صنعتی گیسوں کے اخراج میں کمی کا نیا معاہدہ، ہمالیہ کا قدرتی ماحول، اور مچھلیوں کی متعدد اقسام کی ناپیدگی تک۔۔۔تازہ ترین عالمی حقائق!

 

انتخاب: ناصر پنہور   ترجمہ: ذيشان حيدر    تصوير: مختار آزاد

 

 

امریکا کی سربراہی میں دنیا کےچھ ممالک پر مشتمل ایک فورم قائم کیا گیا ہے جو فضا میں خطرناک گیسوں کی شمولیت کو کم سےکم کرنے کے لیے’صاف ایندھن کی ٹیکنالوجی‘clean energy technologies کو فروغ دے کر بڑھتے ہوئے عالمی درجئہ حرارت پر قابو پانے کے لیے اپنے تئیں کوششیں کرے گا۔ رکن ممالک نےاس بات کی تردید کی ہے کہ یہ کیوٹو پروٹوکول کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔ فورم میں چین، آسٹریلیا،جاپان، جنوبی کوریا اور بھارت بھی شامل ہیں۔

نئےمعاہدے کا اعلان اس سال اگست کے اوائل میں امریکا کے نائب وزیر رابرٹ زوئیلک نے لاؤس میں منعقدہ ایشیا پیسیفک سیکورٹی فورم کے اجلاس میں کیا۔ انہوں نےدعویٰ کیا کہ ”یہ معاہدہ فضا میں خطرناک صنعتی گیسوں کی شمولیت کو کم کرنے کے لیے عملی حل فراہم کرے گا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”معاہدے میں شامل رکن ممالک تعمیر، منتقلی اورفروخت کے لیے سبزٹیکنالوجی ‘کےاصول پرعمل کریں گے، تاکہ ایندھن کے کفایت شعارانہ استعمال کو فروغ دے کر ماحول اور فضا کو گیسوں کے اخراج سے پہنچنے والے نقصان کو کم کیا جاسکے۔“ ان کا کہنا تھا ”ایجنڈے میں یہ بات سرِفہرست ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی اپنائی جائے گی کہ جس کے ذریعے کوئلے کے جلنے سے پیدا ہونے والے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو فضا میں شامل ہونے سے قبل ہی اس کے خطرات کی روک تھام کرلی جائے۔“ یہاں ایک بات غور طلب ہے کہ اعلامیہ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کوئلے سے پیدا ہونے والے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو فضا میں شامل ہونے سے کیسے روکا جاسکے گا۔ علاوہ ازیں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شمولیت کو روکنے کے لیے مقررہ وقت یا ہدف بھی نہیں بتایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکا، چین اور آسٹریلیا کا شمار دنیا کے ان بڑےصنعتی ممالک میں ہوتا ہے، جہاں کوئلے کی ریکارڈ پیداوار اور برآمد کے ساتھ ساتھ صنعتوں میں بڑے پیمانے پر اس کا استعمال ہوتا ہے۔

معاہدےمیں شامل رکن ممالک میں دنیا کے 45 فیصد انسان بستے ہیں اور یہ دنیا میں استعمال ہونے والے ایندھن کا تقریباً نصف استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح فضا میں خطرناک صنعتی گیسوں کےاخراج میں ان کا بڑا حصہ ہے۔ صرف امریکا ہی ماحول کے لیے خطرناک 25 فیصد گیسوں کے اخراج کا تنہا ذمےدار ہے۔ معاہدے میں شامل جاپان اس سال کےاوائل میں منظور کیے گئے کیوٹو پروٹوکول میں بھی شریک ہے، جس کےتحت وہ خطرناک گیسوں کےاخراج میں چھ فیصد کمی کا ذمےدار ہے۔ امریکا نے کیوٹو پروٹوکول میں شمولیت سےانکار کردیا تھا، تاہم اب دنیا کےمتعدد ممالک نے خطرناک گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے امریکی اقدام کی حمایت کی ہے۔

 

 

 

 

دنیا کے بُلند ترین پہاڑ کی چوٹی ’ایورسٹ‘ کو سر کرنے والے نواسی سالہ سر ایڈمنڈ ہلیری نے دنیا بھر کی حکومتو ں سے درخواست کی ہے کہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کے قدرتی ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے یہ درخواست یونیسکو کی ورلڈ ہیریٹج کمیٹی کےسامنے کی ۔ یہ کمیٹی دنیا بھر میں عالمی ورثہ قرار دیے جانے والے مقامات کی نگرانی اور ان کی نامزدگی کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔تحفظِ ماحول کی مہم چلانے والے رضا کاروں کا ایک گروہ جس میں خود سر ایڈمنڈ ہلیری بھی شامل ہیں، نےکمیٹی سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ہمالیہ میں واقع ساگر ماتا نیشنل پارک کو’ فوری حفاظت کے طلبگار‘ مقامات کی فہرست میں شامل کرے، تاکہ حکومتیں قانونی طور پر اس کی حفاظت کرنےکی پابند ہوجائیں۔

تحفظِ ماحول کے حوالے سے مہم چلانے والے ان رضاکاروں کا کہنا ہے کہ دنیا کے 180 ممالک جنہوں نے ورلڈ ہیریٹج کنوینشن پر دستخط کیے ہیں، ان کی یہ قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام اہم مقامات کےتحفظ کے لیے اقدامات کریں۔

مئی 1953ء میں سر ایڈمنڈ ہلیری نے ایورسٹ سر کرنے کے بعد فوج میں شمولیت اختیار کرلی تھی، لیکن اس کے باوجود ان کا زیادہ تر وقت ہمالیہ کےدامن میں بسنے والے لوگوں کی مدد کے منصوبوں میں گذرتا رہا ہے۔ ایک عالمی نشریاتی ادارے کے نام لکھے گئے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ”گزشتہ پچاس برسوں کے دوران ہمالیہ کے درجئہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے اور یہاں موجود گلیشیر پگھلنےکی رفتار تیز ہوئی ہے، جس کا پانی سیلاب بن کر آبادیوں کو تہ و بالا کرڈالتا ہے۔ یہ صورتِحال ہمالیہ کےقدرتی ماحول کی بقا کے سامنے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔“

تین سال قبل امریکا کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) اور انٹرنیشنل سینٹرفار انٹیگریٹڈ مائونٹین ڈویلپمنٹ ICIMOD نے اس بات کا پتا لگایا تھا کہ دنیا کے چودہ سے زائد بڑے گلیشیروں کے پگھلنے سے بننے والی جھیلوں میں پانی کی رفتار میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ کلائمٹ جسٹس نامی ادارے کے ڈائریکٹر پیٹر روڈرک نے ورلڈ ہیریٹج کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمالیہ اور جنوبی امریکا میں گلیشیر پگھلنے سے بننے والی جھیلوں میں پانی کی پیمائش کو جانچنے کا فوری انتظام کیا جائے۔

 

 

 

 

بحرِ ہند کے ممالک میں سونامی کے خطرے سے قبل از وقت آگاہی کے نظامtsunami early warning system کی تنصیب میں بھارت نے اولیت حاصل کرلی ہے۔ توقع ہے کہ یہ نظام جولائی 2006ء تک تنصیب کی تکمیل پر کام کا آغاز کردے گا۔ یہ نظام عالمی سطح پر زیرِ سمندر ہونے والی ارضی تبدیلیوں سے آگاہ کرسکے گا اور اس کے ذریعے بھارت سمیت 27 ممالک’ قبل از وقت خبرداری‘ کےسلسلے سے باہم مربوط ہوجائیں گے۔توقع ہے کہ اس حفاطتی نظام سےسونامی کے خطرے کا قبل از وقت ادراک ہوگا،یوں اتنا وقت مل سکےگا کہ اس دوران حفاظتی تدابیر اختیار کر کے جانی و مالی نقصان کو کم سےکم کیا جاسکے۔

اقوامِ متحدہ کے بین الملک بحری کمیشن کے سربراہ پیٹریکو برنال کا کہنا ہے کہ ”ہمارے پاس اِس وقت بھی قبل از وقت خبرداری کا نظام موجود ہے اور گزشتہ تین ماہ کے دوران سونامی کے خطرے کا قبل از وقت پتا لگانے کے لیے مختلف ملکوں میں 25 ’نیشنل وارننگ سینٹر‘ قائم کیے جاچکے ہیں۔ یہ مراکز اس وقت ہونولولو اور ٹوکیو میں قائم ’پیسیفک اوشن وارننگ سسٹم ‘سے اطلاعات کا تبادلہ کرتے ہیں، لیکن بھارت میں نصب کیا جانے والا مرکز اس لیے نہایت اہم ہے کہ بحرِ ہند کے تمام ممالک سونامی کے حوالے سے اس مرکز کے ذریعے اطلاعات حاصل کرسکیں گے۔ ہمارے لیے یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔“

دسمبر2004ء میں بحرِ ہند میں رونما ہونے والےسونامی کےنتیجے میں انڈونیشیا، بھارت، تھائی لینڈ اور سری لنکا کے ساحلی علاقوں پر2 لاکھ، 17 ہزار سے زائد افراد اجل کا شکار اور کھربوں ڈالر کا مالی نقصان ہوا ۔ اس تباہی کا ایک بڑا سبب خطرے سےقبل از وقت آگاہ نہ ہونا بھی تھا۔ سونامی کی شدت 9 اعشاریہ 3 تھی۔

 

 

 

 

چٹاگانگ میں واقع بنگلہ دیش کی مرکزی بندرگاہ پر ہر سال سیکڑوں مال بردار غیر ملکی بحری جہاز آتے جاتے ہیں ، تاہم مقامی قوانین میں سقم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ استعمال شدہ تیل سمیت اپنا تمام فضلہ بھی یہیں ٹھکانے لگادیتے ہیں۔ اگرچہ بندرگاہ کے حکام اس رجحان کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس دوربین اور کیمرے کی مدد سے نگرانی کرنے کے سوا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔چٹاگانگ پورٹ اتھارٹی کے ایک افسر کے مطابق نہ صرف غیر ملکی بلکہ مقامی بحری جہاز بھی بندرگاہ سے اخراج کے راستے کو فضلہ ٹھکانہ لگانے کے لیے محفوظ مقام خیال کرتے ہیں اور اس دوران ایک جانب ہمارا سمندر آلودہ کرتے ہیں تو دوسری طرف گھنٹوں کھڑے رہنے کے دوران ان کی چمنیوں سےاٹھنے والا دھواں فضا کو بھی آلودہ کردیتا ہے۔

پورٹ اتھارٹی کے ایک افسر محمد منیر چوہدری کے مطابق ” گزشتہ تین سالوں کے دوران سات سو بحری جہازوں کو جلا ہوا تیل اور دوسرا فضلہ ٹھکانے لگاتے ہوئے پکڑا گیا اوران پر جرمانے بھی کیے گئے، لیکن ایک کیمرے اور دوربین کی مدد سے اس جرم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ “

محکمہ ماحول کے ایک افسر کا کہنا ہےکہ”سمندر آلودہ کرنے والے بحری جہازوں کی اس کاروائی کو روکنے کے لیے پورٹ اتھارٹی کے قوانین میں ترامیم اور نگرانی کرنے والے عملے کو جدید آلات فراہم کرنا نہایت ضروری ہے، ورنہ 117 برس قدیم یہ بندرگاہ اور ساحلی علاقہ بہت جلد بدترین آلودگی کا شکار ہوجائے گا۔“ بنگلہ دیش کی 80 فیصد غیر ملکی تجارت بحری راستے سے ہوتی ہے اور چٹاگانگ بندرگاہ پر ہر سال اوسطاً 16 سو مال بردار جہاز آتےجاتےہیں۔

 

 

 

 

بھارت کی مختلف ریاستوں میں سیلابوں پر قابو پانے کے لیے تعمیر ہونے والےڈیم ،بندوں اور آبی آلودگی کے سبب درياؤں کے ماحولیاتی نظام میں بگاڑ پیدا ہوا ہے،جس کے نتیجے میں مچھلیوں کی متعدد اقسام ناپید ہوچکی ہیں۔ یہ بات حال ہی میں’ سینٹرل اِن لینڈ فشریز ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘ کی جاری کردہ ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ سینٹر فار ارتھ سائنس اسٹڈیز کے زیرِ اہتمام ’دریائی انتظام‘ کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ کے دوران جاری کی گئی۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بگاڑ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف دریائے ’پیری یار‘ میں گزشتہ پچاس برسوں کے دوران مچھلیوں کی سولہ اقسام بشمول کیٹ فش ناپید ہوچکی ہیں۔ اسی طرح دریائے پامپا میں مچھلیوں کی تیس اقسام بقا کو لاحق خطرات کا سامنا کررہی ہیں، جن میں سے پانچ اقسام کو ’ معدومی کے خطرات سے دوچار‘ قرار دیا گیا ہے۔ دریائے پامپا میں 2003-4ء کے دوران مچھلیوں کی دو اقسام بالکل ہی غائب ہوچکی ہیں۔ صرف یہی نہیں دریا میں مچھلیوں کی تعداد بھی گھٹ رہی ہے اور 1999ء تا 2003ء کے دوران یہاں سے پکڑی جانے والی مچھلیوں کی تعداد میں 34 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ دریائی مچھلیوں کی اقسام کو ناپید ہونے سے بچانے اور ا ن کے ذخائر میں روز بہ روز ہوتی ہوئی کمی کی روک تھام کے لیے باقاعدہ طور پر انتظامی منصوبہ management programmeبنایا جائے۔ 

 

 

ناصر علی پنہور آئی یو سی این، سندھ پروگرام آفس سے بطورِ کوآرڈینیٹر وابستہ ہیں۔
ذیشان حیدر شعبئہ طب سے وابستہ ہیں۔ صحت و ماحول کے حوالے سے مختلف رسائل میں اکثر مضامین لکھتے ہیں۔