|
اگرچہ رسمی تعلیم کا آغاز تو اس روز ہی ہوگیا تھا جب لاکھوں سال
پہلےدورِ ارتقا میں بھٹکتے ہوئے انسان نے پہلی بارسادہ سی لکیر کھینچی ہوگی۔
یہ واقع کب ہوا، اس کے بارے میں وثوق سے کہنا مشکل ہے، تاہم ایک بات یقین
سے کہی جاسکتی ہے کہ ارتقائی عمل کے دوران تعلیم دو واضح حصوں میں تقسیم
ہوئی۔ ایک رسمی اور دوسری غیر رسمی، یوں تدریسی تعلیم کی اساس ان دو ستونوں
پر تعمیر ہوئی۔ماحولیاتی تعلیم، رسمی اور غیر رسمی دونوں تعلیمی طریقوں میں
شامل ہے۔
تدریسی، پیشہ ورانہ اور ماحولیاتی تعلیم سمیت تمام علوم کا بالعموم ایک ہی
مفہوم ہوتا ہے اور وہ ہےآگہی، تاہم رسمی تدریس اور پیشہ ورانہ تعلیم انسان
کی استعداد میں اس حد تک اضافہ کرتی ہےکہ وہ اس کے ذریعے معاشرے میں اپنے
لیے بہتر ذرائع معاش اور بہترین معیارِ زندگی حاصل کرسکے۔ اگرچہ علم کی یہ
تعریف درست نہیں،تاہم افسوس سےکہنا پڑتا ہے کہ آج تعلیم کی یہی تعریف مروج
ہو چکی ہے۔ ایسے میں ماحولیاتی تعلیم کی ذمہ داری یہ باور کروانا ہے کہ علم
صرف اپنی ذات اور گھر کی چار دیواری تک اچھا بُرا سمجھنےکی حد تک نہیں ہونا
چاہیے، بلکہ وہ سماج جس میں رہ کر زندگی بسر کی جارہی ہے، اس کا بُرا بھلا
سمجھنےکی بھی سوجھ بوجھ حاصل کی جائےاور جب آگہی حاصل ہوجائےتو یہ علم قدرتی
ماحول کی بہتری اور درپیش ماحولیاتی مسائل کا سبب بننے والے انسانوں یا انسانی
سرگرمیوں کی اصلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔
دنیا بھر میں گزشتہ ایک صدی کے دوران ہونے والی تیز رفتار سائنسی سرگرمیوں
نے جہاں ایک طرف ہمیں آرام و آسائش کی زندگی عطا کی ہے تو وہیں اس کے بعض
منفی پہلو بھی ہیں کہ جو صرف مخصوص جغرافیائی حدود تک محدود نہیں ۔ مثال
کے طور پر صنعتی ممالک میں حد سے زیادہ بڑھتی ہوئی صنعتی سرگرمیوں کےسبب
زمین کا بڑھتا ہوا درجئہ حرارت۔ اس کےعلاوہ بعض ایسے ماحولیاتی مسائل بھی
ہیں کہ جو صرف مختلف ممالک کی اپنی حدود تک ہی محدود ہیں، مثلاً فضائی آلودگی،
قلتِ آب یا پھر جنگلات کا صفایا۔ اس منظرنامے میں دنیا بھر میں دو طریقے
مروج ہوئے۔اولاً،تمام ممالک اجتماعی مسئلے کے خاتمے کے لیے متحد ہوئے، دوئم
، دنیا کے اکثر ممالک نےاپنے اپنے ماحولیاتی منظر نامے میں رہتے ہوئے مسائل
کے حل کی تلاش شروع کی
پاکستان کا شمار بھی دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے کہ جہاں شرح خواندگی
نہایت کم ہے اور عام نوعیت کے ماحولیاتی مسائل اتنی شدت کےساتھ موجود ہیں
کہ ہر آنے والےد ن کے ساتھ ان کی صورتِحال سنگین سے سنگین تر ہوتی چلی جارہی
ہے۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی، فضائی آلودگی، غیر منضبط انداز میں شہری و
دیہی علاقوں کا پھيلاو، آبی آلودگی و قلتِ آب، ہسپتالوں اور گھریلو ٹھوس
فضلےسمیت گنداب کا غلط انداز میں ٹھکانےلگائے جانا جیسے مسائل نہ صرف قدرتی
ماحول کی طرف سے ہماری غفلت کا پتا دیتے ہیں، بلکہ ان کےسبب ہماری صحت تک
داو پر لگ چکی ہے۔ ماہرینِ صحت کے متعدد تحقیقی جائزےاس بات کو ثابت کرتے
ہیں کہ ماحول کی آلودگی انسانی صحت پر جسمانی اور نفسیاتی ،دونوں انداز
میں اپنے منفی اثرات چھوڑتی ہے۔
پاکستان کےماحولیاتی مسائل کےتدارک کے لیے سرکاری اور غیرسرکاری، دونوں سطح
کام کیا جارہا ہے۔ ماحولیاتی مسائل کے خاتمے کے لیے شخصی کردار کی اہمیت کا
اندازہ
1970ء کی دہائی میں ہی لگالیا گیا تھا، جب ملک میں فروغِ آگہی کےذریعے ماحولیاتی
مسائل کی سمت توجہ مبذول کروانے کے لیے غیر رسمی کوششیں شروع ہوئیں۔ ان کوششوں
کا آغاز اس وقت سےہوا جب ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) نے پاکستان
میں اپنے کام کا آغاز کیا اور رسمی تعلیم کےنصاب میں ماحول سےمتعلق مضامین کی
شمولیت کی کوششیں شروع کیں۔ ملک میں ماحولیات سے متعلق آگاہی غیر روایتی تعلیمی
سلسلےکا حصہ رہی ہے، لیکن باضابطہ طور پر 80ء کی دہائی میں رسمی تعلیمی شعبےمیں
ماحولیاتی تعلیم کی شمولیت اس وقت ہوئی، جب مذکورہ بالا کوششوں کےنتیجےمیں اسکول
کی سطح پر نچلےدرجوں کے نصاب میں صحت و صفائی، جانوروں و نباتات سے متعلق عمومی
سطح کےمضامین شامل کیےگئے۔
1986ء میں پاکستان کی وفاقی وزارتِ تعلیم نے جنوبی ایشیا کے لیے معاون
ماحولیاتی پروگرام اور یونیسکو کےتعاون سے ملک میں ایک منصوبہ ’کوآرڈینیٹڈ
انوائرنمنٹل ایجوکیشن پراجیکٹ ‘CEEP کےنام سےشروع کیا۔ منصوبے کا مقصد اساتذہ،
تربیت کاروں، پالیسی سازوں اور منصوبہ بندی کے ماہرین کی تربیت کرنا تھا۔ اس
منصوبے کے تحت نصاب پر تحقیق، ماحولیاتی تعلیم سےمتعلق مواد کی تیاری و جانچ
کےعلاوہ ملکی، علاقائی اور عالمی سطح پر ماحولیاتی تعلیم کے میدان میں تعاون
کو فروغ دینےکےاقدامات بھی کیےگئے۔ |