ایوبیہ نیشنل پارک کا قیام انسان کو بھولا ہوا درسِ فطرت یاد دلانے کی کوشش ہے، مگر اس کے انتظام میں انسانی سرگرمیاں بدستور ایک بڑا مسئلہ ہے۔

 

تحرير: محمد خورشيد عباسی

 

جولائی1983ء کی ایک سہانی صبح کا ذکر ہے۔ ملک کے میدانی علاقوں میں گرمیاں اپنےعروج پر ہیں، لیکن سر سبز پہاڑوں اور گھنےجنگلات میں گھری وادی نتھیا گلی کی خنک فضا میں سرسراتی ہوئی ہوائیں دل و دماغ کو تازگی بخش رہی ہیں۔ ایسےموسم میں گورنر سرحد یہاں ایک اعلیٰ سطح کےاجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔ اجلاس کےاختتام پر یہ بات طے پاچکی تھی کہ گلیات کے علاقوں مکشپوری، کوزہ گلی، گھوڑا دکّہ، خانسپور، لاہورکاس پر مشتمل علاقے پر ایک پارک قائم کیا جائے گا، تاکہ فطرت کی رنگینیوں اور یہاں پائی جانے والی جنگلی حیات اور پرندوں کا تحفظ کرکےانسان کو درسِ فطرت کا بھولا ہوا سبق یاد دلایا جاتا رہے۔ بعد ازاں جنوری1984ء میں حکومتِ صوبہ سرحد نےتحفظِ جنگلی حیات کےقانون مجریہ 1975ء کےتحت فیصلے کو قانونی شکل دیتے ہوئے پارک کے قیام کا اعلان کردیا، جسے اب ہم ’ایوبیہ نیشنل پارک ‘ کےنام سے جانتے ہیں، جبکہ اسے گُلدار Common Leopard کا دیس بھی کہا جاتا ہے۔ اپنےقیام کے وقت اس پارک کا رقبہ 1,683ہیکٹر پر مشتمل تھا، تاہم 1998 تک وسعت دے کر اسے 3,322ہیکٹرکردیا گیا۔

جنگلی حيات، پرندے، درخت و نباتات

ایوبیہ نیشنل پارک میں پرندوں کی 203، ممالیہ کی 31، رینگنے والے جانداروں کی16، جل تھلیوںamphibian کی 3، تتلیوں کی 23 اور حشرات الارض کی 650 اقسام ریکارڈ کی گئی ہیں۔ پارک میں اشجار و نباتات کی757 سے بھی زیادہ انواع پائی جاتی ہیں ۔ -- مزيد پڑھيے۔

 
 


ایوبیہ نیشنل پارک کےقیام کےتین بڑےمقاصد تھے:

یہاں موجود جنگلی حیات و نباتات کا تحفظ اور ترقی کے اقدامات کرنا۔

مناظرِ قدرت کی دید کے لیےآنے والے سیاحوں اور نبات و جمادات و جنگلی حیات پر تحقیق کرنے والے محققین کے لیے سہولتوں کی فراہمی۔

پاکستان فاریسٹ انسٹیٹیوٹ، پشاور اور ایگریکلچر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، ترناب کی مدد سےمویشیوں کے لیے متبادل چارے اور تیزی سے بڑھنے والے درختوں کی اقسام تلاش کرنا، تاکہ مقامی لوگوں کی گھریلو اور عمارتی ضروریات کے لیے لکڑی اور مویشیوں کے چارے کے لیے پارک کے جنگلات اور یہاں پائی جانے والی نباتات پر پڑنے والا دباؤ کم کیا جاسکے۔

گلیات کی سرسبز و شاداب اور صحت افزا پہاڑی سلسلے میں جس مقام پر اب ایوبیہ نیشنل پارک قائم ہے، یہ پہلے’گھوڑا دکّہ‘ کہلاتی تھی۔ پارک کے قیام کے بعد اس جگہ کو موجودہ نام دیا گیا۔ گھوڑا دکّہ برطانوی عہد کے دنوں میں برطانوی فوجیوں کے ذریعے ایک تفریحی پہاڑی مقام کے طور پر متعارف ہوا تھا۔ ضلع ایبٹ آباد میں واقع اس پارک کا فاصلہ پشاور سے210 اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے180 کلومیٹر ہے۔ایبٹ آباد کے ضلعی صدر مقام سے پارک 35 اور مشہور تفریحی مقام مری سےصرف30 کلومیٹر دوری پر ہے۔

جون کے وسط سے لے کر اگست کے آخر تک ایوبیہ نیشنل پارک کا حسن اپنے جوبن پر ہوتا ہے۔ اس دوران پہاڑی ڈھلوانوں اور آڑی ترچھی نا ہموار پگڈنڈیوں پر چلنے والے سیاح کے دونوں جانب رنگ برنگے خود رو پھول کھلے ہوتے ہیں۔ ان خوش نما پھولوں میں گل خیرہ، جنگلی گلاب اور ڈیزی ڈاٹ قابلِ ذکر ہیں۔ یہیں سلسلئہ کوہ گلیات کی دو بُلند ترین چوٹیاں میران جانی اور مکشپوری بھی واقع ہیں۔ کوہ پیمائی کا شوق اور تجربہ ہے تو پھر انہیں سر کیجیےاور بطورِ انعام دوربین کی مدد سےکشمیر اور کاغان کی جنت نظیر وادیوں کی دلکشی اور قراقرم کے فلک بوس حیران کردینے والے پہاڑوں کا نظارہ کیجیے۔

دنیا بھر میں نیشنل پارک کے حوالے سے ایک مسلمہ اصول ہے کہ ’یہاں سے واپس جاؤ تو کچھ نہ لے جاؤ سوائےتصویروں کے اور کچھ نہ چھوڑ کر جاؤ صرف نقشِ پا کے‘۔ اس اصول کی پاسداری لازم ہے اور دنیا بھر میں اس کی پابندی بھی کی جاتی ہے، مگر پاکستان میں اب تک قرار دیے گئے سترہ نیشنل پارکوں میں سے اکثر میں اس اصول کی خلاف ورزی نئی بات نہیں۔ اس کی وجوہات بھی ہیں، جس میں سب سے بڑی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں۔ پاکستان کے زیادہ تر نیشنل پارکوں کے اندر اور حدود سے باہر انسانی بستیاں موجود ہیں، جو صدیوں سے قائم ہیں اور اصولی طور پر قانون بھی ان کا حقِ رہائش اور وسائل پر اختیار تسلیم کرتا ہے، لیکن جب سرگرمیاں ایک حد سے تجاوز کرنے لگیں تو ان کے منفی اثرات سامنےآنا شروع ہوجاتے ہیں۔

یہی بات ایوبیہ نیشنل پارک پر بھی لاگو ہوتی ہے۔پارک کی حدود کے اطراف میں آٹھ بڑی انسانی بستیاں آباد ہیں۔ ایوبیہ نیشنل پارک مینجمنٹ پلان 2002-7ء کے مطابق ’1998ء کی مردم شماری کے مطابق 2,311 گھروں پر مشتمل ان بستیوں کی مجموعی آبادی 18 ہزار،97 نفوس پر مشتمل ہے اور ہر گھرانہ اوسطاً آٹھ افراد پر مشتمل ہے اور شرحِ افزائش تین فیصد سالانہ ہے۔‘تاہم اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2005ء تک یہ آبادی تیس ہزار نفوس تک بڑھ چکی ہے اور اسی تناسب سے ایندھن کے لیے لکڑی، مویشیوں کے لیے چارہ اور کاشت کے لیے زمین کی طلب میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یوں قدرتی وسائل پر ان کا انحصار زیادہ بڑھا۔ اس پھيلاؤ سے وہ جنگلی حیات جو کہ پارک کا حسن ہیں اور جن کا تحفظ پارک کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے،بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اگرچہ ایندھن اور عمارت کے لیے’ گزارہ جنگلات‘ میں کمیونٹی کا حصہ ہے، لیکن بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ناجائز طریقے استعمال کرنے پر یہ عمل قانون کے تحت قابلِ گرفت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلافِ قانون حرکات پر محکمئہ جنگلات کے اہلکار مرتکب افراد کو تحویل میں لے کر عدالتی کار روائی کے لیے چالان کردیتے ہیں۔ پارک قوانین کی خلاف ورزی کے واقعات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1996ء سے لے کر2000ء کے دوران 1,273 چالان کیے گئے۔ ان میں سے 46 غیرقانونی شکار اور 188 مقدمات درختوں کی غیر قانونی کٹائی سے متعلق تھے۔ یاد رہے کہ نیشنل پارک قوانین کے مطابق پارک کی حدود میں درختوں کی کٹائی، انہیں نقصان پہنچانا، جنگلی جانور کو پکڑنا یا شکار کرنا، بندوق سےفائر کرنا، جنگلی انواع کے افزائشِ نسل کے مسکنوں میں دخل اندازی، کاشتکاری یا کان کنی سمیت کسی بھی قسم کےمقاصد کےلیےزمین پر سرگرمی اور آبی ذخائر کو آلودہ کرنا جیسے اقدامات قابلِ تعزیر جرم ہیں۔ بڑھتی ہوئی انسانی سرگرمیوں اور وسائل کےغیر دانشمندانہ استعمال کے منفی نتائج دیکھنا ہوں تو صرف یہی مثال کافی ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے عرصے میں جنگلی انواع کی کئی اقسام جن میں کالا ریچھ، مشک نافہ اور مرغ زرّیں بھی شامل ہیں، یہاں سےمعدوم ہوچکے ہیں۔

صرف یہی نہیں، جب جنگلی حیات کے مسکنوں کو نقصان پہنچنے لگا تو جانور بھی خوراک کی تلاش کے لیے اپنی حدود سے باہرنکلنے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگ گُلدار ( جسےیہ لوگ چیتا کہتےہیں) اور بندر کو یہ کہہ کر نشانہ بناتے ہیں کہ وہ ان کی فصلوں اور جانوں کے لیے خطرہ ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اس کا سبب خود انسان کی اپنی سرگرمیاں بھی ہیں، جس کےسبب یہ اپنے مسکنوں سے باہر نکلےہیں۔

ایوبیہ نیشنل پارک کےانتظام میں درپیش مسائل اور جنگلی حیات و قدرتی ماحول کو پہنچنے والے نقصانات کےتدارک اور بہترین انتظام و انصرام کے لیے’منصوبہ برائے بحالیِ ماحولیات صوبہ سرحد و پنجاب‘ جسے مختصراً ERNPکہا جاتا ہے، کے ذیلی منصوبے’بقائےقدرتی وسائل ، گلیات‘ کےتحت جنگلی حیات کےتحفظ اور ماحول کی بقا میں مقامی لوگوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں بھی شراکت دار تسلیم کیا گیا ۔ پارک کے لیے سات سالہ مینجمنٹ پلان 2002-7ء کی تیاری میں ان کے ساتھ مشاورتی عمل جاری رکھا گیا۔ یاد رہے کہ مینجمنٹ پلان عملدرآمد کے لیے حتمی طور پر منظور کیا جاچکا ہے۔

دوسری جانب یہاں آنے والے ماحول دوست سیاحوں میں پارک کی اہمیت اُجاگر کرنے کے لیے تعمیراتی کام بھی کیے گئے۔ جس کے تحت ڈونگہ گلی کے مقام پر معلوماتی مرکز قائم کیا گیا، جہاں پارک میں پائی جانے والی جنگلی حیات کے ممیائے گئے اجسام ، درختوں و نباتات کے نمونے رکھے گئے ہیں۔ ڈونگہ گلی سے ایوبیہ تک پارک کی حدود میں چار کلومیٹر کا راستہ تعمیر کیا گیا، جس پر پیدل چلنے والےسیاح قدرتی فضا سے زیادہ بہتر انداز میں لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ اس راستے میں متعدد مقامات پرسیاحوں کے سستانے کے لیے میز اور بنچیں نصب ہیں۔ خانسپور اور ڈونگہ گلی کے مقامات پر کیمپنگ گراؤنڈ اور پارک میں مختلف مقامات پر چھ ٹورسٹ ہٹ بھی تعمیر کیے جاچکے ہیں، جہاں معمولی کرایے کے عیوض قیام کیا جاسکتا ہے۔

جنگلات، جنگلی حیات اور قدرتی ماحول ہمارا مشترکہ ورثہ ہیں۔ زندگی کی رنگینیوں کو انہی سے دوام حاصل ہے، لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ قدرتی ماحول کے ورثے کی آئندہ نسلوں کو منتقلی بھی ہمارا فریضہ ہے۔ اگر مقامی آبادی اور یہاں آنے والے سیاح صرف یہی بات سوچ لیں اور پارک کےقوانین پر عملدرآمد کریں تو نہ صرف ہم قدرت کے زمین پر بکھیرے گئے رنگوں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں بلکہ اچھے انسان کی طرح یہاں کی جنگلی حیات کو بھی زندہ رہنے کا وہ حق لوٹاسکتے ہیں کہ جو آج حضرتِ انسان کی حرکتوں کےسبب مٹھی میں بند ریت کی طرح اُن کےہاتھوں سے نکلا جارہا ہے۔

 

 

محمد خورشید عباسی محکمہ جنگلی حیات صوبہ سرحد کے ایبٹ آباد ڈویژن سے بطور رینج آفیسر وابستہ ہیں۔