31مئی1935ء کوبلوچستان میں شدید زلزلہ آیا،جس میں70ہزار افراد ہلاک ہوئے اور کوئٹہ شہر( ماسوائے چھاؤنی) مکمل طور پر تباہ ہوگیا، جس کے ملبے کو صاف کرنے میں ایک سال کا عرصہ لگا ۔ بعد ازاں نو آبادیاتی دور کے برطانوی حکمرانوں نے اس تباہ شدہ شہر کو نئی منصوبہ بندی تعمیر کرنا شروع کیا۔ زلزلے کے خطرے کے پیش نظر کوئٹہ کے لیے سات اقسام کے مکانات اور عمارتیں تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی جو ' زلزلہ پروف' تھیں۔سب سے پہلے کوئٹہ کے جنوب مشرق میںٹین کے مکانات بنائے، جس کی وجہ سے اس علاقے کو آج بھی' ٹین ٹاؤن' کہا جاتا ہے۔ ان مکانات کا ڈھانچہ لکڑی اور لوہے سے تیار کیا گیا،جبکہ دیواریں اورچھت ٹین کی بنائی گئیں تھیں اور اندر کی طرف موٹا گتہ(ہارڈ بورڈ) لگایا تھا۔ یہ سات اقسام میںپہلی قسم تھی۔

اسی طرح کچھ مکانات ریلوے ملازمین کے لیے بھی بنائے گئے، جو آج بھی موجودہ ہیں۔ ان مکانات میںریلوے لائن کے درمیان استعمال ہونے والے پندرہ سولہ فٹ لمبے ، ایک فٹ چوڑے اور دس انچ تک موٹائی والے لکڑی کے شہتیرلگائے گئے، جنہیںدوانچ چوڑی اورایک انچ موٹی لوہے کی پٹیوں سے جو ڑ کر دو کمروں، صحن، اسٹور اور غسلخانہ پرمشتمل مکانات تعمیر کئے گئے۔ آج بھی ان مکانات کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔

کوئٹہ کی باسیوں کے لیے جوزیادہ ترمکانات بنائے گئے، ان کی تعمیراتی ترکیب کچھ یوں تھی کہ سطح زمین سے ایک سے دو فٹ نیچے بنیاد بنائی جاتی، جو دو سے اڑھائی فٹ گہری اور ڈیڑھ فٹ تک چوڑی ہوتی تھی۔ بنیاد کی تعمیر میں چونے کے پتھر کے چھوٹے ٹکڑے سیمنٹ کی مدد سے یکجا کر کے ان میں پانچ فٹ کے فاصلے پر لکڑی کے شہتیرافقی رخ پر کھڑے کیے جاتے،۔ پھر بنیاد کے اوپر ریت بجری اورسیمنٹ کی ایک ہلکی تہہ بچھانے کے بعد ان شہتیروں کے درمیان نو انچ موٹائی کی دیوار چُن دی جاتی تھی۔ شہتیروں کو دیواروں میں مضبوطی کے ساتھ کھڑا رکھنے کے لیے ان میںلوہے کی موٹی پٹیوں کاایک سرا ٹھونک کر دوسرے سرے کودیوار میں اینٹوں کے درمیان چن دیا جاتا۔ یہ دیواریں بنیاد کے اوپر تقریباًپانچ فٹ تک اونچی ہوتی تھیں۔ اس کے بعد دیواروں پر ریت بجری اورسیمنٹ کے آمیزے کی تہ بچھادی جاتی، جس کے اوپر بنیاد سے باہر نکلے ہوئے شہتیروں کے کھانچے پر باہر اور اندر کی جانب ٹین کی چادروں کوکیلوں سے ٹھونک دیا جاتا۔ آخر میں اندر کی طرف سے ان پرگارے کا پلستر کردیا جاتا۔بعض مکانات میں باہر کی جانب ٹین کی چادروں کی بجائے لوہے کی درمیانے سوراخ کی جالیاں ٹھونک کر اسے سیمنٹ ملی درمیانے درجے کی موٹی بجری سے بھی بھر دیا جاتا ہے، جو خشک ہونے کے بعد پختہ ہوجاتی تھی۔ ان مکانات کی بلندی بارہ فٹ سے زیادہ نہیں رکھی جاتی تھی جبکہ چھتیں ٹین کی موٹی چادروں کی تھیں،جو لکڑی کے ستونوں پرنٹ بولٹ کی مدد سے کسی ہوئی تھیں۔ یہ طرزِ تعمیر بعد ازاں'کوئٹہ بونڈ' اور 'کوئٹہ جوائنٹ' کے نام سے مشہور ہوا۔

کوئٹہ میں زلزلہ کے خطرات کے پیش نظریہ تعمیراتی اصول 1970ء تک اپنائے جاتے رہے، لیکن اسی سال جب بلوچستان کو صوبے کا درجہ ملا اور کوئٹہ دارالحکومت بنا تو شہری آبادی بھی بڑھنے لگی اور یوں رفتہ رفتہ یہ تعمیراتی اصول فراموش ہوتے چلے گئے۔

1998ء کی مردم شماری کے مطابق کوئٹہ کی آبادی5لاکھ65ہزار ایک سو37افراد پر مشتمل تھی، جبکہ بعض آزادذرائع کا خیال ہے کہ اس وقت شہر کی آبادی15لاکھ سے تجاوز کررہی ہے۔زلزلے کے بعد یہ شہر50ہزار افراد کی آبادی کی رہائشی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا تھا، لیکن آبادی میں اضافہ اور شہر کے گردونواح میں کچی بستیوں کے قیام کے سبب تعمیراتی قواعد و ضوابط بالائے طاق رکھ جاچکے ہیں۔1935ء کے زلزلے کے بعد کوئٹہ شہر میں تعمیرات کے حوالے سے جو بلڈنگ کوڈ نافذ کیا گیا تھا،یہ آج بھی موثر ہے، لیکن اس کا خیال نہ صرف ان کچی آبادیوں بلکہ دیگر تعمیرات میں بھی نہیں رکھا جارہا ہے۔کوئٹہ زلزلے کے زون میں ہے اور ہماری یہ غفلت زلزلے کی صورت میں وسیع پیمانے پر جانی ومالی نقصان کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔

ایم اے شیخ