ڈشکرم اور بونجی کی کمیونیٹیز اور غیر سرکاری تنظیم کے اشتراک سے ایم اے سی پی نے قدرتی وسائل سے پائیدار ترقی کے حصول کو روشن مثال بنادیا

 

تحریر: اطہر علی خان
 

پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے برف پوش پہاڑ بلاشبہ ملک کے آبی مینار ہیں اور ان کی دلکش وادیاں سیاحوں کا دامنِ دل اپنی جانب کھینچتی ہیں ۔ یہاں کے باشندوں کی طویل العمری اور صحتمندی کو میدانی علاقوں کی جھلسادینے والی ہوا کے تھپیڑے کھائے لوگ رشک سے دیکھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان وادیوں کا کشادہ دامن اپنے اندر قدرتی وسائل کا وسیع ذخیرہ چھپائے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدرتی وسائل پر تحقیق کرنے والوں کے لیے بھی یہ باعثِ کشش ہے۔

شمالی پاکستان کی ان وادیوں کا ایک خزانہ وہ قیمتی ادویاتی پودے اورنباتات ہیں جو اپنے اندر شفایابی کے بیش فوائد پنہاںکیے ہوئے ہیں۔ دوسروں کو تو چھوڑیے، خود اکثر مقامی باشندے بھی مکمل طور پر ان کے فوائد اور ان سے منفعت اٹھانے سے آگاہ دکھائی نہیں دیتے تھے۔

ادویاتی پودے دنیا بھر میں بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں، لیکن یہ رشتہ قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال سے مشروط ہے

ا یم اے سی پی کے تحت جب شمالی علاقہ جات کی منتخب وادیوں میں کام شروع کیا گیا تو قدرتی وسائل کی بقا اور ان سے پائیدار بنیادوں پر مستفید ہونے اور ان کے زریعے علاقے کی ترقی اور مقامی لوگوں کی معاشی حیثیت میں بہتری لانا منصوبے کا مطمئع نظر تھا۔ اگرچہ شمالی علاقہ جات کا دامن ہمارے ایم اے سی پی کے منتخب علاقوں کی نسبت نہایت وسیع ہے، لہٰذا کوشش کی گئی کہ مقامی باشندوں کی آگہی اور استعداد میں اس طرح اضافہ کیا جائے کہ وہ اپنے علاقوں کے ادویاتی پودوں سے بہترین انداز میں استفادہ کرسکیں اورپائیدار بنیادوں پر ان کی بقا کے ضامن بھی ثابت ہوں۔ یوں یہ دوسری وادیوں کے باشندوں کے لیے بھی ایک مثال بن جائیں اور ان کی استعداد و تجربات کو دوسرے لوگ اپنے علاقوں میں دُہرا سکیں۔

اس دوران اس افسوسناک حقیقت کا بھی مشاہدہ ہوا کہ قدرتی نباتات کو زمین سے علیحدہ کرنے کا مقامی طریقئہ کار نہ صرف غیر دانشمندانہ تھا، بلکہ اس سے قدرتی وسیلے کا بھی بری طرح استحصال ہورہا تھا۔ لہٰذا کوشش کی گئی کہ نہ صرف اس حوالے سے استعداد سازی کی جائے بلکہ انہیں ان نباتات و ادویاتی پودوں سے بہتر انداز میںمعاشی استفادہ حاصل کرنے کے لیے وادی سے منڈی تک رسائی بھی فراہم کی جائے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے متواتر کوششوں کے ذریعے انہیں اس جانب راغب کیا گیا کہ قدرتی وسائل سے کس طرح بہتر اور پائیدار انداز میں استفادہ کیا جاسکتا ہے ، نیز ان نباتات و ادویاتی پودوں کو زمین سے علیحدہ کرنے اور پھر دوبارہ انہیں اُگانے کی منصوبہ بندی کس طرح کی جائے۔ نباتات و ادویاتی پودوں کے تحفظ کے ضمن میں ایک جانب اگر مقامی قوانین کی اصلاحات کے لیے کوششیں کی جاتی رہیں تو دوسری جانب گھر کی دہلیز تک آگہی کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہا۔۔۔اور ان کوششوں کے مثبت نتائج برآمد بھی ہوئے۔

ہماری کوششوں کے اولین نتائج غیر سرکاری تنظیم ''الپائن ادویاتی جڑی بوٹیاں و دیہی سماجی بہبود''Alpine Medicinal Herb & Rural Welfare Organization (AMHRWO) کی شکل میں سامنے آئے۔ تنظیم نے ایم اے سی پی سے رابطہ کرکے ضلع استور میں دستیاب ادویاتی افادیت کی حامل جڑی بوٹیوں کو خریدنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی۔ اگرچہ اس سے پہلے اس طرح کی باقاعدہ خریداری کا کوئی تصور قائم نہیں تھا۔ اگرچہ اس بات کی توخوشی تھی کہ ایم اے سی پی کی کوششوں کے نتیجے میں اب یہاں پائے جانے والے ادویاتی پودوں کی افادیت اور ان کی پائیدار تجارت کو فروغ حاصل ہورہا ہے، جس کے نتائج آخرِ کار اس اہم قدرتی وسیلے کے پائیدار تحفظ کی صورت میں برآمد ہونے تھے، مگر ایک رکاوٹ آڑے آرہی تھی۔ وہ یہ کہ یہاں پائے جانے والے ادویاتی پودوں کی تجارت کے حوالے سے باقاعدہ قوانین موجود نہیں تھے۔ ایسے میں مذکورہ بالا تنظیم کو درکار ادویاتی پودوں کی باقاعدہ فروخت صرف ایک خواب ہی تھی۔

اسی دوران مقامی آبادی جو ایم اے سی پی کے ساتھ رابطوں میں تھیں اور ادویاتی پودوں سمیت قدرتی وسائل کے تحفظ اور پائیدار استعمال کے حوالے سے مسلسل مشترکہ جدوجہد میں شامل تھیں، انہیں بھی اپنی محنتوں کا ثمر ملنے لگا۔ یہ ثمر ایم اے سی پی کے ان اقدامات کی صورت میں تھا، جو اس حوالے سے شروع کیے گئے۔ اس سلسلے میں وادیِ ڈشکرم کے مرد و خواتین کو ادویاتی اہمیت کے حامل نباتات کی کاشت، کٹائی کی تکنیک ، خشک کرنے، اقسام کے لحاظ سے ان نباتات کو علیحدہ علیحدہ کر کے ذخیرہ وپیک کرنے کی تربیت فراہم کی گئی۔ اس حوالے سے ان کے روایتی علم میں اصلاح کرکے ان کی استعداد سازی بھی کی گئی، تاکہ وہ لوگ اس بیش بہا قدرتی وسیلے سے پائیدار بنیادوں پر فیض یاب ہوسکیں۔

اس دوران مقامی غیر سرکاری تنظیم 'الپائن ادویاتی جڑی بوٹیاں و دیہی سماجی بہبود'ایم اے سی پی کے ساتھ نہ صرف تربیت بلکہ اس حوالے سے کیے گئے دیگر اقدامات میں برابر کی شریک تھی ۔ ساتھ ہی وہ ادویاتی پودوں کے بہتر انتظام کے لیے انتظامی منصوبے Management Plan کے جائزے میں بھی شامل رہی۔ یہ موقع نہ صرف مذکورہ غیرسرکاری تنظیم بلکہ مقامی آبادی کے لیے بھی نہایت سودمند ثابت ہوا۔ اس طرح دونوں کو اکھٹے مل بیٹھنے اورمختلف اقسام کے ادویاتی پودوں کی پائیدار تجارت کے لیے نئی ممکنہ راہیں تلاش کرنے اور ایک دوسرے کے تجربات کو جاننے کا بھی موقع ملا۔ اس کے نتیجے میں دو پودوں کی تجارتی بنیادوں پر فروخت اور پائیدار کاشت کا منصوبہ سامنے آیا۔ وادی میں وافر مقدار میں پائے جانے والے ان دو ادویاتی پودوں میں ایک Wild Thymeجسے مقامی زبان میں 'تمارو' اور سائنسی اصطلاح میںThymus linearis کہتے ہیں۔ اس پودے کی پتیوں سے خوش ذائقہ قہوہ تیار ہوتا ہے۔ دوسرا پوداHorsetail کہلاتا ہے۔ اس کاسائنسی نامEquisetum ہے۔ یہ وادی میں زمانہ قدیم سے ہی پایا جاتا ہے۔ یہ ایک طرح سے بے پھول اور روئیں دار ڈنٹھل کا پودا ہوتا ہے اور دیسی طریقہ علاج میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ خوش قسمتی سے ان دونوں ادویاتی پودوں کی باقاعدہ تجارت میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں تھی، کیونکہ یہ دونوں پودے مخدوش جنگلی نباتات و حیوانات کی بین الاقوامی تجارت سے متعلق عالمی میثاق CITIES کی فہرست میں شامل نہیں ہیں۔یاد رہے کہ CITES دنیا بھر کی لگ بھگ30ہزار جنگلی حیات اور نباتات کی انواع کی عالمی تجارت کو باضابطہ بناتا ہے، تاکہ ان انواع کا تحفظ ممکن ہوسکے۔ اس وقت معاہدے کا پاکستان سمیت دنیا کے163ممالک پر اطلاق ہوتا ہے۔ بعد ازاں ایم اے سی پی اور الپائن ادویاتی جڑی بوٹیاں و دیہی سماجی بہبود تنظیم نے استور کنزروینسی کے علاقے وادیِ بونجی میں ایک مشترکہ سروے کیا۔اس کے نتیجے میں عام پائی جانے والی ایک بیل کو دریافت کیا، جسے تریبولس tribulus کہتے ہیں اور اس کا سانسی نامTribulus spp. ہے۔ یہ بیل بھی نہایت اہم ادویاتی خصوصیت اور تجارتی افادیت کی حامل ہے ۔ جس کی پائیدار کاشت اور تجارت مقامی باشندوں کے لیے نہایت مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

ایم اے سی پی کے تحت آنے والے علاقوں میںویلی کنزرویشن کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔ یہ کمیٹیاں مقامی باشندوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ لہٰذا جب یہاں اس بات کاتعین ہوگیا کہ کن ادویاتی پودوں کی پائیدار کاشت ممکن ہے، تو اس کے بعد ایم اے سی پی نے ڈشکرم اور بونجی کی ویلی کنزرویشن کمیٹیوں اور الپائن ادویاتی جڑی بوٹیاں و دیہی سماجی بہبود کے مابین تحریری معاہدے کے لیے ان کی مدد کی تاکہ طے شدہ پودوںکو کاٹنے سے لے کر باقاعدہ فروخت کے لیے منڈی تک رسائی کو باضابطہ بنایا جاسکے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ اقدامات انفرادی کے بجائے اشتراکی سطح پرتھے۔ یوں ان ادویاتی پودوں کی کاشت و تجارت سے ہر ویلی کنزرویشن کمیٹی کو فی فصل تین لاکھ روپے ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ۔ یہ رقم وہ تھی کہ جو اُنہیں اُن خود رو پودوں سے حاصل ہورہی ہے کہ جنہیں مقامی باشندے پہلے اہمیت ہی نہیں دیتے تھے اور انہیں صرف خود رو پودے اور بے مول جڑی بوٹیاں تصور کیا جاتا تھا۔

اب جبکہ یہ عمل جاری و ساری ہے اور مقامی لوگ نہ صرف اس سے مالی فوائد حاصل کررہے ہیں بلکہ ان کی دیکھا دیکھی دوسری وادیوں کے باشندوں کے لیے بھی یہ قابلِ تقلید مثال بنتی جارہی ہے۔ ڈشکرم اور بونجی کے وہ خود رو پودے جنہیں کل تک مقامی کمیونٹیز کے جانور تک منہ نہیں لگاتے تھے، آج وہ ان مقامی باشندوں کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں اور وہ نہایت ذوق و شوق سے ان کی کاشت کررہے ہیں۔ یہ سب کچھ صرف اس وقت ہی ممکن ہوسکا جب مقامی لوگوں کی استعداد سازی کی گئی، انہیں منڈی تک رسائی کی راہوں سے آگاہ کیا گیا اور ان سب مقاصد کے حصول کے لیے ان کی اجتماعی رہنمائی اور تربیت کی گئی۔

ڈشکرم اور بونجی، ادویاتی پودوں کی پائیدار تجارت اور باضابطہ کاشت کے حوالے سے ایم اے سی پی کی ان کوششوں کی واضح مثال ہے، جس نے ضلع استور کی دوسری مقامی آبادیوں کی توجہ بھی حاصل کی۔ اس کامیاب تجربے اور پائیدار عمل کے بعد ضلع استور کی مختلف وادیوں سے تعلق رکھنے والے مقامی باشندوں نے ایم اے سی پی سے رابطہ کرکے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ان کے علاقوں میں پائے جانے والے ادویاتی پودوں کی کاشت و تجارت کے لیے ان کی بھی استعداد سازی کی جائے، تاکہ قدرتی وسائل کے ذریعے ترقی کے ثمرات سے وہ بھی پائیدار استفادہ کرسکیں۔

شمالی علاقہ جات کی پسماندہ اور روزگار کے کم مواقعوں والی پہاڑی وادیوں میں وافر پائے جانے والے قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال و انتظام اور ان کے ذریعے معاشی ترقی کی جو شمع ایم اے سی پی نے ڈشکرم میںروشن کی ہے، امید کی جاسکتی ہے کہ اس کی روشنی سے دوسری وادیاں بھی منور ہوں گی اور وہاں کے لوگوں کو بھی روزگار کے مزید مواقع حاصل ہوں گے۔

 

 

 

اطہر علی خان ماہرِ حیاتیاتی تنوع ہیں اور ایم اے سی پی، شمالی علاقہ جات کے فیلڈ آفس سے وابستہ ہیں