لفظ 'آفت ' یا مصیبت کو مختلف معنوں میں بیان کیا جاسکتا ہے، تاہم وسیع تر مفہوم
کے اعتبار سے اس کا مطلب غیر متوقع طور پر جنم لینے والی حادثاتی صورتِحال
اور اس کے تباہ کُن نتائج ہوتے ہیں۔عموماً ایسے سانحات اچانک وقوع پذیر
ہو کر سماج کی روز مرہ سرگرمیوں کو ملیا میٹ کردیتے ہیں اور ان کے باعث
سنگین معاشی و ماحولیاتی مسائل پیدا ہوتے ہیں، جن سے فوری طور پر نمٹنا
بے حد مشکل ہوتا ہے۔ عام طور پر ہونے والے انسانی حادثات مثلاً آتشزدگی،
آلودگی، جنگیں، دہشتگردی کے واقعات، فسادات، بم دھماکے، ایٹمی بجلی گھروں
سے تابکاری کا اخراج، تیل کا رساؤ وغیرہ جیسے حادثات کے مقابلے میں 'قدرتی
آفات' کے اثرات کا دائرہ کہیں وسیع اور نقصانات ناقابلِ بیان حد تک زیادہ
ہوتے ہیں۔
ماہرین نے عالمی طور پر 'قدرتی آفات' کو تین گروہوں میں تقسیم کیا ہے۔
- موسمی تغیرات کے سبب جنم لینے والے سانحات، جن میں سیلاب، سمندری طوفان،
قحط و خشک سالی، ژالہ باری، زیادہ بارشیں، پہاڑوں سے ٹھوس برف کا پگھلنا وغیرہ
سرِفہرست ہیں۔
- ارضیاتی ہلچل کے باعث ہونے والے حادثات، جن میں زلزلہ، سونامی، آتش فشاںپہاڑوں
کا لاوا اُگلنا شامل ہیں۔
- وبائی امراض کے سبب پیدا ہونے والے المیے، جن میں طاعون، اینتھریکس کا پھیلاؤ
یا ٹڈی دل کا حملہ جیسی مصیبت شامل ہے۔
مذکورہ بالا قدرتی آفات انسانی جانوں، املاک اور قدرتی ماحول کو شدید نقصانات پہنچانے
کے ساتھ ساتھ اپنے پیچھے طویل المدت اثرات چھوڑجاتی ہیں، جنہیں بنی نوع انسانوں
کو لمبے عرصے تک بھگتنا پڑتا ہے۔ ماہرین کے نزدیک قدرتی آفات کے عمل کو تیز تر کرنے
میں جن عوامل کا بڑا کردار ہے، اُن میں ماحولیاتی تنزلی، عالمی موسمیاتی تبدیلی
کا عمل، آبادی میں غیر حقیقی اضافہ اور عالمگیریت کے بڑھتے ہوئے منفی معاشی اثرات
وغیرہ شامل ہیں۔ دوسری جانب ایسے قدرتی سانحات کا زیادہ تر شکار مفلس اور غریب لوگ
ہی ہوتے ہیں، کونکہ بالعموم وہ ایسی پُر خطر جگہوں پر آباد ہوتے ہیں، جو سب سے پہلے
آفت کی زد میں آتی ہیں، جیسا کہ سیلابی پانی کی گذرگاہوں، پہاڑوں کی حساس ڈھلوانیں
یا پھر گنجان آباد علاقے جہاں غیر پائیدار اور حفاظتی انتظامات سے عاری مکانات و
تعمیرات کا ہجوم ہوتاہے۔
دنیاکا کوئی بھی ملک یا ادارہ قدرتی آفات کی وقوع پذیری کے عمل کو روکنے کی صلاحیت
نہیں رکھتا، اور ایسے حادثات اکثر ترقی یافتہ اقوام کو بھی ہلا کر رکھ دیتے ہیں،
تاہم مختلف احتیاطی تدابیر، موثر منصوبہ بندی اور ماحول کی بہتری کے ذریعے ایسے
سانحات کی ممکنہ سنگین تباہ کاریوں سے کسی حد تک بچا جاسکتا ہے۔
عبدالمناف قائم خانی
|