برفانی تیندوا کی بقا کو سنگین خطرات لاحق ہیں، لیکن اس کے تحفظ کے لۓ آئ یو سی این نے اپنے شراکتی اداروں کے ہمراہ نئ مثال قائم کی ہے

 

تحرير: مختار آزاد تصاوير: شہزاد احمد

 


پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی شہرت اس کے خوبصورت نظاروں، برفپوش چوٹیوں، حسین وادیوں، بہتے جھرنوں کی بدولت ہے۔ شمالی علاقہ جات کی انہی جنت نظیر دلفریب وادیوں کو یہ اعزاز حاصل ہے ان میںبرفانی تیندوا بھی رہتا ہے۔

برفانی تیندوے کا سائنسی حیاتیاتی نام Uncia uncia ہے۔ شاہانہ چال ڈھال اور سڈول جسم والا یہ جانور پاکستان کے علاوہ افغانستان، بھوٹان، چین، بھارت، قازقستان، کرغیزستان، منگولیا، نیپال، وفاقِ روس، تاجکستان اور ازبکستان میں بھی پایا جاتا ہے۔سطحِ سمندر سے تقریباً ساڑھے پانچ ہزار میٹر کی بُلندی پروسط ایشیا کے وسیع و عریض صحراؤں سے لے کر بلندسطحِ مرتفع اور تنگ پہاڑی گھاٹیوں میں پائے جانے والے برفانی تیندوے کو بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این کی عالمی سطح پر خطرات سے دوچار جنگلی حیات کی 'سرخ فہرست' میں ' بقا کو لاحق خطرات' سے دوچار قرار دیا گیا ہے، تاہم پاکستان کے حوالے سے مرتب کردہ'سرخ فہرست' میں اسے 'بقا کولاحق شدید خطرات' سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں مخدوش جنگلی نباتات و حیوانات کی بین الاقوامی تجارت سے متعلق عالمی میثاق CITIES نے 1975ء میں برفانی تیندوے کو معاہدے کے ضمیمہI میں شامل کیا، جس کے بعد سے اس کی کھال اور دیگر جسمانی اعضا ء کی تجارت عالمی سطح پر ممنوع ہے اورتمام رکن ممالک میںاس کاشکار اورجسمانی حصوں کا ہر قسم کا استعمال بھی غیرقانونی ہے۔ پاکستان نے1976 ء میں معاہدے کی توثیق کی تھی۔عالمی سطح پر مرتب کردہ حالیہ تخمینوں کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں برفانی تیندوؤں کی تعداد پانچ ہزار سے سات ہزارکے درمیان ہے۔پاکستان میں ان کی تعدادتین سو کے لگ بھگ ہے۔

اگرچہ برفانی تیندوؤںکی حفاظت کے لیے گذشتہ تیس برس سے معاہدہ موجود ہے لیکن بدقسمتی سے عالمی سطح پر یہ تیزی سے معدوم ہوتاجارہا ہے۔ جس کا سبب اس کے قدرتی مسکنوں کی تباہی اور تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین کے کمزورنفاذکو قرار دیا جاتا ہے۔برفانی تیندوے کو انسانی سرگرمیوں جیسا کہ پالتو مویشیوں کی چراگاہیں، مسکنوں میں انتشار، بطور خوراک استعمال ہونے والے جنگلی جانوروں کی تعداد میں کمی، ادویات میں اعضا کے استعمال اور کھال کے حصول کے لیے غیر قانونی شکار جیسی سرگرمیوں کے باعث اپنی بقا کے لیے نہایت شدید خطرات کا سامنا ہے۔

برفانی تیندوؤںکی بقا کے حوالے سے عمومی انسانی رویوں میں منفی رجحانات غالب نظر آتے ہیں ، تاہ حال ہی میں پاکستان میں بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این پاکستان نے وفاقی وزارتِ ماحولیات، ڈبلیو ڈبلیو ایف، ماؤنٹین ایریاز کنزروینسی پراجیکٹ(ایم اے سی پی) سمیت اپنی دیگر شراکتی تنظیموںاور حکومتی اداروں کے اشتراک سے ایک ایسی تاریخ رقم کی ہے، جسے ان کی بقا کے لیے کی جانے والی عالمی کوششوں میںایک اہم پیشرفت کہا جاسکتاہے۔

یہ پیشرفت دراصل کہانی ہے اُس برفانی تیندوے کی جو شمالی علاقہ جات کی وادی سے امریکا کے برونکس چڑیا گھر تک جا پہنچا ہے۔ لِیو کا نام پانے والے اس برفانی تیندوے کی کہانی شروع ہوتی ہے 14 جولائی ، 2005ء سے، جب گلگت میں قائم ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر، پاکستان (ڈبلیو ڈبلیو ایف)کے دفتر کو گلگت کی وادیِ نلتر کے ایک چرواہے نے اطلاع دی کہ اس کے قبضے میں برفانی تیندوے کا ایک نر بچہ ہے، جس کی ماں اور ایک بہن حادثاتی طور پر ماری جاچکی ہے۔ اطلاع ملنے پر ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ایک ٹیم وادیِ نلترپہنچی اور چرواہے سے اس بچے کو لے کر واپس آئی ۔ طبی معائنے میں اسے بالکل صحت مند قرار دیا گیا جبکہ اس کی عمر اُس وقت سات ہفتے معلوم ہوئی ۔

برفانی تیندوے کے بچے کو تحویل میںلیے جانے کی اطلاع شمالی علاقہ جات کے محکمئہ جنگلات و جنگلی حیات کو دی گئی۔ جس پر اعلیٰ حکام نے اسے بہتر ماحول اور سہولتوں کی فراہمی کے لیے خنجراب نیشنل پارک کے قریب منتقل کر نے اور اس کے ہمراہ محکمئہ جنگلات و جنگلی حیات، شمالی علاقہ جات کے اہلکار کمال الدین کو بطور نگراں بھیجنے کا فیصلہ کیا، لیکن بعد میںموسمِ گرماکے سبب بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے اسے دوبارہ وادیِ نلتر میں واپس لے آیا گیا۔

 

تنہائی کے عادی برفانی تیندوے عام حالات میںاٹھارہ سے بائیس ماہ کا عرصہ اپنی ماں کے ساتھ گذارتے ہیں اور اس دوران وہ بقائے حیات کے بنیادی گُر سیکھتے ہیں۔ 'لِیو' اگرچہ اپنی عمر کے ابتدائی ہفتوں سے ہی انسانی نگہبانی میں اپنا وقت گذار رہا تھا اور اپنی بقا کے بنیادی اصولوں سے بھی ناواقف تھا۔ ایسے میں اسے جنگل میں چھوڑ دیناموت کے منہ میں ڈال دینے کے مترادف ہوتا۔ اس لیے ضرورت محسوس کی گئی کہ اس کی بقا کے لیے پائیدار حل تلاش کیا جائے۔اسی دوران ایک یہ تجویز آئی کہ اسے ملک کے کسی چڑیا گھر میں منتقل کردیا جائے جہاں تحویل میںاس کی پرورش کی جائے۔ اگرچہ تجویز مناسب تھی لیکن ملکی چڑیا گھروں میں سائنسی بنیادوں پر اس طرح کے افزائشی منصوبے کی استعداد اور وسائل کاکا فقدان نظر آتا ہے۔مزیدِ برآں آئی یو سی این کی 'سرخ فہرست' کے مطابق برفانی تیندوا عالمی سطح پر خطرات سے دوچار جانورہے، لہٰذا ایسے میں 'لِیو' کا کیس صرف ملکی سطح کا تک ہی محدود نہیں رہتابلکہ یہ بقائے حیاتیاتی تنوع کا عالمی معاملہ بھی بن جاتا ہے۔ لہٰذاحکومتِ پاکستان اور اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے کو صورتِ حال سے آگاہ کیا گیا اور تجویز دی گئی کہ لِیوکو طویل المعیاد بقا اور بحالی کے پروگرام کے تحت پرورش کے لیے عارضی طور پر کسی عالمی سہولت کار ادارے کے حوالے کردیا جائے۔اس مقصد کے لیے امریکا میں قائم عالمی شہرت یافتہ سہولتی مرکز برونکس چڑیا گھر سے بہتر مقام کوئی اور نظر نہیں آتا۔ آئی یو سی این نے اس تجویز سے معاملے کے تمام شراکت داروں کو بھی آگاہ کیا اور انہیں یہ باور کروایا کہ منصوبے پر عملدرآمد سے برفانی تیندوے کے یتیم بچے کی پائیدار بحالی ممکن ہوسکے گی۔ کچھ ہی عرصے میں آئی یو سی این کی تجویز پروائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی / برونکس چڑیا گھر نے لِیوکی تحویلی افزائش کے لیے اپنی خدمات کی فراہمی پر بخوشی آمادگی ظاہر کردی۔ پہلے لِیوکی نگہداشت و خوراک کے اخراجات ڈبلیو ڈبلیو ایف اور حکومتِ پاکستان نے برداشت کیے، تاہم بعد میں یہ ذمے داری آئی یو سی این پاکستان نے اپنے سر لے لی۔آئی یو سی این ، پاکستان گزشتہ سات ماہ سے اس کی مناسب تحویلی افزائش کے لیے اپنی سر توڑکوششیں جاری رکھے ہوئے تھی، جو کہ بالآخر برونکس چڑےا گھر پر آکر ختم ہوئی۔ یوں آخرِ کار اس سال 30جولائی کو برونکس چڑیا گھر میں حیاتیاتی تنوع کی تحویلی تربیت و افزائش کے چند ماہرین لِیو کو نیویارک منتقل کرنے کے لیے ضروری تیاریوں کے سلسلے میں وادیِ نلتر پہنچے۔ 'آخرِ کار لِیو' کو اس سال 8اگست ، کواسلام آباد میں منعقدہ ایک پُروقار تقریب میںسوسائٹی برائے بقائے جنگلی حیات/برونکس چڑیا گھر کے اہلکاروں کے حوالے کردیا گیا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیرِ مملکت برائے ماحولیات ملک امین اسلم جبکہ پاکستان میں امریکا کے سفیر ریان سی کروکر اعزازی مہمان تھے۔ تقریب میں ماحولیات ، ماہرینِ جنگلی حیات کے علاوہ سفارت کاروںاور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ نیویارک منتقلی کے وقت لِیوکی عمر13ماہ ، لمبائی 21انچ اور وزن 25کلوگرام ہوچکا تھا۔واضح رہے کہ یہ تیندوا بدستور پاکستان کی ملکیت ہے اورپرورش و تربیت کے بعداسے واپس پاکستان کے حوالے کردیا جائے گا۔وادیِ نلتر سے اسلام آباد اور پھر یہاں سے برونکس چڑیا گھر ، نیویارک تک لِیو کا سفر خوش اسلوبی اور بغیر کسی پیچیدگی کے تکمیل پذیر ہوا اور اس وقت اس کی تحویلی افزائش برونکس چڑیا گھر، نیویارک میں کامیابی سے جاری ہے۔

لِیو کے حوالے سے ایم اے سی پی کے پروگرام منیجر راجہ عطاء اﷲ خان کا کہنا ہے: ''1999ء میں ایم اے سی پی کی ابتدا سے ہی اس جانب بھرپور توجہ مرکوز رہی ہے ''لِیوکیس کے علاوہ بھی ایک ایسی مثال موجود ہے جوہماری کوششوں کے مثبت اثرات کی تائید کرتی ہے۔ یہ مثال شمالی علاقہ جات کے گاؤں ہوشے کی ہے، جہاں مویشیوں کے ایک باڑے میں ایک برفانی تیندوا پکڑا گیا، جو ان کے تیس سے زائد مویشیوں کو ہلاک کرچکا تھا۔ اتنا زیادہ نقصان کیے جانے کے باوجود پکڑے جانے کے دوسرے دن گاؤں کے معتمدین نے ایم اے سی پی اسٹاف، محکمہ جنگلات و جنگلی حیات اور ضلعی انتظامیہ کے افسران و اہلکاروں کو دعوت دی کہ وہ آئیں اور دیکھیں کہ ہم پکڑے گئے برفانی تیندوے کو آزاد کررہے ہیں۔کمیونٹی کی اس خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے برفانی تیندوؤں کی بقا کے لیے عالمی سطح پر سرگرم غیر سرکاری تنظیم 'سنولیوپرڈ کنزروینسی' نے انہیں تعریفی سند اور' ڈزنی وائلڈ لائف کنزرویشن فنڈ 'نے سال2004ء کا'کنزرویشن ہیرو ایوارڈ برائے ایشیا' دیا۔''

امید ہے کہ ملک میں بقائے حیاتیاتی تنوع کے حوالے سے کی جانے والی یہ اہم ترین پیشرفت نہ صرف پاکستانی اور امریکی حکومتوںکے مابین بلکہ ورلڈ کنزرویشن سوسائٹی اور ڈبلیو ڈبلیوایف ، پاکستان(، جو کہ آئی یو سی این کے دیرینہ ارکان بھی ہیں) کے باہمی تعلق کو مضبوط تر بنانے کا باعث بنے گا۔بنظرِ غائر دیکھیں تو لِیو کے حوالے سے حکومت پاکستان اورامریکا کے مابین طے پانے والا یہ معاہدہ ایک ایسا اہم سنگِ میل ہے ، جو مستقبل میں، شمالی پاکستان میں حیاتیاتی تنوع کی بقا وبحالی کے لیے سہولیات کی فراہمی میں نہ صرف نہایت مدد گارثابت ہوگابلکہ متعلقہ اہلکاروں کو عالمی سطح کی تربیت اوراستعداد سازی کے مواقع بھی حاصل ہوں گے۔


 

 

مختار آزاد ’جریدہ‘ کے مدیر ہیں۔
شہزاد احمد آئی یو سی این، اسلام آباد پروگرام سے بطور 'کمیونیکیشن اینڈ نالج مینیجمینٹ کوآرڈینیٹر' وابستہ ہیں