فروغِ ماحولیاتی سیاحتی اور ترقی کے حصول کے لیے آگہی اور استعداد سازی کی کوششوں کا احوال، جس کے عملی نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں

 

تحریر: شیراز بیگ تصاوير: ایم اے سی پی

 

سیاحت کو دنیا کے اکثر ممالک میںصنعت کا درجہ حاصل ہے ،تاہم ماحولیاتی سیاحت، تفریح کوپائیداربقائے فطرت کے اصول سے منسلک کرتی ہے۔

بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این ماحولیاتی سیاحت کی تشریح کرتے ہوئے کہتی ہے :

' ماحول سے وابستہ سیاحت کا مقصد ہے کہ فطرت کو متاثر کیے بغیر تفریح کا لطف اٹھایا جائے اور فطرت کی دلکشی کو پسند کرتے ہوئے اس کے تحفظ کے لیے کی گئی کوششوں کو مزید پروان چڑھایا جائے۔ نیز قدرتی ماحول پر سیاحوں کا کم سے کم اثر ہو اور یہ مقامی باشندوں کی شمولیت سے سماجی و اقتصادی سرگرمیوں میں اضافے کا جواز بنیں۔'

" کھینچتی ہے دامنِ دل آبشاروں کی صدا " قدرتی ماحول کا پائیدار انتظام اور ماحولیاتی سیاحت کا فروغ پائیدار ترقی کے حصول کا اہم راستہ ہے

قدرت نے شمالی علاقہ جات کی وادیوں کو دلکشی کی بیش بہا دولت سے نوازا ہے۔ ہرسال اندرونِ ملک اور دنیا کے دوسرے ممالک سے ہزاروں سیاح موسمِ گرما میں پُرسکون ماحول اور خوبصورت موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

شمالی پاکستان میں منصوبہ برائے تحفظِ پہاڑی علاقہ جات(ایم اے سی پی) کا جب یہاں منصوبے کا آغاز ہوا تو مشاہدہ کیا گیا کہ پائیدار منصوبہ بندی اورسیاحت کے شعبے سے وابستہ تمام شراکت داروں میں باہمی ربط کا فقدان ہے۔ جس کے سبب نہ تومقامی قدرتی ماحول سے پائیدار بنیادوں پراستفادہ کیا جارہاہے ، نہ ہی مقامی قدرتی وسائل کا تحفظ ہورہا ہے، لہٰذا کوشش کی گئی کہ فروغ ماحولیاتی سیاحت کے ضمن میں مقامی لوگوں کی استعداد سازی میں اضافے اور ان کی عملی شراکت سے ایسے اقدامات کیے جائیں جو دوسروں کے لیے بھی قابلِ تقلید مثال ثابت ہوسکیں۔

گوجال، پندرہ ہزار نفوس پر مشتمل واخی باشندوں کا پہاڑی قصبہ ہے۔ تاریخی پس منظر رکھنے والا یہ قصبہ چہار اطراف سے بُلند و بالا برف پوش چوٹیوں والے پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔ خوبصورت مناظر فطرت سے انسان کو ہم کلام ہونے پر مجبور کردیتے ہیں۔ قراقرم ہائی وے کی تعمیر سے نہ صرف شمالی علاقہ جات بلکہ گوجال تک سیاحوں کی رسائی ممکن ہوگئی اور آج بڑی تعداد میں سیاح فطرت سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ گوجال میںخوشحال افراد نے گلمت، پاسو اور سوست کی وادیوں میں رہائشی ضروریات کے لیے ہوٹل، چھوٹے گیسٹ ہاؤسز اور طعام خانوں کی تعمیر کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی، لیکن سیاحوں کی تعداد میں اضافے کے سبب نہ صرف یہ کہ ان سہولیات کی طلب بڑھ رہی ہے بلکہ قلیوں، گائیڈوںاور اس طرح کی دیگر خدمات سرانجام دینے والوں کی طلب میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، لیکن یہ تمام کام منصوبہ بندی سے عاری اور بنا کسی ضروری تربیت کے کیے جاتے رہے ہیں۔ یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ کسی بھی ماحولیاتی نظام میں غیر منظم انسانی سرگرمیوں کے منفی اثرات لا محالہ طور پر قدرتی ماحول پر پڑتے ہیں۔

ماحولياتی سياحت اور مقامی باشندے --- پائیدار ترقی کے ہمقدم
صوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات قدرت کے حسین مناظر کی دولت سے مالا مال ہیں ۔صوبہ سرحد میں مقامی باشندوں نے ایم اے سی پی کے اشتراک سے دو کنزروینسی قائم کیں۔ ان میں پہلی قاشقر اور دوسری ترِچ میر ہے۔  --- مزيد پڑھيے۔

ایم اے سی پی منصوبے کا آغاز ہوا تو گوجال اس کی ایک کنزروینسی بنا۔ ابتدا میں 'بقائے پہاڑی ماحول'کے نظریے کے تحت اگرچہ جہاں اور شعبے زیرِ نظر آئے، وہیں اس علاقے میںماحولیاتی سیاحت کے فروغ اورپائیدار قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے عملی مظاہرے کے ذریعے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس ضمن میں پراجیکٹ ٹیم نے سیاحتی شعبے کے تمام بنیادی شراکت داروںکی مدد سے صورتِ حال کا تجزیہ کیا، جس میںگوجال میں مربوط ماحولیاتی سیاحت کے فروغ میں حائل مندرجہ ذیل بڑی رکاوٹوں کی نشاندہی ہوئی۔

شمالی پاکستان کے دلفریب نظاروں کو دیکھ کر جنت کے زمیں پر اتر آنے کا گماں ہوتا ہے

- مصدقہ سیاحتی اعداد و شمار کا فقدان۔
- بیرونی ممالک میں پاکستانی سیاحت کا کمزور تعارف۔
- مارکیٹنگ اور فروغ کی کوششوں کے ناقص انتظامات۔
- سہولتوں کی فراہمی کے لیے کمزور بنیادی ڈھانچہ۔
- ناقص حکمتِ عملی ا ور زمین کے استعمال کے لیے منصوبہ بندی کا فقدان۔
- غیر تربیت یافتہ انسانی وسائل۔
- مذہبی تشدد۔
- سیاحت موسمِ گرما کی بڑی سرگرمی کی حد تک محدود ہے۔
- سیاحتی سرگرمیوں سے حاصل شدہ کم آمدنی۔
- حکومتی ترجیحات میں کم اہمیت؛ اور
- وسائل پر منحصر سیاحت کے لیے خطرات۔

گوجال میں پہاڑی علاقوں کی سیاحت کے حوالے سے شراکت داروں سے وسیع تبادلہ خیال کی صورت میں سامنے آنے والی یہ کمزوریاں شمالی علاقہ جات اور صوبہ سرحد کے دیگرپُرفضا پہاڑی سیاحت میں موجود خامیوں کی بھی نشاندہی کرتی ہیں۔ ایم اے سی پی کے تحت چونکہ گوجال میں جاری اس سرگرمی کا تعلق بنیادی طور پر نہایت مقامی رکھا گیا تھا، لہٰذا اس شراکتی عمل کے نتیجے میں مقامی سطح پر جامع انتظامی منصوبہ management plan تشکیل دیاگیا۔ منصوبے کی تشکیل کے بعد اگلا مرحلہ اس کے نفاذ کا تھا۔جس کے تحت ایم اے سی پی نے فروغِ ماحولیاتی سیاحت کے لیے استعداد سازی کی ضرورت کے تحت اہل مقامی باشندوں،ماحولیاتی سیاحوں کے لیے بطور گائیڈ خدمات سرانجام دینے والے افراد، قلیوں (پورٹر) اور ہوٹل مالکان کو تربیت کے متعدد کورس منعقد کروائے گئے۔

فروغِ ماحولیاتی سیاحت کے ضمن میں مصدقہ مددگار معلومات تک سیاحوں کی بہ آسانی رسائی کے لیے گوجال کی آٹھ وادیوں سے متعلق دلکش تصاویر والے بروشر طباعت کروائے گئے۔ جن میں مقامی ثقافت و رسم و رواج، جنگلی حیات و نباتات اور مقامی سطح پر دستیاب سہولتوں کیضروری بنیادی تفصیلات شامل کی گئیں۔ سیاحوں کی دلچسپی کے مقامات کی نشاندہی کے لیے معلوماتی بورڈ نصب کروائے گئے۔ علاوہ ازیں سیاحتی سرگرمیوں کے منتظمین، ماحولیاتی سیاحت کے گائیڈوں ، قلیوںاور خود سیاحوں کے لیے بھی ضابطہ اخلاق ترتیب دیاگیا۔ اس بات کی جانب بھرپور توجہ دی گئی کہ ان سیاحتی سرگرمیوں کے نتیجے میںماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کم سے کم ہوں۔ اس حوالے سے کمیونٹی کی بنیاد پر وادیِ شمشال میںماحولیاتی سیاحت سے دلچسپی رکھنے والے سیاحوں کے لیے ایک کیمپ سائٹ قائم کی گئی ، جہاںسیاحوں کو فراہم کی گئی خدمات کے عیوض حاصل شدہ آمدنی کواجتماعی بنیادوں پر گوجال میں پائی جانے والی حیاتیاتی تنوع کی بقا کے کاموں اور علاقے کی اجتماعی ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔

ایم اے سی پی کے تحت گوجال میں کیے گئے اقدامات کی روشنی میں آج یہاں بقائے ماحول کے لیے مربوط ماحولیاتی سیاحت کا فروغ، حیاتاتی انواع کے تحفظ اور علاقے کی ترقی کا خواب تعبیر کی راہ پر گامزن ہوچکاہے۔

 

 

شیراز بیگ ایم اے سی پی شمالی علاقہ جات سے وابستہ ہیں