بلوچستان کی چٹیل پہاڑی وادیوں میں مدفون زرخیز اورعالی دماغ شاعر مرحوم عطا شاد نے اپنی ایک نظم میں کوہساروں کی ادائیں بیان کرتے ہوئے ایک خوبصورت شعر کہاہے!

کوہساروں کی عطا رسم نہیں خاموشی

رات سوجائے تو بہتا ہوا چشمہ بولے

پاکستان میں کوہساروں کی ادائیں اور عطائیں بے شمار ہیں۔ ملک کے انتہائی جنوب مغرب میں بلوچستان کے چٹیل پہاڑی سلسلے اپنے دامنوں میں خشک پہاڑی ماحولیاتی نظام تشکیل دے کراس میں پروان چڑھنے والی حیات و نباتات کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتے ہیں تو ملک کے انتہائی شمال میں واقع خطّے میں دنیا کے تین بڑے پہاڑی سلسلے ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم آن ملتے ہیں ۔ یوں یہ اپنی منفرد خاصیتوں کی بنا پر ایک متنوع ماحولیاتی و حیاتیاتی نظام کی تشکیل کا موجب بنتے ہیں۔ یہ خطّہ تاریخی اعتبار سے متنوع انسانی ثقافتوں اورمتعدد تہذیبوں کی نموکا بھی سبب رہا ہے۔

مناظرِ فطرت اور قدرتی وسائل دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی معیشت میں نہایت اہم اقتصادی کردار سرانجام دیتے ہیں جس کے لیے درست انتظام، رہ نما خطوط اور پائیدار استفادہ کے اصولوں پر عملدرآمد لازمی ہے۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے متنوع پہاڑی ماحولیاتی نظام، جنگلی حیات و نباتات اور حسین مناظر سے بہتر انداز اور دانشمندانہ اصولوں پر استفادے میں کسی حد تک بہت پیچھے رہے ہیں۔ رہ نما خطوط کے فقدان (یا ان پر عمل درآمد میں کوتاہی) کے باعث خود ان علاقوں کے قدرتی وسائل کو بھی بتدریج اتنا نقصان پہنچا ہے کہ ان کی بقا کے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ رہی بات بقائے ماحول کے لیے پائیدار ماحولیاتی سیاحت کی تو یہ شعبہ بھی کسی حد تک نظر انداز ہوتا رہا ہے۔

بقائے ماحول میں مقامی لوگوں کی شراکت اور ان کی استعداد سازی کرکے پائیدار انتظام اور قدرتی وسائل سے استفادہ کرنا ممکن ہے۔ اسی فِکر کے تحت شمالی پاکستان کی حیاتیاتی بقا اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے ذریعے مقامی سطح پر پائیدار استفادے کو رواج دینے کے لیے 'منصوبہ برائے تحفظِ پہاڑی علاقہ جات' کا آغاز کیا گیا تھا۔ اگرچہ شمالی پاکستان کے وسیع رقبے کے مقابلے میں ان علاقوں کا جغرافیائی رقبہ خاصا کم بنتا ہے کہ جہاں اس منصوبے پر عملدرآمد ہوا لیکن اہم بات یہ ہے کہ چراغ بہت کم جگہ گھیرتا ہے لیکن اس کی روشنی وسیع رقبے کو منور کرتی ہے، یہی خیال اس منصوبے کی روح تھا ۔ منصوبے کے اس ننھے چراغ نے ان علاقوں کو بھی دیے جلانے پر اُکسادیا ہے کہ جہاں جہاں اس کی روشنی کی ہلکی سے کرن بھی پہنچ پائی تھی۔مثال چھوٹی کیوں نہ ہو اگر قابلِ تقلید ہے تو پھر رواج بن جاتی ہے۔ آج سات سالہ مدت کی تکمیل پر اس منصوبے کی مثال بھی پائیدار ترقی کے حصول اور قدرتی وسائل سے بہتر استفادے کے لیے 'روشن چراغ'اور'قابلِ تقلید رواج' کی ہی ہے۔

اس بار 'جریدہ' کا زیرِ نظر خصوصی شمارہ 'منصوبہ برائے تحفظِ پہاڑی علاقہ جات' کی سات سالہ مدت میں قابلِ تقلید اور پائیدار ترقی کے حصول کی انہی مثالوں پر مشتمل ہے جن کے ذریعے عوامی بیداری اور شراکت سے پائیدار ترقی اور بقائے ماحول کا مقصد حاصل کیا گیا ہے۔

 

مختار آزاد