|
|
|
|||||
ٹراقی ہنٹنگ، بقا کو لاحق خطرات شے دوچار مارخور اور آئ بیکس کی محفوظ افزائش اور مقامی باشندوں کی پائیدار اجتماعی ترقی کی داستان ہے |
|||||
تحریر: اکمائیل حسین شاہ تصاوير: ایم اے سی پی |
|||||
|
شکار، اجتماعی ترقی اور جنگلی حیات کے تحفظ میں مضبوط باہمی ربط موجود ہے اور بقا کو لاحق خطرات سے دوچار جنگلی انواع کو شکار کے ذریعے ہی افزائشِ نسل کا موقع ملا ہے۔۔۔کیا آپ یہ بات مان لیں گے۔ یقیناً وہ لوگ یہ بات اس وقت تک نہیں مانیں گے جب تک وہ 'ٹرافی ہنٹنگ' کے بارے میں نہیں جان لیتے ۔
کسی بھی شکاری کے گھر جاکر دیکھیے۔ اس نے شکار کیے گئے جانور کے سروں کو حنوط کرکے دیواروں پر 'تمغہ بہادری' کے روپ میں لگایا ہوا ہوتا ہے۔متمول شکاری شکار کیے ہوئے جانور کو حنوط کر کے گھروں میں سجاتے ہیں۔اسی شکار کوانگریزی میں 'ٹرافی ہنٹنگ' کہتے ہیں۔ ٹرافی ہنٹنگ کے لیے کھردار جانوروں میں بڑے سینگ والا جانور پسند کیا جاتا اور صرف نر جانور کا ہی شکار کیا جاتا ہے۔ صوبہ سرحد میں مارخور اور آئی بیکس اپنے شاندار سینگوں اور دلکش خد و خال کے حوالے سے ٹرافی کے لیے شکار کرنے والوں کی ہمیشہ سے دلچسپی کا باعث رہا ہے۔
یہ 1983ء کی بات ہے، جب سرحد حکومت کے محکمئہ جنگلی حیات نے مار خور کے شکار کے لیے 'چترال کنزرویشن ٹرافی ہنٹنگ پروگرام' شروع کیا۔باقاعدہ اجازت نامہ دے کر مارخور کا شکار کروانے سے حکومت کو ' شکار سفاری کلب انٹرنیشنل' کے ذریعے 2 لاکھ، 50 ہزار امریکی ڈالر کی آمدنی ہوئی جس سے منصوبے کی تکمیل میں مالی مدد ملی۔ 1991ء میں حکومت ِ پاکستان نے بڑے جنگلی جانوروں کے شکار پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کے حنوط شدہ سروں کی برآمد پر پابندی لگادی ، یوں یہ سلسلہ بھی معطل ہوگیا۔ ٹرافی ہنٹنگ کا عمل دوسری باربقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این اور سرحد کے محکمہ جنگلی حیات کے اشتراک اور GEF کی مالی معاونت سے1995ء تا1999ء پر مشتمل اس منصوبے سے ہوا جسےMaintaining Biodiversity in Pakistan with Rural Community Development کا نام دیا گیا۔منصوبے کا مقصد جنگلی حیات کے تحفظ و افزائش میں مقامی آبادی کورضاکارانہ طور پرشامل کرنا اور انہیں جنگلی انواع کی حفاظت کی ذمہ داری سونپنا تھا۔ اس مقصد کے لیے انہیںوہی اختیاراتتفویض کرنا تھے جومحکمہ جنگلی حیات کے اہل کار کو حاصل ہوتا ہے۔ قبل ازیںمقامی باشندے گوشت اور کھال کے لیے ان جانوروں کا نر اور مادہ کی تمیز کیے بغیر بے دریغ شکار کرتے تھے،جس سے ان انواع کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی۔ مذکورہ منصوبے کے تحت کمیونٹی کو یہ باور کر ا یاگیا کہ اگر ان جانوروں کی شکار پر کچھ مدت کے لیے پابندی عائد ہواور ان کی تعداد طے شدہ حد سے بڑھ جائے تب غیر ملکی شکاری معقول رقم کی ادئیگی پر ٹرافی ہنٹنگ کر سکیں گے جس کا بڑا حصہ کمیونٹی کے اجتماعی فنڈ میں جمع ہوگا، جو ان کے قدرتی وسائل کے تحفظ و بقا اور سماجی ترقی پر خرچ ہوگا۔ آج یہ منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوکر جاری و ساری ہے۔ ٹرافی ہنٹنگ 1999ء تا2006ء کے دوران شمالی علاقہ جات اور صوبہ سرحد کی منتخب وادیوں میں بقائے ماحول و حیات و پائیدار ترقی کے لیے جاری رہنے والے 'منصوبہ برائے تحفظِ پہاڑی علاقہ جات'کا بھی ایک اہم حصہ رہاہے۔ ٹرافی ہنٹنگ کا طریقہ کار ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت مخصوص وادیوںمیں شکار کے لیے موزوں جانورمنتخب کرنے کے لیے دسمبر تاجنوری 'جانور شماری 'کی جاتی ہے۔ یہ عمل کمیونٹی کے شکار محافظین اور محکمہ جنگلی حیات کے اہلکارمل کر کر تے ہیں۔ وادی/ گاؤں کی سطح پر قائم اور مقامی باشندوں پر مشتمل 'ولیج کنزرویشن کمیٹی' کے سرپرست کے طور پر محکمئہ جنگلی حیات، سرحد سالانہ بنیادوں پر ہونے والے ٹرافی شکار کے خواہشمند ملکی اورغیر ملکی شکاریوںسے اخبارات کے ذریعے بالعموم ستمبر میںپیشکش طلب کرتے ہیں اور نومبر کے وسط میں 'پہلے آئیے، پہلے پائیے' اور 'زیادہ سے زیادہ رقم' کی بنیاد پر مخصوص جانور/جانوروں کے شکار کا لائسنس فروخت کردیا جاتا ہے۔ سال 2005-2006 ء کے لیے فی جانور، فی کمیونٹی گیم ریزرو اجازت نامے کی
کمیونٹی کے لئے مراعات صوبہ سرحد میں1999ء سے 2006ء کے دوران مجموعی طور پر ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے ذریعے 4آئی بیکس اور23 مارخور شکار کروائے گئے۔ جس سے اجازت نامہ فیس کے طور پر8 لاکھ،29 ہزار امریکی ڈالر وصول ہوئے۔ اس میں سے صوبہ سرحد کی متعلقہ کمیونٹیز کو مجموعی طور پر6 لاکھ،54 ہزار، 1سوامریکی ڈالر حاصل ہوئے۔ ایم اے سی پی میں شامل وادیوں کو اس میں 32ہزار736 امریکی ڈالر کے مساوی رقم ملی۔ ٹرافی ہنٹنگ، دراصل تفریحی شکار، ترقی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اشتراکِ عمل کی وہ مثال ہے جس نے مقامی شکاریوں کو محافظ بنا کر ان پر اجتماعی ترقی کے حصول کا دروازہ کھول دیا ہے۔
|
|||||
اکمائیل حسین شاہ ایم اے سی پی سرحد کے ریجنل پروگرام مینیجر ہیں |
|||||
|
|
|||||