'منصوبہ براۓ تحفظِ پہاڑی علاقہ جات' نے ملک کی شمالی وادیوں میں اشتراکِ عمل سے قدرتی وسائل کے تحفظ و پائیدار استفادے کا خواب سچ کر دکھایا-

تحریر: برائین ہیگل ترجمہ: محمد ذیشان حیدر


شمالی پاکستان کی جغرافیائی سرحدیں تین ممالک سے ملتی ہیں، جن میں بھارت، چین اور افغانستان شامل ہیں۔ یہ خطّہ نہایت وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے بُلند و بالا پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ اس کے شمال میں ہمالیہ جبکہ مغرب میں قراقرم اور ہندو کش کا پہاڑی سلسلہ ہے۔ یہ علاقہ نہایت منفرد پہاڑی ماحولیاتی نظاموں پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے اسے دنیا بھرمیں شہرت حاصل ہے۔سطحِ سمندر سے عموماً چھ ہزار میٹر سے زائدبُلندی پر واقع اس علاقے کا لگ بھگ1لاکھ،75ہزار مربع کلومیٹر کا رقبہ ایسا ہے، جہاں دنیا کی 14 ایسی بُلند ترین پہاڑی چوٹیاں موجود ہیں جن کی اونچائی آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ ہے۔ ان میں ایورسٹ کے بعد دنیا کی دوسری بُلند ترین چوٹی کے ٹو بھی شامل ہے، جس کی بُلندی 8 ہزار،611 میٹر ہے۔

کنزروینسی کیا ہے؟

'کنزروینسی'conservency انگریزی زبان کا لفظ ہے، جس کے لغوی معنیٰ بقا اور تحفظ کے ہیں، لیکن 'ماؤنٹین ایریاز کنزروینسی پراجیکٹ' میں لفظ 'کنزروینسی' ایک ایسا دائرئہ عمل ہے، جس کا مقصد کمیونٹیز اور حکومت کے لیے قابلِ تجدید قدرتی وسائل سے کہیں زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے اس کے پائیداراور مربوط انتظام کے نظام کی تشکیل کرنا ہے۔ اس منصوبے کے دیگرمقاصد میں مقامی شراکت داروں میں حقِ ملکیت کو اُجاگر کرنا، ذرائع معاش و خوراک کا تحفظ اور حیاتیاتی وسائل کی بقا کا انتظام کرنا بھی شامل ہے۔ کنزروینسی کا حجم اور شکل اس کے فوائد ، ضروریات اور مقامی شراکت داروں کے باہمی تعاون کی جھلک پیش کرتاہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کنزروینسی کے مقاصد کے تحت جغرافیائی منظر نامے میں بہتری اور اس کے وسائل میں گنجائش کے ذریعے بتدریج ایسی ارتقائی صورتِ حال جنم لے گی جو شراکت داروں کی اجتماعی سوچ کادھاراہی بدل ڈالے گی۔ منصوبے کے تحت کیے گئے کامیاب اقدامات ،کوششوں اور تجربات کو ساحلی یازمینی ماحولیاتی نظاموں کی بقا کے لیے دُہرایا بھی جاسکتا ہے۔ ایسی کسی بھی جگہ جہاں پرمقامی لوگوں اور حکومت کے مابین مشترکہ مفادات ہوں، وہاں اشتراکِ عمل کے ذریعے کنزروینسی کے مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
برائن ہیگل

اس زرخیز پہاڑی خطے کے مختلف ماحولیاتی نظاموں میں پائی جانے والی حیاتیاتی دولت اپنے تنوع کی بدولت عالمی سطح پر نہایت اہمیت کی حامل شمار کی جاتی ہے۔ خطّے کی قدرتی جغرافیائی ساخت نے ایسا ماحول تخلیق کیا ہے جس کی بدولت یہاں موسمِ سرما میں منفی20سینٹی گریڈ سے لے کر موسمِ گرما کے مہینوں میں 45ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت رہتا ہے، جس کی بدولت انواع و اقسام کی نباتات اور ان پر انحصار کرنے والی جنگلی حیاتیاتی تنوع کو پھلنے پھولنے کے لیے سازگار ماحول ملا ہے۔اس تنوع کا مشاہدہ آج بھی یہاںکیا جاسکتا ہے۔


شمالی پاکستان کے پہاڑی سلسلے کے ماحولیاتی نظام میں چاربنیادی حیاتیاتی مادوںکی موجودگی ملتی ہے۔ اس میں پہاڑوں کی بُلند سطح والی خشک وادیاں اور برفانی میدانdry alpine valleys & snowfields ، وافر مقدار میں آبی ذخائر کی حامل چراگاہیںwell-watered alpine meadows ، خشک آب و ہوا اور سوئی دارپتوںوالے درختوں کے جنگلات dry temperate coniferous forests (ان میں زیادہ تر دیودار ، زیادہ بُلندی پر پائے جانے والے جونیپر اوربیدکے جنگلات ہیں)۔

پاکستان کے مذکورہ پہاڑی سلسلے کی وادیوں، گھاٹیوں، قدرتی چشموں، جنگلات اور زمین پر موجود روئیدگی نے جنگلی حیات کے لیے جو سازگار ماحول فراہم کیا، اس کی بدولت یہ خطّہ مختلف اقسام کے حیاتیاتی تنوع کا قدرتی مسکن بھی ہے۔ یہاں پائے جانے والی جنگلی حیات میں برفانی تیندوا، آئی بیکس، مارکو پولو بھیڑ، بھورا اور کالا ریچھ، مشک نافہ ہرن، مارخور، اڑیال، اُڑن گلہری، ویسٹرن ٹریگوپان western tragopan اور برفانی تیتر بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں پر بڑی تعداد میں ادویاتی پودے اور خوشبودار نباتات بھی پائی جاتی ہیں۔

منصوبہ براۓ تحفظِ پہاڑی علاقہ جات --- کیا کیوں اور کیسے؟

منصوبہ برائے تحفظِ پہاڑی علاقہ جات (ایم اے سی پی) کے نیشنل پراجیکٹ منیجر راجہ عطاء اﷲ خان ہیں۔ ان سے جب سوال کیاکہ منصوبے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی اور اس کے شروع کرنے کے بنیادی مقاصد کیاتھے تو انہوں نے بتایا:   --- مزيد پڑھيے۔

 

مخالفت سے حمایت تک

منصوبہ برائے تحفظِ پہاڑی علاقہ جات (ایم اے سی پی) میں عوامی شراکت کے ضمن میں بعض مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا، تاہم مکالموں، رابطوں اور آگہی کے فروغ نے ان تمام مشکلات کو دور کرنے میں بڑی مدد کی --- مزيد پڑھيے

 

منصوبہ برائے پہاڑی علاقہ جات میںشامل اسکردو، گلگت، دِیر، چترال اور سوات کے علاقے دلکش مناظر والے خطّے ہیں۔ ان وادیوں میں عناصرِ فطرت پر انحصار اور سادہ طور طریقوں پر زندگی بسر کرنے والے باشندے رہتے ہیں۔ وادیوں کے باشندے چھوٹے چھوٹے قصبوں اور پہاڑی ڈھلوانوں پربنے دیہاتوں میں سکونت رکھتے ہیں۔ منتشر آبادی والے ان علاقوں کے مکینوں کی معاشی زندگی کا انحصار قدرتی وسائل پر ہے اور بنیادی طور پر کاشت کاری اور گلّہ بانی ان کا سب سے بڑا ذریعہ معاش ہے، تاہم یہاں کی پہاڑی وادیوں کی دس فیصد سے بھی کم زمین قابلِ کاشت ہے۔ اس کے لیے پانی کی ضرورت قدرتی آبی وسائل سے پوری کی جاتی ہے۔ پانی کے بنیادی ماخذ جھرنے، دریا اور پہاڑی چوٹیوں سے برف کے پگھلنے کی صورت میں نیچے تک پہنچنے والا پانی ہیں۔ اس مقصد کے لیے آبی ماخذوں سے زرعی زمینوں تک نالیاںتیار کرکے پانی لایا جاتا ہے۔ یہاں کی اہم فصلوں میں دالیں، گندم، جَو، آلو، مکئی، لوبیا وغیرہ شامل ہیں۔ گلّہ بانی بھی یہاں کے مقامی باشندوں کی اکثریت کے لیے روزگار کا درجہ رکھتا ہے۔ یہاں پر بالعموم یاک، گائے، بھیڑ، بکریاں وغیرہ بطورِ پالتو مویشی رکھے جاتے ہیں جن سے حاصل شدہ دودھ، گوشت، اون اور کھال گلّہ بانوں کے لیے رقم کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ مقامی باشندے اور خانہ بدوش، پالتومویشیوں کے لیے موسمِ سرما میں زیریں وادیوں جبکہ موسمِ گرما میںبُلندی پر واقع سر سبز میدان بطورِ چراگاہ استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ بیس سالوں کے دوران ان دشوار گذار پہاڑی وادیوں میں مواصلاتی نظام بہتر ہوا ہے اور پختہ سڑکوں کے جال کے ذریعے نقل و حمل کی سہولتوں میں بہتری آئی ہے۔ جس کی بدولت زراعت اور گلّہ بانی کے علاوہ تجارت اور نجی شعبے میں بھی مقامی باشندوںکی شمولیت ہوئی ہے اور اس کے ذریعے انہیں بہتر آمدنی کے حصول کے مواقع ملے ہیں۔ علاوہ ازیں رابطوں کی سہولتوں میں بہتری کے سبب ایک واضح تبدیلی یہ دیکھنے میں آئی ہے کہ گزشتہ عشروں کے دوران یہاں کے لوگ بالخصوص نوجوانوں کی بڑی تعداد نے تعلیم اور روزگار کے لیے ملک کے بڑے شہروں اور بیرونِ ممالک کا بھی رخ کیا ہے۔

ان وادیوں کے اطراف کا منظر نہایت ہی حسین و جمیل مناظر پر مشتمل ہے۔ بڑے بڑے گلیشیر، بہتے جھرنے، شور مچاتے ہوئے بُلندی سے گرنے والے آبشار، شفاف نیلگوں پانی سے لبریز خاموش پانیوں والی گہری جھیلیں، پہاڑوں کی نہایت بلندی پر واقع سرسبز میدان، جنگلات اور ان میں چرند و پرند کے مساکن۔۔۔۔۔۔ دیکھنے والی نگاہوں کو زندہ رہنے کے لیے فطرت سے محبت کرنے پر اُکساتے ہیں۔