|
یرا
نام پرویزخان ہے۔پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور ہوں اور کراچی میں بقائے
ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این ،پاکستان سے وابستہ ہوں۔ میرا
تعلق صوبہ سرحد کے علاقے 'اُوگی' کے ایک چھوٹے سے گاؤں 'جس کوٹ' سے
ہے۔جس صبح زلزلے نے تباہی پھیلائی، اُس دن میں حسبِ معمول کراچی میں
تھا، لیکن میرے اہلِ خانہ گاؤں میں ہی تھے۔ یہ اطلاع میرے لیے نہایت
تشویشناک تھی۔ زلزلے کی سنگینی واضح ہونے لگی تو گاؤں جانے کا فیصلہ
کیا اورچوتھے دن میں عازمِ سفر تھا۔
ریل گاڑی میں ان لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی جو میری طرح اپنے عزیز و
اقارب کی خیریت جاننے اور ان سے ملنے کے لیے بے چین تھے۔ جس ڈبے میں میری
سیٹ تھی، وہیں برتھ پر نیم بے ہوشی کے عالم میں ایک عورت لیٹی ہوئی تھی۔
بعد میں معلوم ہوا کہ اس بد نصیب کا پورا خاندان زلزلے میں مارا گیا۔ راستے
بھر اس طرح کے لوگوں کی حالت دیکھ دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو روتا رہا۔
لگ بھگ چوبیس گھنٹے کے سفر کے بعد میںراولپنڈی پہنچ گیا اور یہاں سے سڑک
کے راستے مانسہرہ اور پھر ویگن کے ذریعے اپنے گاؤں تک پہنچا۔ گاؤں پہنچ
کر ایک طرف تو دل خوش ہوا کہ میرے بیوی بچے، عزیز و اقارب اس ہلاکت خیز
زلزلے میں محفوظ رہے، لیکن دوسری طرف یہ دیکھ کر دل رودیاکہ جس تباہی کا
نظارہ میں مانسہرہ سے کرتا آیا ہوں، اس سے میرا گھر اور گاؤں بھی نہیں بچ
سکا تھا۔ اگرچہ میرے علاقے میں جانی نقصان تو ہوا، لیکن جس وقت زلزلہ آیا،
اس وقت عموماً لوگ کام کاج کے سلسلے میں گھروں سے باہر تھے اور خواتین بھی
گھر کے اندر کھلی جگہوں پر تھیں، اس لیے جانی نقصان گھروں سے زیادہ اسکولوں
میں ہوا۔ خود میرا ایک بیٹا زلزلے کے وقت اسکول میں تھا اور جب عمارت منہدم
ہوئی تو وہ بھی دوسرے بچوں کے ساتھ دیوار کی زد میں آگیا، لیکن اسکول ٹیچر
نے اسے نکال لیا اور وہ محفوظ رہا۔
زلزلے اور اس کے بعد آنے والے لگاتار جھٹکوں نے لوگوں کو سخت خوفزدہ کردیا
تھا۔ جن لوگوں کے گھر سلامت تھے، وہ بھی اندر جانے سے ڈرتے تھے۔ پورے گاؤں
نے کھلی جگہوں پر آسمان تلے ڈیرا ڈالا ہوا تھا۔ میری پچاسی سالہ والدہ کہتی
ہیں ''صبح ہر چیز اپنے معمول پر تھی کہ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ اتنی
زوردار آواز میں نے اپنی پوری زندگی میں پہلے کبھی نہیں سنی ۔ دھماکے سے
کچھ دیر پہلے جانور تک گاؤں سے بھاگ گئے تھے۔''
میں چالیس دن تک گاؤں میںرہا اور اس دوران میں مشاہدہ کیا کہ مٹی اور لکڑی
سے بنے ہوئے گھر تو محفوظ رہے، لیکن سیمنٹ کے پختہ مکانات زمیں بوس ہوچکے
تھے۔ دوسرا یہ کہ متاثرین کے لیے امداد بھی پہنچی، مگر ایک بات جو سب سے
اہم ہے، وہ یہ کہ میرے گاؤں والوں نے اپنے زورِ بازو سے دوبارہ جینے کا
عزم کیا ہے اور وہ اپنی بحالی کے لیے خود ہی کوشاں ہیں۔
سبین خان
|