|
|
|
||||
|
||||
|
شمالی علاقہ جات کی زیادہ تر چراگاہیں بالعموم الپائن (پہاڑوں کی بہت زیادہ بُلندی پر واقع علاقے) اور ذیلی الپائن (کم بُلندی پر واقع پہاڑی علاقے) میں پائی جانے والی نباتات پر مشتمل ہیں۔ ایم اے سی پی میں شامل علاقوں کی چراگاہیں زیادہ تر ذیلی الپائن اقسام پر مشتمل ہیں۔2002ء میں ایم اے سی پی کی منتخب وادیوں میں چراگاہوں کی حالت، ان سے ڈھکے رقبے اور پیداوار کی درست صورتِ حال جاننے کے لیے جامع سروے کیا گیا۔ یہ سروے جن منتخب وادیوں میں کیا گیا، ان میں گوجال کنزروینسی کی وادیِ خنجراب، استور کنزروینسی کی وادیِ پری شنگ اور اسکردو کنزروینسی کی وادیِ میندی بھی شامل ہیں۔ نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ سروے میں شامل تمام علاقوں کی چراگاہوں کی مجموعی حالت ناگفتہ بہ ہے اور ان کا انحطاط روز بہ روزسنگین ہوتا جارہاہے۔ چراگاہوں میں مویشیوں کے لیے خوش ذائقہ نباتاتی انواع میں کمی واقع ہورہی ہے اور ایسے انواع کی پیداوار بڑھ رہی ہے جنہیں مویشی کھانا پسند نہیں کرتے ۔ نیز زمین پر موجودسبزے کے غلاف میں کمی زمین بُردگی کی رفتار کو تیز کرنے کاسبب بن رہی ہے۔ سروے کے مطابق '' مجموعی طور پرمقامی قدرتی ماحول کے لیے خطرناک اس صورتِ حال کا سب سے بڑا سبب ان چراگاہوں کی استعداد سے زیادہ ان کا غیر دانشمندانہ استعمال ہے۔'' ایم اے سی پی نے اس بارے میں چراگاہوں سے برائہ راست استفادہ کرنے والے شراکت دار یعنی مقامی باشندوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا اور اس سروے کی تفصیلات ان لوگوں کے سامنے پیش کیں تاکہ چراگاہوں کی حالت بہتر بنانے اور ان کی مجموعی بحالی کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کیا جاسکے۔ مقامی باشندوں نے بھی نے صورتِ حال کی سنجیدگی کو تسلیم کرکے ہم سے اتفاق کیا۔مقامی باشندوں کا اعتمادحاصل کرکے مشاورت کی بنیاد پرچراگاہوں کے پائیدار انتظام کا منصوبہPasture Management Plan ترتیب دیا گیا، جس میں پائیدار استعمال اور بہتر انتظام کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے تاکہ بہتر انتظام اور پائیداربحالی ممکن ہوسکے۔ ان اقدامات کے نفاذ کے لیے گاؤں کی سطح پر کمیٹیاںتشکیل دی گئیںجنہیں 'ولیج کنزرویشن کمیٹی' کہتے ہیں۔چراگاہوں کی بحالی اور پائیدار انتظام کے لیے مقامی باشندوں کی استعداد بڑھانے کی بھی ضرورت تھی، لہٰذا مختلف تربیتی کورسوں کی مدد سے ان کی استعداد سازی کی گئی۔ چراگاہوں کا آزادانہ اور غیر پائیدار استعمال ان کے انحطاط کی سب سے بڑی وجہ تھی،لیکن ایم اے سی پی اور ان کمیٹیوں کے لیے سب سے دشوار بات یہ تھی کہ مقامی باشندوں کو کس طرح چراگاہوں کے پائیدار انتظامات کے لیے آزادانہ استعمال کی روک تھام میں تعاون پر رضامند کیا جائے۔ یہ لوگ صدیوںسے مویشیوں کو ان چراگاہوں میں آزادانہ طور پر چَرانے کے عادی ہیں اور اس پس منظر میں محدود پیمانے پر چراگاہوں کا استعمال ان کے مزاج کے خلاف تھا۔ اس چیلنج سے نمٹنے میں بھی مشاورت اور مکالمے کا عمل کام آیا ، جس کے نتیجے میں خنجراب، خیبر اور حسینی وادیوں کے باشندوں نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے محدود پیمانے پر چراگاہوں کے استعمال پر رضامندی ظاہر کردی اور اس کے ساتھ ساتھ چراگاہوں کی بحالی کی کوششوں میں سرگرم شمولیت بھی اختیار کرلی۔ جس کے بعد عملی اقدامات کیے گئے۔ چراگاہوں کی بحالی کے لیے پانی کی فراہمی، بیجوں کا ڈالے جانا اور ان پر پڑنے والے دباؤ کو روک کر بحالی کے لیے مہلت کی فراہمی جیسے اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف چراگاہیں بہتر ہوئیں بلکہ چارے کی پیداوار اور پالتو مویشیوں کے دودھ دینے میں بھی اضافہ ہوا۔جس سے گلّہ بانوںکی معاشی حالت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے، جس کا وہ لوگ خود اعتراف کرتے ہیں۔ انحطاط پذیر چراگاہوں کی بحالی قدرتی وسائل سے پائیدار استفادے کے بہتر انتظام، چند کلوگرام بیج، مقامی باشندوں کی شراکت ورہنمائی کی بدولت ہی ممکن ہوسکی ۔آج یہ بات مقامی باشندے سمجھ چکے ہیںکہ چراگاہوں کادانشمندانہ استعمال بہتر مستقبل، علاقائی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے سرمایہ کاری کی حیثیت رکھتا ہے۔ شیراز بیگ
|
||||
|
|
||||