پائیدار ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تعلیم اور ابلاغ اس منزل تک پہنچنے کے لیے راہ نما ہیں۔

 

تحرير: زہرہ رحمت علی

 

فرض کریں کہ ہمارے پاس ایک ٹائم مشین ہے اور یہ ہمیں آج سےصدیوں پہلےدنیا کی سیر کرواسکتی ہے۔ آئیے! اب ہم اس پرسوار ہو کر کرہ ارض کی سیر کو نکلتے ہیں۔ یہ سترہویں صدی کی دنیا ہے۔ آبادی پچاس کروڑ سے بھی کم ہے۔ کرہ خاکی کے وسائل بے پناہ اور مقدار و تعداد کےلحاظ سے ان کا استعمال بہت کم ہے۔ فطری ماحول، جنگلی حیات، قدرتی وسائل اورانسانی سرگرمیاں باہم مربوط ہیں۔ استفادہ بھرپور ہے، لیکن اصراف مفقود ہے۔ اب یہاں سے ہم ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں۔ دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے، انسانی سرگرمیوں میں تھوڑا سا ارتعاش پیدا ہوا ہے۔ قدرتی وسائل سےصرف استفادےتک ہی بات نہیں ، بلکہ ان پر اجارہ داری اور ’ضرورت سےکہیں زیادہ‘ کےحصول کی نوبت آچکی ہے۔ انقلاب کا وہ بھنور اٹھ رہا ہے جو اگلی صدیوں میں ’صنعتی انقلاب‘ سےجانا جائےگا، لیکن ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ اپنےجس قدرتی ورثےکو وہ اس بھنور کی

ماحولياتی تعليم: نظريہ و فکر --- تاريخی جائزہ

دنیا میں پہلی بار باقاعدہ طور پر ’ماحولیاتی تعلیم ‘کی اصطلاح1947ء میں پال اور پریمال کی مشترکہ تصنیف’ کمیونیٹاز‘ کےذریعےسامنےآئی۔ اس اصطلاح کی زیادہ صراحت سےتعریف 1948ء میں پیرس میں منعقدہ بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این کے اجلاس میں کی گئی   --- مزيد پڑھيے۔

 

ذرائع ابلاغ --- پائيدار ترقی کے حصول کا اہم ستون

گیارہ سالہ حاتم کراچی کا میں رہتا ہے۔ اس نے اپنی گلی کےکونے پر تین سال پہلے ایک پودا لگایا۔ آوارہ کتے بلیوں،گاڑیوں اور راہ گیروں سے بچانے کے لیے پودے کے گرد حفاظتی باڑھ باندھی --- مزيد پڑھيے

 

ماحولياتی تعليم کی تعريف اور مقاصد

بلغراد میں منعقدہ ماحولیاتی تعلیم ورکشاپ میں ماحولیاتی تعلیم کی ایک تعریف پیش کی گئی ، جسے1977ء میں اس وقت کی سوویت ریاست جارجیا کےشہر تبلیسی میں منعقدہ ماحولیاتی تعلیم کی پہلی کانفرنس ميں ترمیم کے بعد یوں بیان کیا گیا --- مزيد پڑھيے

 

اين سی ايس اور ابلاغ ِماحول

بقائےماحول کی قومی حکمتِ عملی NCS ، 1992ء حکومتِ پاکستان کی منظور کردہ وہ پہلی دستاویز ہے، جس میں ماحولیاتی تعلیم کو ’رویوں میں تبدیلی لانے کا سب سے اہم ذریعہ‘ قرار دیا گیا --- مزيد پڑھيے۔

نظرکررہے ہیں ، یقینا یہ انہیں اوراگلی چند  نسلوں کو خوشحالی،آسودگی اور جدت تو بخش دے گا، مگر ایک دو صدیوں کےبعد ان کےسپرد کی گئی فطرت کی کروڑوں سال کی مہربانیوں کا ثمر اس بری طرح برباد ہوچکا ہوگا کہ یہ ان کی آنےوالی نسلوں کےلیے بہت ہی محدود مقدار میں قابلِ استفادہ ہوگا۔

ارتقا، حیات کا لازمی عنصر ہے، لیکن صنعتی انقلاب نے جہاں تیز رفتار ترقی کی نئی راہیں کھولیں، وہیں اس ترقی کو سہارا دینے کے لیے قدرتی وسائل کے استعمال پر انسانی سرگرمیوں کا انحصار بھی تیزی سےبڑھا۔ مثلاً صنعتی دور سے قبل کوئلے پر انسانی سرگرمیوں کاانحصار واجبی سا تھا، جو بعد میں بےتحاشہ بڑھتا چلا گیا۔اسی طرح دیگر قدرتی وسائل یعنی جنگلات و جنگلی حیات، معدنیات اور آب پر پڑنےوالےدباو میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا، جو بدستورجاری و ساری ہے۔

تیزی سےبڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی و رہائشی ضروریات، سائنسی ایجادات کی بدولت زندگی گذارنےکا سہل پسند انداز اور ان سب کے لیے قدرتی وسائل پر برداشت سے زیادہ ڈالا جانے والا بوجھ.... یہ وہ عناصر ہیں کہ جنہوں نےکرہ خاکی پر فطرت کےفراہم کردہ ماحول کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔انسانی تاریخ میں آج کا یہ دور جس کی ابتدا صنعتی انقلاب سےہوئی، ترقی و تمدن کےاعتبار سے وہ دور ہے جس نےارتقا کےسفر میں بہت تھوڑےعرصے میں ہی یہ منزل حاصل کرلی، لیکن اس کےساتھ یہ حقیقت بھی نہایت تلخ ہے کہ ’ترقی‘ کے حصول کےاس قلیل المدتی دور میں انسان نے کرہ ارض کےفطری ماحول اور قدرتی وسائل کا جس بےرحمانہ انداز میں اصراف کیا ہے، اس کی انسانی تاریخ میں پہلےکوئی نظیر نہیں ملتی۔

ترقی کے اس سفر میں جب انسان نےنئی نئی راہیں تلاش کیں تو ’توازن‘ اور ’دانشمندانہ استعمال‘ کو پسِ پشت ڈال کر استفادہ کرنا شروع کیا، حتیٰ کہ آج وہ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی ہی ترقی کی قیمت اپنے ماحول کی قیمت دے کر چکارہے ہیں۔ ماحول ایک ایسی چھتری ہے کہ جس کےدائرے میں ہم سب موجود ہیں، اب خود سوچیں کہ سر پر چھتری کی طرح سایہ فگن شئے کی قیمت پر جو چیز حاصل ہوگی، کیا یہ ایسا ہی عمل نہیں کہ جس شاخ پربسیرا ہو، اسےہی کاٹا جائے۔

اس سال کے وسط میں ناروے کےشہر اوسلو میں دنیا بھر ے 95 ممالک سے ڈیڑھ ہزار کے لگبھگ کرہ ارضاس پرانسانی سرگرمیوں کے سبب رونما ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنے والے محققین جمع ہوئے۔ اس موقع پر جاری کردہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا:

”گزشتہ نصف صدی کے دوران انسانی سرگرمیوں میں اضافےکی تیز رفتار شرح کےنتیجےمیں کرہ ارض کا تین تہائی ماحولیاتی نظام بُری طرح متاثر ہوا ہے، ان میں صاف ہوا سے لے کر تازہ پانی اور زمینی حیاتیاتی انواع سے لے کر آبی حیات تک شامل ہیں۔انسانی سرگرمیوں میں اضافے نے زمین کے ماحولیاتی نظام کی نشو و نما میں رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں۔اگر ہم آنے والی نسلوں کی بقا اور قدرتی وسائل پر ان کےاستفادے کے حق کو تسلیم کرتے ہیں تو پھر سنجیدگی سےان مسائل کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔“

اوسلو میں جن فکر انگیز حقائق کی جانب کرہ ارض کے باشندوں کی توجہ دلائی گئی ہے، وہ بہت پہلےہی محسوس کیے جانے لگے تھے، لیکن اُس وقت ان کی شدت اتنی سنگین نہ تھی کہ جتنی آج ہے۔ یہاں ماہرینِ ماحولیات اور سائنسدانوں نے جن فکر انگیز مسائل کی جانب توجہ دلائی ہے، ان کےتدارک کےلیے دو راستے نکلتے ہیں۔ اول عالمی اور حکو متی سطح پر اقدامات، جو کہ یقیناً بہت پہلے سے کیے جارہے ہیں اور آج ان سرگرمیوں میں اور زیادہ تیزی آچکی ہے، دوسرا انفرادی سطح پر ماحولیاتی شعور کی بیداری اور اس سوچ کو فروغ دینا کہ ان مسائل کےحل میں ہم اپنا کردار بھی ادا کرسکتےہیں۔ انفرادی شعور کی بیداری اورکرہ ارض کے باسیوں کو درپیش مسائل کےتدارک میں شامل کرنےکےدو موثر ذریعے ہیں، اول ماحولیاتی تعلیم اور دوسرا ابلاغ۔