ادارہ برائے ترقیاتِ متبادل توانائیThe Alternative Energy Development Boardپاکستان نے اکتوبر زلزلے سے متاثر ہونے والے شمالی پاکستان کے مختلف علاقوں میںمتاثرین کے لیے 500ایسے گھر تعمیر کیے ہیں، جنہیں روشن کرنے کے لیے شمسی توانائی کا استعمال کیا گیا ہے، جبکہ جلد ہی اسی طرح کے مزیددو ہزارگھروں کی تعمیر کی جائے گی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صدر ِ مملکت کی ہدایت کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد متاثرہ علاقوں میں زمینی قدرتی وسائل پر توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متاثرین کے پڑنے والے دباؤ میں کمی لانا ہے۔ علاوہ ازیں مختلف خیمہ بستیوں میں بھی شمسی توانائی سے روشن ہونے والی لالٹین استعمال کی جارہی ہیں۔ جس کا مقصد ایک طرف ماحول دوست

توانائی حاصل کرنا ہے تو دوسری جانب خیمہ بستیوں میں موم بتی اور مٹی کے تیل سے روشن ہونے والی لالٹین سے آتشزدگی کے خطرے کو بھی روکنا ہے۔خیمہ بستیوں میں ابھی تک شمسی توانائی کا یہ استعمال بہت محدود پیمانے پر ہورہا ہے، تاہم گنجان آباد خیمہ بستیوں میں آتشزدگی کے ممکنہ سدِ باب کے ساتھ ساتھ اس طریقے کا رواج مستقبل میں ان علاقوں میں درکار توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل کے طور پر رواج پاگیا تو ایندھن کے لیے جنگلات پر پڑنے والے دباؤ کو بڑی حد تک کم کیا جاسکے گا۔

متبادل توانائی کے استعمال کو رواج دینے اور متاثرین کی بحالی کے لیے ادارہ برائے ترقیاتِ متبادل توانائی کے تعمیر کردہ مکانات زلزلے سے مدافعت کی قوت رکھتے ہیں اور اس میں مکینوں کے لیے دو کمرے، باورچی خانہ اور غسلخانہ بنایا گیا ہے۔ بورڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مکانات گرمیوں میں ٹھندے اور سردیوں میں گرم رہیں گے۔ یوں موسمِ سرما میں گھر کو اندر سے گرم رکھنے کے لیے توانائی کا جو استعمال روایتی طور پر کیا جاتا تھا، اس کی بچت ہوگی۔ ان مکانات کی تعمیر کے لیے ملکی اور کثیرالقومی تجارتی اور امدادی اداروں نے مالی تعاون کیا تھا۔

ادارے کے چئرمین شاہد حامد کا کہنا ہے کہ ان مکانات کی طبعی عمر کا اندازہ 20 برس لگایا گیا ہے، تاہم دیکھ بھال اور مرمت کی جاتی رہی تو یہ اس سے کہیں زیادہ عرصے تک چل سکتے ہیں۔دسمبر2005میں اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پچاس مکانات ہر ہفتہ تعمیر کرکے متاثرین کو دیے جانے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان گھروں میں سردیوں میں گرم پانی کے لیے گیزر اور کھانا پکانے کے لیے پریشر کوکر موجود ہیں، جو شمسی توانائی کے مدد سے چلتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تعمیرِ نو کے اس منصوبے کے دوسرے مرحلے میں پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے لیے شمسی توانائی سے پانی صاف کرنے والے پلانٹ کی تنصیب کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے۔


 

 

 

 

سندھ میںپائیدار ترقی کی حکمتِ عملی تشکیل دینے کے سلسلے میں مشاورتی کمیٹی کا دوسرا اجلاس ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات غلام سرور کھیڑوکی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں حکمتِ عملی کے لیے تیار کی گئی ابتدائی دستاویز پر بحث کی گئی اور اسے مزید بہتر بنانے کے لیے شرکا نے تجاویز دیں۔

اس موقع پر غلام سرور کھیڑو نے بتایا کہ '' حکمتِ عملی کے 22شعبے ہیںاور ابتدائی دستاویز متعلقہ صوبائی محکموں، ماہرین موضوعات، سماجی ترقی کے اداروں اور نجی شعبے کی مشاورت سے تیار کیا گیا، جسے مزید بہتر بنایا جارہا ہے۔''

اجلاس میں سیکریٹری زراعت ہاشم لغاری نے زراعت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے مزید مراعات دینے کی تجویز پیش کی۔ سیکریٹری آبپاشی شجاع احمد جونیجو نے آبپاشی کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ سیکریٹری لائیو اسٹاک اینڈ فشریز ڈاکٹر باز محمد جونیجو نے ماہی گیروں کی حالت بہتر بنانے کی طرف توجہ دلائی۔ سیکریٹری ثقافت و سیاحت مہتاب اکبر راشدی نے شرکا کو بتایاکہ سندھ کے آثار قدیمہ کا 'ڈیٹا بیس' تیار کیا جارہا ہے جو آثارِ قدیمہ کے تحفظ میں مدد گار ثابت ہوگا۔''اس موقع پر بانھ بیلی کے صدر جاوید جبار نے صوبے میں ماحولیاتی مسائل پر قابو پانے کے لیے ماحولیاتی ٹریبونل فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور تجویز پیش کی کہ صوبے میں 2.7ملین ایکڑ سرکاری زمین کو غریب کاشتکاروں میں تقسیم کرکے دیہی سندھ میں غربت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئی یو سی این، پاکستان کے سربراہ عبدالطیف راؤ نے کہا کہ'' حکمتِ عملی میں صوبے کی ترقی کے لیے موثر خاکہ فراہم کرے گی۔''

اجلاس میںسیکریٹری محکمئہ ترقیات و منصوبہ بندی ریحانہ غلام علی، سیکریٹری معدنیات عبدالحمید آخوند، ڈاکٹر مبینہ آگبوٹ والا، خصوصی سیکریٹری لوکل گورنمنٹ ڈاکٹر صدیق میمن، ایڈیشنل سیکریٹری زراعت ڈاکٹر نورالحق، طاہر قریشی، ناصر پنہور اور دیگر نے بھی اظہارِ خیال کیا۔

 

 

 

 

 

 

ان سطور میں ہم آپ کے ليے آئ یو سی این کے قومی اور عالمی سطح پر زیر عمل مختلف منصوبوں اور ماحول سے متعلق معلومات اور خبریں فراہم کرتے ہیں۔