|
|
|
||||
آبگاہوں کی بحالی کے ليے ڈیم کا انہدام، برڈ فلو وائرس کی بازگشت، کیوٹو پروٹوکول و صنعتی گیسوں کے اخراج تک -- تازہ ترین عالمی حقائق |
||||
انتخاب: ناصر پنہور ترجمہ: ایم کمال |
||||
| آبگاہوں کی بحالی، ڈیم توڑدیا گیا | ||||
امریکی
ریاست کیلیفورنیا کے ساحلی علاقے ہنٹنگ ٹن بیچ میں واقع ایک بہت بڑے ڈیم
کو توڑ دیا گیا ہے۔ ڈیم کو توڑنے کا مقصد کھارے پانی کی آب گاہوں کو بچانا
اور ان کی بقا کے لیے سمندری پانی فراہم کرنا تھا۔ لگ بھگ ایک صدی پہلے
تعمیر کردہ اس ڈیم کا مقصد علاقے 107برس پہلے تیل کی تلاش کے دوران بھاری ذخائر کی موجودگی پر سمندر کے کھارے پانی سے نم رہنے والی اس زمین کے387ایکڑ علاقے پر بند باندھ کر سمندر کے پانی کو روک دیا گیا تھا، جس سے ایک ڈیم وجود میں آیا تھا۔ یوں زمین کو خشک کرکے تیل نکالنے کا کام شروع کردیا گیا۔ اس آئل فیلڈ کا شمار امریکا کی بڑی آئل فیلڈ میں کیا جاتا تھا، تاہم اس کے سبب علاقے کے ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات پڑے اور گزشتہ تیس برس سے ماحولیاتی رضا کار ڈیم کے بند کو توڑ کر پانی کے دوبارہ اس زمین پر پھیلاؤ کا مطالبہ کررہے تھے تاکہ بولزا چکاBolsa Chica نامی اس علاقے کے ماحولیاتی نظام کو دوبارہ بحال کیا جاسکے۔ بالآخر ماحولیاتی رضاکاروں کی یہ کوششیں رنگ لائیں اور اس سال اگست کے آخر میںبند کی دیوارکو توڑ کر ڈیم میں موجود پانی کو دوبارہ اس زمین پر بہنے کا موقع فراہم کردیا گیا جہاں وہ ایک صدی پہلے بہا کرتا تھا۔ بولزا چکا لینڈ ٹرسٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مارک اسٹرڈوانٹ کا کہنا ہے ! '' بتدریج ماحولیاتی تنزلی کا شکار ہونے والی آب گاہوں کے اس ماحولیاتی نظام میں آبی پرندوں کی200انواع کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے جس میں سے چھ انواع کو قومی سطح پر بقا کو لاحق سنگین خطرات سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔'' ان کا کہنا تھا ''سمندر سے متصل اس آبی ماحولیاتی نظام کی زمین کو سمندر کی تیز لہریں دن میں دو دو مرتبہ تر کرتی ہیں۔ اب جبکہ 107برس بعداس زمین کو دوبارہ سمندر کا کھارا پانی ملے گا تو اس کی زرخیزی پھر عود کرآئے گی اور یہ سازگار ماحول آبی پرندوں کی مزید اقسام کو بھی اپنی جانب متوجہ کرے گا۔'' ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ آئل فیلڈ جیسی صنعتی سرگرمی
کو ختم کرکے آب گاہ کو بحال کرنے کی یہ کوشش بقائے ماحول کے میدان میں
نہایت اہم پیشرفت ہے۔ واضح رہے کہ کیلیفورنیا کا شمار امریکا کے بڑے شہروں
میںہوتا ہے اور گزشتہ کئی عشروں کے دوران ساحلِ سمندر پر واقع اس شہر
کی مختلف کھارے پانی کی آب گاہوں کو ختم کرکے ان پر تعمیرات کی جاچکی
ہیں۔ ایسے میں بولزا چکا کے آبی ماحولیاتی نظام کی بحالی کا اقدام ایک
اہم ماحولیاتی پیش رفت کہی جاسکتی ہے۔ |
||||
| کیوٹو پروٹوکول کے باوجود صنعتی گیسوں کا اخراج بلند | ||||
گرین ہاؤس کے لیے مہلک صنعتی گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے کیے گئے اقوامِ متحدہ کے عالمی معاہدے 'کیوٹوپروٹوکو ل' کے باوجود دنیا کے بڑے بڑے صنعتی ممالک میں گیسوں کے اخراج کی شرح بُلند ہورہی ہے ۔ حال ہی میں اوسلو میںشائع شدہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گرین ہاؤس کے لیے مہلک گیسوں کے اخراج کے ذمے دار دنیا کے بڑے بڑے صنعتی ممالک نے اپنی پیداوار میں اضافہ کردیا ہے تاکہ گیسوں میں کمی کے لیے کیوٹو پروٹول کے تحت 2012ء کی طے شدہ مدت سے قبل وہ زیادہ سے زیادہ پیداواری ہدف حاصل کرکے اپنی معیشت کو مضبوط بناسکیں۔ بون میں قائم اقوامِ متحدہ کے کلائمٹ سیکریٹریٹ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''2003ء کے مقابلے میں2004ء کے دوران دنیا کے 40بڑے صنعتی ممالک کے گیسوں کے اخراج کی شرح میں1.6فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جس کے باعث فضا میں17.8ارب ٹن کاربن ڈائی کسائیڈ شامل ہوئی ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا یہ اخراج زیادہ تر تیل سے چلنے والے بجلی گھروں اور کارخانوں سے ہواہے اور یہ اضافہ بدستور جاری ہے۔ برطانیہ کی ایسٹ اینجلیا یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ ماحولیات الیکس ہیکسل ٹائن کا کہنا ہے کہ ''ہم صرف تصورات کی مدد سے موسمیاتی تبدیلیوں کے مسائل پر قابو نہیں پاسکتے۔ اس کے لیے ٹھوس عمل کی ضرورت ہے ۔ گیسوں کے اخراج کے ذمے دار بڑے صنعتی ممالک کی حکومتوں نے کیوٹو پروٹوکول کے بعد اب تک حقیقی معنوں میں منصوبہ بندی اور عمل کے میدان میں جو کچھ کیا ہے وہ بہت ناکافی ہے۔'' کیوٹو پروٹوکول کا نفاذ فروری2005ء میں ہوا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے
تحت ہونے والے اس عالمی معاہدے کا مقصد دنیا کے بڑے بڑے صنعتی ممالک سے گرین
ہاؤس کے لیے مہلک گیسوں کے اخراج کی شرح کو کم کرکے موسمیاتی تبدیلیوں کے
عالمی مسائل پر قابو پانا ہے۔ |
||||
| زمین کا تیز درجۂ حرارت سنگین مسئلہ | ||||
''گزشتہ دو ہزار برس اور ہوسکتا ہے کہ اس سے بھی زیادہ مدت گزر چکی ہے جب کرئہ ارض کے درجئہ حرارت میں اضافہ ہونا شروع ہوا تھا۔'' یہ بات اس سال ستمبر میں امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے جاری ہونے والی رپورٹ میں ان سائنسدانوں کے حوالے سے کہی گئی ہے جنہوں نے کانگریس کی درخواست پر موسمیاتی تبدیلیوں کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کیا تھا۔ رپورٹ میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ سائنسدانوں نے امریکی قانون سازوں کو آگاہ کیا ہے کہ اگرچہ زمینی درجئہ حرارت میں اضافہ تو بہت ہی پرانا ہے تاہم حالیہ عشروں کے درمیان اس میں ہونے والا خطرناک اضافہ اور موسموں پر اس کے منفی اثرات کی وجوہات کا بنیادی محور انسانی سرگرمیاں ہیں۔ 155صفحات پر مشتمل تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر زمین کے اوپر ی درجئہ حرارت میں اوسط اضافے کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف بیسویں صدی کے دورانNorthern Hemisphere کے درجئہ حرارت میں تقریباً ایک ڈگری فارن ہائیٹ کا اضافہ ہوا ہے۔ اس تحقیقی تجزیے کے لیے گزشتہ سال نومبر میں امریکی کانگریس کی سائنس کمیٹی کے چئیرمین شیر ووڈ نے درخواست کی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے سوال اٹھایا تھا ''کیا عالمی موسمیاتی تبدیلیاں ایک بڑا خطرہ ہیں۔'' تحقیقی جائزے کی تکمیل پر انہوں نے کہا ''سائنسدانوں کا یہ تجزیہ کانگریس کے لیے سائنسی مشورہ ہے۔'' رپورٹ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سائنسدانوں نے2005 ء کے دوران امریکا میں آنے سمندری طوفانوں میں سے نصف کو عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان طوفانوں میں قدرتی طوفانوں کے سلسلے کا عمل دخل کم ہی رہا ہے۔ یاد رہے کہ مذکورہ تحقیق میں شامل ارضیاتی سائنسدانوں نے وضاحت کی
ہے کہ گزشتہ دو ہزار سال کے دوران یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے Northern Hemisphere
کے علاقے میں زمینی درجئہ حرارت میں اضافے کے شواہد ملے ہیں تاہم ان کی شرح
نہایت معمولی تھی۔ البتہ بیسویں صدی کے گزشتہ عشروں کے دوران اضافے کی یہ
شرح خاصی تیز رہی ہے۔ ماہرین نے رپورٹ میں یہ بات بھی کہی ہے کہ گزشتہ ایک
ہزار سال کے دوران زمین کے درجئہ حرارت میں جو اضافہ ہوا ہے وہ اس کے عشرِ
عشیر بھی نہیں جو کہ بیسویں صدی کے کچھ عشروں کے دوران ریکارڈ کیا گیا ہے،
جس کا سبب بنیادی طور پر زمینی ماحول اورماحولیاتی عناصر میں انسانی سرگرمیوں
کے سبب ہونے والے انتشار کو ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ |
||||
| برڈفلو: مزید پرندوں کی نگرانی کی جاۓ | ||||
ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے ایک معروف ماہرِ حیاتیات نے انڈونیشیا کی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ برڈ فلو کا سبب بننے والے H5N1 وائرس کا پتا چلانے کے لیے مزید ایسے پرندوں کی بھی نگرانی کی جائے جنہیں اب تک برڈ فلو وائرس کے پھیلانے کا ذمے دار نہیں سمجھا جاتا ہے، تاکہ اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے جاسکیں۔ یاد رہے کہ حال ہی میں برڈ فلو وائرس سے سب سے زیاد ہلاکتیں انڈونیشیا میں ہوئی تھیں۔ پورے ملک میں46افراد کو اس مہلک وائرس کی بدولت موت کا منہ دیکھنا پڑا تھا اور اب بھی ملک بھر میں لوگ پرندوں کے گوشت کے استعمال میں تذبذب کا شکار ہیں۔ ہانگ کانگ یونیورسٹی میں مائیکرو بائیولوجی کے پروفیسرگوان یائی کا کہنا ہے : '' انڈونیشیا کی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے مزید پرندوں پر بھی نظر رکھیں اور ان کے رویوں پر تحقیق کریں جنہیں برڈ فلو وائرس کے حوالے سے پہلے نظر انداز کیا گیا ہے، تاکہ اس بات کا پتا چلایا جاسکے کہ مرغی کے علاوہ یہ وائرس کن کن پرندوں میں موجود ہے اور حیاتیاتی طور پر ان سے نمٹنے کے لیے کون کون سے طریقے موثر ثابت ہوسکتے ہیں۔ '' اگرچہ گوائن یائی نے یہ مشورہ انڈونیشیا کی حکومت کو دیا ہے تاہم بلواسطہ طور پر یہ تجویز ان تمام ممالک کے لیے بھی اہم ہے جو حالیہ برسوں میں برڈ فلو وائرس کے خطرے کے سبب اپنی معیشت کو بھاری نقصان پہنچتا ہوا دیکھ چکے ہیں۔ یا د رہے کہ گذشتہ برس برڈ فلو وائرس کے باعث انڈونیشیا اور مشرقِ بعید کے متعدد ممالک کے علاوہ چین کی معیشت کو بھی اس سے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ چکا ہے۔ خود اس وائرس کے خطرے کے سبب پاکستان کی پولٹری انڈسٹری بھی بھاری نقصان اٹھاچکی ہے۔ واضح رہے کہ یہ وائرس پرندوں سے پرندوں اور ان کے بطورِ خوراک استعمال کیے جانے سے انسان میں منتقل ہوجانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسے میں گوائن یائی کا مشورہ ان ملکوں کے لیے بھی قبل از وقت حفاظتی اقدامات کیے جانے کا اشارہ ہے کہ جہاں اس وائرس کی موجودگی تو ثابت نہیں البتہ موسمِ سرما کے آغاز میں ہجرت کرکے آنے والے آبی پرندوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔ |
||||
|
||||
ناصر
علی پنہور آئی یو سی این، سندھ پروگرام آفس سے بطورِ کوآرڈینیٹر وابستہ
ہیں۔ |
||||
|
|
||||