|
|
|
||||
|
||||
|
صوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات قدرت کے حسین مناظر کی دولت سے مالا مال ہیں ۔صوبہ سرحد میں مقامی باشندوں نے ایم اے سی پی کے اشتراک سے دو کنزروینسی قائم کیں۔ ان میں پہلی قاشقر اور دوسری ترِچ میر ہے۔ سطحِ سمندر سے لگ بھگ دو ہزار میڑ سے زیادہ بُلندی پرقائم یہ دونوں علاقے ہندو کش کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہیں۔ تاریخی طور پر اس کے راستے زمانہ قدیم کی شاہرائہ ریشم سے جا ملتے ہیں۔ اگرچہ یہ علاقے مناظرِ فطرت سے مالا مال ہیں لیکن اس کے باوجود یہاں منظم سیاحت اور مربوط معاشی سرگرمیوں کا فقدان تھا۔ غیر منظم سیاحت کے سبب مقامی باشندوں پر اس کے وہ فوائد مرتب نہیں ہورہے تھے، جو کہ منظم سرگرمیوں کے نتیجے میںہوسکتے تھے۔ مقامی باشندوںکی معاشی پسماندگی، متبادل ذرائع معاش کی عدم موجودگی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے سبب قدرتی وسائل پر دباؤ پڑ نا یقینی بات تھی۔جس کے نتیجے میں جنگلات تیزی سے کٹ رہے تھے۔ پہاڑوں کے برہنہ ہونے سے زمینی کٹاؤ میں اضافہ اور اس کے سبب آبی وسائل آلودہ ہورہے تھے۔ یوںیہ تمام عناصرمقامی قدرتی ماحول کو خطرات میں ڈال رہے تھے۔ 1999ء میں ماؤنٹین ایریاز کنزروینسی پروگرام کے آغاز میں محسوس کرلیا گیا تھاکہ دولتِ فطرت سے نہ صرف مقامی لوگوں کی معاشی حالت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے بلکہ قدرتی وسائل پران کے دباؤکو کم کرکے بقائے ماحول کے لیے پائیدار پیشرفت کی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں پائیدار ماحولیاتی سیاحت کا فروغ سب سے اہم قدم تھا۔ پائیدار ماحولیاتی سیاحت کا فروغ وسیع شراکتی عمل ہے، جس کے شراکت داروں میں ٹور آپریٹر، ہوٹل مالکان، غیرسرکاری تنظیمیں، متعلقہ سرکاری محکمے، محفوظ علاقوں کے انتظام کار اور مقامی کمیونٹیزشامل ہیں۔ یہاں خوش آئند پہلو یہ رہا کہ کمیونٹیز کے ایک حصے نے از خود منظم پائیدار ماحولیاتی سیاحت کے فروغ کے لیے اپنے تعاون کی پیشکش کی۔ ایم اے سی پی، صوبہ سرحد نے اس پیشکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تین روزہ ورکشاپ منعقد کی، جس میں کمیونٹی سمیت تمام شراکت داروںکو مدعو کیا گیا۔ ورکشاپ کا موضوع تھا'' کمیونٹی کی ترقی اور بقائے ماحول کے لیے پہاڑی سیاحت''۔ ورکشاپ کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ۔ جس کے نتیجے میں فیصلہ کیا گیا کہ مقامی باشندوںکی استعداد سازی کی جائے تاکہ وہ ماحولیاتی سیاحت کے فروغ کے بنیادی اصولوں سے آگاہ ہو کر کام کریں اور یوںاپنی معاشی حالت میں بہتری لانے کے قابل ہوسکیں تاکہ قدرتی وسائل پر ان کا انحصار کم ہو۔ پہاڑی علاقوںکے سیاحوںکے لیے پورٹر، گائیڈ اور کیمپ کا انتظام کرنے والی افرادی قوت ناگزیر ہوتی ہے ۔ یہ افرادی قوت مقامی کمیونٹی پر مشتمل ہوتی ہے، لہٰذا انہیںباقاعدہ تربیت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس ضمن میں اٹلی کی تنظیم Wilderness International کی لاہور میں قائم پاکستانی شاخ کی شراکت سے تربیتی پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ اس سلسلے میں18 قلیوں کو چترال کے دشوار گذار پہاڑی سلسلوں میں نہایت بُلندی تک پہنچنے کی ایک ماہ سے زائدعرصے تک تربیت فراہم کی گئی۔ 23افراد کو بطور قلی کم بُلندی تک پہنچنے اور منظم انداز میں کیمپ انتظامات کرنے کی ایک ہفتے کی تربیت دی گئی۔ اس طرح 20افراد کو دو ہفتوں کی بطور ماحولیاتی سیاحتی گائیڈ کے رسمی تربیت فراہم کی گئی۔ علاوہ ازیں کمیونٹی کے منتخب ارکان کو انتظامِ مہمانداری کی تربیت بھی دی گئی۔ا ن تمام تربیت ےافتگان کا تعلق تِرِچ میر اور قاشقر کنزروینسی میں شامل مختلف دیہاتوں سے تھا، جنہیں ایڈونچر فاؤنڈیشن، پاکستان کے اسکول میں یہ تربیت دی گئی۔ اس کے علاوہ کمیونٹیز کے لاتعداد مرد و خواتین کوقدرتی وسائل کی اہمیت، ان کی شناخت و افادیت کے بارے میںبھی تربیت دی گئی تاکہ پائیدارماحولیاتی سیاحت کے ساتھ ساتھ ماحول دوست معاشرہ بھی قائم ہوسکے۔ ماحولیاتی سیاحت کے فروغ کے لیے ایک اہم کوشش تِرچ میر اور قاشقر کے ٹریکنگ راستوں سے آشنائی کے لیے اہم معلومات پر مشتمل دلکش رنگین تصاویر والے وہ بروشر بھی ہیں، جنہیں تیار کرکے مفت تقسیم کیا گیا۔ نیزسیاحوں، پورٹروں، گائیڈوں اورمتعلقہ باشندوںکے لیے ماحولیاتی سیاحت کے لیے درکار اخلاقی ضوابط سے آگاہی کے لیے ضابطہ اخلاق بھی تیار کرکے وسیع پیمانے پر تقسیم کیا گیا۔ کمیونٹی سطح پر ماحولیاتی سیاحت کے فروغ سے معاشی ترقی کے لیے ایم اے سی پی نے قاشقر کی وادیِ گولین اور تِرچ میر کی وادیِ بگوشٹ میںبطورِ نمونہ کمیونٹی ہال بنوائے، جن میںسیاحوں کے لیے اطلاعاتی مراکز قائم کیے گئے۔ ان مراکز میں چھوٹے پیمانے پر سیاحوں کے لیے رات گزارنے کا بھی انتظام ہے۔ اس کے ساتھ ہی قاشقر میں دو اور ترِچ میر میں ایک عدد کیمپ سائٹ تیار کی گئیں جو معروف ٹریکنگ راستوں پر واقع ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے ان کیمپ سائٹ کا انتظام کمیونٹی کی ذمہ داری ہے اور وہ اجتماع بنیادوں پر چندہ جمع کرکے اس کا انتظام چلاتی ہیں۔ تین روزہ شندور میلہ اورپولو ٹورنامنٹ عالمی شہرت کا حامل ہے، جس میںشرکت کے لیے نہ صرف اہم شخصیات،بلکہ اندرون اور بیرونِ ملک سے بڑی تعداد میں سیاح چترال کا رخ کرتے ہیں۔ چترال- قاشقر کے شمالی کنارے پر واقع سبزہ زار 'فیری میڈوز' کے نام سے افسانوی شہرت رکھتے ہیں، مگر یہاںآنے والے سیاح اپنے پیچھے بکھرا ہواٹھوس فضلہ چھوڑ جاتے ہیں، جو اس سبزہ زار پربدنما داغ کی طرح نظر آتا ہے۔ کمیونٹیز، بالخصوص نوجوانوں کی شمولیت کے بغیر اس کا انتظام مشکل ہے، اس لیے ایم اے سی پی کے تحت لَسپر وادی کے نوجوانوں کو مجتمع کیا گیا اور انہیں اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے آگاہی فراہم کی۔ اب شندور میلے کے موقع پر یہ مقامی نوجوان باقاعدہ تحریک چلاتے ہیں اور لوگوں کو آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنا کچرا یہاں پھینکنے کے بجائے درست طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔ بعد ازاں ٹھوس فضلہ اکھٹا کرکے اقسام کے لحاظ سے علیحدہ کرکے انہیں درست انداز میں ٹھکانے لگادیا جاتا ہے تاکہ سرسبز چراگاہیںصاف ستھری رہ سکیں۔واضح ہو کہ یہ سبزہ زار مقامی لوگوں کے پالتو مویشیوں کی چراگاہیں بھی ہیں اور یہ کچرا نہ صرف چراگاہوں کوگنداکرتا ہے بلکہ بسا اوقات قیمتی پالتو مویشیوں کے لیے بھی خطرہ بن جاتاہے۔ ایم اے سی پی کے تحت ہندوکش کے پہاڑی دامنوں میں ماحول دوست سیاحت کے فروغ اور اس سے منسلک باشندوں کی ترقی کے لیے آگاہی، شراکت اور ابلاغ کی جو داغ بیل ڈالی ہے وہ نہ صرف لوگوں کو پائیدار ترقی کی سمت لے جارہی ہے بلکہ اس نے انہیں اس قابل بھی کردیا ہے کہ اب وہ منظم خطوط پر خود دوسری کمیونٹیز کی رہنمائی کرکے چراغ سے چراغ جلاسکتے ہیں۔ اکمائیل حسین شاہ
|
||||
|
||||