دنیا میں پہلی بار باقاعدہ طور پر ’ماحولیاتی تعلیم ‘کی اصطلاح1947ء میں پال اور پریمال کی مشترکہ تصنیف’ کمیونیٹاز‘ کےذریعےسامنےآئی۔ اس اصطلاح کی زیادہ صراحت سےتعریف 1948ء میں پیرس میں منعقدہ بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این کے اجلاس میں کی گئی۔ ماحولیاتی تعلیم کی پہلی جامع تعریف آئی یو سی این اور اقوامِ متحدہ کےتعلیمی ، سائنسی و ثقافتی ادارے یونیسکو نے مشترکہ طور پر 1970ء میں امریکی شہر نیواڈا میں ’ماحولیاتی تعلیم اور تعلیمی اداروں کےنصاب‘ کے موضوع پر منعقدہ عالمی مجلسِ عاملہ (ورکنگ کمیٹی) کےاجلاس میں پیش کی۔

یہ وہ دور تھا کہ جب ماحولیاتی مسائل اور ان کےتدارک کے لیے ماحولیاتی تعلیم کی اہمیت و افادیت کا نہایت واضح ادراک کیا جاچکا تھا۔پچھلی صدی کےنصف میں جب سے عالمی سطح پر ماحول اور اس کےتحفظ و بقا سے متعلق گفت و شنید کا آغاز ہوا، تب سے ہی ماحولیات سے متعلق معلومات و مہارتوں کو تعلیمی سلسلے سے جوڑنے کا فیصلہ کیا گیا ،تاکہ آنے والی نسلوں میں ماحول دوست رویوں کو فروغ دیا جا سکے۔

1972ءمیں انسان و ماحول کے موضوع پر ہونے والی اسٹاک ہوم کانفرنس میں ماحولیاتی تعلیم کے لیے ایک ایسے عالمی پروگرام کو مرتب کرنے پر زور دیا گیا تھا جو مربوط ہو اور نہ صرف اسکول بلکہ ہرسطح پرتعلیمی سلسلے سے جڑا ہو ۔ نیز اس کا رُخ عوامی آگاہی اور شعور سے پُر ہو۔ اس کانفرنس کےاعلامیہ میں کہا گیا تھا:

”اس بات کی سفارش کی جاتی ہے کہ سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ سے منسلک مختلف ادارے خصوصاً یونیسکو اور دیگر متعلقہ عالمی اداروں کو مشاورت اور باہمی رضا مندی کے ذریعے ماحولیاتی تعلیم کے لیے ایک عالمگیر نوعیت کا پروگرام مرتب کرنا چاہیے۔ یہ پروگرام بین المضامین طریقئہ کار پر مبنی ہو، اسکول اور اس کی حدود سے باہر تعلیم کی تمام سطحوں کا احاطہ کیےہو اورعوام کی طرف مرکوز ہو، بالخصوص عام شہریوں کے لیے جو شہروں اور دیہاتوں میں رہتےہیں۔نوجوانوں و بالغ افراد کو یکساں طور پر سادہ طریقئہ کار پر مبنی اس تعلیمی نظام سے منسلک کرنا چاہیے، جو ان کے موجودہ وسائل کے ذریعے ماحول کے بہتر انتظام اور ماحولیاتی مسائل پر قابو پانےمیں ان کی مدد کرسکے۔“

اسٹاک ہوم کانفرنس دنیا میں ماحولیاتی تعلیم کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کو تیز کرنےکا سبب بنی، اور چند برسوں کےبعد ہی1975ء میں اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرامUNEP کا قیام عمل میںآیا، بعد ازاں اس ادارے نے یونیسکو کےساتھ مل کر ’عالمی ماحولیاتی تعلیمی پروگرام‘ IEEPکی بنیاد رکھی۔ IEEPکی پہلی ماحولیاتی تعلیمی ورکشاپ اکتوبر1975ءمیں بلغراد میں منعقد ہوئی۔ اس ورکشاپ میں ’بلغراد چارٹر:ڈھانچہ برائےماحولیاتی تعلیم‘ منظور کیا گیا۔

1992 ء میں برازیل کےدارالحکومت ریو ڈی جنیرو میں اقوامِ متحدہ کی ’ماحول اور ترقی‘ کےموضوع پر منعقدہ کانفرنس میں ’پائیدار ترقی ‘کو مرکزی موضوع کی حیثیت سے زیرِ بحث لایا گیا۔ ساتھ ہی مروجہ ماحولیاتی تعلیم کےدائرئہ کار کو وسیع کرتے ہوئے اس میں سماجی اور معاشی پہلوؤں کی شمولیت کی جانب توجہ دلائی گئی۔ تاکہ ان تین جہتوں (ماحولیاتی تعلیم، سماجیات اور معاشیات) میں مربوط رابطے کے ساتھ پائیدار مستقبل کی سمت پیش قدمی کی جاسکے۔ اس کانفرنس کے نتیجے میں طے پانے والے’ایجنڈا21‘ کے چھتیسویں باب میں پائیدار ترقی کے لیے ماحولیاتی تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیاہے:
”....پائیدار ترقی کے موثر ہونے کے لیے ماحول و ترقی کی تعلیم کو طبعی اور حیاتیاتی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ سماجی ، معاشی، ماحول اور انسانی ترقی (بشمول روحانی ترقی) کےطریقئہ کار کو واضح کرنا ہوگا۔“

یوں اس کانفرنس نے نسبتاً نئے لیکن طویل عرصے سے بحث ومباحثے کا مرکز بنے رہنے والے موضوع ’پائیدار ترقی‘ کو ابھارا اور ماحولیاتی، سماجی اور معاشی پہلوئوں کو پائیدار ترقی کے اہم ستونوں کی صورت میں سامنےلا کر نہ صرف ترقیاتی شعبوں کو پائیدار بنانے کے لئے اہم معیار متعین ہوئی،بلکہ دنیا بھر میں ماحولیاتی تحریک سے منسلک تنظیموں نے بھی پائیدار ترقی پر کام کرنا شروع کردیا۔ اس سے ایک طرف تو ماحولیاتی بگاڑ کے معاشی اثرات کےتعین نے زور پکڑا تو دوسری طرف ماحولیاتی بقا کے منصوبوں میں معاشی ،معاشرتی ،اور سماجی پہلوئوں کو بھی مدِنظر رکھا گیا ۔ علاوہ ازیں انسانی حقوق، آبادی میں اضافی، صحت خصوصاًایڈز ، امن، حیا تیاتی تنوع، ماحولیات اور عالمی معاہدوں سےمتعلق آگہی کو تعلیمی سلسلوں میں ساتھ لےکر چلنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس پیش قدمی نے ماحولیاتی تعلیم کو ’تعلیم برائےپائیدار ترقی‘ کا بھی ذمےدار ٹہرا کر اس کا دامن اور وسیع کردیا۔ اب ماحولیاتی تعلیم کا مقصد معاشی، ماحولیاتی اور سماجی توازن کو برقرار رکھتے ہوئے فیصلہ سازی اور تحفظِ مستقبل و ماحول کی فکر کو بھی پروان چڑھانا تھا۔

ریو کانفرنس کےانعقاد کےدس برس بعد ’تعلیم برائےپائیدار ترقی‘ کی اہمیت کےپیشِ نظر اقوامِ متحدہ نے2005-14ءتک’ عشرئہ تعلیم برائےپائیدار ترقی‘ منانےکا فیصلہ کیا ، تاکہ اس نظریےکو مزید تقویت اور رکن ممالک کےحوالےسےاقدامات کو جامع شکل دی جا سکے۔اقوامِ متحدہ نےاس کےانتظامات کی ذمےداری اپنے ذیلی ادارے یونیسکو UNESCOکےسپرد کی ہی۔ اس حوالےسےیونیسکونے نفاذی حکمتِ عملی کا ایک مسودہ بھی تیار کیا ہے، جس کےمختلف اقدامات میں تعلیم برائےپائیدار ترقی سےمتعلق ملکی سطح پر حکمتِ عملی تیار کرنےپر زور دیاگیا ہے۔’تعلیم برائےپائیدار ترقی‘ ماحولیاتی تعلیم کےدورِ ارتقا کی سامنےآنےوالی تازہ ترین شکل ہے۔

ماہرین کا خیال ہے’کہ تعلیم برائےپائیدار ترقی‘ ماحولیاتی تعلیم کےگزشتہ مروج طریقوں سےکچھ یوں مختلف ہےکہ یہ شمولیت والی تعلیم inclusive educationکی طرف دلالت کرتاہے، جو منصفانہ مساوات و باہمی احترام، جمہوریت اور امن کےتقاضوں کو ملحوظ ر کھتےہوئےلوگوں کی استعداد میں اضافہ کرتی ہی، تا کہ وہ پائیدار مستقبل کےلیےمناسب اور موزوں فیصلہ سازی کر سکیں۔یہ تعلیم ماحولیاتی معیار، انسانی معیار، حقوقِ انسانی ، امن اور اس کے تحت بُنے گئے سیاسی تانے بانے کے درمیان تعلق پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ اس کےعلاوہ یہ تعلیم، خوراک کےتحفظ، غربت،پائیدار ماحولیاتی سیاحت،شہری زندگی کا معیار ،صنف،غیرمنصفانہ تجارت، ماحولیاتی پائیدار صارفیت، ماحولیاتی عوامی صحت اور کوڑے کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے مناسب بندوبست کےساتھ ساتھ موسمی تبدیلیوں ،جنگلات کےکٹائو،زمین بُردگی،صحرا زدگی ، قدرتی وسائل کی تباہی اور حیاتیاتی تنوع کی کمی جیسے مسائل کو بھی بنیادی اہمیت دیتی ہی۔

زہرہ رحمت علی

 

 

 

 

             ماحولياتی تعليم اور اِبلاغ