کیا آپ مجھے
کسی ایسے شخص کا نام بتاسکتے ہیں جس نے اپنی زندگی میں کوئی درخت نہ دیکھا
ہو اور اس کے فیض سے فیضیاب نہ ہواہو۔ذہن پر زیادہ زور مت ڈالیے۔ مجھے معلوم
ہے، اس کرئہ ارض پر شاید ہی کوئی ایساشخص ہو، جو میرے اس دعوے کے جواب میں
سامنے آئے۔آپ حیران ہورہے ہوں گے کہ آخر میںکون ہوں،تو سنیے میں آپ سب کا
دوست ہوں۔ میں ایک درخت ہوں۔
درخت بھی کرئہ ارض کے باسی ہیں اور ہم میں بھی انسانوں کی طرح قبیلے اور قومیں
موجود ہیں۔ کچھ درخت پھل دار ہیں، تو کچھ گھنے سایہ دار، جبکہ بعض نہایت قد آور
اور مضبوط لکڑی والے، مگر انسانوں کے لیے سب فائدہ مندہیں۔ ہم سے آپ کو صرف لکڑی،
پھل، میوے ہی نہیں ملتے بلکہ اور بھی بہت سی چیزیں حاصل ہوتی ہیں۔ کیا آپ جانتے
ہیں کہ جس کاغذ پر چھپی ہوئی میری یہ داستان پڑھ رہے ہیں ، وہ بھی درختوں سے ہی
بنایا گیا ہے۔چاکلیٹ، اسپرین، چائے، کافی، زیتون کا تیل، کونین، تارپین کا تیل،
ربڑ، متعدد ادویات، جڑی بوٹیاں ۔۔۔۔۔۔ غرضیکہ ہزاروں فوائد ہیں کہ جوہم سے انسانوں
کو پہنچتے ہیں۔ اگر انہیںبیان کرنے بیٹھوں تو ضخیم کتاب تیار ہوسکتی ہے۔
 |

|
آئیے! سب سے پہلے
میں آپ کو اپنی ساخت کے بارے میں بتاتا ہوں۔ درخت کی بیرونی پرت جسے ' چھال'کہا
جاتا ہے، دراصل میرا لباس ہے۔ چھال ہمارے تنوں اور بڑی بڑی شاخوں کی اوپری
سطح ہے، جو ایک غلاف کی طرح ہمارے اندر کے جسم یعنی لکڑی کو سوکھنے، کیڑے
مکوڑوں اور پھپوند سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ جیسے
جیسے ہماری عمر بڑھتی جاتی ہے، بزرگ انسانوں کی طرح ہماری کھال یعنی چھال
پربھی
جھریاں پڑنے لگتی ہیں ۔ ہماری چھال اور تنے کے درمیان میں کاغذ کی طرح پتلی
سی چوبی پرت موجود ہوتی ہے۔ اسے 'چھال کا استر'کہتے ہیں۔ یہ خلیوں سے مل
کر بنتی ہے اور پتوں میں جو شکر بنتی ہے وہ اسی استر کے ذریعے درخت کے
باقی حصوں
تک پہنچتی ہے۔ اس کے بعد ہمارے جسم کا جو نظام ہے وہ ـ'چوب ریشہ' کہلاتا
ہے۔ چوب ریشہ خلیوں کی وہ تہ ہے جو درخت کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہر
سال تنے
کے اندرونی چکر بناتی ہے۔ جب عمر کا ایک سال پوراہوجاتاہے توتنے کے اندر
اس حصے پر ایک اوردائرے کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ یوں ان دائروں کو گن کر ہماری
عمر بھی معلوم کی جاسکتی ہے۔چھال اور لکڑی کی تہوں کے بیچ میں خلیات
سے بنا ہوا یہ حصہ صرف ہماری عمر کا راز ہی نہیں کھولتا بلکہ زمین سے
پانی اور نمکیات کو
ہمارے جسم کے باقی حصوں اور پتوں تک پہنچانے کا کام بھی کرتاہے۔ہمارے جسم
کا ایک اور حصہ' چوب مرکز' کہلاتا ہے۔ یہ دراصل تنے کے بالکل درمیان میں
مردہ خلیوں سے مل کر بننے والی کمزور،ناکارہ اور گہرے کتھئی رنگ کی سوکھی
لکڑی
ہوتی ہے۔ یہ مردہ لکڑی بہ آسانی پھپوند کا شکار ہوجاتی ہے۔ اگر آپ ہمارا
مردہ جسم دیکھیں گے تو اس حصے کو کھوکلا پائیں گے۔
موسمِ بہار میں ہماری صحت کا راز پوشیدہ ہے۔اس موسم میں ہماری افزائش کا عمل تیز
ہوجاتا ہے، جبکہ موسمِ سرما میں یہ عمل رک جاتا ہے۔ سردیوں میں زندہ بچ رہنے کے
لیے چوڑے پتوں والے درختوں کے سارے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ پت جھڑمیں جب ہم اپنا پیرہن
تبدیل کرتے ہیں تو جھڑجانے والے زرد پتے زمیں پر گر کرگل سڑ جاتے ہیں اور مٹی
میں مل کر اس کی زرخیزی میںاضافہ کردیتے ہیں۔صنوبر جیسے سدا بہار درختوں کے پتے
موٹے اور سوئی کی شکل کے ہوتے ہیں اور ان پر موم اور بیروزہ کی تہ چڑھی ہوئی ہوتی
ہے، اس لیے چوڑے پتوں والے درختوں کے مقابلے میں ان درختوں کے پتے اٹھارہ سے لے
کر چوبیس ماہ تک بغیر کسی تبدیلی کے رہ سکتے ہیں۔
درختوں کی نشونما پرانے خلیوں کے مزید نئے خلیوں میں تقسیم ہونے سے عمل میںآتی
ہے۔ شاخوں کی کونپلوں میںنئے خلیے بنتے ہیں جو شاخوں کے قد کو لمبا کرتے ہیں۔
تنے کی اوپری سطح کے خلیے چھال میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ یہی خلیے ہمارے تنوں اور
شاخوں کو بھی موٹا بناتے ہیں۔ہمارے تنے کے اوپر موجودپتوں میں باریک باریک مسام
ہوتے ہیں، جنہیں صرف خوردبین کی مدد سے ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ مسام پتوں سے تبخیر
کے عمل کو کنٹرول کرتے ہیں اور ہوا کو پتوں میں جذب اور خارج کرنے کا عمل جاری
و ساری رکھتے ہیں۔پتوںمیں نشاستہ کا ہلکا سا محلول ہوتا ہے، جس سے درخت کے ٹھوس
حصے بننے میں مدد ملتی ہے۔ اس نشاستے کا ہر ذرہ سیکڑوں چھوٹے چھوٹے ذروں سے مل
کر بنتا ہے۔ پتے ہی یہ نشاستہ بناتے ہیں جو خلیوں کی مدد سے ہمارے جسم کے ہر حصے
تک پہنچتا ہے، اور یہ ہماری لکڑی کا بنیادی عنصر ہے۔ نشاستہ کے یہ ذرات باہم کمزور
تعلق سے وابستہ ہوتے ہیں۔ پھپوندی لگ جائے تو یہ ان ذرات کو توڑ دیتی ہے، جس سے
لکڑی گل جاتی ہے۔
سبز پتوں میں موجود پانی اور ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ سے مل کر نشاستہ
بنتا ہے۔ تیاری کے اس عمل کو 'ضیائی تالیف' کہتے ہیں۔ جس کے لیے سورج کی روشنی
سے حاصل ہونے والی توانائی اور سبز مادے 'کلوروفل' کی موجودگی بہت ضروری ہے۔ ضیائی
تالیف کے عمل میں درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں اور
آکسیجن کو خارج کرتے ہیں۔ یوں آپ کے ارد گرد شفاف آکسیجن کی موجودگی کو بھی یقینی
بناتے ہیں۔ ہمارے پتوں سے عملِ تبخیر کے ذریعے پانی خارج ہوتا رہتا ہے، جوفضا
کے درجئہ حرارت کو کم رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر شاہ بلوط کا ایک درخت فضا سے ایک
کلو واٹ بجلی کی حدت سے پیدا شدہ توانائی سے دس گنا زائد حدت اپنے اندر جذب کرسکتا
ہے۔ ہمارے پتے فضا میں موجود دھول کے باریک باریک ذرات کو اپنے اوپر چپکا لیتے
ہیں ۔ یوں ماحول کو صاف ستھرا رکھتے ہیں۔ اور جب بارش ہوتی ہے تو دھول کے یہ ذرات
دوبارہ زمین پر پہنچ کر مٹی کا حصہ بن جاتے ہیں۔
پانی ہر جاندار کی طرح ہماری بھی بنیادی ضرورت ہے، جوجڑوں سے ہمارے جسم کے باقی
حصوں تک پہنچتا ہے۔ یہ ایک پیچیدہ نظام ہے، لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ درخت کے
پتوں سے رطوبت بھاپ بن کر خارج ہوتی رہتی ہے۔ اس طرح درخت میں رطوبت کی جو کمی
ہوتی ہے، اس کو جڑیں زمین سے پانی کھینچ کر پورا کرلیتی ہیں۔ پختہ عمر کا ایک
درخت ایک دن میں چودہ سو لِٹر تک پانی اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسی لیے جب ہماری لکڑی کواستعمال میں لایا جاتاہے تونمی ختم کرنے کے لیے اسے پہلے
دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ پانی اپنے اندر جذب کرنے کی ہماری یہ
صلاحیت انسانوں کو سیلابوں سے بچانے میں معاون ہوتی ہے۔ نہ صرف درخت بلکہ جھاڑیاں،
گھاس، پودے اور ہر قسم کا سبزہ سیلابوں کی روک تھام میں مددگارہیں۔ جنگلات میں
بارش کا تقریباً پچاسی فیصد پانی مٹی میں جذب ہو کرہمارے کام آتا ہے۔ اس طرح صرف
پندرہ فیصد پانی ہی سطح زمین پر بہہ نکلتا ہے۔ کم جنگلات والے علاقوں میںپانی،
مٹی میں جذب ہونے کے بجائے بہہ جاتاہے اور پھر جو تباہی ہوتی ہے، اس
سے توآپ واقف ہی ہیں۔
خوش ذائقہ پھلوں، مویشیوں کے لیے چارہ ، ایندھن اورتعمیراتی مقاصدکے لیے لکڑی
کی ضرورت پورا کرنے کے علاوہ ہمارا وجود ماحول کی بقا اور جنگلی حیات کے تحفظ
کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔پرندے ہماری شاخوں میں گھونسلے بنا کر پروان چڑھتے ہیں۔
زمین کے اندر بِل بنا کر رہنے والے جاندار اپنا گھر درختوں کے نیچے بنانا پسند
کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جڑیں مٹی کو مضبوطی سے تھامے رکھتی ہیں اور زیرِ
زمین پانی کو اپنے اندر جذب کر کے نمی کا تناسب بہت کم کردیتی ہیں۔ یوں ان کے
بِل محفوظ اور خشک رہتے ہیں۔
درختوں یا جنگلات کی تباہی متعدد ماحولیاتی مسائل کا سبب بھی ہے۔ جن میں پہاڑوں
سے مٹی کے تودوں کا گرنا، کیچڑ اور گارے کا پیدا ہونا، صحرا زدگی، چرندو پرند
کے ٹھکانوں کی بربادی اور ان کی بقاکو لاحق خطرات، زمین کا کٹاؤ، سیلابوں کا آنا،
آبی ذخائر میں مٹی کا بھرجانا،زمینی انحطاط اور نباتات کاخاتمہ بھی شامل ہیں۔
حال ہی میںپاکستان کے شمالی علاقوں میں آنے والے شدید زلزلے میں اموات کا بڑا
سبب مٹی کے تودوں کا گرناہے،لیکن اس دوران آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ یہ تباہی ان
علاقوں میں زیادہ ہوئی، جہاں بڑی تعداد میں جنگلات کاٹے گئے، لیکن جہاں جنگلات
باقی تھے، وہاںمٹی کے تودے گرنے سے اموات کی شرح بہت ہی کم رہی۔ اس کی وجہ یہ
ہے کہ ہم پہاڑوں پر بچھی مٹی کی چادر میں پروان پاتے ہیں اور ہماری جڑیں اندر
ہی اندر پتھروں کو اپنی جڑوں کے جال میںجکڑلیتی ہیں۔ ہم مٹی کو بھی مضبوطی سے
تھامے رکھتے ہیں۔ اس طرح پہاڑوں پر سے تودوں کے گرنے اور ان سے ہونے والی تباہی
کا راستہ روک دیتے ہیں۔
اب فیصلہ خود کیجئے کہ ہمارا وجود اس کرئہ ارض اور خود انسانوں کے لیے کتنا اہم
ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ درختوںسے استفادہ مت کرو۔ ہماری صرف ایک التجا ہے کہ ہمارے
لیے نہیں خود اپنی بقا کے لیے ہمارا تحفظ کرو۔
|