زلزلے کے فوراً بعد بربادی اور موت کی رہ گذر پر چل کر آزاد کشمیر اور سرحد میں واقع اپنے اپنے گاؤں تک پہنچنے والے دو عینی شاہدین کے تاثرات

 

میرا تعلق آزاد جموں و کشمیر کی وادیِ نیلم کے چھوٹے سے گاؤں 'بٹل' سے ہے۔ اس لیے جب مجھے یہاں ہفتہ 8 اکتوبر 2005ء کی صبح زلزلہ آنے کی خبر ملی تو میرا پریشان ہونا فطری امر تھا۔ میں اُس وقت بسلسئہ روزگاراسلام آباد میں مقیم تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زلزلے کی سنگینی واضح ہوتی ہورہی تھی اور میری پریشانی بڑھتی جارہی تھی۔ اسی شام کراچی سے میرے کچھ اور رشتہ دار بھی اسلام آباد پہنچ گئے اور ہم نے فیصلہ کیا کہ دوسری صبح اپنے گاؤں جائیںگے۔

زلزلہ آئے چوبیس گھنٹے بھی نہیں ہوئے تھے کہ ہم نے اتوار کی صبح نمازِ فجر کے بعدکرائے کی گاڑی میں مظفرآباد کے لیے سفر شروع کردیا۔بارہ افراد پر مشتمل ہمارے قافلے میں ایک خاتون تھیں۔ راستے میں جگہ جگہ پہاڑوں سے تودے اور چٹانیںگرنے کے باعث سڑکیں بُری طرح ٹوٹی ہوئی ہیں، حتیٰ کہ مظفرآباد سے پندرہ کلومیٹر کی مسافت پر راستہ اتنا خراب ہوگیا کہ گاڑی آگے نہیں جاسکتی تھی۔ اس لیے ہم پیدل ہی مظفرآباد کے لیے چل پڑے۔راستے میں جگہ جگہ لاشوں کی قطاریں زمین پر رکھی ہوئی نظر آئیں۔ زندہ بچ جانے والی عورتیں،بچے بین کررہے تھے اور مرد اپنے پیاروں کو سپردِ خاک کرنے اور زخمیوں کو علاج و معالجہ کی سہولتیں فراہم کرنے کے علاوہ ملبے میں دبے اہلِ خانہ کو نکالنے میں مصروف تھے۔ انہی دلدوز مناظر کو دیکھتے ہوئے جب کئی گھنٹوں کے بعدمظفرآباد پہنچے تو یہاںبھی تباہی کے نظارے عام تھے۔ کثیرالمنزلہ تجارتی عمارتیں، ہوٹلیں اور بڑے بڑے بازار ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔ہم مظفرآباد تک تو پہنچ گئے، لیکن منزل اب بھی یہاں سے35کلومیٹر کی دوری پر تھی۔یہاںہمیں پتا چلا کہ وادیِ نیلم کو جانے والا راستہ مٹی کے تودوںکے گرنے کے باعث تقریباً دس کلومیٹر تک بالکل بند ہوچکا ہے اور ہمیں پہاڑوں پر سے گزرکر جانا ہوگا۔یہ اطلاع بہت تشویشناک تھی۔ پہاڑی پگڈنڈیوںپر چلنا بہت کٹھن ہوتاہے، مگر اس کے سوا کوئی اور راستہ ہمارے سامنے نہیں تھا۔دن بہت گرم تھا۔ ہمارے پاس نہ تو پانی تھا اور نہ ہی خوراک۔ دراصل ہمیںاتنی بڑی تباہی کی توقع نہیںتھی،کہ جتنی ہماری آنکھوں کے سامنے تھی۔ کھٹن راستے اور قدم قدم پر رکاوٹیں ہماری منتظر تھیں۔ پہاڑی پگڈنڈیوں پر جگہ جگہ مٹی کے بڑے بڑے تودے اور منہدم گھروں کا ملبہ ہمارے سفرکا امتحان لے رہا تھا۔ کئی جگہ تو راستہ اتنا تنگ تھا کہ بمشکل ایک پیر ٹکاکر آگے بڑھ سکتے تھے، اس پر اُفتاد یہ کہ وقفے وقفے سے پہاڑوں پر سے تودے اور چٹانوں کے ٹکڑے گررہے تھے۔ بس یوں سمجھ لیں کہ ہر گھڑی جان پر بن رہی تھی۔ کھٹن راستہ، پانی کی عدم موجودگی اور پیاس کی شدت کے سبب ہمارے قافلے کے پانچ افراد نے مزید اوپر جانے سے انکار کردیا جبکہ میںنے باقی ساتھیوں کے ہمراہ سفر جاری رکھا۔ میں پسینہ پسینہ ہورہا تھاکہ اچانک مجھے ایک گھنا سایہ دار درخت نظر آیا۔ میں اس درخت کی چھاؤں میں سستانے کے لیے بیٹھ گیا۔ پسینہ تیزی سے بہنے کے باعث پانی پینے کی طلب بڑھتی جارہی تھی، لیکن ایک گھونٹ پانی ملنا بھی محال تھا۔ کچھ دیر سستانے کے بعد ہم یہاں سے اٹھنے ہی والے تھے کہ آگے جانے والے کچھ لوگوں کو واپس آتے ہوئے دیکھا۔ جب ان سے پوچھا تو جواب ملا کہ'' آگے مٹی کے تودے گرنے کے سبب راستہ بند ہوچکا ہے اور پہاڑ کے کنارے ایک چھوٹی سے پگڈنڈی بن چکی ہے۔ اگر اس پر چل کر آگے جانے کی ہمت ہے تو جاؤ۔ '' انہوں نے مشورہ دیا'' اگر اس پگڈنڈی پر چلنا ہے تو صرف اپنے پاؤں پر نظر رکھنا۔ آگے پیچھے دیکھا توسیدھے اوپر پہنچ جاؤ گے۔'' مجھ میں اور نہ ہی میرے ساتھیوں میں اُس پلِ صراط پر چلنے کی ہمت تھی، اس لیے مایوس ہوکر پوچھا'' اب کیا کریں''۔ جواب ملا ''واپس جاؤاور تقریباً چار کلومیٹرکی اترائی کے بعد دوبارہ پہاڑ کی چوٹی کی سمت تقریباًسات کلومیٹر کے لگ بھگ چلو تو اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہو۔'' ہمیں راستہ بتانے والے مقامی لوگ تھے، اس لیے یقین تھا کہ ان کی بات درست ہی ہوگی۔ مشورے پر عمل کیا تو مزید کئی گھنٹوں کے پیدل سفر کے بعد ہم 'پلِ صراط' عبور کیے بغیراپنی منزل کی نصف دوری تک تو پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، مگر بھوک، شدت کی پیاس اور گرم موسم نے جیسے ہمارے اعصاب توڑ دیے ہوں۔ سفر کیسے کٹ رہا تھا، کچھ پتہ نہ تھا۔ ہم کسی باقاعدہ راستے پرسفر نہیں کررہے تھے۔ بس چل رہے تھے اور چلتے چلتے صبح سے رات ہونے کو آگئی تھی، لیکن منزل اب بھی دور تھی۔ رات کی تاریکی بڑھتی جارہی تھی۔ میرے پاس ایک چھوٹی سی ٹارچ تھی، مگر میں اسے استعمال نہیں کررہا تھا، کہ مبادا ہمیں اِس وقت سے زیادہ کسی آنے والے لمحے میں اس کی ضرورت پڑ جائے۔ آخرِکاررات کے تقریباً ساڑھے آٹھ بجے ہم پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

ہم میں سے کوئی بھی ان راستوں سے واقف نہ تھا اور اندھیرے میں بھٹک جانے کا خوف غالب تھا کہ اچانک چاند کی روشنی میں ہمیں کچھ مویشی نظر آئے۔ آگے بڑھے توکچھ ہی دیر میںایک مکان کے آثار بھی واضح ہوگئے ۔ہم چلتے چلتے ایک خاموش اور تاریکی میں ڈوبے مکان تک جا پہنچے۔ یہاںدو گھر موجود تھے۔ ایک بالکل مٹی کا ڈھیر بن چکا تھا تو دوسرا جزوی طور پر ٹوٹا تھا۔یہیں مجھے پانی کی ٹنکی نظر آئی ۔ میں لپک کر اس کے پاس پہنچا اور ٹونٹی کھول کر، ہاتھ کا چلّو بنا کر جو پانی پینا شروع کیا تو یہ بھول گیا کہ آیا یہ پانی صحتمند بھی تھا۔۔۔۔۔۔۔پیاس ہر چیزپر غالب آچکی تھی۔ یہی حال میرے ساتھیوں کا بھی تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جس گھر کا پانی پیاہے،اس کے مکین زلزلے کی نذر ہوئے اور جوکچھ پیچھے چھوڑ گئے، ان میں بارش کا جمع کردہ یہ پانی بھی تھا۔

یہیں رات گزارنے کی نیت سے ہم نے کھلے آسمان تلے ڈیرا ڈال لیا۔ پیٹ خالی تھا لیکن بھوک پرتھکن غالب تھی، اس لیے نیند بھی ٹوٹ کر آئی۔ آدھی رات کا کوئی پہر ہوگا کہ اچانک گڑگڑاہٹ ہوئی اور زمین زور سے کانپی تو سب ہڑ بڑا کر اٹھ گئے۔ زوردار گونج کے ساتھ آنے والا یہ زلزلے کا جھٹکاتھا۔ پھر نیند کس کو آنی تھی، آنکھوں ہی آنکھوں میں رات کٹ گئی۔

صبح ہوئی توچوبیس گھنٹے گزرجانے کے باوجود سفر اب بھی نامکمل تھا۔ ہم نے یہاں زندہ بچ جانے والوں سے راستہ پوچھا اور ایک بار پھر فاقہ زدوں کا قافلہ چل پڑا۔ راہ میں چہار سُوایک جیسے مناظر تھا۔ ٹوٹے گھر، لاشوں کی تدفین اور زندہ بچ جانے والوں کی آہ و بکا۔ رہ رہ کر کسی کی دلدوز چیخ جیسے کے آسمان کو چیرے جاتی ہو۔ جو لوگ ہوش و حواس میں ملے۔ ان میں سے بھی اکثرکئی لاشوں کے تنہانوحہ گر تھے۔

دوپہر کے وقت ہم گھوڑی پل تک پہنچ گئے۔ یہ مقام عام حالات میں گاڑی کے ذریعے مظفرآبادسے تقریباً نصف گھنٹے کی دوری پر ہے، مگر ان حالات میں ہمیں یہاں تک پہنچنے میں26گھنٹے لگے۔ یہاں ایک چھوٹا سابازار ہوا کرتاتھا، لیکن زلزلے کے سبب دکانیں تو ملبے کا ڈھیر بنیں،البتہ دکاندار ملبے سے نکالا ہوا روز مرہ ضرورت کا سامان اور اشیائے خورونوش منہدم دکانوں کے سامنے بیٹھ کر فروخت کررہے تھے۔ ان کے سامنے خریداروںکی ایک لمبی قطار موجود تھی۔ سب کو خطرے کا اِدراک تھا، اس لیے ہر شخص، ہر وہ شئے خریدلینا چاہتا تھا، جو انہیں زندہ رکھ سکے۔ موت و بربادی کے ساتھ ساتھ زندہ رہ جانے کا احساس بچ جانے والوں پر غالب تھا، لیکن گرانفروش تباہی کا بھی نفع حاصل کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ چیزیں داموں پر نہیں منہ بولے دام پر فروخت ہورہی تھیں۔ اس چھوٹے سے قصبے میں کوئی عمارت یا گھر سلامت نہیں تھا، مگر زندہ رہنے کی تگ و دو جاری و ساری تھی۔

ہم بدستور اپنے گاؤں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ راستے میں ہر جگہ ایک جیسی تباہی تھی۔ منہدم گھر۔۔۔۔۔۔مٹی کے تودے۔۔۔۔۔۔جنازوںکے جلوس۔۔۔۔۔۔بچ جانے والوں کے بین۔۔۔۔۔۔ جگہ جگہ زمین کی کوکھ میں شگاف۔۔۔۔۔۔ جھلساتا ہوا آسمان۔۔۔۔۔۔اور بدحال زندگی ۔۔۔۔۔۔بالآخر36گھنٹوں کے سفر کے ڈھلتی دھوپ میں اپنے گاؤںتک پہنچ گئے، لیکن ہم بدقسمت نوحہ گروں کے پہنچنے سے پہلے موت ہمارے ان گنت عزیزوں تک پہنچ کر انہیں اپنے ساتھ لے جاچکی تھی۔ پا پیادہ منزل پر پہنچ کر بھی غم و اندوہ کی آغوش میں تھے۔ اسی کیفیت میں، میں ایک منہدم مکان کے ملبے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔اور اگلے دن پھر زندہ بچ جانے والے باقیماندہ عزیزوں کے ساتھ کٹھن راستوں پر چلتا ہوا عازمِ اسلام آباد ہوا۔ اس بار لوگوں نے راہ سجھادی تھی، اس لیے 36گھنٹے کا راستہ17گھنٹوں میں طے ہوگیا۔ سچ ہے زندگی کی رہ گزر بہت کم وقت لیتی ہے اور موت اس سے بھی کم وقت میں ہمارے سروں پر آن پہنچتی ہے۔

محمد سفیر احمد آئ یوسی این اسلام آباد پروگرام سے بطور سیکریٹری وابستہ ہیں

 

ہم جینے کا ہُنر جانتے ہیں

یرا نام پرویزخان ہے۔پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور ہوں اور کراچی میں بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این ،پاکستان سے وابستہ ہوں۔ میرا تعلق صوبہ سرحد کے علاقے 'اُوگی' کے ایک چھوٹے سے گاؤں 'جس کوٹ' سے ہے۔جس صبح زلزلے نے تباہی پھیلائی، اُس دن میں حسبِ معمول کراچی میں تھا، لیکن میرے اہلِ خانہ گاؤں میں ہی تھے۔ یہ اطلاع میرے لیے نہایت تشویشناک تھی۔ زلزلے کی سنگینی واضح ہونے لگی تو گاؤں جانے کا فیصلہ کیا اورچوتھے دن میں عازمِ سفر تھا۔

ریل گاڑی میں ان لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی جو میری طرح اپنے عزیز و اقارب کی خیریت جاننے اور ان سے ملنے کے لیے بے چین تھے۔ جس ڈبے میں میری سیٹ تھی، وہیں برتھ پر نیم بے ہوشی کے عالم میں ایک عورت لیٹی ہوئی تھی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس بد نصیب کا پورا خاندان زلزلے میں مارا گیا۔ راستے بھر اس طرح کے لوگوں کی حالت دیکھ دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو روتا رہا۔

لگ بھگ چوبیس گھنٹے کے سفر کے بعد میںراولپنڈی پہنچ گیا اور یہاں سے سڑک کے راستے مانسہرہ اور پھر ویگن کے ذریعے اپنے گاؤں تک پہنچا۔ گاؤں پہنچ کر ایک طرف تو دل خوش ہوا کہ میرے بیوی بچے، عزیز و اقارب اس ہلاکت خیز زلزلے میں محفوظ رہے، لیکن دوسری طرف یہ دیکھ کر دل رودیاکہ جس تباہی کا نظارہ میں مانسہرہ سے کرتا آیا ہوں، اس سے میرا گھر اور گاؤں بھی نہیں بچ سکا تھا۔ اگرچہ میرے علاقے میں جانی نقصان تو ہوا، لیکن جس وقت زلزلہ آیا، اس وقت عموماً لوگ کام کاج کے سلسلے میں گھروں سے باہر تھے اور خواتین بھی گھر کے اندر کھلی جگہوں پر تھیں، اس لیے جانی نقصان گھروں سے زیادہ اسکولوں میں ہوا۔ خود میرا ایک بیٹا زلزلے کے وقت اسکول میں تھا اور جب عمارت منہدم ہوئی تو وہ بھی دوسرے بچوں کے ساتھ دیوار کی زد میں آگیا، لیکن اسکول ٹیچر نے اسے نکال لیا اور وہ محفوظ رہا۔

زلزلے اور اس کے بعد آنے والے لگاتار جھٹکوں نے لوگوں کو سخت خوفزدہ کردیا تھا۔ جن لوگوں کے گھر سلامت تھے، وہ بھی اندر جانے سے ڈرتے تھے۔ پورے گاؤں نے کھلی جگہوں پر آسمان تلے ڈیرا ڈالا ہوا تھا۔ میری پچاسی سالہ والدہ کہتی ہیں ''صبح ہر چیز اپنے معمول پر تھی کہ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ اتنی زوردار آواز میں نے اپنی پوری زندگی میں پہلے کبھی نہیں سنی ۔ دھماکے سے کچھ دیر پہلے جانور تک گاؤں سے بھاگ گئے تھے۔''

میں چالیس دن تک گاؤں میںرہا اور اس دوران میں مشاہدہ کیا کہ مٹی اور لکڑی سے بنے ہوئے گھر تو محفوظ رہے، لیکن سیمنٹ کے پختہ مکانات زمیں بوس ہوچکے تھے۔ دوسرا یہ کہ متاثرین کے لیے امداد بھی پہنچی، مگر ایک بات جو سب سے اہم ہے، وہ یہ کہ میرے گاؤں والوں نے اپنے زورِ بازو سے دوبارہ جینے کا عزم کیا ہے اور وہ اپنی بحالی کے لیے خود ہی کوشاں ہیں۔

سبین خان