|
زمین کے ورق پر
بکھرے کھنڈر، ویران عمارتیں اور شاندار آثارِ قدیمہ انسان کو کسی بزرگ کی
طرح یہ ڈھارس دیتے ہیں کہ وہ تنہا نہیں،اس کی جڑیں ماضی سے پیوستہ ہیں۔ یہی
سبب ہے کہ دنیا بھر میں لوگ اپنی سرزمین پر پائے گئےآثارِ ماضی کی نہ صرف
حفاظت کرتے ہیں، بلکہ ان پر فخر کے ساتھ تحقیق کرکے وہ سب کچھ جان لینے کی
جستجو بھی کرتے ہیں کہ جس میں اس عہد کے لوگ زندگی بسر کرتےتھے۔پاکستان دنیا
کے ان خوش نصیب خطّوں میں واقع ہے کہ جس کی سرزمین پر نہ صرف حیات کے ابتدائی
ادوار کےآثار ملے ہیں، بلکہ یہاں متعدد تہذیبیں، رسم و روایات، علم و فکر
اور زبان و ادب نے جنم لیا اور پروان چڑھے۔پاکستان میں تہذیبوں کی ارتقائی
تاریخ میں ایک نام ’کوٹ ڈیجی‘ کا بھی ہے۔
کوٹ ڈیجی ضلع خیرپور (سندھ) کی ایک تحصیل ہے اور قومی شاہراہ کے کنارے واقع
یہ علاقہ آج چھوٹا سا قصبہ بن کر رہ گیا
ہے، لیکن تاریخ
دانوں اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کےنزدیک اس کی اہمیت ہڑپہ اور موئن جو ڈرو
سے کسی طور بھی کم
نہیں۔ یہیں ایک ٹیلے کو’ ڈیجی جو ڈرو‘ کےنام سے پکارا جاتا ہے۔قیام پاکستان
کے بعد کے ابتدائی برسوں میں جب اس ٹیلے پر کھدائی کی گئی اور یہاں سے
ملنے والےآثاروں پر تحقیق ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ آثار اٹھائیس سو قبل
مسیح تک
قدیم ہیں۔ یہاں سے ملنے والے مٹی کے برتن، اُن پر بنےنقش و نگار اور نہر
کےآثار پر تحقیق کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وادیِ سندھ کی سب سے قدیم
ترین تہذیب ہے اور اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہی وہ تہذیب ہے کہ
جس کا فن مستعار لے کر ہڑپہ اور موئن جو ڈرو کی تہذیبیں پروان چڑھی تھیں۔
یاد رہے کہ ’ڈیجی جو ڈرو‘ سے صرف چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر موئن جو ڈرو
کےآثار موجود ہیں ، لیکن آج یہ مقام اور قصبہ دونوں ہماری غفلت اور عدم
توجہی کا شکار ہیں۔
سندھ کےآخری حکمران خاندان ’تالپر‘ کےعہد حکومت میں خیرپور ایک ریاست تھی
اور کوٹ ڈیجی اس ریاست کا پایہ تخت۔ ڈیجی جو ڈرو کے بالکل سامنے قائم قلعہ
حکمران خاندان کے اقتدار کا سرچشمہ تھا۔ کہتےہیں یہ قلعہ1803ء میں اُس
وقت کےتالپر حکمران میر سہراب علی خان نے بنوایا تھا۔ قلعہ کیوں تعمیر
کروایا
گیا۔ اس کےمتعلق بھی ایک دلچسپ روایت ملتی ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ یہ وہ
دور تھا کہ جب جیسلمیر میں کئی برسوں کی خشک سالی نے صحرا کے مکینوں کو
بقائے حیات کے لیے ہجرت پر مجبور کردیا۔ جیسلمیر کے لوگ قلعہ سازی اور
پتھروں پر
نقش کاری کےماہر تھے۔ اُس وقت کوٹ ڈیجی ایک راجہ کا تخت ، سرسبز و شاداب
اور ہری بھری چراگاہوں سے پُر ہوا کرتا تھا۔ اس لیے اونٹوں پر آنے والوں
نے یہاں کا رُخ کیا اور راج دربار میں جا پہنچے۔ ان کا مقصد راجہ سے زندگی
بسر کرنےکےلیے مدد طلب کرنا تھا، لیکن جب میر سہراب علی نے ان کی درخواست
سنی تو اسےاچھا نہ لگا کہ وہ فنکاروں کو مدد کےنام پر بھیک دے۔ وہ ان کی
عزتِ نفس کو تکلیف دینا نہیں چاہتا تھا۔ اس لیےانہيں ںپیشکش کی گئی کہ
وہ یہاں رہیں اور فوجی لحاظ سے ایک مضبوط قلعہ تعمیر کردیں۔ اس کےعیوض کھانے
پینے اور رہنے کے لیے جگہ مل
جائے گی۔ان لوگوں کو جب یہاں عزت کےساتھ فن کے جوہر دکھانے کا موقع ملا تو
ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ یوں چھبیس بر س میں سیکڑوں لوگوں کی محنت
سے وہ فن پارہ تخلیق ہوا کہ جسے نہ صرف اُس وقت بلکہ آج بھی سندھ میں عسکری
لحاظ سےمضبوط قلعہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ بعض مورخین اس روایت سے اتفاق نہیں
کرتے۔ ان کے خیال میں قلعے کی تعمیر سومرہ عہدِ حکومت سے پہلے ہوئی البتہ
یہ اتفاق ضرور پایا جاتا ہے کہ سرخ چپٹی اور پختہ اینٹوں سےتعمیر ہونے والے
اس قلعے میں راجستھانی فنِ تعمیر کی جھلک ضرور موجود ہے۔
اونچی پہاڑی پر بنے ہوئے اس قلعے کا رقبہ 85ہزار،730مربع میٹر ہے۔ قلعے
میں داخل ہونے کے لیے پُر پیچ چوڑی راہداریوں سے ہوتے ہوئے اونچے اونچے
تین دروازوں
سے گزرنا پڑتا ہے۔ کواڑوں پر لوہے کی موٹی موٹی میخیں ٹھونک کر انہیں محفوظ
بنایا گیا ہے، تاکہ کبھی حملہ آور اپنے ہاتھیوں کی ٹکر سے ان دروازوں کو
توڑ نہ سکیں۔قلعے کے اندر نگرانی کے لیے سات برج ہیں، جن سےاطراف کے میلوں
دور علاقے کا منظر نہایت واضح نظر آتا ہے۔ ان برجوں کے نام مریم، صفا صفا،
دکن دکا، شیداں، جیسلمیر، ملک مدان اور پرتگازی ہیں۔ ان ساتوں برجوں میں
بڑے بڑے دہانوں والی توپیں نصب تھیں، جہاں ہر وقت درجنوں محافظ موجود رہتےتھے۔
قلعے کی دیواریں پندرہ سے بیس فٹ بُلند ہیں اور ان کی چوڑائی چار سے پانچ
فٹ کی ہے، جس پر گھڑ سوار بہ آسانی دوڑ سکتے ہیں۔ قلعے کےاندر داخل ہونے
پر نہایت کشادہ میدان ہے، جہاں سے قلعے کے مختلف حصوں تک پہنچا جاسکتا
ہے۔ کہتے ہیں کہ قلعے سے نکلنے کے لیے بعض خفیہ راستے بھی بنائے گئے تھے،
تاہم
ایک عام سیاح کے لیے وہاں تک پہنچنا تقریباً نا ممکن ہے۔
قلعہ دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک رہائشی اور دوسرا انتظامی و عسکری۔ عسکری
حصے میں پانچ کنویں اور پانی ذخیرہ کرنے کے ایک بہت بڑےتالاب کےعلاوہ ایک
جیل اور اسلحہ خانہ بھی ہے۔ یہیں فتح مینار بھی ہے، مگر تاریخ گواہ ہے
کہ اس پر کوئی فاتح اپنا پرچم نہیں لہراسکا، کیوں کہ نہ تو کبھی قلعےکےاندر
بغاوت ہوئی اور نہ ہی باہر کوئی رن پڑا۔حرم سرا قلعے کے بُلند ترین مقام
پر واقع ہے۔ یہیں سنگِ زرد سے بنی بارہ دری موجود ہے، جس کےستونوں پر ہتھوڑی
اور چھینی کی مدد سے نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔ اس کی بلندی اتنی ہے کہ
چبوترے
پر بیٹھیں تو نگاہ فصیلوں کے پار چہار اطراف بھٹکتی ہی رہتی ہے۔ ریاست
کےتالپر حکمران یہاں محفلِ خاص جماتے اور ڈھلتی شام میں اطراف کےنظاروں
سےلطف اندوز
ہوا کرتےتھے۔ حرم سرا اور بارہ دری کی تعمیر میں مغلیہ فنِ تعمیر کی واضح
جھلک موجود ہے۔
1955ء تک خیرپور آزاد ریاست رہا،تاہم اسی برس تالپر حکمرانوں نے اسے پاکستان
میں ضم کرنےکا فیصلہ کیا۔ انضمام کے چند برسوں کےاندر ہی شاہی خاندان کے
زیادہ تر لوگ کراچی یا پھر بیرونِ ملک منتقل ہوگئے اور یوں قلعہ ویران
اور دارالحکومت کوٹ ڈیجی سنسان ہوتا چلا گیا، حتیٰ کہ ریاستی پایہ تخت
کو ضلعی
صدر مقام کا بھی درجہ نہیں مل سکا۔
یوں آج کوٹ ڈیجی ایک تحصیل ہے اور اس کے کنارے قائم قلعہ محکمئہ آثارِ
قدیمہ کی نگرانی میں ہے۔ قلعہ آج جس حالت میں موجود ہے، وہ نہایت تکلیف
دہ ہے۔
قلعے کی شان و شوکت کی بحالی کے متعدد منصوبے بنائے جاتے رہے ہیں، لیکن
عملاً کچھ نظر نہیں آتا۔ ہا ں ایک بات ضرور ہوئی ہے۔ قلعے کے احاطے میں
موجود ایک
کنویں کی چار دیواری کی مر مت ہورہی ہے، لیکن ماہرینِ تعمیرات کی نگرانی
کے بغیر عام مزدوروں کے ہاتھوں۔ یہیں بیت الخلا بھی بنادیا گیا ہے۔ یہ
الگ بات کہ1992ء میں بارشو ں کےسبب حرم سرا کی چھت بیٹھی تو پھر بیٹھی
ہی رہ
گئی۔ مرمت کے لیے اب تک کوئی سامنے نہ آیا۔ شاہی حرم سرا جس کےبرآمدوں
پر ریشمی پردےلہراتےتھے اور مسلح محافظوں کی موجودگی میں کوئی نامحرم جہاں
داخل
نہیں ہوسکتا تھا، اب وہاں شکستہ دیواروں سے ہوائیں سنسناتی ہوئی گذرتی
ہیں ۔ وہ کمرے جن کی دیواریں نقش و نگار سےمرصع تھیں اور جہاں شاہی خواتین
دیواروں
پر شمع کی جھلملاتی روشنی میں استراحت فرما ہوتی تھیں، بعد کےآنے والوں
کی غفلت اور موسموں کی بےرحمی کی نظر ہورہی ہیں ۔ آنے جانے والے لوگ ان نقش
و نگار اور موتیوں کو اکھاڑ کر لے جاتے رہے۔ ایسی ہی ایک دیوار دیکھی، جس
پر موتی اور کامدار
شیشے کے ٹکڑے تو باقی نہیں بچے تھے،البتہ خوبصورت نقش و نگار ضرورموجود تھے۔
یہ نقش و نگار اکھاڑے تو نہیں جاسکتے، اسی لیے کسی دل جلےناکام مہم جو نےان
پر چونا پوت کر تاریخ کےحُسن کو ماند کرڈالا۔
قلعے کا مرکزی دروازہ جہاں کبھی درجنوں مسلح گھڑ سوارپہرا دیتےتھے، آج
وہاں صرف نہتا قلعہ دار ممتاز جانوری ٹوٹی ہوئی کرسی پر سالخوردہ دروازے
کے برابر
میں جھڑتے ہوئے پلستر کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا رہتا ہے۔ اس کا خاندان
صدیوں سےیہاں محافظ کےفرائض انجام دیتا رہا ہے۔ یہی سیاحوں کی رہنمائی
کرتا ہے۔ قلعےکی عظمتِ رفتہ کا ذکر کرو تو ممتازکی آنکھ سےصرف دو آنسو
ہی نکلتے
ہیں۔ دل کی تسلی کے لیے یہی بہت ہے کہ ایک قلعہ دار تو موجود ہی،البتہ
اس کی تنخواہ راجہ نہیں محکمئہ آثارِ قدیمہ کےذمے ہے۔ مگر ممتاز بے چارہ
اکیلا
کیا کرے۔ موسموں ، سیاحوں اور محکمے پر اس کا کوئی بس نہیں چلتا۔آخر تنہا
قلعہ دار کرے تو کیا کرے!!!
|