|
|
|
ان سطور میں ہم آپ کے لیے آئ یو سی اين کے قومی اور عالمی سطح پر زیرِعمل مختلف
منصوبوں اور ماحول سے متعلق معلومات اور خبریں فراہم کرتے ہیں |
|||||||||
|
|
|||||||||
|
دھویں سے اَٹی فضا اور گاڑیوں کے بے ہنگم بہاؤ سے جنم لینے والے مسائل آج دنیا کے کئی دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کے بڑے شہروں بالخصوص کراچی کا انتہائی سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ اس موضوع پر غور و فکر اور تجاویز کے لیے اس سال ستمبر کے وسط میں دو روزہ ورکشاپ کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقد کی گئی جس میں پاکستان اور مختلف ممالک سے ماہرینِ نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا موضوع ''قومی ورکشاپ برائے شہری فضائی معیار اور مربوط انتظامِ ٹریفک' تھا۔ ورکشاپ کا انعقاد 'پاکستان کلین ائیر نیٹ ورک' نے پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی، سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی، کراچی شہری حکومت، کلین ائیر اِنی شٹیوز فار ایشین سٹیز، ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک اور بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این پاکستان کے اشتراک سے کیا تھا۔ ورکشاپ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ افتتاحی دن ماہرین کے مقالوں اور دوسرا دن بحث و مباحثے اور تجاویز کے لیے مختص تھا۔ ورکشاپ کا افتتا ح پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے ماحولیات ملک اسلم امین نے کیا۔
اپنے خطاب میں مہمانِ خصوصی نے کہا '' پاکستان کے بڑے پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے ڈائریکٹر ای آئی اے، ضیاء الاسلام نے اپنے خطاب میںفضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ پیش کیا۔فضائی آلودگی کو جانچنے کے معیار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ'' ہم نے یورپ کے قائم کردہ معیار کو اپنایاہے تاکہ اس کے تقابلی جائزے سے ملک میں فضائی آلودگی کی شدت کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جاسکیں۔'' کراچی شہری حکومت کے ڈائریکٹر جنرل ماس ٹرانزٹ سیل ظہیرالاسلام نے کہا ''شہری حکومت کاتہیہ ہے کہ کراچی میں فضائی معیار کو بہتر بنایا جائے گا، تاہم اس وقت شہر میں روزانہ چار سو کے لگ بھگ نئی گاڑیاں سڑکوں پر آ رہی ہیں۔ اس تناظر میں دیکھیں تو مسئلے کی شدت میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے۔'' انہوں نے مزید کہا ''شہر میں ٹریفک کے انتظام کے لیے اٹھارہ ادارے سرگرم ہیں، تاہم یہ سارے کے سارے شہری حکومت کی ماتحتی میں نہیں آتے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ پائیدار حل کے لیے تمام شعبوں میں باہم ربط اور اشتراک پیدا کیا جائے۔'' پاکستان میںایشیائی ترقیاتی بینک کے شعبہ ملکی پالیسی کے سربراہ
صفدر پرویز نے اپنے خطاب میں کہا ''ورکشاپ کا انعقاد بروقت اقدام ہے اور
اس عالمی بینک کے ماحولیاتی امور کے سینئر ماہر پال جے مارٹن نے اپنے خطاب میں کہا کہ '' محتاط تخمینے کے مطابق اس وقت فضائی آلودگی سے پاکستانی معیشت کو پہنچنے والا نقصان قومی شرح پیداوار (جی ڈی پی)کاچھ فیصد ہے اوردوسرے ایشیائی ممالک کی نسبت پاکستان کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کی شرح زیادہ ہے۔'' اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آئی یو سی این کے نمائندہ مملکت سہیل ملک نے کہا '' اگرچہ ماحولیاتی مسائل روایتی طور پر ہمارے لیے توجہ طلب رہے ہیں ، تاہم اب پاکستان میں پروگرام کی سطح پر بالخصوص فضائی آلودگی اور اس جیسے دیگر شہری مسائل پربھی ہماری توجہ مرکوز ہے۔'' انہوں نے مزید کہا کہ' ' عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے مشترکہ پروگرام 'کلین ائیر اِنی شٹیوز فار ایشین سٹیز' کی شراکت سے ہم ملک کے بڑے شہروں میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کی کوششوں کے ایک نئے دور میں داخل ہوچکے ہیں۔'' قبل ازیں کلین ائیر نیٹ ورک کے کوآرڈینیٹر محمد عاقب نے ورکشاپ
کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ورکشاپ کا دوسرا دن شرکا کے مابین مباحثے اور
تجاویز کی تیاری کے لیے مختص تھا۔ ماہرین نے اپنی تفصیلی تجاویز میںفضائی
آلودگی پر قابو پانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے مابین باہمی ربط اور مربوط
اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ماہرین نے مسئلے پر قابو پانے کے لیے تجاویز
و اقدامات کو تین حصوں فوری، درمیانہ مدت اور طویل المعیاد میں تقسیم کیا
ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، سول سوسائٹی اور غیرسرکاری تنظیموں
کے اشتراک سے ان تجاویز کو عملی شکل دی جائے۔
|
|||||||||
|
|
|||||||||
|
|
|||||||||
بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این ایشیا ریجن کی ڈائریکٹر محترمہ ابان مارکر کابرا جی نے گذشتہ دنوں دورئہ پاکستان کے دوران سندھ میں اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقاتیں کیں، جس میںسندھ کے ماحولیاتی مسائل، ان کے تدارک کے لیے کیے جانے والے اقدامات و نتائج اور پائیدار ترقی و غربت میں کمی جیسے اہم سماجی، معاشی و اقتصادی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
اس موقع پر محترمہ ابان مارکر کابراجی نے افسران کو آگاہ کیا کہ ملک میں پائیدار ترقی کی قومی حکمتِ عملی میں بہت پہلے ہی ایل بی او ڈی کے ممکنہ منفی ماحولیاتی اثرات کی نشاندہی کردی گئی تھی۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سول سوسائٹی، حکومتی اداروں کو باہم مل کر کام کرنا ہوگا اور امدادی اداروں کا اعتماد بحال کرنا ہوگا تاکہ ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے پائیدار ترقی کا حصول ممکن ہوسکے۔ اس موقع پرصوبائی سیکریٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات محمد ہاشم لغاری ، حکومتِ سندھ کے چیف اکنامسٹ محمد علی خاصخیلی، سیکریٹری (خصوصی) محکمہ منصوبی بندی و ترقیات ریحانہ غلام علی اور دوسروں کے علاوہ آئی یو سی این پاکستان کے ملکی نمائندے سہیل ملک، نکہت ستار، محمود اختر چیمہ، حامد سرفراز، طاہر قریشی اور ناصر پنہور بھی موجود تھے۔
|
|||||||||
|
|||||||||
|
|||||||||