ایم اے سی پی ویب سائٹ شمالی پاکستان کی منتخب وادیوں کے ماحول، قدرتی وسائل، ثقافت اور منصوبے سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے

 
تحرير: ایم کمال  

صوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات کا شمار ملک کے اہم ترین پہاڑی سلسلے رکھنے والے علاقوں میں ہوتا ہے۔ پہاڑی علاقے مخصوص جغرافیائی نظام اورقدرتی ماحول رکھتے ہیں اور اس ماحولیاتی نظام میں پروان چڑھنے والی جنگلی حیات، نباتات اور قدرتی وسائل مخصوص موسمی حالات میں ہی پنپنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بالکل ایساہے جیسے صحرائی ماحولیاتی نظام اور اس کے عناصرِ حیات ہوں، جنہیں اگر صحرا کا مخصوص قدرتی ماحول نہ ملے تو ان کی افزائش بُری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔

شمال کے ان بُلند پہاڑی علاقوں کی اہمیت کے سبب 1999ء تا 2006 ء کے دوران ان کی منتخب وادیوںمیں 'منصوبہ برائے تحفظِ پہاڑی علاقہ جات Mountain Areas Conservency Project شروع کیا گیا۔ جس کا مقصد مقامی باشندوں کو شراکتی عمل کے ذریعے ایسی آگاہی اور تربیت فراہم کرنا تھا جس سے حیاتیاتی تنوع، نباتات اور ایسے دیگر قدرتی وسائل جن پر ان کا معاشی انحصار ہے، انہیں تحفظ حاصل ہوسکے، قدرتی وسائل سے پائیداراستفادے کے ذریعے غربت میں کمی ہو اور بقائے ماحول اورترقی بھی شانہ بہ شانہ پروان چڑھ سکیں۔

ابلاغ کی موجودہ دنیا میں انٹرنیٹ ایک موثر ذریعہ ہے۔ رسائی اور اطلاعات کا تیز رفتار حصول اس کے ذریعے آسان ، سہل اور عالمی نوعیت کا ہے۔ اسی لیے جب ایم اے سی پی کا آغاز ہواتو اس کی ایک باقاعدہ ویب سائٹ انگریزی زبان میں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ اس کے ذریعے عام لوگوں کی ایم اے سی پی کے تحت آنے والی وادیوںکی درست معلومات تک رسائی ممکن ہوسکے۔ ویب سائٹ منصوبے پر عملدرآمد ہوتے ہی قائم کی گئی ،جسے وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔

یہ ویب سائٹ ایم اے سی پی میں شامل صوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات کی وادیوں سے متعلق مصدقہ معلومات کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ اس ویب سائٹ پر گزشتہ آٹھ برس کے دوران بقائے ماحول اور ترقی کے لیے کی جانے والی ایم اے سی پی کی کوششوں کا تفصیلی احوال اور مقامی باشندوں کے رویوں اور حالات میں تبدیلی کی جامع کہانیاں موجود ہیں۔ یہاں ان دلکش وادیوں کے بارے میں شائع کردہ بروشرز بھی موجود ہیں، جن کے حسین مناظر میں مقامی باشندوں کے روز و شب کا عکس نظرآتاہے اور ان کی قدیم ثقافت کے رنگ جھلکتے ہیںجنہیں دیکھ کر کوہساروں کی طرف جانے کے لیے دل مچل اُٹھتاہے۔ سیاحت اور دلکشی ہی اس ویب سائٹ کا خاصہ نہیں، یہاں پر سنجیدہ موضوعات پر علمی بحث کی دستاویز بھی موجود ہیں جیسا کہ بقائے ماحول اور اسلام، ماحولیاتی تعلیم، کمیونٹی طرز پر آب گیر علاقوں کے انتظامات وغیرہ، نیزوہ تحقیقاتی مطالعے بھی موجود ہیں جو ان وادیوں کے مختلف مسائل کے حوالے سے مرتب کیے گئے تھے۔ علاوہ ازیں بقائے ماحول اور حیاتیاتی تنوع کے جس دلچسپ باہمی رشتے کو آج لوگ 'شکار برائے یادگار' یا 'ٹرافی ہنٹنگ' کے نام سے جانتے ہیں، اس کا پس منظراور تفصیلات بھی اس کا حصہ ہیں۔ ویب سائٹ کا ایک اور خاص پہلو وہ نقشے ہیںجوعام قاری اور محققین دونوں کے لیے یکساں طور پرمددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ ویب سائٹ پر عام آنے والوں کو ایم اے سی پی کی وادیوں کا دورہ کروانے کے لیے رنگین اور خوبصورت تصاویر پر مشتمل ایک گیلری بھی موجود ہے، جس کے ذریعے گھر بیٹھے ان علاقوں کی سیرکی جاسکتی ہے۔اس سائٹ پر ایم اے سی پی منصوبے اور اس کے تمام شراکت داروں اور متعلقہ تمام دفاتر کے پتے بھی دستیاب ہیں، جن کے ذریعے ان سے رابطے کیے جاسکتے ہیں۔ یہ ویب سائٹ ماحولیاتی سیاحت، قدرتی وسائل، حیاتیاتی و نباتاتی تنوع کی بقا کی کوششوں اور اس جدو جہد میں پیش آنے والے حالات اور ان کے نتائج کی تفصیلات بھی فراہم کرتی ہے جوپہاڑی علاقوں کو اپنی تحقیق کا موضوع بنانے والوں کے لیے انتہائی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ ویب سائٹ محققین، طالب علموں ، ماہرینِ ماحولیات اور عام قاری کی دلچسپی کا تمام ترسامان رکھتی ہے۔ اگر آپ بھی ایم اے سی پی کی کامیاب کوششوںکے بارے میں مزید جاننے کے خواہشمند ہیں تو ویب سائٹ تک رسائی کے لیے پتا ہے:

www.macp-pk.org

 

 

 

ایم کمال فری لانس صحافی ہیں