چراگاہیں پہاڑی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہوتی ہیں- انحطاط پذیر چراگاہوں کی بحالی کی داستان، جس نے مقامی باشندوں کی سوچ کو نیا رخ عطا کیاا

 

تحریر: اکمائیل حسین شاہ
 

چراگاہیں پہاڑی وادیوں کے مربوط ماحولیاتی نظام کا ایک بڑا حصہ ہوتی ہیں۔سطحِ سمندر سے لگ بھگ ساڑھے تین ہزار میٹر سے زائد بُلندی پر پہاڑوں کی ڈھلوانوں کے ترچھے پن میں بدستور کمی آتی جاتی ہے ۔ یوں یہ ہموار قطعات میں تبدیلی ہوتی جاتی ہیں۔ اس بُلندی پر الپائن اور ذیلی الپائن نباتات کی مثالی اقسام ملتی ہیںجو ان ہموار قطعات کوسبزے کی چادراوڑھا کر چراگاہیںبنادیتی ہے۔ صوبہ سرحد کی زیادہ تر پہاڑی چراگاہیں اسی تعریف پر پورا اترتی ہیں۔ موسمِ گرما کے چار پانچ ماہ کے دوران نیچے وادیوںسے بڑی تعداد میں خانہ بدوش گلّہ بان اپنے مویشیوں کی بھاری تعداد کے ساتھ سبز چراگاہوں کی تلاش میں نقل مکانی کرکے بُلندی پر آجاتے ہیں ۔ یہ لوگ آبشاروں اور جھرنوں کے کنارے ڈیرہ ڈالتے ہوئے اوپر کی جانب سفر کرتے رہتے ہیں اور اسی طرح موسمِ سرما کے آغاز پرواپسی کا سفر طے کرکے ترائی کی وادیوں میں چلے جاتے ہیں۔ بُلندی پر واقع سبز چراگاہوں تک رسائی کے اس سفر میںآتے اور واپس جاتے ہوئے یہ دو پہاڑی ڈھلوانوں کے درمیان قائم رہگذاروں سے گزرتے ہوئے انہیں بھی بطورِ چراگاہ استعمال کرتے جاتے ہیں۔ اگرچہ قانونی طور پر ڈھلوانوں کے درمیان قائم ان علاقوں کو 'محفوظ جنگلات' کا درجہ حاصل ہے، لیکن اس طرح کی چرائی سے نہ صرف ان کی قانونی حیثیت متاثر ہوتی ہے بلکہ یہ عمل مرطوب جنگلوں کی دوبارہ افزائش کے عمل کی ناکامی کی بھی سب سے بڑی وجہ ہے۔

سرحد میں چراگاہوں کی بد تر حالت زار کا ایک اور اہم سبب وہ گلّہ بان خانہ بدوش قبائل ہیں جو سارا سال اپنے مویشیوں کے ہمراہ سفر میں رہتے ہیں۔ موسمِ سرما کے آغاز پر یہ ترائی میں اترتے ہیں اور موسمِ گرما کے آغاز پر بلندیوں کی طرف واپسی کا سفر شروع کردیتے ہیں اور اس دوران اپنی رہگذر میں آنے والی روئیدگی اور نباتات کو تہس نہس کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ ان خانہ بدوشوںکا یہ صدیوں سے معمول ہے۔ موسمِ سرما کے آغاز پر جب یہ صوبہ سرحد کی ترائی میں اترتے ہیں تو نیچے وادیوں میں دور دراز علاقوں میں موجود چراگاہوں کو مقامی باشندوں سے کرائے پر لے لیتے ہیں۔ اس دوران وہ ایندھن کے لیے بے دردی سے درخت کاٹتے ہیں، ادویاتی پودوں کو اکھاڑ کر جمع کرتے ہیں اور لامحدود انداز میں چراگاہ کا استعمال کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ موسم کے آخر میں جب چارے کی قلت ہونے لگتی ہے تو اس دوران ایسے پودے جوزود ہضم نہیں ہوتے اور جانور انہیں منہ نہیں لگاتے، لیکن یہ ان پر بھی نمک چھڑک کر اپنے جانوروں کو کھلا ڈالتے ہیں۔ زمین اور قدرتی وسائل کا اس طرح بے دردی سے استعمال کرنے کے بعد جب یہ واپس جاتے ہیں تو صرف چند ماہ کے اندر ہی ان کے زیرِ اثر رہنے والی چراگاہیں اس قدر بیمار ہوچکی ہوتی ہیں کہ پیداوار تو ایک طرف، اس کی بحالی کے لیے بھی طویل عرصہ درکار ہوتاہے۔ مزیدِ برآں چراگاہوں کے موجودہ روایتی انتظامات میں مقامی باشندے اپنی غذائی اور مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بطورِ گلّہ بان جانورو ںکے بڑے بڑے گلّے رکھتے ہیں۔ یہاں جانوروں کی شرح اموات میں اضافہ اور ان کی کم پیداواری صلاحیت کا سبب صرف غیر معیاری اور مقدار میں کم چارہ ہی نہیں بلکہ گلّہ بانی کا ناقص انتظام،چراگاہوں سے غیر دانشمندانہ استفادہ، موسمِ سرما کے لیے چارے کو ناقص انداز میں ذخیرہ اور استعمال کرنا جیسے اسباب بھی شامل ہیں۔

اس منظر نامے میں ایم اے سی پی نے صوبہ سرحد میں اپنے شراکت داروں کے تعاون سے آٹھ وادیوں کی چراگاہوں کا انتظامی منصوبہ تیار کیا۔جن میںگرم چشمہ کنزروینسی کی ارکاری، مردان، گبور اور منور جبکہ کالام کنزروینسی کی گوڈار، بھن، شاہو، گبرال وادیاں شامل ہیں۔ منصوبے پر عمل سے چراگاہوں کی مجموعی حالت میں بہتری آئی ہے اور عمدہ چارے کی بدولت مویشیوں کے دودھ کی مقدار بھی بڑھی ہے۔ مزید برآں ایم اے سی پی کی آگاہی کے نتیجے میں متعدد وادیوں کے مقامی باشندوں نے چراگاہوں کے تحفظ اور بحالی کے لیے انہیںخانہ بدوشوں کو کرائے پر نہ دینے کا فیصلہ کیاہے۔ صرف کالام میںاس طرح کی چراگاہوں کی تعداد ایک درجن سے زائدہے۔ مقامی باشندوں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ خانہ بدوشوں کوجو چراگاہیں کرائے پردی جائیں گی وہ بھی جانوروں کی تعداد، چرائی کے لیے مخصوص ایام کا تعین اور شرائط پر عملدرآمد کے لیے تحریری معاہدہ کیے جانے کے بعد ہی دی جاسکیںگی تاکہ ان کا لامحدود اور غیر دانشمندانہ استعمال روکا جاسکے۔ چراگاہوں کی بحالی کے لیے ایم اے سی پی کی استعداد سازی اور آگہی کے نتیجے میں مقامی باشندوں نے چَرائی کو باضابطہ بناتے ہوئے چراگاہوں کو بلاکوں میں تقسیم کرکے چَرائی کے دنوں کو مخصوص کردیا گیا ہے، تاکہ لامحدود استعمال سے وہ چراگاہیں کہیں دوبارہ اپنی قوتِ پیداوار نہ کھودیں جو ایم اے سی پی کی برسوں کی محنت سے آج دوبارہ قابلِ استفادہ ہوئی ہیں۔

 

مزيد پڑھيے: شمالی علاقہ جات میں چراگاہوں کی بحالی

 



اکمائیل حسین شاہ ایم اے سی پی سرحد کے ریجنل پروگرام مینیجر ہیں