ٹراقی ہنٹنگ، بقا کو لاحق خطرات شے دوچار مارخور اور آئ بیکس کی محفوظ افزائش اور مقامی باشندوں کی پائیدار اجتماعی ترقی کی داستان ہے

 

تحریر: اکمائیل حسین شاہ تصاوير: ایم اے سی پی

 

شکار، اجتماعی ترقی اور جنگلی حیات کے تحفظ میں مضبوط باہمی ربط موجود ہے اور بقا کو لاحق خطرات سے دوچار جنگلی انواع کو شکار کے ذریعے ہی افزائشِ نسل کا موقع ملا ہے۔۔۔کیا آپ یہ بات مان لیں گے۔ یقیناً وہ لوگ یہ بات اس وقت تک نہیں مانیں گے جب تک وہ 'ٹرافی ہنٹنگ' کے بارے میں نہیں جان لیتے ۔

ٹرافی ہنٹنگ، خطرات سے دوچار جنگلی حیات کو تحفظ اور افزائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کا وہ طریقہ ہے، جس نے اجتماعی ترقی کو ممکن بنا کر جنگلی حیات کے سروں پر خطرے کی تلوار بنے رہنے والے مقامی باشندوں کو رضاکارانہ طور پر محافظ بننے پر مجبور کردیا ہے ۔ صوبہ سرحد ٹرافی ہنٹنگ سے پائیدار تحفظِ جنگلی حیات اور مقامی باشندوں کی اجتماعی سماجی و اقتصادی ترقی کی عمدہ مثال ہے۔


کسی بھی شکاری کے گھر جاکر دیکھیے۔ اس نے شکار کیے گئے جانور کے سروں کو حنوط کرکے دیواروں پر 'تمغہ بہادری' کے روپ میں لگایا ہوا ہوتا ہے۔متمول شکاری شکار کیے ہوئے جانور کو حنوط کر کے گھروں میں سجاتے ہیں۔اسی شکار کوانگریزی میں 'ٹرافی ہنٹنگ' کہتے ہیں۔ ٹرافی ہنٹنگ کے لیے کھردار جانوروں میں بڑے سینگ والا جانور پسند کیا جاتا اور صرف نر جانور کا ہی شکار کیا جاتا ہے۔ صوبہ سرحد میں مارخور اور آئی بیکس اپنے شاندار سینگوں اور دلکش خد و خال کے حوالے سے ٹرافی کے لیے شکار کرنے والوں کی ہمیشہ سے دلچسپی کا باعث رہا ہے۔

ٹرافی ہنٹنگ کیسے ممکن ہوئ؟

صوبہ سرحد میں بالغ مارخور اورآئی بیکس کو ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت شکار کو صوبائی وائلڈ لائف ایکٹ مجریہ1975ء میں قانونی حیثیت حاصل ہے جوصرف کمیونٹی کی سطح پر قائم شکار گاہوں میں ہی کیا جاسکتا ہے۔مارخور بقا کو لاحق خطرات سے دوچار جنگلی انواع ہے، اسی بنا پر اسے مخدوش جنگلی نباتات و حیوانات کی بین الاقوامی تجارت سے متعلق عالمی میثاق CITIES کے ضمیمہI، 1975ء میں بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت اس کا عمومی شکار ممنوع ہے تاہم خصوصی نوعیت میںباقاعدہ اجازت نامے کے تحت اس کے شکارکی مشروط اجازت ہے۔واضح ہو کہ ضمیمہ I میں شامل انواع بقا کو لاحق سنگین خطرات سے دوچار جنگلی حیات میں شمار کی جاتی ہیں۔

2002ء میں چلّی میں منعقدہCITIES معاہدے کے رکن ممالک کے اجلاس میں پاکستان کو ان علاقوں سے جہاں یہ پایا جاتا ہے، سے سالانہ12مارخور ٹرافی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی۔اس اجازت کا مقصد مارخور ٹرافی کی برآمد سے حاصل شدہ آمدنی کو مقامی باشندوں کی فلاح اور ترقی میں خرچ کرکے انہیں مارخور کے تحفظ کی کوششوں میں شامل کرنا تھا۔ بعد ازاں قومی کونسل برائے بقائے جنگلی حیات پاکستان NCCW نے شمالی علاقہ جات، سرحد اور بلوچستان(جہاں یہ پایا جاتا ہے) کے لیے اس کا کوٹہ مخصوص کردیا۔ ٹرافی ہنٹنگ کے دوران CITIES کے عائد کردہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہNCCW عالمی میثاق CITIES کی پاکستان کے لیے سائنٹیفک منیجمنٹ اتھارٹی ہے، جو جنگلی حیات کے تحفظ اور افزائش کے انتظامات پر نظریں رکھتی ہے۔

آئی بیکس CITIES کے ضمیمہII میں شامل ہے، جس کے تحت یہ جنگلی حیات کی ان انواع میں شامل ہے ، جن کی غیرقانونی تجارت اور شکار کو نہ روکا جائے تو وہ معدوم ہوسکتی ہیں۔ اس حیاتیاتی نوع کو ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے ذریعے شکار کرنے کے لیے NCCW کی طرف سے کسی قسم کا کوئی کوٹہ مختص نہیں کیا گیا ہے۔

اکمائیل حسین شاہ


یہ 1983ء کی بات ہے، جب سرحد حکومت کے محکمئہ جنگلی حیات نے مار خور کے شکار کے لیے 'چترال کنزرویشن ٹرافی ہنٹنگ پروگرام' شروع کیا۔باقاعدہ اجازت نامہ دے کر مارخور کا شکار کروانے سے حکومت کو ' شکار سفاری کلب انٹرنیشنل' کے ذریعے 2 لاکھ، 50 ہزار امریکی ڈالر کی آمدنی ہوئی جس سے منصوبے کی تکمیل میں مالی مدد ملی۔ 1991ء میں حکومت ِ پاکستان نے بڑے جنگلی جانوروں کے شکار پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کے حنوط شدہ سروں کی برآمد پر پابندی لگادی ، یوں یہ سلسلہ بھی معطل ہوگیا۔

ٹرافی ہنٹنگ کا عمل دوسری باربقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این اور سرحد کے محکمہ جنگلی حیات کے اشتراک اور GEF کی مالی معاونت سے1995ء تا1999ء پر مشتمل اس منصوبے سے ہوا جسےMaintaining Biodiversity in Pakistan with Rural Community Development کا نام دیا گیا۔منصوبے کا مقصد جنگلی حیات کے تحفظ و افزائش میں مقامی آبادی کورضاکارانہ طور پرشامل کرنا اور انہیں جنگلی انواع کی حفاظت کی ذمہ داری سونپنا تھا۔ اس مقصد کے لیے انہیںوہی اختیاراتتفویض کرنا تھے جومحکمہ جنگلی حیات کے اہل کار کو حاصل ہوتا ہے۔ قبل ازیںمقامی باشندے گوشت اور کھال کے لیے ان جانوروں کا نر اور مادہ کی تمیز کیے بغیر بے دریغ شکار کرتے تھے،جس سے ان انواع کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی۔ مذکورہ منصوبے کے تحت کمیونٹی کو یہ باور کر ا یاگیا کہ اگر ان جانوروں کی شکار پر کچھ مدت کے لیے پابندی عائد ہواور ان کی تعداد طے شدہ حد سے بڑھ جائے تب غیر ملکی شکاری معقول رقم کی ادئیگی پر ٹرافی ہنٹنگ کر سکیں گے جس کا بڑا حصہ کمیونٹی کے اجتماعی فنڈ میں جمع ہوگا، جو ان کے قدرتی وسائل کے تحفظ و بقا اور سماجی ترقی پر خرچ ہوگا۔ آج یہ منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوکر جاری و ساری ہے۔ ٹرافی ہنٹنگ 1999ء تا2006ء کے دوران شمالی علاقہ جات اور صوبہ سرحد کی منتخب وادیوں میں بقائے ماحول و حیات و پائیدار ترقی کے لیے جاری رہنے والے 'منصوبہ برائے تحفظِ پہاڑی علاقہ جات'کا بھی ایک اہم حصہ رہاہے۔

ٹرافی ہنٹنگ کا طریقہ کار

ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت مخصوص وادیوںمیں شکار کے لیے موزوں جانورمنتخب کرنے کے لیے دسمبر تاجنوری 'جانور شماری 'کی جاتی ہے۔ یہ عمل کمیونٹی کے شکار محافظین اور محکمہ جنگلی حیات کے اہلکارمل کر کر تے ہیں۔ وادی/ گاؤں کی سطح پر قائم اور مقامی باشندوں پر مشتمل 'ولیج کنزرویشن کمیٹی' کے سرپرست کے طور پر محکمئہ جنگلی حیات، سرحد سالانہ بنیادوں پر ہونے والے ٹرافی شکار کے خواہشمند ملکی اورغیر ملکی شکاریوںسے اخبارات کے ذریعے بالعموم ستمبر میںپیشکش طلب کرتے ہیں اور نومبر کے وسط میں 'پہلے آئیے، پہلے پائیے' اور 'زیادہ سے زیادہ رقم' کی بنیاد پر مخصوص جانور/جانوروں کے شکار کا لائسنس فروخت کردیا جاتا ہے۔ سال 2005-2006 ء کے لیے فی جانور، فی کمیونٹی گیم ریزرو اجازت نامے کی

ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت مقامی شکاری خود رضاکار بن چکے ہیں
بولی ساڑھے باون ہزار امریکی ڈالر رہی تھی۔علاوہ ازیں ایک سو امریکی ڈالر اجازت نامے کی فیس کے طور پر وصول کیے جاتے ہیں ۔ یہ رقم مکمل طور پرسرکاری خزانے میں چلی جاتی ہے۔شکاری کو استعمال کیے جانے والے اسلحے اور کارتوسوں کی ملک میں درآمد اور دوبارہ برآمد کے لیے وزارتِ سیاحت کے توسط سے وفاقی وزارتِ داخلہ، پاکستان عارضی اجازت نامہ جاری کرتی ہے۔ شکار گاہ تک شکاری اپنے خرچ پر پہنچتا ہے جہاں مقامی گیم ریزرو کے محافظین شکار کے لیے مخصوص آئی بیکس یا مارخورکو نشانہ بنانے کے لیے اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔ اگر شکاری کسی دلال کے ذریعے اپنے شکار کے انتظامات کرواتا ہے تو وہ پرمٹ کے حصول، اسلحہ کے درآمد و برآمد ، شکاری کے رہائش ، ٹرانسپورٹ، خوراک وغیرہ کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ شکارگاہ میں شکار کے سارے انتظامات محکمہ جنگلی حیات کے زیر نگرانی متعلقہ کمیونٹی کی اجتماعی ذمہ داری ہوتی ہے اور کمیونٹی کے شکار محافظین جانور تک رسائی کے لیے رہنمائی کرتے ہیں۔ شکار کا موسم وسط دسمبر تا وسط مارچ ہوتا ہے۔ لیکن وسط دسمبر تا وسط جنوری زیادہ موزوں ایام تصور ہوتے ہیں۔ شکار کے اجازت نامے پر ایامِ شکار درج ہوتے ہیں جن کے اندر ان کو شکار ختم کرنا ہوتا ہے۔ شکار کی پرمٹ فیس ناقابل واپسی ہوتی ہے البتہ غیر معمولی حالات امن و امان کا مسئلہ، قدرتی آفات یا مجوزہ مدت میں ٹرافی کے قابل جانور نظر نہ آنے کی صورت میں فیس کی واپسی کا مطالبہ ہوسکتا ہے۔

کمیونٹی کے لئے مراعات
ٹرافی ہنٹنگ کے تحت شکار کی پرمٹ فیس کی مجموعی رقم کا80 فیصد کمیونٹی کو ملتا ہے اور 20فیصد حکومت بطور زرِ علامتی برائے حقوقِ ملکیت و انتظامی اخراجات وصول کرتی ہے۔ کمیونٹی کو ملنے والی رقم کا نصف حصہ اس دیہی/وادی کنزرویشن کمیٹی کو دیا جاتا ہے جس کی حدود میں جانور کا شکار ہوتا ہے اور بقایا نصف رقم جانور کے مسکن کے حدود میں آنے والی کنزروینسی میں شامل دیگر تمام دیہی/وادی کنزرویشن کمیٹی میں برابری کی بنیاد پر تقسیم ہوجاتی ہے۔ ہر دیہی/وادی کنزرویشن کمیٹی کو ملنے والی رقم ان کے اجتماعی فنڈ 'دیہی /وادی کنزرویشن فنڈ' میں جمع ہوتی ہے۔ کمیونٹی اس فنڈ کی منافع بخش سرمایہ کاری کرتی ہے تاکہ حاصل شدہ آمدن کو حیاتیاتی تنوع کے فروغ اوردیہی ترقی کے اجتماعی منصوبوں پر خرچ کیا جا سکے۔

صوبہ سرحد میں1999ء سے 2006ء کے دوران مجموعی طور پر ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے ذریعے 4آئی بیکس اور23 مارخور شکار کروائے گئے۔ جس سے اجازت نامہ فیس کے طور پر8 لاکھ،29 ہزار امریکی ڈالر وصول ہوئے۔ اس میں سے صوبہ سرحد کی متعلقہ کمیونٹیز کو مجموعی طور پر6 لاکھ،54 ہزار، 1سوامریکی ڈالر حاصل ہوئے۔ ایم اے سی پی میں شامل وادیوں کو اس میں 32ہزار736 امریکی ڈالر کے مساوی رقم ملی۔

ٹرافی ہنٹنگ، دراصل تفریحی شکار، ترقی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اشتراکِ عمل کی وہ مثال ہے جس نے مقامی شکاریوں کو محافظ بنا کر ان پر اجتماعی ترقی کے حصول کا دروازہ کھول دیا ہے۔


 

 

اکمائیل حسین شاہ ایم اے سی پی سرحد کے ریجنل پروگرام مینیجر ہیں