|
گیارہ سالہ حاتم
کراچی کا میں رہتا ہے۔ اس نے اپنی گلی کےکونے پر تین سال پہلے ایک پودا لگایا۔
آوارہ کتے بلیوں،گاڑیوں اور راہ گیروں سے بچانے کے لیے پودے کے گرد حفاظتی
باڑھ باندھی، وقت پر پانی دیا اور جب بھی وقت ملا جا کر اس کی صحت کا جائزہ
لیتا رہا۔ آج وہ درخت اتنا بڑا ہوچکا ہے کہ حاتم کو اس نگرانی کی ضرورت محسوس
نہیں ہوتی۔ اب حاتم نے ایک اور پودا لگایا اور پچھلا چکر دوبارہ چل پڑا ہے۔
اسے یہ خیال کیسےآیا، اس بارے میں حاتم کا کہنا ہے:
”میرےاسکول میں یومِ شجر کاری منایا گیا۔ دوسرے دن ٹیچر نے ہمیں بتایا کہ
آج شام ٹی وی کی مقامی خبروں میں تقریب کی فلم دکھائی جائےگی۔ میں بھی وقت
مقررہ پر ٹی وی کےسامنے بیٹھ گیا۔ واقعی خبروں میں ہماری تقریب کی بہت مختصر
سی فلم دکھائی گئی۔ بس یہیں مجھے خیال آیا کہ اگر پودے لگانا اتنا اچھا اور
بڑا کام ہے کہ اس کی خبر ٹی وی پر دکھائی جائےتو کیوں نہ میں یہ اچھا کام
کرتا رہوں۔۔۔بس اب ایک پودا بڑا ہوا تو میں نےدوسرا پودا لگادیا۔ جب یہ بھی
بڑا ہوجائے گا تو میں تیسرا پودا لگاؤں گا، کیونکہ اچھا کام تو ہمیشہ کرتے
رہنا چاہیے۔“
اصطلاحی طور پرموجودہ دور کو اطلاعات Informationاور ابلاغِ عامہ Communication
کا دور کہا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی ترقی اور ابلاغ کےنِت نئے طریقوں کے
باعث دنیا سمٹ کر ایک گاؤں جيسی ہوگئی ہے، جہاں کسی بھی کونے میں ہونے والا
واقع چند لمحوں میں ساری دنیا کو معلوم ہوجاتا ہے۔ غرضیکہ اطلاعات کا ایک
سیلاب ہے کہ جو لمحہ بھر تھمے بنا ہم تک پہنچنے کے لیے بیتاب رہتا ہے۔ اثر
انگیز ابلاغ کی ایک مثال حاتم بھی ہے،لیکن اس کےساتھ ایک حقیقت یہ بھی ہے
کہ اطلاعات اور اثر انگیزی کےدرمیان وہ ربط بہت کم موجود ہےکہ جو موثرابلاغِ
عامہ کا کردار ادا کرتا ہے۔
انگریزی زبان کا لفظ Communication ابلاغِ عامہ کے لیے اتنا استعمال ہوا
ہےکہ عمومی طور پر اب اس کے معنیٰ مطبوعہ، سمعی اور بصری اطلاعاتی ذرائع
کے لیے مخصوص سمجھے جانے لگے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس لفظ کا دامن اس
سے کہیں وسیع ہے، مگر افسوس کہ روز مرہ صورتِحال اور سیاسی حالات و واقعات
کی اطلاعات رسانی کےاس دور میں اس لفظ کے حقیقی معنیٰ اور وسعت کہیں کھوگئےہیں۔
آج جب ابلاغِ عامہ کی بات کی جاتی ہےتو عموماً اس کی جڑیں صرف چند صدیوں
قبل کےاُس دور میں تلاش کی جاتی ہیں کہ جب چھاپہ خانہ کی ایجاد ہوئی اور
کاغذ پر طباعت کے ذریعے اطلاعات کےفروغِ عام کا سلسلہ شروع ہوا۔لیکن در حقیقت
ابلاغ کی اثر انگیزی کا آغاز اس وقت ہی ہوگیا تھا، جب کرئہ ارض پر اولین
دو انسانوں نے ایک دوسرے کو جاننے کے لیے اشاروں کی زبان میں بات چیت کا
آغاز کیا تھا۔ زمانہ قبل از تاریخ میں بھی ابلاغ حالات کی عکاسی اور درپیش
مسائل کےاظہار کا موثر ذریعہ رہا ہے۔ غاروں میں آڑھی ترچھی لکیروں کے ذریعے
جانوروں اور اطراف کے منظرنامے کو بیان کرتی ہوئی اشکال اُس دور کے انسان
کے موثر طریقئہ ابلاغ کا ثبوت ہیں، جس میں ہم آج بھی اُن کے دور کو دیکھ
سکتےہیں۔
آج کی تیز رفتار زندگی میں ذرائع ابلاغ کی اثر انگیزی کے حوالے سے ماہرینِ
ابلاغیات کا کہنا ہے کہ یہی وہ موثر ذریعہ ہے جو عوام کو درپیش مسائل کی
نشاندہی کرنے کے ساتھ ان پر بحث و فکر کے نِت نئے دروازے کھولتا ہے۔ ماحول
کے حوالے سے ہم دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ 1972ء تک اس موضوع کو دنیا کے کسی
بھی ملک میں سنجیدہ اہمیت حاصل نہیں تھی، لیکن اِسی سال جب اقوامِ متحدہ
نے ماحولیات کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لیے ایک تحریک کی ابتدا کی تو ترقی
یافتہ معاشروں کےذرائع ابلاغ نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے عوام کو
صاف ستھرے ماحول، جنگلات، سبزے کی اہمیت، جنگلی حیات کےتحفظ اور خود انسان
کی اپنی بقا کےلیے ان تمام عوامل کی اہمیت پر عوامی شعور کوبیدارکیا۔
پاکستان میں آزادی کےچند برسوں بعد تک محدود تعداد میں شائع ہونے والے اخبارات
اور سرکاری انتظام میں چلنے والے ریڈیو اور ٹیلی وژن ہی ذرائع ابلاغ کی نمائندگی
کرتے رہے ہیں، لیکن آزادی کے پانچ عشروں کے بعد آج صورتِحال یکسر مختلف ہے۔
بڑی تعداد میں اخبارات و رسائل اور سرکاری ریڈیو اورٹیلی وژن کے متعدد چینلوں
کےعلاوہ بڑی تعداد میں کیبل ٹیلی وژن چینل موجود ہیں۔ ایف ایم ریڈیو چل رہے
ہیں اور ان سب کی نگرانی کے لیے باقاعدہ طور پر ’پاکستان الیکٹرانک میڈیا
ریگولیٹری اتھارٹی‘ (پیمرا) کے نام سے ایک علیحدہ محکمہ بھی موجود ہے۔ ان
سب کے باوجود اگر یہ کہا جائے کہ ہم اب تک ترقی یافتہ معاشروں میں ستر کی
دہائی میں ماحول کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کے عشرِ عشیر تک بھی نہ
پہنچ پائے ہیں، تو یہ کہنا کچھ غلط نہ ہوگا۔ چاہےاخبارات و رسائل ہوں یا
جدید الیکٹرانک ذرائع ابلاغ، دونوں میں ہی نہ صرف ماحولیاتی موضوعات کا فقدان
ہے بلکہ مسائل اور ٹھوس حقائق پر مبنی تحقیقاتی رپورٹیں تو نہ ہونے کے برابر
ہیں۔
پاکستان کو درپیش ماحولیاتی مسائل اور ان سےنبرد آزما ہونے کےساتھ ساتھ پائیدار
ترقی کی سمت پیش قدمی کے لیے اگرچہ عالمی اداروں کےتعاون، حکومت کی کوششوں
اور غیر سرکار اداروں کےاشتراک سے متعدد ثمر آور کوششیں ہورہی ہیں، لیکن
ان سب کے مابین موثر عوامی شرکت کی عدم موجودگی یا کم شرکت ان منصوبوں کی
رفتار کو سست کررہی ہے۔ ذرائع ابلاغ خالصتاً ’تجارت‘ اور’ ٹھوس منافع‘ کے
اصول پر کام کررہے ہیں ۔ماحولیاتی مسائل کے خاتمے کے لیے بحث و مباحثے کے
ذریعے عوام کی شرکت کو یقینی بنانے کے حوالے سے چند ایک کےسوا، ان ذرائع
اطلاعات کی کارکردگی خاصی تشنہ ہے، حتیٰ کہ ماحولیاتی مسائل پر دستاویزی
فلموں یا بحث و مباحثوں کو اتنی بھی پذیرائی نہیں ، جتنی کہ نجی ریڈیو اور
ٹیلی وژن چینلوں پر روزانہ چلنے والے پکوانوں کی تیاری کے پروگراموں میں’
مرچ مسالوں‘کا ذکر کیا جاتا ہے۔ سرکاری سطح پر بھی صورتِحال چنداں سازگار
نہیں۔ اس بات کےثبوت میں یہی مثال کافی ہے کہ دنیا بھر میں نچلی سطح پر مقامی
لوگوں کی آگاہی کے لیے ایف ایم کی فریکوئنسی پر ’کمیونٹی ریڈیو‘ کا تجربہ
نہایت موثر ثابت ہوا ہے اور خود جنوبی ایشیا کے ملک بھارت میں بھی یہ تجربہ
کامیاب رہا ہے۔ کمیونٹی
ریڈیو مکمل طور پر غیر تجارتی اور محدود علاقے میں کام کرتے ہیں اور ان کی
خدمات کے پیش نظر انہیں شروع کرنے کے لیے بھاری فیس کے عیوض لائسنس کے حصول
سے مستشنیٰ قرار دیا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں ابھی تک کمیونٹی ریڈیو کےتصور
کو عملی پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی ہے، حتیٰ کہ اس طرز پر ایف ایم ریڈیو نشریات
شروع کرنے کے لیے پیمرا قوانین میں کوئی گنجائش نہیں، ماسوائےاس کے کہ تجارتی
بنیادوں پر بھاری فیس ادا کر کے لائسنس حاصل کیا جائے۔
اس وقت ملک کو جن ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے، ان کےتدارک کے لیے موثر عوامی
ابلاغ کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ مطبوعہ، سمعی اور بصری ذرائع اطلاعات
کےعلاوہ ضرورت اس بات کی بھی ہےکہ اسٹیج و اسٹریٹ ٹھیٹر اور پتلی تماشہ جیسےغیر
رسمی ذرائع ابلاغ کےذریعےعوامی رائےعامہ بیدار کرکےمسائل کےحل میں عام لوگوں
کوشرکت کا احساس دلایا جائے۔ اگر ابلاغ کے ان موثر طریقوں کی پذیرائی کی
جائےتو چھوٹی چھوٹی غیرسرکاری تنظیمیں بھی نچلی سطح پر صحت و صفائی، آبادی
میں اضافے پر قابو پانے کے لیے انفرادی ذمےداری، ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے
میں انفرادی کردار اور مسائل کےحل میں شخصی ذمےداری جیسےامور پر رائےعامہ
میں مثبت اور پائیدار تبدیلی لاسکتی ہیں۔
یاد رکھنےکی بات یہ ہے کہ تحفظِ ماحول کا کام اتنا وسیع ہے کہ ماہرینِ ماحولیات
اور منصوبہ سازوں کی ساری کاوشیں خواہ وہ کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہوں، اس وقت
تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتیں، جب تک ذرائع ابلاغ کےتعاون سےعام لوگوں
کو بھی اس کام میں شریک نہ کیا جائے۔
مختار آزاد
|