|
ہر بار ’جریدہ‘
ماحولیات کے موضوع پر افکارِ تازہ کی نوید لاتا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے
بصیرت افروز مضامین فکر ونظر کے نئے دریچے وا کرتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ یہ
رجحان ساز مجلہ اُفقِ علم و ادب پر مثلِ آفتاب ذوفشاں رہے۔
پروفیسر ڈاکٹر غلام شبیر رانا، جھنگ
٭٭٭
’جریدہ‘ یہاں واقع آغا خان اسکول کے توسط سے پڑھنے کو ملا۔ فکر انگیز اور
دلچسپ معلوماتی رسالہ ہے۔ میرا گاؤں مڈک لشٹ، چترال کی تحصیل دروش میں واقع
ہے۔ یہاں کا سرسبز ماحول صحت پر بہت اچھےاثرات مرتب کرتا ہے۔ یقیناً اچھےماحول
اور صحت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
ناظمہ جہاں، دروش، چترال
٭٭٭
بلوچستان کا ضلع ژوب طرح طرح کی جنگلی حیات اور جنگلات پر مشتمل قدرتی وسائل
کا خزانہ ہے، لیکن بیروزگاری اورغربت کےسبب قدرتی وسائل پرمقامی لوگوں کے
بڑھتے ہوئے انحصار نے ماحول کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ماحول اور جنگلی حیات
کی بقا کےلیےسرگرم سرکاری، نیم سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں
سےگزارش ہے کہ وہ یہاں ماحولیاتی تباہی کو روکنےکی جانب بھی توجہ دیں۔
محمدیوسف مندوخیل، ژوب
٭٭٭
’جریدہ‘ کی باقاعدہ ترسیل پر ممنون ہوں۔ ہماری لائبریری میں یہ نہایت شوق
سے پڑھا جاتا ہے۔ گزشتہ شمارے میں ’ہمارے شہر اور سبز ماحول‘ پر اداریہ نہایت
فکر انگیز تھا۔’ دلّی کی کہانی‘ پڑھ کر ایک امید ہوئی ہے کہ کاش ہمارے اربابِ
اختیار اس کہانی کو ملک کے بڑے شہروں میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر قابو
پانےکے لیے دُہرا سکیں۔
سید عبدالجبار، سینئر سٹیزن فاؤنڈيشن ، اسلام آباد
٭٭٭
’جریدہ‘ باقاعدگی سے ارسال کرنے کا شکریہ۔ ماحول و جنگلی حیات کے حوالے سے
یہ شعور کی بیداری اور فروغِ علم میں نہایت اہم کردار ادا کررہا ہے۔ علاوہ
ازیں یہ رسالہ ملک کے پسماندہ دیہاتوں میں بسنے والے لوگوں کے مسائل، ان کےثقافتی
و تاریخی ورثے کے متعلق گرانقدر معلومات فراہم کرنےکا بھی انمول ذریعہ ثابت
ہوا ہے۔ ایسا رسالہ جاری رہےتو اچھا ہے۔ ہوسکےتو اس کی اشاعت سہ ماہی کے بجائے
ماہانہ کرنے پر غور کیا جائے تاکہ مطالعہ اور تشنگیِ علم کو مٹانے کی زنجیر
میں اور بھی زیادہ تسلسل آسکے۔
اجلال حسین وزیر،اسکردو
٭٭٭
ہمارے کتب خانے کے لیے ’جریدہ‘ موصول ہوا، جس کے لیے ہم مشکور ہیں۔ ہمارے
یہاں بہت سے محققین اور قارئین اس سے استفادہ کرتے ہیں۔
محمد انور سرور، لائبریرین، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد
٭٭٭
وطن عزیز میں ’جریدہ‘ اپنی نوع کا منفرد رسالہ ہے،جس کا مطالعہ قارئین کو
اُن کے قدرتی ماحول کے اور قریب کردیتا ہے۔ ملک کی ترقی اور ماحول کی بقا
میں ’جریدہ‘درست رہنمائی فراہم کرنےکا عملی مظاہرہ ہے۔
ڈاکٹر محمد ظفر اقبال، فقیر والی، ہارون آباد، بہاولنگر
٭٭٭
عالمی یومِ ماحول کےموقع پر یہاں آئی یو سی این کی ایک تقریب منعقد ہوئی،
جہاں اسٹال پر ’جریدہ‘ دیکھا۔ ہماری سماجی تنظیم کےدیگر ارکان بھی معلومات
کےاس خزانے سے تعارف پر بہت خوش ہوئے۔
حافظ محمد طیب،جرار ویلفیر سوسائٹی، ڈی آئی خان
٭٭٭
جنگ و جدل کےاس پُر آشوب دور میں بے زبان جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کی بقا
کا پرچم تھامے ہوئے’جریدہ‘ کا جہاد یقیناً آئی یو سی این کا قابلِ قدر کارنامہ
ہے۔
محمد ظفر، گاؤں ریش، چترال
٭٭٭
’جریدہ‘ میں شامل تحریریں تحقیق کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ مفید رسالہ ہمیں
قیمتاً بھی خریدنا پڑےتو ضرور خریدیں گے۔ شاید اس طرح ہم انفرادی طور پر ماحولیاتی
تنزلی کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔
نائلہ بختیار افسانہ، کوہاٹ
٭٭٭
’جریدہ‘ کے زریعے ماحول و ثقافت سے متعلق آگاہی ملتی ہے۔ ملک کے دور دراز
حصوں میں رہنے والوں کے لیے اس کا مطالعہ نہ صرف علم میں اضافے کا سبب ہے
بلکہ اس کے ذریعے پاکستان اور دنیا بھر میں ماحول سے متعلق سرگرمیوں کا بھی
علم ہوجاتاہے۔
علی زار خان، مین بازار، بونی
٭٭٭
ماحول اور بقائے ماحول کی مہم میں ’جریدہ‘ کا کردار نہایت اہم ہے۔ فروغِ علم
و آگہی کے لیے اس کا جاری رہنا ضروری ہے۔
سمیع جمال، کراچی
٭٭٭
’جریدہ‘ میں شائع شدہ تحریریں نہایت معلوماتی اور دل کش ہوتی ہیں اور قاری
یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ہم اس دھرتی اور اس پر موجود قدرتی وسائل
کے ساتھ کیا سلوک کررہے ہیں۔ میرےخیال ميں یہی وہ نکتہ ہوتا ہے کہ جہاں اس
رسالےکی اشاعت و ترسیل کا مقصد پورا ہوجاتا ہے۔
حضور ساجد بلوچ، پیدارک، ضلع کیچ
٭٭٭
|