|
|
بلوچستان
کے متعدد شہروں، قصبوں اور پہاڑی سلسلوں کے نام پانی سےنسبت رکھتے ہیں،
جو اس کی خصوصی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
|
|
تحرير:
نور محمد خان حسنی
|
|
|
|
بلوچستان کے معروف
شاعر عطا شاد کی ایک نظم کا عنوان ہے ’وفا‘ جو ان کے مجموعہ کلام’ سنگ آب‘
میں شائع ہوئی ، اس میں وہ کہتےہیں !
میری زمین پر ایک کٹورے پانی کی قیمت
سو سال وفا ہے
آؤ ہم بھی پیاس بجھائیں
زندگیوں کا سودا کر لیں
جن لوگوں نےتقریباًساڑھےتین لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط بلوچستان کی خوبصورت
وادیوں،کہیں سر سبز و شاداب تو کہیں بےآب و گیاہ پہاڑی سلسلوں، چٹیل میدانوں
اور ریگزاروں پر مشتمل طول و عرض کو نہیں دیکھا،یقیناًوہ یہ بات سوچتے ہوں
گے کہ اتنے بڑے رقبے پر صرف 65 لاکھ کی آبادی کیوں ہے؟ اس کی صرف ایک وجہ
ہے اور وہ ہے پانی کی کمیابی ۔ سخت موسمی حالات اور وقتاً فوقتاً آنے والی
خشک سالی نے بارہا یہاں کے باشندوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا،حتیٰ کہ خانہ
بدوشی یہاں کی ناگزیر سماجی رسم ٹہری۔جہاں آب ہمیشہ سے کمیاب رہا ہو اور
وہاں کے باشندے ایک کٹورے پانی کے عیوض سو سال وفا کرنے کا عزم رکھتے ہوں،
ان کے لیےآب کی کیا اہمیت ہے، یہ بات وہی بہتر جانتےہیں۔
پانی ہر جاندار بشمول نباتات کی لازمی ضرورت ہے، لیکن بلوچستان میں اس کی
غیر معمولی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بہ آسانی لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں
درجن بھر سے زائد شہروں، قصبوں اور پہاڑی سلسلوں کےنام’ آب ‘سے نسبت رکھتے
ہیں، جو یہاں کے باشندوں کے لیے پانی کی خصوصی اہمیت کوظاہر کرتے ہیں۔’آب‘
فارسی زبان کا لفظ ہے جو بلوچی میں بھی مروج ہے اور یہی معنیٰ رکھتا ہے۔تاہم
بلوچستان میں بولی جانےوالی زبانوں اور بولیوں کےمختلف لہجوں کی وجہ سے یہ
کہیں ’آب‘، کہیں ’آپ‘ تو کہیں پر’ آف‘ کہلاتا ہے، لیکن بات اسی ’پانی‘ کی
ہوتی ہے۔
ذیل میں یہاں کےچند شہروں،قصبوں اور دیہاتوں کے چند نام اور ان کے معنیٰ
دیے جارہے ہیں، جو پانی سےنسبت کو ظاہر کرتےہیں۔
سر ِآب :کوئٹہ کانواحی علاقہ ، بگڑےتلفظ میں اب یہ ’سریاب‘ کہلاتا
ہے۔ سرِ آب ایک کاریز کا نام بھی ہے۔
’سرِآب ‘ کا معنیٰ’کنارئہ آب‘ ہے۔
ہوشاب یاوش آب:مکران کےقصبےکا نام ، جس کےمعنیٰ ’میٹھا پانی‘ ہے۔
آبِ گم:درّہ بولان میں واقع مقام کا نام، اس کےمعنیٰ ’گمشدہ پانی‘ ہے۔
مشکاف: درّہ بولان کےعلاقےکا نام ہی۔ اس کا معنیٰ ’معطر پانی‘ ہے۔
شیریںآب: قصبےکا نام ، جس کےمعنیٰ ’میٹھا پانی‘ ہے۔
یخ آب: ایک قصبےکا نام جس کا مطلب ’ ٹھنڈا پانی‘ ہے۔
مار آپ: ایک پہاڑ اور اس سےمتصل شہر کا نام ہی، جس کا مطلب ’سانپوں والا پانی‘ ہے۔
تہل آب: مقام کا نام جس کےمعنیٰ’ زیرِ زمین پانی‘ کے ہیں۔
کرد گاپ: یہ لفظ اصل میں’کردگ آب‘ ہی، جو بگڑ کر ’کردگاپ‘ ہوگیا۔ اس کےمعنیٰ’ گروہ
کا پانی‘ ہے۔
چاہ گئی: یہ لفظ بگڑ کر ’چاغی ‘بنا جو اب صوبےکےایک ضلع کا نام ہی۔ اس کا معنیٰ’کنواں‘
ہے۔
چاہ سر:علاقےکا نام، جس کےمعنیٰ ’ کنویں کا دہانہ‘ ہے۔
ُ سوراب : قصبےکا نام، جس کےمعنیٰ ’سرخ پانی‘ ہے۔
پانی کےبارے میں بلوچی لوک روایتوں میں بھی کئی حوالے ملتے ہیں۔ ایک روایت یوں بیان
کی جاتی ہے:
” ایک دن مشہور بلوچ سردار میر چاکر رند انتہائی پیاس کی شدت میں اپنے دوست شہ مرید
کے ساتھ اُس کی منگیتر ’حانی‘ کے گدان(خیمہ) کے قریب سے گزرے تو انہوں نے صدا دی
کہ ہمیں پانی پلایا جائے۔حانی نے انہیں ایک کٹورے میں پانی لا کر دیا، کٹورے میں
کچھ تنکے بھی تیر رہے تھے۔یہ دیکھ کرمیر چاکر نےشہ مرید کو طعنہ دیا کہ تمھاری منگیتر
پھوہڑ ہے۔ شہ مرید نے مسکراتے ہوئے جواب دیا”اس میں بھی کوئی دانائی پوشیدہ ہو گی۔“
پھرانہوں نے حانی سے مخاطب ہو کر کہا ”یہ سب کیا ہے“ تو جواب ملا”مجھےعلم تھا کہ
آپ پیاس کی انتہائی شدت میں پانی مانگ رہے ہیں۔اگر آپ کوصاف پانی دوں گی تو تیزی
سے پئیں گی۔ یوں یہ پانی دل پر جا لگے گا۔تنکے اس لیے ڈالے ہیں کہ آپ ٹہر ٹہر کر
پانی پئیں اور وہ آپ کے دل پر بوجھ نہ بنے۔“
اس عورت کی دانائی سے میر چاکر لاجواب ہوگئے۔
بلوچستان کا شمار ملک کے کم بارش والے علاقوں میں کیا جاتا ہے اور گذشتہ چند برسوں
کی خشک سالی نے صورتِحال کی سنگینی ہر کس و ناکس پر واضح کردی ہے۔ ایسے میں ضرورت
اس بات کی ہے کہ یہاں زیرِ زمین اور سطحِ زمین پر موجود آبی ذخائر کےاستعمال کو
پائیدار بنیادوں پر استعمال کرنے کے طریقےعام کرنے کی مثبت اور پائیدار بنیادوں
پر کوششیں کی جائیں تاکہ خطے کی جغرافیائی صورتِحال کےسبب پیدا شدہ مسئلہ آب کو
حل کیا جاسکے۔
|
|
|
نور
خان محمد حسنی کوئٹہ سے تعلق رکھتے ہیں اور محکمئہ تعلقاتِ عامہ میں بطور
ڈپٹی ڈائریکٹر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ نور خان صاحبِ طرز ادیب بھی
ہیں۔ اب تک ان کے دو سفرنامے’فارس کا مسافر‘ اور ’ ہمہ یاراں بہشت‘ شائع
ہوچکے ہیں۔
|
|
|
|
| |
| |
|
|
|
|
|
 |
 |