|

|
| " -- جہاں پتھر گیت گاتے ہیں " شمالی
علاقہ جات کو پاکستان کا "آبی مینار" بھی کہا جاتا ہے |
شمالی پاکستان کے فطری حُسن، تہذیب و ثقافت اور قدرتی وسائل کی اہمیت سے کسی کو
انکار نہیں۔ یہاں کے آب گیر علاقے watershed area ملکی سطح پر معیشت کے
اہم عناصر میں شمار ہوتے ہیں اور اسی اہمیت کے پیشِ نظر ان بُلند سطح پر
واقع برفانی چوٹیوں والے پہاڑی علاقوں کو پاکستان کے' آبی مینار' بھی کہا
جاسکتا ہے۔ دلکش مناظرِ فطرت اور قدرتی وسائل سے مالامال یہ خطّہ عشروں
سے چلے آنے والے قدرتی وسائل کے غیر دانشمندانہ استعمال کے منفی اثرات کے
سبب مجموعی قدرتی ماحول کے حوالے سے تنزلی کا شکار ہوتاجارہا تھا۔ بڑھتی
ہوئی آبادی، کمزور معاشی حالت، انسانی وسائل کی بے استعدادی اور زندگی گزارنے
کے لیے بڑی حد تک صرف قدرتی وسائل پر انحصار اور ان کا تجارتی بنیادوں پر
بے تحاشہ استعمال، نیز قدرتی وسائل سے پائیدار استفادے کے انتظامات کے فقدان
جیسے عوامل مقامی قدرتی ماحول و وسائل کے انحطاط کی اہم وجوہات میں شامل
ہیں۔ قدرتی وسائل دو طرح کے ہوتے ہیں۔ اول قابلِ تجدید ، دوئم ناقابلِ تجدید۔ قابلِ تجدید
قدرتی وسائل renewable natural resources سے اس طرح استفادہ کیا جائے کہ
ساتھ ساتھ ان کو افزائش کے لیے مہلت اور سازگار ماحول ملتا رہے تو اسے پائیدار
استفادہ sustainable use کہتے ہیں، لیکن حالت یہ ہو کہ استفادہ تو بے تحاشہ
ہو لیکن افزائش کے لیے سازگار ماحول معدوم ہوجائے تو پھر اس سے مجموعی ماحول
پر رفتہ رفتہ منفی اور دوررس اثرات مرتب ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ شمالی پاکستان
کے قدرتی وسائل کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر ایک وقت
میں یہاں کے قدرتی وسائل پر مقامی باشندوں کا معاشی و سماجی انحصار اپنی
زندگیوں کی حد تک محدودتھا لیکن جیسے جیسے دشوار گذار پہاڑی گھاٹیوں میں
پختہ راستے بنتے گئے، قدرتی وسائل سے تجارتی بنیادوں پر استفادے کا چلن
عام ہوتا چلا گیا۔عمارتی لکڑی کے لیے جنگلات کی بے دریغ کٹائی نے قدرتی
وسائل سے تجارتی بنیادوں پر استفادے کو تیزی سے رواج بخشا، مگر اس کے منفی
اور دور رس اثرات برسوں بعد مجموعی ماحولیاتی انحطاط کی شکل میںایک بڑے
خطرے کی طرح کے انداز میںہمارے سامنے آن کھڑے ہوئے۔
اگرچہ شمالی پاکستان کے ماحولیاتی انحطاط کو کافی پہلے محسوس
کرلیا گیا تھا اور بقائے ماحول کے لیے کوششیں بھی کی جاتی رہی ہیں لیکن
ان اقدامات کے نفاذمیں افسر- ماتحت کا طریقہ top down conservation appraoches
تھا تو دوسری طرف ان میں مقامی لوگوں کی شراکت کوبھی نظر انداز کیا گیا،حالانکہ
مقامی باشندے ہی صحیح معنوں میں ان قدرتی وسائل کے نگہباں تھے اور ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کے تحفظ اور استفادے کے حوالے سے مقامی سطح
پر مضبوط قوانین کا فقدان بھی رہا۔ یوں ان سب عوامل کے سبب بقائے ماحول
کی کوششوں کے وہ نتائج برآمد نہ ہوسکے، جو کہ ہونے چاہیے تھے۔
شمالی پاکستان کی ماحولیاتی اہمیت ،بتدریج سنگین رخ اختیار کرتے
ہوئے ماحولیاتی مسائل، قدرتی وسائل کو پہنچنے والے پیچیدہ خطرات اور بقائے
ماحول کی کامیاب کوششوں میں حائل مشکلات کا اِدراک کرتے ہوئے وفاقی وزارتِ
ماحولیات پاکستان اور بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این ،پاکستان
نے آب گیر علاقوں کی بقا کی بنیاد پر1995-99 ء کے دوران Maintaining Biodiversity
in Pakistan with Rural Community Developnment کے تحت ایک منصوبہ شروع
کیا۔ مقامی کمیونٹی کے اشتراک سے شروع کیے جانے والے اس منصوبے کے لیے مالی
تعاون اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرامUNDP اور گلوبل انوائرنمنٹل فیسلٹیGEFنے
کیا تھا۔ مقامی باشندوں کے اشترا ک سے یہ منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوا۔
یہ کامیابی شمالی علاقہ جات اور صوبہ سرحد کی منتخب وادیوں میں ماحولیاتی
تحفظ اور زیادہ وسیع اور مزیدجامع حکمتِ عملی کے تحت بقائے ماحول کے لیے
اُس منصوبے کی داغ بیل ثابت ہوئی جسے منصوبہ برائے بقائے پہاڑی علاقہ جاتMountain
Areas Conservency Project کا نام دیا گیا، جو مختصراً MACP کہلاتا ہے۔
ایم اے سی پی 10 اعشاریہ3 ملین امریکی ڈالر مالیت پر محیط منصوبہ
ہے۔ اس منصوبے کے لیے رقم UNDPاور GEFاور حکومتِ پاکستان نے فراہم کی جبکہ
اس پر عملدرآمد آئی یو سی این، پاکستان کی ذمے داری ٹہری۔ منصوبے پر عمدرآمد
کے جو دیگر شریکِ کار میں محکمہ جنگلی حیات صوبہ سرحد، محکمہ جنگلات شمالی
علاقہ جات، آغا خان رورل سپورٹ پروگرام، ہمالیہ وائلڈ لائف فاؤنڈیشن شامل
ہیںجبکہ ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر پاکستان WWF-Pسے ماحولیاتی تعلیم و آگہی
کے فروغ کے لیے اقدامات کا معاہدہ کیا گیا۔
قراقرم، مغربی ہمالیہ اور ہندو کش کے پہاڑی سلسلے کی وادیوں
میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے عملی اقدامات کے لیے ایم اے سی پی نے مقامی
باشندوںکے ساتھ اشتراکِ عمل کا طریقہ اپنایا۔ وسیع معنوں میں کہیں تو بقائے
ماحول کے لیے ایم اے سی پی کی یہ کوششیں طویل المدت تناظرمیںپائیدار نتائج
کے حوالے سے اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی تھیں، جب تک اسے مقامی
باشندوں کا بھرپور تعاون حاصل نہ ہوا ہوتا۔
|