضیات ان معدنی عناصر کو اعلیٰ معیار کا قرار دیتےہیں۔ ان معدنی وسائل کو زمین کی کوکھ سے باہر نکالنے کے لیے غالباً سب سے پہلے کوئلے کی کان کنی سے ابتدا ہوئی، جس کا آغاز اٹھارویں صدی کےآخری عشروں میں ہوا۔ برطانوی عہدِ حکومت میں تحریر کردہ ’بلوچستان گزیٹر ‘ کے مطابق ”1887ء سے لے کر1903ء کے سترہ برسوں کے دوران یہاں واقع کوئلے کی کانوں سے مجموعی طور پر 246 تا 426 ٹن کوئلہ سالانہ نکالا جاتا رہا ہے۔،، آج صوبے میں کوئلےکی پیداوار 1ہزار، 6سو،77ٹن سالانہ سےزائد ہے، جو اس کی کُل معدنی پیداوار کا 64.1 فیصد بنتا ہے۔یہاں کوئلےکی چھ بڑی کانیں ہیں۔ ان میں خوست شرگ ہرنائی، دکّی، مچھ، پیر اسماعیل زیارت، بارکھان اور سور رینج ڈیگاری کی کانیں شامل ہیں۔یہاں کوئلےکی کانوں کا حقِ ملکیت دو طرح کا ہے، ایک نجی اور دوسرا سرکاری۔ سرکاری کانوں کا نگراں ادارہ پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن PMDCہے۔

بلوچستان میں سرکاری اور نجی،دونوں طرز کی کانیں نہایت فرسودہ طریقوں پر استوار ہیں۔ دنیا کےترقی یافتہ ممالک کے برعکس آج بھی یہاں روایتی طرز پر کان کنی کی جاتی ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے باوجود سور رینج ڈیگاری میں کان کنی دیگر کانوں کی نسبت زیادہ منظم خطوط پر استوار ہے۔کوئٹہ سےشمال اور جنوب مغرب کی سمت تقریباً پون گھنٹےکی ڈرائیو پر ’ سور رینج ڈیگاری‘ کی کان واقع ہے۔ مقامی زبان میں ’سور‘ پہاڑی دنبے کو کہا جاتا ہے۔ کبھی یہاں پہاڑی دنبے بکثرت پائے جاتے تھے، اسی مناسبت سے برطانوی عہد میں اسے’سور رینج‘ کا نام ملا،جو آج بھی مستعمل ہے۔ اب یہاں پہاڑی دنبےتو نہیں، ہاں کوئلے کے بڑے بڑے ڈھیر اور قدرتی ماحول کو پہنچنے والے نقصانات کےشواہد ضرور موجود ہیں۔

بلوچستان میں کوئلے کی کان کنی ماحول کے لیے کس طرح خطرناک ہے؟ اس بارے میں آئی یو سی این ، پاکستان سے وابستہ ماہرِ ماحولیات احمد سعید بتاتےہیں!
”کان کنی کےدوران زیرِ زمین اور چٹانوں سے رِسنے والا پانی، کوئلےکا ٹھوس فضلہ، کان سے باہر ذخیرہ کیے گئے کوئلے کے اُڑتے ہوئے ذرات ، کان کنی کے دوران کیے جانے والے دھماکے قدرتی ماحول، فضا اور سب سے بڑھ کر وہاں رہنے والوں کی صحت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ کان کنی کی سرگرمیوں کےدوران ٹریٹمنٹ کے بغیر تیزابی پانی کا اخراج Acid Mine Drainage بھی ایک بڑا مسئلہ ہے،جو نہ صرف زمین کو ناکارہ بلکہ زیرِ زمین اور اطراف کےآبی ذخائر کو بھی آلودہ بنادیتا ہے۔ اس پانی کا استعمال حیاتیاتی تنوع کوبھی متاثر کرتاہے۔ نیم بنجر بلوچستان کےلیے یہ صورتِحال کچھ نیک شگون نہیں۔“

ماہرین ارضیات بلوچستان میں واقع کوئلے کی کان کنی کےطور طریقوں کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہیں۔ ارضیاتی صورتِحال کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظتی وجوہات بھی ہیں۔ اگرچہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کان کنوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے متعدد حفاظتی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں ، جن میں ڈانگری (ایک طرح کا لباس جس میں پتلون اور قمیص ایک ساتھ سلےہوتےہیں) کا پہننا، کان میں داخل ہونے سے پہلے خطرناک گیسوں کی موجودگی کا جدید سائنسی آلات سے پتا چلانا وغیرہ شامل ہیں۔کوئلے کی کانوں میں میتھین گیس کا ہونا عام بات ہے۔ یہ گیس ذرا سی چنگاری سے بھڑک اٹھتی ہے اور دھماکے سے پوری کان نیست و نابود کرسکتی ہے۔ بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں میتھین گیس کی موجودگی جاننے کے لیے جو طریقہ مروج ہے، کبھی یہ نہایت جدید تھا، مگر اب بالکل فرسودہ ہے۔ اس طریقے میں آغاز سے قبل کان کنوں کا سربراہ، جسےسردار کہتے ہیں، کھوپرے اور بادام کےتیل سے جلنے والا لیمپ ہاتھ میں لے کر کان میں اترتا ہے۔ اگر لیمپ کا شعلہ بھڑک جائےتو خطرہ ورنہ ’سب ٹھیک ‘ تصور ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بھی چند اور روایتی طریقے مستعمل ہیں، لیکن وہ بھی جدید کا ن کنی کی روایت پر پورا نہیں اترتی۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ چند برس پہلے PMDCکو امریکی تعاون کےتحت محفوظ کان کنی کےلیےکچھ آلات ملےتھی، تاہم یہ اب تک ادارےکےپاس محفوظ ہیں اور انہیں بعض تکنیکی وجوہات کی بنا پر استعمال نہیں کیا جاسکاہی۔

ملکی قوانین کےتحت کان کنوں کی حفاظت کے لیے اصول و قواعد موجود ہیں، لیکن جہاں کان کنی ہو ہی فرسودہ خطوط پر استوار، وہاں ان اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا جانا کوئی بڑی بات نہیں۔ سور رینج ڈیگاری کی کان میں بتیس سو فٹ کی سیدھی سرنگ میں فاصلہ طے کرنے کے بعد کوئلہ نکالنے کے لیے کان کن کو مزید کئی سو فٹ نیچے زمین کی تہہ میں اترنا پڑتا ہے۔ گہرائی میں اترنے کا ایک ہی طریقہ مستعمل ہے اور وہ یہ ہے کہ کوئلے کی بوریوں کو لانے والی پٹریوں پر پھسلتے ہوئےجاؤ اور اندر جا کر کسی بھی حفاظتی انتظامات کے بغیر تین چار فٹ گہری سرنگ میں اکڑوں بیٹھ کر یا کروٹ لیٹ کر کوئلےکو کدال یا الیکٹرک کٹر کی مدد سےکاٹتے رہو۔ اب اگر باہر آنا ہےتو پھر اُنہی پٹریوں کو پکڑ کر اوپر چلےآؤ۔ مزدور کئی سو فٹ گہری سرنگ میں کام کررہے ہوں یا پٹریوں کےسہارے اوپر نیچےآجارہے ہوں۔ ہر وقت موت کا دھڑکا رہتا ہے۔ یہ اور بات کہ کان کے باہر بنے دفتر میں ہر وہ سامان رکھا رہتا ہے کہ حفاظتی نکتئہ نظر سے جس کی موجودگی کان مالکان کی ذمےداری تصور ہوتی ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ کان میں اندر جاتے، باہر واپس آتے یا کان کنی کرتے ہوئےآکسیجن سلینڈر اور اہم ضروری حفاظتی سامان سے بےنیاز کان کنوں کو اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو انہیں باہر دفتر میں موجود امدادی سامان کی بروقت مدد مل سکے گی اور کیا یہ امداد ملنےتک مزدور یا مزدوروں کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن بھی ملتی رہے گی؟ چند سو روپے پانے والے مزدور کو یہ بات سوچنے کی فرصت نہیں اور دفتر میں حفاظتی سامان دیکھ کر نگراں سرکاری اداروں کو صنعتکاروں کی ذمےداری پر کوئی شبہ نہیں ۔

ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ بلوچ سرزمین کی کوکھ میں موجود معدنیات کی دولت کو باہر نکالنے والے مزدور خود بلوچ نہیں ہے۔ ایک مقامی بلوچ کے مطابق”ہم یہ کام کرنا پسند نہیں کرتے۔ اس میں منہ ہاتھ کالے ہوتے ہیں اور جسم طرح طرح کی بیماریوں کا شکار بن کر رہ جاتا ہے۔“ یہی وجہ ہےکہ ہزارہ، سوات سمیت صوبہ سرحد کےدیگر پسماندہ علاقوں ، آزاد کشمیراور سب سےبڑھ کر افغان مہاجرین کی اکثریت بطورِ مزدور یہاں کام کرتی ہے۔ کان کے ٹھیکیدار مزدوروں کو لے کر یہاں آتے ہیں۔کان کن ٹھیکیداری نظام کو اپنا سب سےبڑا مسئلہ قرار دیتےہیں۔ اس نظام میں ایک طرف مزدور لیبر قوانین کےتحت حکومت کی جانب سے دیے گئے حقوق سے محروم ہوجاتے ہیں تو دوسری طرف کان مالکان بھی اپنی ذمہ داریوں سے پہلو بچالیتے ہیں اور ٹھیکیدار سراسر فائدے میں ہی رہتا ہے۔ سوات سے تعلق رکھنے والے کان کن نصیب عالم کا کہنا ہے کہ” ٹھیکیدار کام دلانے کے عیوض ہماری آمدنی کا پندرہ تا بیس فیصد ماہانہ بطورِ کمیشن لیتا ہے۔ یہ سلسلہ اس وقت چلتا ہے، جب تک کہ ہم کام کرتے رہتے ہیں۔“1903 ء کے ’بلوچستان گزیٹر‘ میں رقم ہے ”بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں سات سو کےقریب مزدور کام کرتے ہیں، جن کی فی کس آمدنی بارہ آنہ روزانہ ہے۔“ آج ان کانوں میں 26ہزار کے لگ بھگ کان کن کام کرتے ہیں، جن کی فی کس آمدنی دو سےڈھائی سو روپے روزانہ ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت یہ صنعتی شعبہ مزدوروں کی قلت کا بھی شکار ہے۔ جس کا سبب ’صاف ستھرا کام اور زیادہ پیسی‘ کےسبب مزدوروں کا افغانستان چلے جانا بھی ہے۔

شہروں سے دور بلوچستان کےسنگلاخ پہاڑوں کے بیچوں بیچ ویرانے میں اپنی دنیا آپ بسالینے والے یہ کان کن سانس کی ڈور بندھی رکھنے کے لیےکچھ رقم کمالینے میں تو کامیاب ہوجاتے ہیں، لیکن زندگی کو درپیش مستقل خطرے کی قیمت پر۔ ناقص رہائش و خوراک، کان کی خطرناک گیسوں، تیزابی بُو اور فضا میں اڑتے ہوئے کوئلے کے ذرات اکثر ان کان کنوں کو دل، پھیپڑوں اور سانس کےامراض کا شکار بنا ڈالتے ہیں۔ مستزاد یہ کہ انہیں طبّی سہولتیں اور باقاعدہ طبی معائنےکی بھی سہولت حاصل نہیں ہے۔ اگر علاج کرانا ہو تو اپنے خرچ پر کروانا پڑتا ہے۔ان حالات میں جب صحت ہی نہ رہے تو کام سےجواب اور بیروزگاری مقدر بن کر ’کوئلہ بھئی نہ راکھ‘ کےمصداق ہوجاتی ہے۔ یاد رہے کہ کان کن کے حوالے سے تصور کیا جاتا ہے کہ ایک مزدور چالیس تا پینتالیس برس کی عمر تک ہی یہ کام کرسکتا ہے۔ اس کے بعد اس کی جسمانی صحت اس قابل نہیں رہتی کہ وہ مزید کام کرسکے۔

برطانوی عہد حکومت اور قیام پاکستان کے بعد کئی عشروں تک یہاں سےنکالے جانے والے کوئلےکی سب سے بڑی کھپت اسٹیم انجن اور بطورِ ایندھن گھریلو استعمال تھا۔ کوئٹہ کا بجلی گھر بھی کوئلے سے چلتا تھا۔ اسٹیم انجن تو اب ماضی کی بات ہوئی۔ بجلی گھر بھی بند ہوچکا ہےاور گھروں میں بھی گیس آچکی ہے۔ یوں اب اس کوئلے کا سب سے بڑا مصرف پختہ اینٹیں تیار کرنے والے بھٹے ہیں یا پھر سیمنٹ کے کارخانے، جہاں یہ بطورِ ایندھن استعمال ہوتا ہے، تاہم مالکان کا موقف ہے کہ یہ کھپت اتنی نہیں ہے کہ جس سے یہ صنعت نشاطِ ثانیہ پاسکے۔

کوئلےکی کانوں کےسبب پیدا شدہ ماحولیاتی مسائل کےتدارک کےلیےبلوچستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی اور بقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این کےاشتراک سے رہنما خطوط تیارکیےجارہےہیں، تاکہ مالکان کو رہنمائی دی جاسکےکہ وہ انہیں ماحول دوست خطوط پر استوار کریں۔ رہنما خطوط کا ابتدائی مسودہ Sectoral Environmental Guidelines & Checklists For Coal Mining in Balochistan کے نام سےتیار ہوا ہے، تاہم اس کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس شعبے کو جدید صنعتی اصولوں پر استوار کیا جائےتو حالات بدل سکتے ہیں اور ماحول کو پہنچنے والے مستقل نقصانات کا تدارک بھی کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس ضمن میں ان رہنما خطوط سے رہنمائی لی گئی تو کان کنی کی صنعت کےاس شعبےکےسبب ہونے والے ماحولیاتی مسائل کا بڑی حد تک تدارک کیا جاسکے گا۔

 

 

 

مختار آزاد ’جریدہ‘ کے مدیر ہیں۔