جب پہاڑوں سے سبزے کی چادر ُاتری تو زلزلے نے ِانکی مٹی کو تودوں کی شکل میں نشیبی علاقوں پر برسا دیا-(مختار آزاد)

بیضوی شکل کا ہمارا یہ کرئہ ارض اپنے اندر نہایت پیچیدہ نظام رکھتا ہے۔ ماہرین ارضیات کہتے ہیںکہ کرئہ ارض کی ساخت ایک اُبلے ہوئے لیکن بن چھلے انڈے کی مانند ہے، جس کی تین پرتیں ہیں۔ اول قشرِ ارضcrust، دوم زیرِ زمین پگھلتے ہوئے لاوے کو ڈھانپنے والی تہہmantle، تیسرا مرکزی حصہ اور اس کے لاوے میں تیرتے ہوئی سانچے کی مانند موجود چٹانی پلیٹیں جنہیںcore کہتے ہیں۔

زیرِ سمندر قشرِ ارض کی پرت کی موٹائی پانچ کلو میٹر تک جبکہ خشک زمین پر اس کی موٹائی تیس سے لے کر ایک سو کلومیٹر تک ہوتی ہے۔ قشرِ ارض کی مثال اُبلے ہوئے انڈے کے صحیح سلامت چھلے کی مانند ہوتی ہے جو کہ سخت ہوتا ہے ، لیکن دباؤ پڑے تو اس پر دراڑیں بھی پڑ سکتی ہیں۔ قشرِ ارض کے نیچے زیرِ زمین پگھلتے ہوئے لاوے کو ڈھانپنے والی تہ ہوتی ہے جو شدید ترین دہکتی ہے اور اس پرت کی موٹائی تقریباً 29سو کلومیٹر ہے، جس میں تیرتا ہوا لاوا موجود ہوتا ہے۔ اس کے بعد کرئہ ارض کا مرکزی حصہ اور لاوے میں تیرتے ہوئی سانچے کی مانند موجود چٹانی پلیٹیں ہیں۔ اس کی دو تہیں ہیں۔ اوپری تہ کی موٹائی22 سوکلومیٹر کے لگ بھگ ہے۔ یہ تہ مائع کے مانند ہے، جبکہ دوسری اندرونی تہ ہے جو کہ ٹھوس ہے اور اس کی موٹائی کا اندازہ ساڑھے بارہ سو کلومیٹر لگایا گیا ہے۔

کرئہ ارض کی اندرونی سطح میںموجود گرم لاوے پر تیرتی ہوئی چٹانی پلیٹیںہمہ وقت حرکت پذیر رہتی ہیں۔ یہ لاوا بھی دراصل پگھلی ہوئی چٹانیں ہیں، جن کا درجئہ حرارت قریب قریب ایک ہزار سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔ کبھی کبھار یہ لاوا بہتے ہوئی نالیوں سے گزرتے ہوئے زمین کی سخت سطح تک آجاتا ہے اور کمزور حصوں کو اُبلے انڈے کے چھلکے کی ماند چٹخاتاہوا اُبل پڑتا ہے۔ اس عمل کو ہم 'جوالا مکھی 'یا آتش فشاں پھٹنے ' کے نام سے جانتے ہیں۔

زیرِ زمین ارضیاتی پلیٹوں کی متواتر حرکت اور ان کے سرکنے سے زمین پر ہر روز زلزلے آتے ہیں، تاہم عام حالات میں یہ اتنے خفیف ہوتے ہیں کہ صرف زلزلہ پیما آلات ہی ان کی وقوع پذیری کو ریکارڈ کرپاتے ہیں۔ البتہ اگر زیرِ زمین لاوے اور ان پر تیرتی چٹانو ں کی حرکت تیز ہو یاتوانائی کی مقدار بڑھ جائے یا پھر بڑی بڑی چٹان نما پلیٹیں باہم ٹکراجائیں تو توانائی کا اخراج بہت قوت کے ساتھ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں ان پلیٹوں کے زیرِ اثر زمین کا حصہ شدت کے ساتھ اوپر اٹھتا ہے۔ اس زمینی ہلچل کا رونما ہونا زلزلہ کہلاتا ہے ، جس کے سبب زمین پر لمحوں میں بہت بڑی تباہیاں رونما ہوجاتی ہیں۔

عبدالمناف قائم خانی